جہاں آرا: مغل بادشاہ شاہجہاں کی بیٹی جو دنیا کی ’امیر ترین‘ شہزادی بنی


تصوف کی طرف میلان

ڈاکٹر رحما بتاتی ہیں کہ وہ عین جوانی کے عالم میں ہی تصوف کی طرف مائل ہو گئی تھیں لیکن جلنے کے واقعے کے بعد ان کی زندگی مزید زاہدانہ ہو گئی تھی۔

لیکن اس سے قبل محبوب الرحمان نے لکھا ہے کہ پہلے ان کی بود و باش کا طریقہ بہت شاہانہ تھا۔ ڈاکٹر برنیر کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ‘اس کی سواری بڑی شان و شوکت سے نکلتی تھی۔ وہ اکثر جوڈول پر نکلا کرتی تھیں، جو تخت رواں کے مشابہ ہوتا تھا اور اس کو کہار اٹھاتے تھے۔ اس کے ہر طرف روغن کاری کا کام بنا ہوتا تھا۔ اور اس پر ریشمی اور دلکش گھٹا ٹوپ پڑے ہوتے تھے اور ان میں زری کی جھالریں اور خوبصورت پھندنے ٹنگے ہوتے تھے جن کی وجہ سے ان کی زینت دگنا بڑھ جاتی تھی۔

‘بعض اوقات جہاں آرا بیگم آیک بلند اور خوبصورت ہاتھی پر سوار ہو کر نکلتی تھی۔ لیکن پردے کی سخت پابند تھی۔ وہ اکثر تفریح طبع کے لیے بڑی شان و شوکت سے سیر باغ کو جاتی تھی۔ اس کے علاوہ اس نے شاہجہاں کے ساتھ متعدد بار دکن، پنجاب، کشمیر اور کابل کی سیر کی۔ لیکن ہر حالت اور ہر موقعے پر اس نے پردے کا پورے طور پر خیال رکھا۔ اوریہ کچھ اسی پر موقوف نہیں بلکہ خاندان مغلیہ کی تمام بیگمات حددرجہ پردہ نشین ہوتی تھیں۔’

سیاح و مورخ برنیئر نے لکھا ہے کہ ‘یہ امر محال ہے کہ کوئی ان بیگمات کے نزدیک جا سکے اور یہ تقریبا ناممکن ہے کہ وہ آدم زاد کو نظر آ سکیں سوائے اس سوار کے جو اتفاق سے ان بیگمات کی سواری کے نزدیک جا نکلے کیونکہ وہ شخص کتنا ہی ذی رتبہ کیوں نہ ہو خواجہ سراؤں خواصوں کے ہاتھوں سے پٹے بغیر نہیں رہ سکتا۔’

دربار کا ایک منظر

مغل دربار کا ایک منظر

ڈاکٹر رحما کا کہنا ہے کہ تاریخ کی کتابوں میں جہاں آرا کے جلنے کے واقعات کی تفصیل تو ملتی ہیں لیکن ان کی دیگر خدمات کا برملا اظہار نہیں ملتا ہے حالانکہ وہ مغل سلطنت کی انتہائی طاقتور اور بااختیار شخصیت تھیں۔

ان کی علم دوستی، صوفیوں کے ساتھ ان کی عقیدت، ان کی فیاضی، دربار میں ان کی حکمت عملی اور باغ و تعمیرات سے لگاؤ ان کی متنوع شخصیت کا غماز ہے۔

جہاں آرا نے دو تصانیف چھوڑی ہیں اور یہ دونوں فارسی زبان میں ہے۔ انھوں نے 12ویں 13ویں صدی کے صوفی حضرت معین الدین چشتی کے متعلق تصنیف ‘مونس الارواح’ لکھی ہے۔

انھیں صوفیا اور اولیا کے ملفوظات سے گہرا شغف تھا۔ وہ اپنے ابتدائی دنوں میں ہی ان سے فیضیاب ہو رہی تھیں۔ وہ شروع میں دارا اور بعد میں اپنے والد سے اس کے متعلق مباحثہ کرتی تھیں۔

وہ ذکر کرتی ہیں کہ ایک بار وہ دارا کے ساتھ ملکۂ ہندوستان نور جہاں کو کتاب واپس کرنے کے بہانے سے ملنے گئیں تو انھیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ نور جہاں نے انھیں جو کتابیں پڑھنے کے لیے دی تھیں انھیں ان کا نام یاد تھا۔

نور جہاں نے پوچھا کہ انھیں فیضی کتاب پسند آئی یا ہارون رشید کے قصے۔ جہاں آرا نے جواب دیا ہارون رشید کے قصے۔ نورجہاں نے کہا کہ وہ عمر کے ساتھ شاعری سے لطف اندوز ہونے لگیں گی۔

جہاں آرا کی تعلیم گھر میں ہی ہوئی تھی اور ان کی والدہ کی ساتھی ستی النسا بیگم جنھیں صدرالنسا بھی کہا جاتا تھا نے ان کی تعلیم و تربیت کی تھی جو ایک تعلیم یافتہ خانوادے سے آتی تھیں اور ان کے بھائی طالب آملی جہانگیر کے زمانے میں ملک الشعرا کے خطاب سے نوازے گئے تھے۔

جب جہاں ارا کچھ دنوں کے لیے دکن میں تھیں تو انھیں ایک اور استانی پڑھانے آتی تھیں۔

ان کی دوسری کتاب 16 ویں 17 ویں صدی کے کشمیر کے صوفی ملا شاہ بدخشی کے متعلق ‘رسالہ صاحبیہ’ ہے۔

ڈاکٹر رحما بتاتی ہیں کہ جہاں آرا سے ملا شاہ بدخشی اس قدر متاثر تھے کہ وہ کہتے تھے کہ ‘اگر جہاں آرا خاتون نہیں ہوتیں تو وہ انھیں اپنا خلیفہ نامزد کر دیتے۔’

جہاں آرا کو اس بات کا فخر تھا کہ وہ پہلی مغل خاتون تھیں جنھوں نے باضابطہ مریدی اختیار کی تھی اور اپنے پیر کے مطابق زندگی گزار رہی تھیں۔

جہاں آرا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے پورے شاہجہان آباد یعنی دہلی کا نقشہ اپنی نگرانی میں بنوایا تھا۔ اس پر بعض مورخین کو اعتراض ہے لیکن چاندنی چوک کے بارے میں کسی کو اعتراض نہیں۔ یہ بازار ان کے حسن ذوق اور شہر کی ضرورتوں کی پہچان کا علمبرادار ہے۔

اس کے علاوہ انھوں نے کئی مساجد تعمیر کرائی جبکہ اجمیر میں حضرت معین الدین چشتی کے آستانے پر ایک بارہ دری تعمیر کروائی۔

ڈاکٹر رحما بتاتی ہیں کہ اس کا ادارک انھیں اس آستانے کے دورے پر ہوا تھا جب انھیں حال آیا تھا اور اسی وقت انھوں نے خدمت کے جذبے سے اس بارہ دری کی تعمیر کا عہد کیا تھا۔ انھوں نے بہت سے باغات کی بھی تعمیر کروائی۔

آگرے کی جامع مسجد کے بارے میں ڈاکٹر رحما کہتی ہیں کہ ‘اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں عبادت کے لیے ایک زنان خانہ ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ صدر دروازے پر فارسی میں ایک کتبہ ہے جس میں کسی مغل بادشاہ کی طرح جہاں آرا کی، ان کی روحانیت اور ان کی پاکیزگی کی تعریف کی گئی ہے۔ ایک قسم کی قصیدہ سرائی ہے۔’

انھوں نے بتایا کہ ‘جہاں آرا پہلی مغل شاہزادی ہیں جنھوں نے خواتین کے لیے پبلک سپیس تیار کرایا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے دہلی سے ملحق جمنا پار صاحب آباد میں بیگم کا باغ بنوایا تھا وہ اپنی مثال آپ تھا۔

اس میں خواتین کے لیے جگہ مخصوص تھی بلکہ دن بھی مخصوص تھے تاکہ وہ آزادی کے ساتھ باغ کی سیر کر سکیں اور وہاں کے پرفضا ماحول سے لطف اندوز ہو سکیں۔’

چاندنی چوک

ڈاکٹر رحما بتاتی ہیں کہ مغل دور میں خواتین اپنی ساری خوبیوں کے باوجود تاریخ کے صفحات سے غائب ہیں اور ان پر اکبر کے زمانے سے زیادہ سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے نام بھی ظاہر نہیں کیے جاتے۔

اس کا احساس شاید جہاں آرا کو بھی تھا۔ چنانچہ جب وہ اپنی پردادی یعنی جہانگیر کی والدہ اور اکبر کی اہلیہ کا ذکر کرتی ہیں تو کہتی ہیں کہ وہ ہندو خاندان سے آتی ہیں۔

ان کا اصل نام کیا ہے پتہ نہیں لیکن ان کے القاب سے ہم انھیں جانتے ہیں اور پھر وہ یہ کہتی ہیں کہ وہ حرم کی سب سے معزز خاتون ہیں۔

چنانچہ ہم تاریخ میں بيگم کی سرائے، بیگم کا باغ، بیگم کا محل، بیگم کا حمام اس طرح کے نام دیکھتے ہیں۔ ڈاکٹر رحما نے مزید کہا کہ اجمیر میں بيگم کا دالان بھی اسی کی ایک کڑی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘جہاں جہاں بادشاہ اپنی چھاپ چھوڑ رہے تھے وہیں جہاں آرا بھی اپنی چھاپ چھوڑ رہی تھیں، چاہے وہ اجمیر ہو، آگرہ ہو کہ دلی ہو۔’

ڈاکٹر ایم وسیم راجہ نے بتایا کہ وہ کشمیر کے صوفی بزرگ ملا بدخشی کی بیعت میں تھیں اور چشتیہ کے ساتھ ساتھ قادریہ سلسلہ کو بھی مانتی تھیں۔ ایک زمانے میں وہ چاہتی تھیں کہ ان کے اہل خانہ قادریہ سلسلے سے تعلق پیدا کریں۔

جہاں آرا کی سیاست

جہاں آرا کو سیاست کی سمجھ اسی دوران ہو گئی تھی جب وہ محل میں نور جہاں کو دیکھتی تھیں۔ وہ ان سے بہت متاثر تھیں۔

چنانچہ وہ بتاتی ہیں کہ کس طرح نورجہاں خط و کتابت کے درمیان بیٹھی تھیں تو انھوں نے پوچھا کہ ‘کیا آپ یہ سب پڑھیں گی؟ یہ تو بہت سارے ہیں۔’ نورجہاں نے جواب دیا۔ ہم اتنے روز پڑھتے ہیں۔ نہیں تو ہمیں کیونکہ معلوم ہوگا کہ سلطنت میں کیا ہو رہا ہے۔ ظل الہی چاہتے ہیں کہ میں ہر چیز کو احتیاط سے پڑھوں اور اگر کچھ غلط ہو تو انھیں آگاہ کروں۔

‘دارا اور ہم شوق میں ذرا اور آگے جھکے۔ دارا نے پوچھا کہ غلط کیا ہو سکتا ہے۔ تو انھوں نے میری طرف دیکھ کر کہا ‘تمہارے لیے یہ جاننے کا وقت آ گيا ہے کہ سلطنت کے امور کیسے چلائے جاتے ہیں۔’

‘انھوں نے ایک رول اٹھایا اور کھولا جس میں بنگال کے گورنر کی رپورٹ تھی۔ اس نے لکھا تھا کہ پرگنوں میں قحط کی وجہ سے کسانوں سے محصول نہیں وصول کیا جا سکا ہے۔ ہم حیران تھے کہ اس میں غلط کیا ہے۔

‘انھوں نے ایک دوسرا رول اٹھایا اور کہا کہ یہ رپورٹ بنگال میں ہمارے جاسوس کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گورنر نے کسانوں سے ٹیکس وصول کیا ہے اور وہ قحط کا بہانہ بنا کر محصول اپنے پاس رکھ لینا چاہتا ہے۔’

اس سے قبل جہاں آرا بتاتی ہیں کہ کس طرح نور جہاں کے پاس شاہی مہر ہوتی تھی اور جس کاغذ پر وہ اسے لگا دیں وہ بادشاہ کا فرمان ہو جاتا تھا۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب جہاں آرا کی والدہ کا انتقال ہو گیا تو ان کی حیثیت اتنی زیادہ ہو گئی تھی کہ انھیں شاہی مہر بھی دی گئی تھی۔

بادشاہ نامہ کے حوالے سے ضیاءالدین احمد نے لکھا ہے کہ ‘سنہ 1631-32 میں جب یمین الدولہ آصف خان،محمد عادل خاد کی بیداری کے لیے بالا گھاٹ کی مہم پر گئے توانھوں نے اپنی روانگی سے قبل شاہی مہر بادشاہ کے حضور پیش کی اور جب تک وزیر اعظم نہیں آئے وہ جہاں آرا کے پاس تھی اور وہی شاہی فرامین پر مہر ثبت کرتی رہیں۔’

انھوں نے نور جہاں کے بعد اپنی والدہ کو بھی یہ کام کرتے دیکھا تھا لیکن 17-18 سال ک عمر میں اتنی اہم ذمہ داری کسی وزیر اعظم کے عہدے سے کم نہیں۔

ہر چند کہ وہ شہزادہ دارا کی حمایت کر رہی تھیں تاہم اورنگزیب کے نزدیک ان کی قدرومنزلت کم نہیں ہوئی جو ان کے اخلاق اور ہوش مندی کے شواہد ہیں۔

البتہ ان کی بہن روشن آرا ان سے چڑھی رہتی تھیں اور انھوں نے ان کے خلاف اورنگزیب کے بہت کان بھرے لیکن جب والد شاہجہاں کا انتقال ہوا تو انھوں نے جہاں آرا کو اپنے پاس بلا لیا اور انھیں پھر سے پادشاہ بیگم کا خطاب و منصب عطا کیا جس پر روشن آرا مزید چڑھ گئیں تاہم سنہ 1681 میں ان کی موت تک یہ منصب ان کے ہی پاس رہا۔

جب وہ بیمار پڑیں اور بستر مرگ پر تھیں تو انھوں نے کہا کہ ان کی قبر صوفی بزرگ حضرت نظام الدین اولیا کے مزار کے قریب ہو۔ اور اپنے مزار کے لیے انھوں نے جو شعر کہا وہ ان کا لوح مزار ہے اور وہ اس طرح ہے:

بغیر سبزہ نہ پو شد کسے مزار مرا

کہ قبر پوش غریباں ہمیں گیاہ و بس است

یعنی میرے مزار کو سبزے کے علاوہ کسی چیز نہ ڈھکو کیونکہ غریبوں کی مزار کے لیے یہی گھاس کافی ہے اور اس طرح مغل سلطنت کی امیر ترین شہزادی جو خود کو فقیرہ کہتی تھی بغیر قبرپوش کے دنیا سے رخصت ہوئی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp