بحث میں دعویٰ کرنے کی بجائے دلیل دیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان کی نفسیات میں ایک خواہش یہ بھی پائی جاتی ہے کہ وہ اپنی ذات کو دوسروں سے ممتاز اور اجاگر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اوردوسروں سے آگے بڑھنے کا خواہشمند رہتا ہے۔ جسے انانیت کہتے ہیں۔ علامہ اقبال نے بھی اپنے فلسفہ خودی میں اسے بلند کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص معاشرے میں خود کو دوسروں سے بہتر کرنے کی تگ ودو کرے اور اس طرح ایک بہتر مقام حاصل کرے جس سے لوگ اس سے متاثر ہوں۔ مگر بعض اوقات خود کو بہتر بنانے کی کوشش میں جو دراصل معاشرے کی بہتری پر منتج ہونی چاہیے، انسان دوسروں کو ہرانے اور نیچا دکھانے میں اپنی صلاحیتیں صرف کرنے لگتا ہے۔

تاریخ انسانی میں حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کا ذکر ملتاہے۔ جب قابیل نے ہابیل کو کامیاب دیکھا تو بجائے مثبت مقابلہ کرنے کے انہیں قتل کردینے کا ارادہ کر لیا اور بالآخر حسد کے اس جذبہ کے تحت انہیں قتل کر دیا۔ یہ وہ منفی رویہ ہے جس کے باعث معاشرہ سیدھے راستے سے ہٹ کر تنزل کی راہ پر چل پڑتا ہے۔ انسان جب اپنی خواہشات کی تکمیل کے شوق میں حد اعتدال سے باہر نکل کر دوسروں کی ترقی پر نظر رکھے اور کسی بھی طور سے ان چیزوں کو حاصل کرنے کی خواہش کرے تو اس کیفیت کو حرص، طمع اور لالچ کہتے ہیں۔ اور پھر یہ جذبہ بڑھتے بڑھتے حسد میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔ جس میں دوسروں کو نقصان پہنچانے کی خواہش بھی شامل ہوجاتی ہے۔

چنانچہ زندگی کا کوئی بھی میدان ہو سیاست کا ہو یا کاروبار کا، کھیل کاہو یا روز مرہ رہن سہن کا۔ جہاں تک اس خواہش کا تعلق ہے کہ انسان اپنی سوچ اور رویے کو بہترسے بہتر کرتا رہے یہ طرزعمل معاشرے کی ترقی کا ضامن ہوتاہے۔ مگر جیسے ہی حسد اور دوسرے کو نیچا دکھانے کا جذبہ اس میں شامل ہوا۔ معاشرہ تباہی کے راستہ پر گامزن ہوجاتا ہے ۔

ویسے تو اس بات کا مشاہدہ ہمیں ہر جگہ ملتاہے مگر اس کی روز مرہ مثال ہماری گفت وشنید میں نمایاں ہوکر سامنے آتی ہے۔ جب ہم کسی شخص سے کسی بات پر اختلاف کرتے ہیں تو ہماری کوشش اکثر بات کی تہہ تک پہنچنے کی بجائے اپنے موٴقف کو خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو صحیح ثابت کرنے پر صرف ہوتی ہے اور ہم غلط استدلال، غلط اعداد و شمار، الزام تراشی اور بات کا رخ اپنے موٴقف کی طرف موڑنے کی بھرپور کوشش صرف اس لیے کرتے ہیں کہ ہمارا موٴقف صحیح ثابت ہو جائے۔

جان ایلیا نے کہا تھا
تم بہت جاذب و جمیل سہی زندگی جاذب و جمیل نہیں
مت کرو بحث ہار جاوٴ گی حسن اتنی بڑی دلیل نہیں

اکثرہم کسی کے موٴقف کو دلیل سے رد کرنے کی بجائے جواباً ایک نیا دعویٰ کر دیتے ہیں جسے ہم دلیل قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ دعویٰ خود بھی ثبوت کا محتاج ہوتا ہے۔

ہمارے ایک دوست تھے جوبحث میں ہمیشہ یہ دلیل دیتے تھے کہ ابا جی بھی یہی کہتے ہیں۔ ایک دفعہ سمجھایا گیا کہ یہ دلیل نہیں بلکہ ایک دعویٰ ہے جس سے مراد ہے کہ آپ کے والد صاحب ہر بات ہمیشہ صحیح کہتے ہیں۔ اس لیے یہ فقرہ دلیل کے طور پر نہ پیش کیا کریں۔ بات ان کی سمجھ میں آ گئی اور انہوں نے فرمایا کہ ہاں آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ ابا جی بھی یہی کہتے ہیں۔

گزشتہ دنوں میرا ایک مضمون شائع ہوا تو ایک مہربان نے تبصرہ کیا کہ یہ پیسے لے کر لکھا گیاہے۔ بڑی حسرت ہوئی کہ کاش مجھے اس طرح لکھنے کے پیسے بھی ملیں تو ہم خرما و ہم ثواب۔ لیکن خیر۔ تو یہ الزام اس لیے لگایا گیا کہ اس کے علاوہ رد کرنے کے لیے کوئی ٹھوس دلیل ان کو سوجھی ہی نہیں۔ ہمارے معاشرے میں عموماً یہی طریق ہے کہ اگر کسی پر بدعنوانی کا الزام لگ جائے اور ثابت بھی ہو جائے تو اس کا سب سے بڑا دفاع یہی ہوتا ہے کہ فلانے سیاستدان نے بھی تو بد عنوانی کی تھی اور قوم کی جتنی رقم وہ ہڑپ کرگئے یہ تو اس سے بہت کم ہے۔ اس طرح اپنی صفائی کی بجائے دوسروں پر الزامات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ اور مغز بیچ سے غائب ہوجاتا ہے ۔ بھائی آپ اپنی صفائی پیش کریں۔ دوسرے پر گند اچھالنے سے آپ تو صاف قرار نہیں دیے جا سکتے۔

کسی جگہ لکھا ہوا تھا کہ اونچی آواز میں بولنے، ہاتھ زور زور سے ہلانے اور آنکھیں لال پیلی کرنے سے آپ ہمیشہ اپنا موٴقف ثابت کر سکتے ہیں۔

ہمارے معاشرے کا یہ ایک المیہ ہے۔ آپ ٹی وی پروگرامز دیکھ لیں۔ جہاں شرکت کرنے والے روانی سے غلط دلائل کو اپنے چہرے کے تاثرات اور ہاتھوں کی حرکت سے یوں پیش کرتے ہیں جیسے وہ درست ہوں۔ آج تک میں نے پروگرام میں آنے والے کسی مہمان کو بھی لاجواب یاشرمندہ ہوتے نہیں دیکھا۔ سوال کے جواب میں آنکھیں لال پیلی کرنے، مختلف قسم کے دعوے کرنے، بات سنے بغیر اونچی آواز میں گفتگو کرنے اور دوسروں پر الزام تراشی کرنے کے علاوہ کوئی مثبت نتیجہ ان پروگراموں سے نہیں نکلتا۔ کبھی میں نے کسی اینکر پرسن کو غیر مدلل جوابات اور بے بنیاد دعوؤں کو پرکھتے اور ان سے ان کے موٴقف کی تائید میں حوالہ جات پیش کرنے کا مطالبہ نہیں دیکھا جس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ یہ پروگرام حقائق تک پہنچنے کی سنجیدہ کوشش نہیں ہوتے۔

عموماً معاشرے کا بھی یہی حال ہے۔ کسی بھی موضوع پر گفتگو کر لیں۔ دوسروں کو ہرانے اور نیچا دکھانے کے علاوہ کوئی ٹھوس بات نہیں کی جاتی اور اگر یہ گفتگو مذہبی نوعیت کی ہو تو پھر تواختلاف کرنے والے کو مرتد و ملحد قرار دے دیا جاتا ہے اور واجب القتل کا فتویٰ تو کہیں نہیں گیا۔

اگرہم اپنی اگلی نسلوں کے لیے ایک پرامن اور مہذب معاشرہ چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ حقائق سے نہ صرف منہ نہ چھپایا جا ئے بلکہ ان کو سامنے رکھ کر سبق سیکھا جائے اور آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔ جذباتیت اور نعرہ بازی سے مسائل نہ کبھی حل ہوئے ہیں اور نہ ہوسکتے ہیں۔ بلکہ معاشرہ عدم برداشت کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •