راجہ تری دیو رائے نے مجھے شرمندہ کر دیا


مقررہ دن اور وقت پر ہماری فائنل ملاقات شروع ہوئی اور ان کی خواہش پر لائبریری سے حاصل کردہ کتاب، میں نے انھیں تھما دی اور وہ میری لائی ہوئی کتاب پڑھنے میں محو ہوئے اور میں ان کا چہرہ!

دراصل وہ ایک مختصر دورانیہ کا پروگرام تھا جو مہاتما بدھ کے حوالے سے منایا جانے والے Festival of Lights کے موقع پر، 1980 کی دہائی میں تیار کیا جانا تھا۔ عام طور پر ایسے پروگراموں کے لئے، سکرپٹ رائٹر یا محقق کا انتخاب کرتے ہوئے، ان کے میلان کو ضرور پیش نظر رکھا جاتا ہے تاکہ موضوع سے حقیقی معنوں میں انصاف ہو سکے۔ سو اس پروگرام کے لئے بھی اسی خواہش اور معیار کے ساتھ تلاش شروع ہوئی۔

اسلام آباد کی ایک خوبصورت شاہراہ سے گزرتے ہوئے، یوں لگا جیسے لاٹری نکل آئی ہو۔ ایک ایسی شخصیت چہل قدمی کرتی نظر آئی جس سے بہتر، اس موضوع کے لئے کوئی اور ہو نہیں سکتا تھا۔ اب سوال محض اتنا تھا کہ وہ موزوں ترین شخصیت ہماری اس پیشکش پر حامی بھر لے۔ پروگرام کی تفصیل اور پس منظر جان کر انھوں نے بلا تامل، خوش دلی سے اس کام لئے رضامندی ظاہر کردی اور ابتدائی ملاقات کا دن اور وقت بھی طے پا گیا۔

راجہ تری دیو رائے کے بارے میں سینہ بہ سینہ اور مختلف جگہوں پر تحریر، سب سے اہم بات جو علم میں آئی تھی وہ انھیں ایک قومی ہیرو کے درجہ پر دیکھنے کے لئے کافی تھی۔ سقوط ڈھاکہ کے وقت وہ پاکستان کے خصوصی نمائندے کے طور پر جنوبی ایشیا کے دورے پر تھے۔ اس سانحے کے بعد شیخ مجیب الرحمان نے ان کی والدہ کے ذریعے انھیں یہ پیغام بھیجا کہ اگر وہ بنگلہ دیش کا انتخاب کرتے ہیں تو پروٹوکول کے برخلاف، ان کے استقبال کے لئے شیخ مجیب خود ائرپورٹ آئیں گے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ماں کے توسط سے پہنچنے والی یہ درخواست، جذباتی طور پر، کس درجہ اہمیت کی حامل ہو گی۔

اس درخواست کے جواب میں پاکستان سے بھی انھیں یہ پیشکش کی گئی کہ اگر وہ پاکستان آنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ذوالفقار علی بھٹو خود ان کا استقبال کریں گے۔ راجہ تری دیو رائے نے وہ فیصلہ کیا، جو ہماری تاریخ میں ہمیشہ انھیں ایک عظیم مرتبے پر فائز رکھے گا۔

پاکستان کا انتخاب کرتے ہوئے جہاں انھوں نے ماں کی خواہش پر پاکستان کو ترجیح دی وہاں اس فیصلے کا یہ پہلو انھیں اوربلند ترین مقام کا حقدار بنا دیتا ہے کہ ایسا کرتے ہوئے، انھیں اپنے قبیلے سے بھی دستبردار ہونا پڑا۔ یہی نہیں اس قربانی کا اہم ترین پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اس ( چکمہ) قبیلے کے سربراہ تھے۔

مقررہ دن اور وقت پر ہونے والی پہلی ملاقات میں پروگرام سے ان کی دلچسپی کا بہ خوبی اندازہ ہوا۔ پروگرام کے خدوخال میں اپنی رائے کا انھوں نے بھر پور اظہار کیا۔ format اور دوسری بنیادی باتوں پر اتفاق رائے ہوا۔ چائے پر ہونے والی گپ شپ میں، اپنی لاعلمی پر از حد شرمندگی ہوئی کہ وہ بدھ مت کے ایک بڑے مذہبی اسکالر ہی نہیں، بلکہ ایک اعلی درجے کے تسلیم شدہ افسانہ نگار بھی ہیں۔

آئندہ ملاقات کے لئے ایک اور دن طے پایا جس میں سکرپٹ فائنل ہو جانا تھا۔ راجہ تری دیو رائے صاحب نے اگلی ملاقات میں قائداعظم کی گیارہ اگست کی تقریر لانے کی تاکید کی جسے وہ اپنے سکرپٹ کا حصہ بنانا چاہتے تھے۔ مقررہ دن سے پہلے ہی، ہم نے لائبریری سے قائداعظم کی تقاریر کی ایک کتاب جاری کرائی جس میں یہ تقریر بھی موجود تھی۔

تھوڑی دیر کتاب کا جائزہ لینے کے بعد انھوں نے کتاب میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس میں قائداعظم کی مکمل تقریر نہیں ہے۔ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا، سوائےشرمندہ ہونے کے!

مجھے نہیں معلوم کہ یہ راجہ تری دیو رائے صاحب کی ذاتی مصروفیات کی وجہ تھی یا اس نامکمل تقریر کا شاخسانہ کہ یہ پروجیکٹ پھر مکمل نہ ہو سکا۔

Facebook Comments HS