کملا ہیرس کی نامزدگی اور پاکستانی

انڈین ماں اور جمیکن باپ کی بیٹی کملا ہیرس کو آج ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے آئندہ امریکی انتخابات میں نائب صدر کے عہدے کے لئے باقاعدہ نامزد کر دیا گیا ہے جبکہ صدر کے لئے جو بائیڈن کو نامزد کیا گیا ہے
کملا ہارس کی نامزدگی سے انڈین کمیونٹی بہت خوش ہے جبکہ کمیلا ہیرس انڈیا بلکہ جنوبی ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والی پہلی فرد ہیں جو امریکی نظام مملکت میں اس درجہ تک پہنچی ہیں، اس میں ہم پاکستانیوں کے لئے کئی سبق ہیں
اس سے ہم انڈینز کے امریکی نظام میں اثرورسوخ کا اندازہ کر سکتے ہیں
انڈینز کی امریکہ میں تعداد صرف 36 لاکھ کے لگ بھگ ہے جو مجموعی امریکی آبادی کا صرف % 1.2 ہے لیکن یہ لوگ زیادہ تر پروفیشنل یا کاروباری ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تعداد نہیں بلکہ استعداد زیادہ اہمیت رکھتی ہے
بیرونی ممالک میں دوسروں کے سامنے تمام انڈینز اپنی ایک ہی انڈین شناخت پر اصرار کرتے ہیں باقی سب شناختیں اپنے گھر یا مذہبی اور سماجی تقریبات تک محدود رکھتے ہیں
انڈینز نئے سماج میں اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے آسانی سے گھل مل جاتے ہیں اور اپنے عقائد و رواج دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش نہیں کرتے
انڈینز مقامی سیاست میں فعال حصہ لیتے ہیں اور مین اسٹریم سے کٹ کر نہیں رہتے اور دوسرا یہ کہ انڈینز ہر ملک کی سیاست میں حصہ لیتے ہوئے انڈیا کے مفادات کو اولیت نا بھی دے سکیں تب بھی انڈیا کے ہر اچھے برے موقف کی کونسلنگ اور لابنگ ضرور کرتے ہیں اور اپنے آبائی ملک کے کروڑوں کی تعداد میں رضاکار سفیر ہیں
بیرونی ممالک میں انڈینز عام طور پر کانگریس، بی جے پی اور اس طرح کی دیگر انڈین تنظیموں کے دفاتر کھول کر مقامی سماج میں اجنبی بننے کے بجائے مقامی سیاسی اور سماجی تنظیموں کا حصہ بن کر فعال کردار ادا کرتے ہیں
انڈیا کے مغرب کا اسٹریٹیجک پارٹنر بننے کی حیثیت دلانے میں سب سے اہم کردار انہیں تین کروڑ سے زائد NRI (یعنی نان ریذیڈنٹ انڈینز) کا ہے
ہم بھی چاہیں تو نا صرف یہ سب کچھ کر سکتے ہیں بلکہ زیادہ بہتر طور پر کر سکتے ہیں، پاکستانیوں کی کئی تنظیمیں امریکہ بھر میں فعال ہیں خاص طور پر پاکستانی ڈاکٹرز کی تنظیم APNA قابل ذکر ہے جس کے اراکین کی تعداد سات ہزار سے زائد جبکہ امریکہ بھر میں صرف پاکستانی ڈاکٹرز کی تعداد ہی بارہ ہزار سے زائد ہے
کملا ہیرس کی نامزدگی سے ہم جان سکتے ہیں مغربی معاشرہ سب کے لئے کھلا ہے اور ہر باصلاحیت کو موقع فراہم کرتا ہے اور حقیقتاً مواقع کی سرزمین ہے اور آئندہ اس جگہ پر کوئی پاکستانی بھی ہو سکتا ہے
ہمارے پاس اپنی روشن مثالیں بھی موجود ہیں جیسے ایک پاکستانی نژاد صادق خان کا لندن کا لارڈ مئیر بننا لیکن صرف یہ کافی نہیں ہمیں مزید آگے بڑھنا ہے ہمارے ایک کروڑ اوورسیز پاکستانی ہمارا سرمایہ ہے، بس یہ سرمایہ صحیح وقت اور صحیح جگہ پر کام میں صرف ہو تو پاکستان کے لئے دنیا بھر کے دروازے کھل جائیں گے، پھر بیرونی دنیا ہمیں کرائے کے سپاہیوں یا مزدوروں یا بیروزگاری کے ہاتھوں غیر قانونی طریقوں میں اسمگل ہونے والے اور جھوٹ بولنے اور فراڈ کرنے والوں کے بجائے باعزت اور باوقار قوم کے طور پر پہچانے گی۔

