ہمارے آثار قدیمہ اور مستقبل

اٹھارہویں صدی کے مشہور فراسنسیسی لکھاری گسٹاؤ فلابرٹ نے اپنے ساتھی ماری صوفی لایالور کو ایک خط میں مطالعہ کرنے کا گر کچھ اس طرح سکھایا : ”تمہیں صرف بچوں کی طرح اپنے آپ کو خوش کرنے کے لئے یا بڑوں کی طرح اپنے آپ کو آگاہ رکھنے کے لئے مطالعہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ مطالعہ کرو جینے کے لئے“ ۔

موبائل فون اور انٹرنیٹ جہاں لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا ہے وہاں ہر ایک بندے کو یہ سہولت بھی دے دی ہے کہ وہ اپنی شناخت کی کھوج لگا سکے۔ خدا تھوڑا بہت بھلا انگریز کا کرے کہ بھلا ٹوٹی پھوٹی تاریخ ہی سہی کچھ تو اس نے تصاویر اور الفاظ کی شکل میں ہماری آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ رکھا اوراب پھر سے گوگل اور دوسرے ادارے اس مواد کو ڈیجیٹائز بھی کر رہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل سوشل میڈیا پر ہمیں اپنے آثار قدیمہ کی بہت سی نایاب تصاویر بھی ملتی ہیں ہمارے کچھ نوجوان ہاتھ میں موبائل فون لئے گوگل اور ویکیپیڈیا پر اور پھر گلی، محلے اور پرانے مکانات کی بنیادوں اور نقشوں میں اپنے ماضی کی تلاش کر رہے ہیں۔

یہ کاوشیں ہماری نوجوان نسل کے ذوق و شوق کی عکاسی کرتی ہیں اور ساتھ ہی یہ اس بات کی بھی گواہی دیتی ہیں کہ اپنے ماضی کو یاد رکھنا اس پر فخر کرنا اس کی حفاظت کرنا اور اس کے ساتھ اپنے تعلق کو قائم رکھنا ہماری خاندانی اور قبائلی تربیت و روایات کا حصہ ہے۔ اب کہنے میں تو یہ ایک عام سی بات لگتی ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو ترقی یافتہ ممالک ہر سال اپنے وسائل کا ایک خطیر حصہ صرف اس ایک مقصد کے حصول پر صرف کرتی ہیں کہ کسی طرح نوجوان نسل میں یہ جذبہ پیدا کیا جائے کہ وہ اپنے ماضی سے تعلق بنائے رکھیں۔ ہمیں خدا کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ یہاں ہمیں فصل تیار مل رہی ہے۔

چلیں اب اس سوال کا جواب ڈھونڈیں کہ آخر اس ”ماضی“ میں ایسا کیا ہے کہ اس پر اقوام متحدہ سے لے کر ہر ترقی یافتہ ملک اتنے وسائل خرچ کرتا ہے؟

اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک اہم وجہ ایک فرد اور کمیونٹی کا خود سے یہ سوال ہے کہ میں یا ہم کون ہیں؟ اورہمارا مستقبل کیسا ہونا چاہیے؟ کچھ ممالک اپنی پہچان اور اپنے مستقبل کی بنیاد اپنے شاندار ماضی پر استوار کرنے کی کوشش کر رہیں ہیں جیسا کہ چین، اٹلی، جرمنی اورساؤتھ آفریقہ کی مثالیں ہمار ے سامنے ہیں۔ چین کا ایک تعارف جدید ٹیکنالوجی اور انڈسٹرالائزیشن کے لیڈر کی حیثیت سے ہوتا ہے لیکن ساتھ میں یونیسکو کی ورلڈ ہیر ٹیج سائٹس لسٹ میں چین اور اٹلی 55 سائٹس کے ساتھ سر فہرست ہیں۔

جرمنی ایک طرف اپنے ماضی کے نازی ازم پر شرمسار ہے اور جرمنی میں ایسے الفاظ اور سمبلز پر بھی پابندی ہے جس کا تعلق ماضی کے نازی ازم سے رہا ہو لیکن دوسری طرف برلن میں نازیوں نے یہودیوں کے جس قبرستان کو تباہ کیا تھا تو اب اسے ایک ٹورسٹ مقام کے طور پر پروموٹ کیا جاتا ہے۔ دوسری مثال دیوار برلن کی ہے جس کی موجودہ شکل ایک اوپن ڈور میوزیم کی ہے۔ اس کے علاوہ برلن کو میوزیمز کا شہر بھی کہا جاتا ہے آپ کو صرف برلن شہر میں دو سو کے قریب میوزیم ملیں گے۔

ساؤتھ افریقہ اپنے عوام کی نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کو محفوظ رکھے ہوئے ہے۔ انھوں نے روبن آئی لینڈ کو محفوظ رکھا ہوا ہے یہ وہ جزیرہ ہے جہاں نیلسن منڈیلا نے 18 سال کی قید گزاری آج روبن آئی لینڈ ایک مشہور ٹورسٹ مقام ہے اور یہاں ماضی کے ان قیدیوں کو ٹور گائیڈ رکھا جاتا ہے جنہوں نے نیلسن منڈیلا کے ساتھ اس جیل میں وقت گزارا۔

دوسری کیٹیگیری ان ممالک کی ہے جو اپنے آج کے وسائل کی بیناد پر اپنی پہچان اور مستقبل کی پہچان بنا رہی ہیں۔ ان میں انڈیا، ملائشیا اور جاپان کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ انڈیا اپنی آبادی (مارکیٹ) ، ملائشیا اپنے قدرتی وسائل جنگلات، پام آئل اور ماڈریٹ سوسایٹی اور جاپان پائیدار ٹیکنالوجی کی بنیاد پراپنا ایک مقام بنا چکے ہیں۔

تیسری کیٹیگری میں وہ ممالک ہیں جو کہ اپنے ”آج“ کو دوسرے ممالک کے لئے ”مستقبل“ کی ایک تصویر بنا کر پیش کر رہیں ہیں جیسا کہ سنگاپور۔ اس کی مثال سنگا پور کا انسان کا بنایا ہوا مشینی درختوں کا جنگل گارڈن بائی دا بے ہے جہاں مشینی درخت بجلی پیدا کرتے ہیں، ماحول کومصنوعی طریقے سے صاف کرتے ہیں اور بارش کے پانی کو جمع کرتے ہیں۔ یہ مثال صرف اس لئے تعمیر کی گئی تا کہ دوسری اقوام دیکھ سکیں کہ مستقبل کے باغات اور جنگلات کیسے ہوں گے ۔

اب سوال یہ ہے کہ ہماری پہچان کیا ہے اور ہم اپنے مستقبل کی تعمیر کیسے کرنا چاہتے ہیں؟ ماضی کو ماضی کی نظر سے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن ماضی کو اگر اپنے آج سے اور مستقبل سے نہ جوڑا جائے تو پھر بہت شاندار ماضی کا بھی رتی برابرفائدہ نہیں۔

پچھلے سال میری ایک شام کیمرون پیٹرئی کے ساتھ ٹرینیٹی کالج کیمبرج یونیورسٹی میں گزری۔ کیمرون، آکسفورڈ یونیورسٹی کے بنوں آرکیالوجیکل پراجیکٹ سے وابستہ رہی ہیں بنوں میرا آبائی شہر اور اس کا شمارجنوبی ایشیا کے پرانی آبادیوں میں ہوتا ہے ہم نے بنوں کی تاریخی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ اور ایک بات پر ہم دونوں متفق تھے کہ اگر بنوں کے عوام کو اپنا ”ماضی“ محفوظ رکھنا ہے تو ماضی کی اہمیت کو اجاگر کرنا پڑے گا۔

اپنے ماضی کو اپنے ”آج“ کے ساتھ منسلک کرنا پڑے گا یوں کہئے کہ اپنے ماضی کو آج میں جینا اور یاد رکھنا پڑے گا۔ اور ساتھ ساتھ لوگوں میں اپنے تاریخی ورثے کی اجتماعی ملکیت کا إحساس بھی بیدار کرنا پڑے گا۔ اب یہ کیسے ہو گا؟ یہاں میں بذریعہ سوال اشارہ دینے کی کوشش کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمارے اسکول، مدرسے اور یونیورسٹی کے طالبعلم کواپنے ارد گرد درجنوں کے حساب سے پھیلے اس تاریخی ورثے سے کتنی شناسائی اور کتنا علم ہے؟ اگر اسے ہمارے نصاب میں پڑھایا نہیں جاتا، سکھایا نہیں جاتا اور ہمارا نوجوان پھر بھی اپنی کھوج میں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس شوق کی کمی نہیں لیکن ہمارے پاس ادارے اور تربیت کا کوئی نظام نہیں۔

اب اس ادارے اورتربیتی نظام کے سوال کو ایک مثال سے کھوجنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے بنوں میں ایک تاریخی اسکول گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر 2، جس کا پرانا نام اسلامیہ ہائی اسکول بھی ہے۔ اس اسکول کی پرانی عمارت نظر انداز ہونے کی وجہ سے بوسیدہ حالت میں ہے، خاص کر اوپری منزل۔ اس اوپری منزل پر بنے اکثرکمروں پر قیام پاکستان سے پہلے کی سنگ بنیاد کی تختیاں لگی ہوئی ہیں (میرا مشاہدہ 15 سال پرانا ہے) جن پر درج تحریر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کمرے بنوں کی ہندو برادری نے اپنے رشتہ داروں کی وفات پر ان کی یاد میں تعمیر کیے ہوئے ہیں۔

Akra, Bannu

چونکہ اس اسکول سے بہت ساری شخصیات فارغ تحصیل ہیں تو یقیناً عوام میں اسکول کی عمارت سے ایک خاص قسم کی محبت کا احساس موجود ہے اور اس وقت اس کی عمارت کو محفوظ بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اب مسئلہ یہ ہے کہ تاریخی عمارتوں کو محفوظ بنانے کے لئے خاص ادارے موجود ہیں لیکن تاریخی ورثہ محفوظ بنانے پر ایک خطیر رقم خرچ کرنا پڑتی ہے اور ایک عمارت کو ”تاریخی ورثہ“ قرار دینے کے بھی کچھ لوازمات ہیں۔ اس طرح کے فیصلے مالی وسائل کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور ہمارے پاس مالی وسائل کی کمی ہے۔

زبانی کہانیاں اور جذبات سے بھرپور واقعات بہت ہیں لیکن بار پھر عرض کرتا چلوں کہ حکومتی فیصلے اعداد کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ اس اسکول اور اس طرح کی دوسری عمارتوں کی ابھی تک کوئی اکیڈیمک اور ریسرچ پر مبنی اسٹڈی نہیں ہوئی۔ مجھے افسوس کے ساتھ اس خدشے کا اظہار کرنا پڑ رہا ہے کہ شاید اس اسکول میں بھی اس کی تاریخی اہمیت کے حوالے سے آگاہی موجود نہ ہو۔

اگر ہم نے ان تاریخی عمارتوں کو محفوظ بنانا ہے تو ہمیں ان تاریخی ورثوں کو اس کے ارد گرد کی کمیونٹی کے ”آج“ کے لیے کارآمد بنانا پڑے گا اور اس کی بہت منظم اور سائنسی بنیادوں پر پلاننگ کرنی ہو گی۔ میں مانتا ہوں کہ ہمارے پاس وسائل محدود ہیں لیکن اگر ضروریات کے بجائے اپنے اثاثوں کی بنیاد پر منصوبہ بندی کی جائے تو یہ نا ممکن بھی نہیں۔ جس کے لئے اسکول اور یونیورسیٹیز کی صورت میں ہمارے پاس اچھے فورمز ہیں۔ اس کام کے لئے ارادے اور ادارہ جاتی مدد کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔

لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ ”صرف“ یہ اقدامات شاید کافی نہ ہوں جیسا کہ بنوں آرکیالوجیکل اسٹڈی پراجیکٹ کے کیس میں ہوا۔ اس پراجیکٹ کی ایک سائٹ آکرہ کا تاریخی مقام ہے۔ جس کی ڈاکومینٹیشن آکسفورڈ، کیمبرج اور پشاور یونیورسٹیز کے ماہرین نے کی ہے۔ تاریخی مقام کی تفصیلی ڈیمارکیشن بھی ہو چکی ہے، اسے تاریخی ورثہ قرار دیا جا چکا ہے لیکن پھر بھی حکومت کو ہر دو تین سال بعد آکرہ میں ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ عمارتوں کے ساتھ جڑی غیر مادی ثقافتی ورثے کی اہمیت بھی اپنی جگہ لیکن اس پر تبصرہ پھر سہی۔

(راقم یونیورسٹی کالج ٹیکنالوجی ساراواک مالائشیا کے ساتھ استاد کی حیثیت سے منسلک ہے۔ راقم کا کام صحراوں، جنگلوں اور بیابانوں میں آباد قبائل سے زندگی کے گر سیکھنا اور ان کے ساتھ مل کر ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانے کے لئے ٹیکنالوجیز ڈیزائن کرنا ہے )

Comments - User is solely responsible for his/her words