تشبیب تصرف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید ساجد مجید طاہر ادبی دنیا میں سید طاہر کے قلمی نام سے معروف ہیں۔ آپ کا تعلق واھوا کی مردم خیز مٹی سے ہے۔ زیر نظر کتاب ”تصرف“ ان کا دوسرا غزلیہ مجموعہ ہے جسے حرف زاد پبلیکیشنز کراچی نے اپریل 2020 ء میں شائع کیا۔ اس سے پہلے ان کا شعری مجموعہ ”زندہ رہنا پڑتا ہے“ ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ سید طاہر نعت بھی خوب کہتے ہیں۔ ان کا ایک نعتیہ مجموعہ ”حرف ہائے رنگ و بو“ 2017 ء میں منظر عام پر آ چکا ہے۔ سید طاہرکی نعتیہ شاعری کے عمیق مطالعہ سے ہمیں تقدس کے ساتھ شعوری فکر اور سلیقے کا بھر پور اظہار ملتاہے۔ وہ مبالغہ آرائی اور لاعلمی سے صاف دامن بچا کر فقط عشق رسولﷺ کی راہوں پر پلکوں کے بل چلتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس مختصر تمہید کے بعد آتے ہیں ”تصرف“ کی جانب۔ جس کا اچھوتاعنوان ”تصرف“ سب سے پہلے قاری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتا ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں ”تصرف“ کے لغوی معانی ”کسی کام میں ہاتھ ڈالنا، دخل، قبضہ، اختیار“ کے ہیں اس کے علاوہ اسے ”کرامت“ کے معانی میں بھی لیا جاتا ہے۔ اس کے مترادفات میں ”استعمال، اختیار، برکت اور اعجاز جیسے الفاظ بھی آتے ہیں۔ آئیے اب اس میں کلام کرتے رنگوں کو ادبی دنیا کے چمن میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

عام طور پر کسی شاعر یا نثر نگار کے کلام میں کچھ رد و بدل کر کے نئی معنوی کیفیت پیدا کرنا تصرف کہلاتا ہے۔ اردو زبان کا حلقۂ تصرف بڑا وسیع ہے۔ اس میں دوسری زبانوں کے الفاط کو اپنے اندر سمونے کی اس قدر اشمتا ہے کہ فخریہ طور پر ”لشکری زبان“ کہلائی۔

” تصرف“ میں تصرف کی خوبصورت مثالیں دیکھیں۔

پیچھے مڑ کر دیکھنے کی آرزو مت کیجیے!
زندگی ون وے ٹریفک ہے بہاؤ تیز ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
چھین لے گا وہ مجھ سے مجھ کو بھی
یہ بھی لکھا تھا میرے جین میں کیا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اب وہ پہلے سا دل دھڑکتا نہیں
کچھ خرابی ہے اس مشین میں کیا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
روگ بنتے ہیں یہ تعلق پھر
پیڑ ڈرتے ہیں ہیلو ہائے سے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

تصرف کا جدت کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔ تصرف اپچ کی طرف تخلیق کار کا پہلا قدم ہوتا ہے کیونکہ کسی بھی قسم کا نیا پن کسی روایت کے آخری سرے سے بندھاہوتاہے۔ گو کہ یہ تنقید کی اصطلاح ہے جس سے اچھوتا یا انوکھاپن مراد لیا جاتا ہے جس میں کچھ نیا ہومگر شعر کی دنیا میں جدیدیت طرز احساس کی تازگی اور شگفتگی سے عبارت ہے جس میں تنوع کی آمیزش اسے منفرد بناتی ہے۔ سید طاہر کے ہاں مجھے روایت کے ساتھ ساتھ تازگی اور شگفتگی کے جواہر، عصری شعور کے ساتھ غزلیات میں جابجا ملتے ہیں۔

وہ جس نے سر پہ چڑھایا تھا خاک امکاں کو
اسی ہوا کے سبب، خاک بیٹھ سکتی ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ابھی تو شاخ کے اندر نہاں ہے انگڑائی
مچل اٹھا ہے یہ گلشن سلام کرنے کو
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میرے اندر سے مرا جفت نمودار ہوا
اور ششدر ہیں مجھے طاق سمجھنے والے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پھر یہاں میں دیر سے پہنچا ہوں اور پھر سامنے
چند بیوہ کرسیاں ہیں ایک خالی میز ہے

سید طاہر غالباً درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ہمارے ہاں اس اہم ترین شعبے میں جو شعبدہ بازیاں ہوتی ہیں ہم سبھی ان سے باخوبی واقف ہیں۔ سید طاہر نے ہماری مجموعی زبوں حالی کا نقشہ کچھ یوں کھینچا ہے۔

عجب تعلیم بچے لے رہے ہیں
رویوں میں تناؤ بڑھ رہا ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میری فکر نارسا کی تہمتوں کے عکس ہیں
یہ دکانیں تو نہیں ہیں، خواہشوں کے عکس ہیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہاں شاعر جدت سے نالاں نظر آتا ہے۔ ایسی جدت جو ہماری مشرقی اور مذہبی روایات سے متصادم ہے۔
اس کو ہی کیا طاہر جدت کہتے ہیں
باپ سے آگے آگے بیٹا چلتا ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کہتے ہیں کہ ایسا نکتہ جو کسی فن میں موجود ہو اور فن شناس اس سے حظ اٹھائے ”رمزیت“ ہے۔ ایسا اشارہ، کنایہ، بھید جو اصل مفہوم تک پہنچائے، تفہیم کی کڑیاں ملائے ”رمز“ (Allusion) ہے۔ میری ذاتی رائے میں رمز کسی بھی فن پارے کا جوہر خاص ہوتی ہے۔ بات کہنا بھی اور چھپانا بھی، جیسے مومن خان مومن کی شاعری۔ رمز کا لطف اٹھانے کے لیے آپ کا رمز شناس ہونا بہت ضروری ہے۔ تصرف کے چند رمزیہ اشعار کا لطف لیتے ہیں۔

کرتا پھرتا ہے زمانے میں بہاریں تقسیم
جو ترے شہر میں اک تازہ خزاں لایا تھا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اب آگے کون منظر ہے، کہانی کار ہی جانے
یہاں رنگوں سے ہے مطلب، کہانی ختم ہوتی ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
گھر سے نکلا تو یہ کھلا مجھ پر
دھوپ جلتی ہے میرے سائے سے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جتنے بھی جنازے مرے کاندھوں پہ دھرے ہیں
خاموشی، ترے شور سے یہ لوگ مرے ہیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
راستے نور سے معمور ہوئے جاتے تھے
آبلہ پائی سے جب دیپ جلایا میں نے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دھوپ پھولوں سے گزر جاتی ہے آسانی سے
ایسا لگتا ہے کہ یہ سرو وسمن کانچ کے ہیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میری ذاتی رائے میں ہر تخلیق کار ترقی پسند ہوتا ہے۔ ترقی پسندانہ رحجان اصطلاحی معنوں میں رجعت پرستی کی ضد ہے۔ ترقی پسند ادیب یا شاعر ادب برائے زندگی کا نقیب ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ”ترقی پسند ادیب یا شاعر دیانت داری اور صاف گوئی سے کام لے کر ادب میں مقصدیت کا اعتراف کرتا ہے اورعوامی آرزوؤں، امنگوں اور ولولوں کے ساتھ اس کی ذہنی اور قلبی وابستگی، شعر و ادب کو توانائی اور بالیدگی عطا کرتی ہے“ ۔ ”تصرف“ میں اس کی سب سے پہلی جھلک ان کی شریک حیات کا مضمون بعنوان ”گھر کی گواہی“ ہے۔ حالانکہ موصوفہ کا شاید براہ راست شعر و ادب سے کوئی علاقہ نہیں ہے۔ غالباً وہ شاعرہ یا ادیبہ نہیں ہیں۔ اس کے باوجود میں اسے گھر کی گواہی نہیں بلکہ گھر کے ماحول کی روشن فکرسے تعبیر کروں گا۔

آئیے اب ”تصرف“ سے چند قیمتی فکر ی موتی چنتے ہیں۔
بس عنقریب فرشتے بھی چیخ اٹھیں گے
کہ ان کے جرم بھی تعزیر ہونے والے ہیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کھا گیا بھوک کا عفریت ہماری بستی
ہم نے دیکھا ہی نہیں دور جوانی جیسا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مجھ کو لگتا ہے میرے قاتل پر
آسماں کی گرفت ڈھیلی ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کب بنے گا مرا مکاں اے زمیں
جان چھوٹے گی کب کرائے سے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں بھری جیب لیے آیا تماشے میں مگر
ہوگئی زیست کے میلے میں یہ سالی، خالی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مجھ کو یوں اوقات میں رکھا جاتا ہے
دن کو جیسے رات میں رکھا جاتا ہے

آپ سب اس تبصرے کے عنوان کے بارے میں سوچ رہے ہو ں گے۔ ”تشبیب“ خالصتا شعری اصطلاح ہے جس کے معانی ’زمانہ عشق کا ذکر‘ لیے جاتے ہیں۔ ویسے تو قصیدے کے اولین تمہیدی حصے کو تشبیب کہا جاتا ہے مگرمیں نے یہاں اسے تصرف کا شباب یا تصرف کی واردات بیان کرنے کے معنی میں لیا ہے۔

قارئین! آخر میں چلتے چلتے سید طاہر کی زبانی راز سے پردہ اٹھاتا چلوں کہ ”تصرف“ کیونکر وجود میں آیا۔ شعر دیکھیے ذرا۔ ۔ ۔

عشق یونہی ثمر نہیں دیتا
جلنا پڑتا ہے اس الاؤ میں

کوئٹہ کی ثمربخش وادی میں دعا ہے کہ خدا کرے زور قلم اور زیادہ۔ آمین۔ طاہر بھائی میری جانب سے ”تصرف“ کی اشاعت پر دلی مبارک باد اور نیک تمنائیں قبول کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •