تحریک انصاف کے سینئر وزیر عبدالعلیم خان کے نیب کیس میں اہم پیش رفت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیب نے علیم خان کیس میں عبوری چالان دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس عبوری ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ چیئرمین نیب کی خاص ہدایت پر کیا گیا۔ نیب ذرائع کے مطابق عبوری ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ چیئرمین نیب کے دورہ لاہور میں ہوا۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالعلیم خان کی بیرون ملک جائیدادوں کا ریکارڈ تاحال نیب کو موصول نہیں ہوا۔ بیرون ممالک کے ایم ایل ایز آنے کے بعد حتمی چالان بھی دائر کیا جائے گا۔

نیب ذرائع کے مطابق سینئر وزیر کے والد کو باہر سے 60 کروڑ اور 90 کروڑ روپے موصول ہوئے۔ نیب رپورٹ کے مطابق عبدالعلیم خان والدین کو موصول رقم کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے تھے۔ نیب ذرائع کے مطابق رقم کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔

عبدالعلیم کو امریکا سے نعیم اصغر نے اگست 2002 میں 11 کروڑ 68 لاکھ بھیجے۔
14 اکتوبر 2002 نعیم اصغر نے 3 کروڑ 54 لاکھ سے زائد بھیجے۔
12 دسمبر 2003 کو برطانیہ سے 2 ارب 29 کروڑ موصول ہوئے تھے۔
27 نومبر 2004 کو بھی امریکا سے 59 کروڑ 77 لاکھ روپے ملے۔
2004 میں لندن سے عبدالعلیم کے اکاؤنٹ میں 1 ارب 79 کروڑ روپے آئے۔

صوبائی وزیر جنگلات سبطین خان کے کیس میں بھی اہم پیش رفت

نیب ذرائع کے مطابق ایکس ایم ڈی پنجم منظر حیات سبطین خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے۔ نیب ذرائع کے مطابق گوجرانوالہ میں 25 لاکھ کی کمپنی کاغذوں میں ظاہر کی گئی۔ چنیوٹ کا خزانہ مذکورہ کمپنی کے حوالے کر دیا گیا۔ چنیوٹ اور راجوہ میں اربوں روپے مالیت کے 500 میٹرک ٹن لوہا کے ذخائر سبطین خان پر یہ غیر قانونی ٹھیکے من پسند کمپنی کو نوازنے کا الزام ہے۔

نیب کے الزامات کے مطابق جولائی 2007 میں میسرز ارتھ ریسورس پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کو ٹھیکہ دیا۔ ٹھیکہ ای آر پی ایل کو مروجہ قوانین سے انحراف کرتے ہوئے دیا گیا۔ ای آر پی ایل کمپنی ماضی میں کان کنی کے کسی تجربے کی حامل نہیں تھی۔ اس کے باوجود ایک نا تجربہ کار کمپنی کو ملی بھگت سے ٹھیکہ دے دیا گیا۔ پنجاب مائنز ڈیپارٹمنٹ نے بڈنگ میں کسی دوسری کمپنی کو شامل ہی نہ کیا۔ پنجاب مائنز نے بظاہر صرف 20 فیصد کی شراکت پر رضا مندی ظاہر کی۔ یہ جوائنٹ وینچر اس حوالے سے غیر قانونی تھی۔ ملزمان کی جانب سے ایس ای سی پی کو منصوبے کی کبھی تفصیل نہ دی گئی۔ ملزم سبطین خان نے چنیوٹ کے اربوں کے وسائل 25 لاکھ کی کمپنی کو دیے۔

سبطین خان سے جب رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ذرائع کے مطابق اس چیز کا تعین نہیں کیا جا سکا کے راؤ منظر اب تک وعدہ معاف گواہ بنا ہے کہ نہیں لہذا اس خبر پر کچھ بھی تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
دوسری جانب نیب کے عبوری چالان دائر کرنے کے حوالے سے علیم خان نے اس حوالے سے کوئی ردعمل نہیں دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •