مرزا توشہ اور ماموں عوام
مرزا اسد اللہ خان غالب کو مرزا نوشہ بھی کہا جاتا ہے اور خلق انہیں چچا بھی پکارتی ہے۔ بڑی دھج کے آدمی تھے، لہٰذا نوشہ یعنی دلہا یا جواں سال بادشاہ جتنا ان پر جچتا ہے کم ہی لوگوں کو زیب دیا ہوگا۔ سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف پر نیب نے مقدمہ دائر کر رکھا ہے کہ ان دونوں حضرات نے مبینہ طور پر قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے توشہ خانہ سے گاڑیاں حاصل کیں۔ توشہ خانہ سے مراد سرکاری مال خانہ یا کھاتا ہے جس میں سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران ملنے والے تحائف جمع اور درج کئیے جاتے ہیں اور طے شدہ شرائط کے تحت چند مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کئیے جا سکتے ہیں، مثلاً ان اشیاء کو ریاستی و سرکاری امور کی انجام دہی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بعض شرائط کے تحت یہ اشیاء فروخت بھی کی جاسکتی ہیں اور حاصل شدہ رقم سرکاری خزانے میں جمع کر دی جاتی ہے، تاہم اس مقدمے کے سلسلے میں شائع خبروں سے یہی تاثر ابھرتا ہے کہ پاکستان کے قوانین کے مطابق تحفے میں ملنے والی گاڑی وہ عہدیدار نہیں خرید سکتا جسے وہ تحفتاً دی گئی ہو۔ ہر ملک کے اس سلسے میں مختلف قواعد ہوتے ہیں، اکثر اوقات ایک مقررہ حد تک قیمت کے حامل تحائف وصول کنندہ عہدیدار کی ذاتی ملکیت میں آ سکتے ہیں، مثلاً قلم، کتاب، سجاوٹ کی کوئی چیز۔
ظاہر ہے ہر قاعدے قانون کے پیچھے کوئی منطق اور مقصد کارفرما ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم جیسے غریب خاندانوں میں یہ رواج عام تھا کہ عید پر جو عیدی ملتی وہ اماں کے توشہ خانے میں جمع کروانی پڑتی۔ جب وہ اس میں سے روپیہ، دو روپیہ ہمیں دیتیں اور ہم روتے، مچلتے ان کے اس ظلم کی دہائی دیتے تو وہ سمجھاتیں کہ ”بیٹا ہمیں بھی تو بہت سے بچوں کو عیدیاں دینی ہوتی ہیں، اگر یہ سب تم رکھ لو گے تو گھر کا حساب درہم برہم ہو جائے گا۔
“ اور تو اور جو حضرات ابا کے خرچے پر بیاہ رچاتے ہیں، انہیں سلامیاں تک گھریلو توشہ خانے میں جمع کروانی پڑتی ہیں، اور جمع بھی کیا، وصول ہی اماں، ابا کرتے ہیں، ایسے طفیلی دلہا کو کون سلامی پکڑنے دیتا ہے؟ یہاں بھی اصول وہی کارفرما ہوتا ہے کہ تمام عمر کا لیا، دیا لوٹایا جا رہا ہوتا ہے، لہٰذا زر اصل بمعہ سود فریق اول کے مرکزی گلک ہی میں جاتا ہے۔
حکومتیں اور ممالک بھی بڑے سے خاندان ہی کی طرح ہوتے ہیں، چونکہ سرکاری اہلکاروں اور حکومتی عہدیداروں کے اخراجات اور چونچلے سرکاری خزانے سے پورے کئیے جاتے ہیں اور فرائض منصبی کی انجام دہی میں قائم شدہ تعلقات میں گرمجوشی تو کیا جذبۂ اطاعت بھی پیدا ہو جائے (جیسا کہ مہمان شہزادوں کی کوچوانی پر اصرار) تب بھی ان کی نوعیت ذاتی یا نجی نہیں، سرکاری ہی رہتی ہے۔ آنے والے معزیزین کو تحائف میزبان ملک کے سرکاری خزانے سے دیے جائیں گے تو جواباً وصول کیے گئے تحائف بھی توشہ خانے میں جمع ہوں گے۔
توشہ کا لفظ زاد راہ، پر تکلف طعام، اسباب، قیمتی سامان جیسے کہ زیورات اور تحائف سے لبریز طشت وغیرہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سرکاری توشہ خانہ مادی لحاظ سے ان اسباب کے بحفاظت رکھے جانے کی جگہ ہے اور معنوی اعتبار سے سرکاری تحویل و اختیار کا تصور۔ اس تمام تکرار کا مقصد یہ سوال اٹھانا ہے کہ جو بات ہم سب کو بچپن سے سمجھا دی جاتی ہے وہ ان مبینہ بڑے لوگوں کو اواخر عمر تک کیوں سمجھ میں نہیں آتی یا یہ سمجھنے سے انکاری کیوں ہو جاتے ہیں؟
صاحب قصہ کچھ یوں ہے کہ جو سبق متوسط اور غریب گھرانوں کی پرورش کا لازمی حصہ ہوتا ہے اس کی جگہ حکمران طبقہ میں ہرشے پر پیدائشی حق کے تصور (سینس آف انٹائٹلمنٹ) کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی متعدی بیماری ہے کہ اگر کوئی بھولا بھٹکا عام آدمی بھی طاقت کے ایوانوں تک پہنچ جائے تو اسے بھی اسی طرح اخلاقی انحطاط کا شکار بناتی ہے جس طرح موروثی مریضوں کو۔
اگر بھٹکنے کی ذرا سی اجازت اس فقیر کو بھی مرحمت ہو جائے تو ایک خیال آپ سے بانٹ لیں؟ اکثر اردو کو سرکاری سطح پر نظر انداز کرنے کی شکایت کی جاتی ہے۔ ہمارے خیال میں تو اردو کو جتنا سرکار خصوصاً محکمہ پولیس نے زندہ رکھا ہے اردو لغت بورڈ اور اکادمی ادبیات کی خدمات اس کا پاسنگ بھی نہیں۔ اخبارات میں تھانے کے اشتہار برائے ”شور و غوغا“ اور ”نقص امن“ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کی تصاویر کے ساتھ سکنہ بائیس۔ خورد یا دیہہ 22۔ توسیعی نہ لکھا جائے تو صحافت میں ”وہ بولا، وہ بولی“ کے علاوہ بچا کیا؟ اسی طرح دیکھئیے چوری کو سرقہ اور ڈاکے کو سرقہ بالجبر بھی اب تک پولیس ہی کی بدولت لکھا جاتا ہے، البتہ اول الذکرحرکت میں شعراء بھی کچھ حصہ ڈالتے ہیں۔
نیب کے توشہ خانہ کیس میں الزام یہ عائد کیا گیا ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم یوسف گیلانی نے قواعد میں غیر قانونی نرمی کے ذریعے ملزمان کو توشہ خانے سے نہایت قیمتی گاڑیاں محض پندرہ فیصد قیمت کی ادائیگی پر خریدنے میں مدد فراہم کی۔ بتائیے صاحب کہیں بیگم اردگان کی جانب سے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے دیا گیا ہار ”گلے کا ہار“ بن گیا، کہیں قیمتی گاڑیاں تقریباً مفت ہتھیانے کا شوق باعث خفت و خجالت بنا۔ ایک بات اور بتا دیں، اب تک ہمارے ہاں سیاسی مخالفین کو زچ کرنے کے لیے بکری اور سائیکل چوری کے مقدمے بنا کرتے تھے، مستقبل قریب میں سرکاری گاڑیاں چلانے پر بھی مقدمے درج ہوں گے، متعلقہ افراد کو چاہیے کہ وفاقی ”بلیو بک آف پروٹوکول“ میں پنجاب اسمبلی سے ترمیم منظور کروالیں، ہماری ناچیز رائے میں زیب دے یا نہ دے، حفاظتی اور پروٹوکول قواعد اعلیٰ ترین عہدیداروں کو سرکاری گاڑی چلانے کی اجازت نہیں دیتے۔ (منچلے بلیو بک کی تلاش میں نہ نکلیں، یہ اعلیٰ ترین حکومتی منصب داروں کی حفاظت اور سفارتی ادب، آداب سے متعلق دستاویز ہے اور اس میں تصاویر نہیں ہیں)
میرتقی میر نے تو مندرجہ ذیل شعر میں ”کار“ اردو میں لکھا تھا، آپ چاہیں تو موضوع کی مناسبت سے اسے انگریزی کی کار پڑھ لیں ؛
درپے ہمارے جی کے ہوا غیر کے لیے
انجام ”کار“ مدعی کا مدعا ہوا
کورٹ کچہری کے معاملات پر زیادہ تبصرہ نہیں کیا جاسکتا اور ویسے بھی اصول یہ ہے کہ الزام ثابت کرنے کی ذمہ داری الزام عائد کرنے والے پر ہوتی ہے اور جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے مدعا علیہان معصوم تصور کیے جاتے ہیں۔ نیب نے اگر الزامات ثابت کردیے تو زیر بحث فریقین ”مرزا توشہ“ کہلائیں گے، ہاں چچا انہیں کوئی نہیں پکارے گا کیونکہ یہ قوم کو ماموں بناتے رہے ہیں۔
ہماری یہ دعا شاید کبھی مستجاب نہ ہو کہ ہمیں ایسے مستغنی حکمران نصیب ہوں کہ یہ اشعار حسب حال ہو جائیں ؛
سلطنت فقر کی جن کو ہی نہیں پیش نگاہ
کوڑی اور اشرفی یکساں نظری رہتی ہے
توشہ خانہ ہے ترا گنبد گردوں جس میں
مہر و مہ سے تری دستار زری رہتی ہے
ولی اللہ محب


