عزت ایسے نہیں ملتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بحیثیت قوم ہماری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ دوسرے ممالک ہمارے ملک کی عزت کریں، کشمیر کے مسئلے پر ہماری سفارتی اور اخلاقی حمایت کریں اور بین الاقوامی فیصلوں میں ہمیں اہمیت دیں لیکن ایسا ہو نہیں رہا۔ روس اور امریکہ کی جنگ میں جب افغانستان تختہ مشق بنا تو پاکستان کو کلیدی حیثیت حاصل ہوئی اور امریکی اتحادی ممالک نے ہماری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ ہمارے فیصلہ ساز یہ سمجھے کہ ہماری یہ اہمیت ہمیشہ ہی رہے گی۔

ہم نے بھی ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا کہ پاکستان کا حدود اربعہ بہت اہم ہے اور دنیا ہمیں نظر انداز نہیں کر سکتی لیکن ایسا بالکل نہیں ہوا۔ افغانستان میں پہلے روس اور بعد میں طالبان کی شکست نے ہماری اہمیت کم کردی۔ وہ امریکہ جس کی دوستی پر ہمیں فخر تھا ہم سے منہ موڑنے لگا۔ طالبان سمیت افغانستان میں برسرپیکار ”مجاہدین“ نے ہم پر ہی بندوقیں تان لیں۔ ہم داخلی جنگیں لڑنے لگے اور اپنے ہی لوگوں سے روز علاقے ”فتح“ کرنے لگے۔

اب دنیا ہم سے منہ موڑنے لگی، امداد ملنا بند ہوئی، اس کی کمی پوری کرنے کے لئے ہمیں قرض لینے پڑے اور یوں ہم مقروض ہوتے گئے۔ دنیا نے ہمیں پہلے غیر اہم جان کر چھوڑا اور پھر مقروض ہونے کی وجہ سے ہم سے منہ موڑ لیا۔ ہمارے قریبی دوست مسلم ممالک عالمی پلیٹ فارم پر ہمیں اکیلا چھوڑ گئے۔ آج حالت یہ ہے کہ چین کے علاوہ کسی پلیٹ فارم پر ہمارا کوئی مسلم یا غیر مسلم ملک ساتھ نہیں دیتا۔

سوچیں کہ ایسا کیوں ہوا تو میرے جیسا ناقص العقل بھی اس بات تک پہنچ جاتا ہے کہ ہم دنیا سے تجارت نہیں کرتے، امداد مانگتے ہیں اور ہم جسے امداد کہتے ہیں اسے مہذب دنیا بھیک کہتی ہے، بھکاری کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ حال ہی میں ہمارے وزیرخارجہ کے ایک جذباتی بیان کے بعد ہمیں اپنی عزت کی گراوٹ کا مزید احساس ہوا۔ سوشل میڈیا کی خبروں کے مطابق سعودی شاہ نے چیف آف آرمی سٹاف سے ملنے سے انکار کر دیا۔ یہ الگ بحث ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف کو اس سفارتی مشن پر جانا بھی چاہیے تھا یا نہیں لیکن یہ بات طے ہے کہ اس مشن کی ناکامی نے پاکستان کی رہی سہی عزت کو بھی خاک میں ملا دیا۔

ہمیں کچھ کام فوری طور پر کرنے ہوں گے ورنہ ہم عزت کا جنازہ اٹھانے کے لئے تیار ہوجائیں۔ پہلا یہ کہ اپنی معاشی پالیسی کو از سر نو ترتیب دیں۔ دفاع کے بجٹ کو ممکنہ حد تک کم کریں، درآمدات کو بڑھائیں، اس مقصد کے لئے درآمد کنندگان کو ٹیکس میں چھوٹ اور دیگر سہولیات فراہم کریں، دنیا کے ساتھ تجارتی معاہدے کریں، خاص طور پر بھارت، افغانستان اور ایران ہماری مصنوعات کی اچھی منڈیاں بن سکتے ہیں۔ چین کے ساتھ بھی تجارت میں توازن لائیں۔

ہم چین سے جو برآمدات کرتے ہیں اس کا نصف ہی درآمدات کر لیں تو معاشی اشاریے بہتر ہوسکتے ہیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ چین کے لئے ہماری جو اہمیت آج ہے وہ اگلے چند عشروں کے بعد نہیں ہوگی۔ جیسے ہی سی پیک مکمل ہوگا اور چین کے مغربی علاقوں کی ترقی مشرقی علاقوں کے برابر ہوگی اور دونوں حصوں کے درمیان مواصلات کے متبادل اور سستے ذرائع دستیاب ہوتے جائیں گے چین ہمارے ساتھ تعلقات کی ترجیحات بدلتا رہے گا۔

آج بھی اگر چین کو پاکستان اور ہندوستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو چین کے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ ہندوستان کے ساتھ اس کی تجارت کا حجم پاکستان کے ساتھ تجارتی حجم سے کہیں زیادہ ہے اور پاکستان کے مقابلے میں ہندوستان ایک بڑی منڈی ہے۔ ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی ہے کہ اب اسلامی بلاک، عیسائی بلاک، ہندو بلاک یا یہودی بلاک نہیں بنیں گے اب ممالک مذہبی لیبل سے خود کو آزاد کرچکے ہیں وہ اپنے معاشی اور علاقائی فوائد دیکھتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کا اسرائیل کو تسلیم کرنا اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ خود سعودیہ اسرائیل کے ساتھ خفیہ سفارتی وفود کا تبادلہ کرچکا ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ وہ اسرائیل کو جلد تسلیم بھی کر لے۔

ترکی اور اسرائیل کے معاہدے بھی اس بات پر تصدیق کی مہر ثبت کرتے ہیں کہ ریاستیں اب مذہب کی عبایہ اتار کر معاشی فوائد کا جھومر پہننے کو ترجیح دیتی ہیں۔ ہمارے پاس صرف اسلامی بھائی چارہ، تمام مسلمان بھائی بھائی، ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے اور اسلامی بلاک جیسے چورن بیچنے کو باقی بچے ہیں اور دنیا اب یہ چورن نہیں خریدنا چاہتی اور نہ ایسے چورن بیچنے سے ہم عزت پا سکتے ہیں۔

Latest posts by محمد ریاست (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد ریاست کی دیگر تحریریں