حسین علیہ السلام سب کے


شجاعت میں مثل جناب علی کرم اللہ وجہہ، عباس علیہ السلام جیسا جری سپہ سالار لشکر، اذن جنگ مل جاتا تو تاریخ کا دھارا مختلف ہوتا۔ لیکن وقت کے امام نے اس کو ایک جنگ کے بجائے معرکۂ حق و باطل رہتی دنیا کے لیے قائم رکھنا تھا۔ اور آج تک جہاں حق کا ذکر ہو وہاں فلسفۂ حسینیت کی پکار سنائی دیتی ہے اور جہاں باطل کی پہچان کی جانی مقصود ہو اسے یزیدیت سے پہچانا جاتا ہے۔ چھ ماہ کے علی اصغر علیہ السلام کے گلے کو تین منہ کے تیر نے چھلنی کیا تو اس کے بعد کیا یزیدیت کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب نہیں ہوا؟

جناب قاسم علیہ السلام کا سرزمین کرب و بلا میں ٹکڑے ہو جانا، علی اکبر علیہ السلام جیسے کڑیل جوان کے سینے میں برچھی کا اتر جانا، عون و محمد علیہم السلام اجمعین کی بچپنے کو شکست دیتے ہوئے داد شجاعت دینا۔ حبیب ابن مظاہر علیہ السلام جیسے پر خلوص دوست کا آواز امام حسین علیہ السلام پہ لبیک کہنا، دربار یزید میں بنت علی سلام اللہ علیہا کا تاریخی خطبہ، کیا یہ سب آج کے دور میں مشعل راہ اب نہیں رہا؟ کیا کردار امام حسین علیہ السلام اور اصحاب حسین علیہ السلام آج کے دور میں زندگیوں میں نکھار لانے کے لیے کافی نہیں؟ دلوں کو شفاف، پاکیزہ کرنے کے لیے کربلا کا پیغام کافی نہیں؟ بالکل کافی ہے۔ لیکن حقیقتاً ہم آج حسینیت سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

آج ہم نے جناب حسین علیہ السلام کی میدان کرب و بلا میں رضائے الہی کے لیے دی گئی قربانی کو مخصوص گروہ، فرقے، یا مذہب سے منسوب کر دیا ہے۔ جب کہ حسینیت کا پیغام تو آفاقی ہے کہ جس سے نیلسن منڈیلا جیسا راہنما اپنی جد و جہد کی کامیابی کے لیے سیکھتا ہے۔ کنور مہیندرا سنگھ بیدی جناب حسین علیہ السلام کی شان میں رطب اللسان ہے اور ہم امام حسین کو کسی مخصوص فکر کی جاگیر بنائے بیٹھے ہیں۔ رادھا کرشن ہوں یا مہاتما گاندھی اغیار فلسفۂ حسینیت کو پہچان گئے لیکن ہم نے پیغام کربلا کو پہچاننے کے بجائے اختلافی امور کو ہوا دینا زیادہ اہم سمجھا۔

کربلا سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ حبیب ابن مظاہرؑ کی عمر کے حوالے سے روایات مختلف ہیں۔ دوست ہیں امام عالی مقامؑ کے۔ ہم نے ایک لمحہ بھی دوست کے ساتھ ان کے کھڑے ہونے میں لغزش دیکھی؟ ایک لمحہ بھی یقینی موت دیکھتے ہوئے انہوں نے دوست کا ساتھ دینے کا ارادہ ترک کرنے کا سوچا؟ دوستی کے اس پیغام کو آج ہم نے اپنی زندگیوں میں کتنا نافذ کیا؟ آج ہم دوستی میں خلوص و وفاداری کے کتنے قائل ہیں؟ سعید بن عبداللہ ؑ امام کی نصرت میں ان کی دوران نماز ظہر حفاظت میں اپنے سینے پہ تیر جھیلتے رہے۔

فرض، خلوص، استقامت کیا ایسا آج رتی برابر بھی ہم اپنا پا رہے ہیں؟ کیا اس پیغام کربلا کو سمجھتے ہوئے ہمارے قدم بھی حق بات پہ مضبوط کھڑے رہ پا رہے ہیں؟ جب امام عالی مقام ؑ نے تمام اصحاب و ساتھیوں کو اپنی بیعت سے نا صرف آزاد کیا بلکہ جنت کی نوید بھی سنائی تو اس کے باوجود جناب مسلم ابن عوسجہ کے الفاظ تاریخ کا حصہ بن گئے کہ ”میرے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیے جائیں اور میں پھر زندہ کیا جاؤں اور ایسا ستر مرتبہ کیا جائے تو بھی آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا“ یہ استقامت، یہ حوصلہ، یہ جرات ظلم کے خلاف ہی تو کربلا کا پیغام تھا لیکن ہم فروعی اختلافات میں ایسے الجھے کہ ہم نے حقیقی پیغام کربلا کا پس پشت ڈال گیا۔ ننھے علی اصغر ؑ کو خود ماں اپنے ہاتھوں سے تیار کر رہی ہے۔ کیا آج کی مائیں اس کردار سے کچھ حاصل نہیں کر سکتیں؟

کربلا میں کیا نہیں تھا کہ جسے ہم عملی زندگی میں نا لا پائیں۔ دوستی کا خلوص، ماں کی اولاد سے محبت اور اولاد کو راہ خدا قربان کر دینا، بیوی کی وفا شعاری اور قربانی پہ شکر ادا کرنا، ظلم کے خلاف نعرۂ حق بلند کرنے کے لیے پہلے جانے کی کوشش، بچے جوانوں سے پہلے شہادت چاہ رہے ہیں، بوڑھے ناتواں کندھوں میں فولاد کی سی طاقت جمع کیے ہوئے راہ حق پہ جاں دینے کو بیتاب ہیں۔ بھائی کی بھائی سے وفا پہ عقل حیران ہے۔ ظالم نو لاکھ، حق گو صرف 72 لیکن صرف استقامت، صبر، حوصلہ ایسا کہ تاریخ انگشت بدنداں ہے۔ خانوادۂ رسول ﷺ ظلم کے خلاف نا اٹھ کھڑے ہوتے تو آج دین اسلام کس حال میں ہوتا؟ ردائیں نا لٹائی جاتیں تو آج ہماری عورتوں کے پردوں کا کیا حشر ہوتا؟

صرف ایک لمحہ، بس ایک ساعت، سوچ کو ایک لمحہ تمام اختلافات سے ہٹا کر ایک نقطے پہ لائیے۔ نواسہ ء رسول ﷺ نے قربانی کیا ایک فرقے، مذہب یا گروہ کے لیے دی؟ اگر ایسا ہوتا تو غیر مسلم کیوں امام عالی مقام ؑ کے کردار و جرات سے سبق حاصل کر رہے ہوتے۔ اگر کربلا صرف ایک جنگ کا نام ہوتا تو بہنیں، بیٹیاں، بیمار کیوں امام عالی مقامؑ کے ساتھ ہوتے؟ آپ تمام اختلافات ایک طرف رکھیے۔ اگر رونے کا من کرے تو اتنا ہی کافی ہے رونے کے لیے کہ ان کے گلے پے کند خنجر چلا جو دوش نبوت ﷺ کے سوار تھے۔

آپ نے گریہ کرنا ہے تو یہی کافی ہے کہ نواسیٔ رسول ﷺ کربلا تا شام ردا مانگتی رہیں اور یزیدیت کے نام لیواؤں نے انہیں باغی کی بہن کہا۔ کوئی گریہ کرتا ہے تو وجوہات لاتعداد ہیں، کوئی ماتم کرنا چاہے تو پہلو کئی موجود ہیں ماتم کو، کوئی صرف نذرانہ عقیدت پیش کرنا چاہتا تو نذرانہ عقیدت کے لائق وہی ہستیاں ہیں۔ تمام معاملات کو ایک طرف رکھ دیجیے اور کربلا کو مقصد حیات بنائیے نا کہ مقصد اختلاف۔ کربلا کو زندگی میں نافذ کیجیے، نا کہ بس کربلا کے نام کے بینر بنوائیں اور بس۔

آج ہم کربلا سے دور ہیں، فکری لحاظ سے، عملی لحاظ سے، نظریاتی لحاظ سے۔ اسی لیے ہم پوری دنیا میں خوار ہو رہے ہیں۔ حسینیت کسی فرقے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ ظلم کے خلاف کلمۂ حق کہنے کا نام حسینیت ہے۔ حسین علیہ السلام ایک فرقے یا گروہ کے نہیں ہیں پوری انسانیت کے لیے ہیں۔ حسین علیہ السلام سب کے ہیں۔

Facebook Comments HS