مزار اقدس بی بی زینب پر حاضری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دمشق میں پہلا دن، پہلا کام مزار اقدس بی بی زینب پر حاضری کے سوا کیا ہو سکتا تھا۔ ہوٹل سے نکلتے ہی طلائی گنبدوں کی چمک نے آنکھوں کو خیرہ کیا۔

روضہ مبارک میں داخل ہونے سے قبل ایک آواز کانوں میں گونجی تھی۔
”خدا کی راہوں میں شہادت پانے والے لوگ کبھی فنا نہیں ہوتے۔“

حضرت زینب۔ عفت و عصمت کی تصویر۔ صبر ورضا کا پیکر۔ خاتون جنت کی لخت جگر، علی المرتضیٰ کی آنکھوں کا نور۔ زینب نام آقائے دوجہاں کا عطا کردہ تھا۔ بچپن بڑا محرومیوں والا تھا کہ پہلے نانا بعد میں ماں جیسی ہستی نے جدائی کا غم دے دیا۔ شادی عبد اللہ بن جعفر سے ہوئی جو عم زاد تھا۔ کربلا میں مردانہ وار کردار ادا کیا۔ بھائیوں کے ساتھ بیٹوں کی شہادت کو صبر واستقامت سے برداشت کیا۔

جب یزید کے دربار میں لائی گئیں تو غم کا کوہ گراں دل پر اٹھائے عزم وحوصلے کی تصویر نظر آئی تھیں۔ خطاب ایسا کہ آ ہنی حوصلہ رکھنے والا بھی کانپ اٹھے۔ مگر سوال ہے کہ ہم کیسے مسلمان ہیں کہ ان کی زندگیوں سے کوئی سبق نہیں لیتے؟ وہ جگہیں جن کی ایک ایک اینٹ بھی باعث صد احترام۔ انہی پرفرقہ واریت کے جھگڑے، انہی پر گولہ بارود کی بارش۔

مرکزی گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی تنظیمی دفاتر نظرآتے ہیں۔ دیواریں مذہبی اور سیاسی شخصیات کی تصویروں سے سجی تھیں۔ جناب حسن نصراللہ میرے سامنے تھے۔ بے اختیار قدم رک گئے تھے۔ آخر کیوں نہ رکتے؟ لبنان کی حزب اللہ تحریک کے بانی، اس تنظیم کے روح ورواں ایک باعمل اور صاحب کردار مسلمان جنہیں تعظیم دینا، جنہیں سراہنا، جن کے لئے عقیدت بھرے دو لفظ بولنے بے حد ضروری تھے۔

میرے دل سے تو عقیدتوں اور محبتوں کے سوتے ابل پڑے تھے۔ 16 جولائی 2006ء کا دن اپنی وحشت ناک خبر کے ساتھ یاد آیا تھا۔ میں نے ٹی وی پر اس خبر کو اپنے دل پر کسی زور دار گھونسے کی مانند محسوس کیا تھا۔ اس وقت میں نہیں جانتی تھی کہ یہ مکار بڑی طاقتیں اور لاغر، نحیف، خود غرضیوں کے حصار میں گھری مسلم امہ بھی قرون اولیٰ کے مجاہدانہ کردار کی ایک جھلک لبنان کی اس حزب اللہ کی صورت میں عنقریب دیکھنے والی ہے۔

16 جولائی کو اسرائیل نے حزب اللہ کے ہاتھوں اپنے دو فوجیوں کے اغوا ہونے کی آڑ لیتے ہوئے لبنان پر حملہ کر دیا تھا۔ طاقتور دنیا کی بھی کیسی ڈھٹائی تھی کہ اسرائیل کی جیلوں میں تقریباً نو ہزارفلسطینی اور لبنانی قید تھے۔ ان کی کوئی شنوائی نہ تھی۔ یہ حملہ اسرائیل نے امریکہ کی ہلا شیر ی سے حزب اللہ اور ایران کو سبق سکھانے کے لئے کیا تھا۔

اسرائیل کا اعلان تھا۔ لبنان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی۔ حزب اللہ اور اس کی قیادت کو کچل دیا جائے گا۔ دونوں ملکوں میں جنگ کوئی 34 دن جاری رہی۔ لبنانی عوام، ا ن کے لسانی اور مذہبی گروپ، مسلم غیر مسلم سب حزب اللہ کی پشت پر کھڑے ہوگئے تھے۔

جدید ترین ہتھیاروں سے لیس دنیا کی بہترین فوج کے مقابلے پر صر ف ڈھائی ہزار مجاہدین تھے جنہوں نے زیر زمین سرنگوں اور ٹھکانوں سے اسرائیل کے اندر جا کر اسے بتایا کہ حزب اللہ لوہے کے چنے ہیں۔ اسرائیل کے دانت بری طرح ٹوٹ جائیں گے۔

بھاری جانی ومالی نقصان نے اسرائیلی عوام کو حکومت کے مقابلے پر کھڑا کر دیا تھا۔ وہ جنگ بندی پر مجبور ہوگیا۔ اسرائیل کے وزیر اعظم ایہود المرت نے اپنی کنیسٹKnesset سے خطاب کرتے ہوئے قوم سے اس جنگ میں شکست پر معافی مانگی تھی۔ اعتراف کیا تھا کہ انہیں اپنے اس فعل پر افسوس ہے۔

ان کا وہ کردار بھی قابل تقلید ہے جب وہ اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کو دیکھنے جاتے ہیں۔ ان شہیدوں میں ان کا بیٹا بھی ہے۔ مارگیو میں قطار در قطار سفید کفنوں میں لپٹے شہیدوں میں ہر ایک کے پاس پل بھر کے لئے رکتے، اسے دیکھتے اور آگے بڑھ جاتے۔ اپنے لخت جگر کے لئے بھی ان کے پاس بس ایک لمحہ ہی تھا۔

جنگ بندی کے بعد کا بھی بڑا مثالی کردار تھا۔ متاثرہ لوگوں میں امدادی رقوم کی تقسیم، مکانوں کی مرمت اور تعمیر نو، خاندانوں کو گزارہ الاؤنس۔ مغرب کا میڈیا بھی تعریف کر نے پر مجبور ہوا۔

ایک دنیا امنڈی پڑی تھی۔ کشادہ صحن سے آگے داخلی دروازے کا پچی کاری کے کام سے مزین بے حد دیدہ زیب کام جس میں نیلا رنگ نمایاں اور بہت کھلتا ہوا نظروں سے کھبا جاتا تھا۔ بلند وبالا مینار کی بھی اپنی شان تھی۔

شنید ہے کہ اس کا بیشتر کام حکومت ایران کا مرہون منت ہے۔ اندر نقرئی اور طلائی کاموں کی جھلکیاں تھیں۔ جالی سے لٹکتے منتوں کے تالے اور رنگین دھجیاں انسانی خواہشوں اور تمناؤں کی کہانیاں سناتی تھیں۔ یہاں وہاں جالیوں سے لگی صورتیں آنسوؤں سے لبریز آنکھیں، فضاؤں میں گونجتے نوحے سبھی مضطرب کرتے تھے۔

آج لکھتے ہوئے وہ سارے منظر جو بہرحال امن اور عافیت کے حصار میں لپٹے ہوئے تھے۔ چار پانچ سال بعد ہی خون خون ہوگئے تھے۔ میر ی سماعتوں میں نیوز ریڈر کی آوا ز گونجی ہے۔

حضرت زینب کے مزار کے باہر بم دھماکے۔ ساٹھ 60 افراد شہید۔ متعدد زخمی۔ روضے والی گلی کلی طور پر تباہ۔ آنکھوں کی نمی صاف کرتے ہوئے میں خود سے بڑ بڑائی تھی۔

”میرے معبود! تیرے محبوب کی امت پر کیسا وقت آن پڑا ہے؟ مسلمان ہونا رسوائے زمانہ ہو گیا ہے۔ کلمہ گو کلمہ گو کے ہاتھوں قتل ہو رہا ہے۔ اسلا م کے نام لیوا ملکوں کے سربراہ اقتدار کو بچانے کے لئے اغیار کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔

باہر نکلی تو صحن میں سوز خوانی کی محفل نے رنگ بکھیرا ہوا تھا۔ سرگودھوی لہجے میں محسن نقوی کا مشہور زمانہ مرثیہ کلام۔ واہ واہ کہوں کہ آہ آہ کہوں۔ کیا بات تھی۔ آوازوں کا سوز وگداز میں ڈوبا بلند آہنگ پر یوں جیسی صورت والی ایرانی خواتین کے ایک جمگٹھے نے ان عورتوں کے گرد گویا حصار سا باندھا ہوا تھاسمجھ نہ آنے کے باوجود وہ جوش و جذبے کی پوری لگن سے اس محفل میں شریک تھیں۔ کیا شاعر تھا محسن نقوی بھی۔ محبت کا سفیر۔

ادھر ادھر گھومتے پھرتے مسجدوں کا پتہ چلا۔ روضہ مبارک کے دائیں بائیں دو مسجدیں۔ ایک شیعہ اور دوسری سنی۔

”اے اللہ ہمیں تو یہ عقیدوں اور مسلکوں کے فتنے اور چکر لے بیٹھے۔ کوئی پوچھے کہ بھلا ایک ہی جگہ میں اپنے اپنے طریق سے نمازپڑھنے میں کیا قباحت ہے یا کوئی ممانعت ہے؟ کیوں اتنے پراگوں میں اس جنڈری کوڈال رکھا ہے؟ تو دونوں مسجدوں میں دو دو نفل پڑھ آتی ہوں۔ دیدار بھی ہو جائے گا۔

مگر اب بیچ میں اس ظالم وقت کا کیا کروں؟ ابھی چند دن پہلے میں نے جو تصویریں دیکھی ہیں۔ انہوں نے مجھے کیا کچھ نہیں یاد دلایا۔ میرے تصور کی آنکھ نے ان گول مٹول سرخ وسفید بچوں کو دیکھا۔ حسین چہروں والی طرحدار دوشیزائیں مجھے یا د آئی تھیں۔

شام کے سراقب قصبے کے رہنے والے شہریوں نے کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کا جس طرح سامنا کیا ہے وہ انسانیت کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ معصوم بچے اور عورتیں یوں لگتا تھا جیسے شادی کی کسی پر مسرت سی تقریب کے بعد تھک کر سوئے ہوں۔ بے ترتیب سے، ایک دوسر ے میں الجھے ہوئے، زندگی کی دوڑیوں سے کٹے ہوئے۔

اللہ تیس ہزار آبادی والے قصبے پر مائع کلورین کے کنستر گرائے گئے۔ یہ ہیومن رائٹس کی قراردایں، یہ باراک اوباما کے بیان۔ روس اور امریکہ کے مابین سمجھوتے۔ جہاں مفادات کا ٹکراؤ نہ ہو وہاں ایسے ہی سمجھوتے ہیں۔ کہاں کی انسانیت؟ کہاں کے اصول اورضابطے؟ بس بشار کو تھوڑی سی ڈانٹ ڈپٹ کہ آئندہ ایسی حرکت نہیں ہونی چاہیے۔ یاد رکھو کیمیائی ہتھیار وہ سرخ لکیر ہے جس کا استعمال عالمی برادری برداشت نہیں کرے گی۔ اوباما کہتا ہے۔ واہ کیا کہنے اس عالمی برادری کے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •