کیا اپوزیشن میں اتنا دم خم ہے کہ عوام کو سڑکوں پر نکال سکے؟
کیا اپوزیشن میں اتنا دم خم ہے کہ وہ محرم الحرام کے بعد حکومت کے خلاف عوام کو سڑکوں پر نکال سکے؟ صدر نون لیگ شہباز شریف کو بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ حکومت کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کی قیادت شہباز شریف کریں گے تو اس موقع پر شہباز شریف پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے کندھوں کو تھپکی دے کر کہتے ہیں کہ اس احتجاج کی قیادت جوان کندھوں پر ڈالنا چاہتا ہوں تو خود نون لیگ کی ذمہ داری مریم نواز کے جواں کندھوں پر ڈالنے کو تیار کیوں نہیں؟ ان سوالوں کے جوابات حاصل کرنے کے لیے دو روز قبل نون لیگ کے ایک اہم رہنما سے وقت لیا۔ کچھ گفتگو آف دی ریکارڈ اور کچھ آن دی ریکارڈ ہوئی۔ آف دی ریکارڈ گفتگو امانت ہے آن دی ریکارڈ گفتگو کو کالم کا حصہ بنانے سے قبل مسلم لیگ کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔
مسلم لیگ کی بنیاد 1906 میں رکھی گئی مسلم لیگ کی تمام سرگرمیاں بند کمروں میں ہوتی تھی۔ سالانہ اجلاس یا تو سجے سجائے پنڈالوں یا بڑے ایوانوں میں ہوتے تھے جن میں صرف چند لوگوں کو شریک ہونے کا موقع ملتا تھا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا 1935۔ 36 آ گیا مسلم لیگ پر خطاب یافتہ اشراف، نوابوں اور زمین داروں کا قبضہ ہو گیا۔ اس وقت مسلم لیگ کی قیادت مسلم مقاصد کے لیے کام تو کرنا چاہتی تھی لیکن اس طرح کہ ان کے ذاتی اور برطانوی حکومت سے وابستہ مفادات کو زک نہ پہنچے اور بد قسمتی سے یہ سلسلہ ٹوٹا نہیں ہنوز جاری ہے۔ بانی پاکستان محمد علی جناحؒ اور لیاقت علی کے بعد تو مسلم لیگ ہر آمر کے سامنے ناچتی رہی۔ ہر آمر کو جب بھی نام نہاد سیاسی حمایت کی ضرورت پڑی مسلم لیگ نے اپنی خدمات پیش کی۔
اب آتے ہیں سوالوں کے جوابات کی طرف تو میرے ذریعے کا کہنا تھا کہ اپوزیشن میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ عوام کو حکومت کے خلاف سڑکوں پر لا سکے۔ اور نہ اپوزیشن متحد ہو سکے گی۔ نون لیگ کے کچھ رہنما اور پیپلز پارٹی دونوں اس معاملے پر ایک دوسرے سے سیاست کھیل رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے پاس صوبہ سندھ ہے۔ اگر وہ حکومت کے خلاف سڑکوں پر آتی ہے تو اسے سندھ حکومت ان کے ہاتھوں سے پھسل جائے گی۔ نون لیگ کے صدر شہباز شریف سمیت کچھ اہم رہنما اسٹیبلشمنٹ سے پینگیں بڑھانے میں مصروف کار ہیں۔ جہاں تک مولانا فضل الرحمن کی بات ہے تو ان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں۔ انھیں سیاسی عمل سے ہی باہر کر دیا گیا وہ تو چاہتے ہیں کہ اپوزیشن ان کا ساتھ دے مگر اپوزیشن اس معاملے میں سیاست کھیل رہی ہے۔
میں نے اپنے ذریعے سے جب پوچھا کہ اگر اپوزیشن کسی ایک نقطے پر متحد ہو جاتی ہے تو کیا قوم سڑکوں پر نکلے گی تو انھوں نے الٹا مجھ پر سوال داغ دیا کہ تم بتاؤ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کب قوم سڑکوں پر نکلی ہے؟ لیاقت علی خان کا قتل ہوا۔ قوم سوئی رہی، ملک دو لخت ہو گیا قوم خواب خرگوش میں رہی، ملک کے مقبول ترین لیڈر بھٹو کا عدالتی قتل ہوا عوام اور لیڈر اپنی چمڑی بچانے کے لیے بلوں میں گھس گئے، 99 میں نواز شریف کو اقتدار سے باہر نکالا گیا تو جو لیڈر کہتے تھے میاں صاحب قدم بڑھاؤ ہم تمھارے ساتھ ہیں، میاں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی بھی ساتھ نہ تھا بلکہ عوام اور لیڈر مٹھائیاں تقسیم کر رہے تھے۔
مشرف کے طویل مارشل لا کے بعد نواز شریف اقتدار میں دوبارہ آئے تو سازش کے ذریعے انھیں اقتدار سے علیحدہ کیا گیا میڈیا طاقتوروں کی ہاں میں ہاں ملانے لگا قوم خاموش رہی۔ لاہور میں چند ہزار لوگ اگر کسی کی حمایت میں نکل آئیں تو اس کو عوام کا احتجاج نہیں کہا جاتا۔ کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور، ملتان، فیصل آباد اور راولپنڈی جام ہو جائے تو اسے عوامی احتجاج کہا جاتا ہے۔ عوام کا شعور اتنا بلند نہیں ہوا کہ وہ سڑکوں پر آئیں۔ جب شعور بلند ہو گا تو قوم اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے گی۔
شہباز شریف اپنی دانست میں یہ سمجھتے ہیں کہ جس راستے کے وہ راہی ہیں انھوں نے اس عمل سے مسلم لیگ کو بچا لیا ہے۔ یہ راستہ تباہی کی طرف جاتا ہے منزل کی طرف نہیں۔ مسلم لیگ نون کو جواں سالہ قیادت کی ضرورت ہے جو جدید زمانے کے تقاضوں کے مطابق جماعت کو عوامی امنگوں کے مطابق چلا سکے۔ مسلم لیگ نون کا کارکن مریم نواز کے پیچھے چلنے پر رضا مند ہے۔ کارکن مریم نواز کی آواز پر باہر بھی نکلتا ہے۔ مسلم لیگ نون اس وقت دھڑے بندی کا شکار ہے۔ شہباز شریف نون لیگ کو تباہی سے بچانا چاہتے ہیں تو صدارت مریم نواز کے حوالے کر دیں۔ مریم نواز کو آزادانہ فیصلے کرنا دیں تو پھر نون لیگ عوامی جماعت بن سکتی ہے۔ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کی دھمکی عملی شکل اختیار نہیں کرے گی محض باتوں کی حد تک رہے گی۔


