چائے عمدہ ہے!

میں کوئی چائے بیچنے والی کمپنی کا نمائندہ تو نہیں ہوں لیکن میری کہانی سے آپ کو چائے پینے کی اچھی خاصی ترغیب مل سکتی ہے۔ میرا تعلق ایک روایتی دیہی خاندان سے ہے۔ جہاں چائے کو زندگی کا لازمی حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ جہاں تین کھانے اور تین چائے کا اصول چلتا ہے۔ ایک وقت تھا جب دیہاتوں میں دودھ لسی کا چلن تھا مگر اب خال خال گھروں میں ہی دودھ، دہی اور لسی کا استعمال ہوتا ہے۔ میرے گھر میں بھی ابھی تک دہی لسی اور دودھ کا استعمال ہوتا ہے۔
مگر میں صرف دودھ پہ اکتفا کرتا ہوں۔ دہی اور لسی سے میرا خدا واسطے کا بیر ہے۔ اور جیسے کہ کہتے ہیں کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔ تو اس لحاظ سے چائے سے میری دوستی ہے۔ لیکن یہ دوستی جتنی گہری ہے اتنی پرانی نہیں ہے۔ چائے سے میرا رسمی سا تعلق تو عرصہ دراز سے تھا۔ مگر چائے سے میری گہری دوستی یونیورسٹی کے دور میں ہوئی۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ کبھی کبھار میں ایک آدھ کپ چائے پی لیتا تھا۔ نہیں تو مجھے چائے کی کچھ خاص فکر نہ ہوتی تھی۔
پھر یوں ہوا کہ قسمت مجھے سرگودھا یونیورسٹی لے گئی۔ یونیورسٹی مجھ میں اور تو کوئی بری عادت پیدا نہ کر سکے سوائے چائے کا عادی بنانے کے۔ اب یونیورسٹی میں یہ حال تھا کہ جو بھی جاننے والا ملتا کہتا، چائے پیو گے۔ اگر میں کہتا نہیں۔ تو و ہ کہتا ہے پھر پلا دو۔ اب بہ امر مجبوری ایک ایک کپ چائے کا نوش کرنا پڑتا۔ اسد رانجھا تو ایسا کمال بندہ تھا کہ دو تین دوستوں کو لے کر میرے ڈیپارٹمنٹ آ جاتا اور کہتا، ہم تیرے مہمان ہیں چائے ہی پلا دے۔ اور ہم کینٹین کی طرف چل پڑتے۔ پہلے تو کینٹین میرے ڈپارٹمنٹ سے کچھ دور تھی اور پھر انتظامیہ نے کینٹین اٹھا کر (ماس کمیونیکیشن) یعنی میرے ڈپارٹمنٹ کے سامنے رکھ دی۔
میں نے چاہا کہ توبہ نہ ٹوٹے مگر
مے کدہ میرا گھر ہو تو میں کیا کروں
یونیورسٹی نے ہمارا میکدہ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے سامنے لا کر رکھ دیا تھا۔ اب تو جو بھی آتا مہمان نوازی ہماری بنتی۔ چاہے کے ساتھ بہت ساری یادیں وابستہ ہیں۔ ایک دن میرا ایک کلاس فیلو اور جگری یار عادل ندیم اور میں محترم استاد شجیع حسن صاحب کے آفس میں چائے پی رہے تھے اور کلاس کا وقت ہوگیا۔ کلاس میں پہنچے تو سر حسن رضا نے پوچھا ہاں بھائی کدھر تھے۔
جی وہ شجیع صاحب کے پاس چائے پی رہے تھے۔
اچھا ہمارا بھی چائے پینے کو بڑا دل کر رہا ہے۔
منگواؤ ساری کلاس کے لیے چائے۔
ہم نے کلاس فیلوز کی گنتی ماری اور کینٹین پر آرڈر دینے چلے گئے۔
اس کے علاوہ میری چائے پینے کی عادت میں ایک اور خاص وجہ ہے۔ وہ یہ کہ جب میں چائے نہیں پیتا تھا تو میں جدھر کدھر بھی مہمان جاتا تو آگے سے وہ چائے بنا کر پیش کرتے اور میں انکار کر دیتا۔ کوئی جتنی بھی ضد کرتا میں چائے نہ پیتا۔ تو مجبور انہیں کچھ اور تکلف کرنا پڑتا یا پھر اگر وہ نہ کرتے تو یہ ان کے لئے خفت کا باعث بنتا۔ اور دوسروں کو اس خفت سے بچانے کے لئے میں نے ہر جگہ چائے قبول کرنا شروع کر دی۔ اب چائے کی اتنی عادت ہوگئی ہے کہ اگر میرے سامنے کوئی کہے کہ وہ چائے نہیں پیتا۔ تو میں اسے حیران ہو کر دیکھتا ہوں، کہ یار عجیب بندہ ہے چاہے نہیں پیتا۔ اب میرا چائے چھوڑنے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں سوائے ایک کے۔ جس دن مجھے اپنے ہاتھوں کی بنی ہوئی چائے پینی پڑ گئی اس دن شاید میں چائے چھوڑ دوں۔
چائے بیچنے والی کمپنیاں اکثر و بیشتر چائے کی پروموشن کرتی رہتی ہیں۔ اور آج کل کے دور میں تو اس مہم میں ہمارے جدید شعراء نے بھی اچھا خاصا حصہ ڈالا ہے۔ شعراء اپنی شاعری کے ذریعے چائے کی غیر ارادی پروموشن میں مصروف ہیں۔ لیکن میرے خیال میں کسی بھی چائے بیچنے والی کمپنی کے اشتہار کی نسبت ابھی نندن نے چائے کی زیادہ پروموشن کی ہے۔ اور شاید اس نے ہی دنیا کا سب سے مہنگا چائے کا کپ پیا ہے۔ جس کی قیمت تھی ایک MIG 21۔

