صدارتی نظام کی باز گشت، عوام کیا چاہتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے طول و عرض میں کافی عرصے سے صدارتی نظام کے لئے زمین ہموار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نظام صدارتی ہو، پارلیمانی ہو، بادشاہت سے ملتی جلتی کوئی آمریت ہو یا خالص بادشاہتی نظام، عوام کو ان سے کبھی کوئی غرض و غایت نہیں ہوا کرتی کیونکہ ہر ملک کے عوام امن چاہتے ہیں، سکون چاہتے ہیں، روزگار کا عام ہونا چاہتے ہیں، عدل و انصاف چاہتے ہیں، مساویانہ سلوک چاہتے ہیں، عزت و وقار چاہتے ہیں اور جتنی بھی مناسب جدید سہولتوں ہوں ان کو اپنی دہلیز تک آتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

دنیا کے وہ ممالک جن کی بنیاد کسی دین، فرقے یا مذہب و مسلک پر نہ رکھی گئی ہو، وہاں کے عوام کے لئے مذکورہ عیش و آرام ہی بہت، لیکن پاکستان کے عوام دنیا کے دیگر ممالک سے ایک قدم اور بڑھ کر اپنے ملک کا سیاسی، سماجی، معاشی، تعلیمی اور اقتصادی نظام اس آئین و قانون کا پابند دیکھنا چاہتے ہیں جو اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت کے عین مطابق ہو کیونکہ پاکستان بنانے اور اس کی خاطر آگ و خون کے دریا عبور کرنے کا مقصد اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں تھا ورنہ غیر منقسم ہندوستان بھی ایک خطہ زمین اور ملک ہی تھا اور اس کو محض دو ناموں سے پکارا جانا مسلمانان ہند کا مقصد و مدعا بالکل بھی نہیں تھا۔

جس صدارتی نظام کی آوازیں ملک میں اٹھ رہی ہیں یا اٹھوائی جارہی ہیں یہ کسی بھی لحاظ سے کوئی انوکھی اور نئی نہیں۔ اس ملک میں ایک طویل عرصے خالص صدارتی نظام نافذ رہا ہے اور پوری فوجی طاقت کے ذریعے چلایا جاتا رہا ہے جس کے نتیجے میں وہ پارلیمانی نظام جس کو جمہورت کہہ کر پاکستان کی تباہی و بربادی کا واحد ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، وہ بھی کبھی صدارتی طرز حکومت کے اثر سے باہر نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔

ایک مسئلہ یہ بھی رہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ بیرونی دنیا کے اشارہ ابرو پر چلنے پر مجبور رہا یا پھر صدیوں کی غلامانہ زندگی گزارنے والے ذہنی طور پر غلامی کی زنجیریں توڑنے میں ناکام رہے جس کی وجہ سے اپنے اندر سے خالص عوامی قیادت کو ابھارنے میں تا حال ناکام ہیں۔

پاکستان میں 1958 کے بعد پہلی عوامی حکومت پاکستان کے دولخت ہوجانے کے بعد ”بنائی“ گئی۔ جو چیز خود وجود میں نہیں آیا کرتی وہ اپنے خالق کے اثر سے کبھی باہر نہیں نکل سکتی۔ چنانچہ جمہوریت نے بہت جلد آمریت کا روپ دھار لیا اور اپنے لئے آئین و قانون بنا لینے جیسے عظیم کارنامے کے باوجود جمہوری حکومت اپنے آپ کو آئین و قانون کا پابند نہ بنا سکی اور اس کے سب فیصلے ذاتی ”مرضی“ کے تابع ہو کر رہ گئے جس کے نتیجے میں ایک بار پھر پورا ملک خالص صدارتی (فوجی) نظام کے حصار میں آ گیا۔ اس کے بعد بننے، ٹوٹنے اور ٹوٹنے بننے والی حکومتیں اس بات کی گواہ ہیں کہ ہر جمہوری حکومت و حکمران مٹیالے ”سایوں“ کے زیر اثر رہا یہاں تک کے وہی ”سایہ“ ایک مرتبہ پھر پورے ملک پر چھا گیا اور جمہوریت ایک مرتبہ پھر انتقال کر گئی۔

پاکستان جب جب بھی امریکا کی غلامی کا بری طرح اسیر رہا، صداری نظام امریکی حکمرانوں اور پاکستانی آمروں کے من لبھاتا رہا لیکن ایک مسئلہ پاکستان کے ساتھ یہ بھی در پیش رہا کہ دنیا کو صدارتی نظام پر تو شاید کبھی کوئی اعتراض نہیں رہا البتہ اس نے فوجی حکمرانی و حکمرانوں کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی جس کی وجہ سے یہ بات بہت ضروری ہو گئی کہ نظام صدارتی ہو یا پارلیمانی، حکمران سویلین ہی ہونا چاہیے۔ کسی سویلین کو با اختیار صدر بنا کر سارے اختیارات اس کے ہاتھ میں سونپ دینے کا مطلب ”بادشاہ گر“ خوب جانتے تھے اس لئے ان کو ایسی جمہوریت درکار تھی جس کو شو پییس یا ڈسپلے میں رکھے ماڈل کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے چنانچہ مشرف حکومت کے بعد جب زرداری کی حکومت بنی تو پورے پاکستان کی مقبول ترین شخصیت کے طور میں جنرل اشفاق کیانی رہے اور نواز شریف کے دور میں شریف فیملی ہی کے حاضر ڈیوٹی جنرل راحیل شریف کو آنکھوں کا تارہ بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔ موجودہ دور میں عمران خان صاحب بے شک ملک کے وزیر اعظم کے طور پر ڈسپلے میں سجے سجائے نظر آتے ہیں لیکن ان کی پوری ٹیم، ان کے عام سپورٹر اور بہت جذباتی ورکر تک جتنی تعریف و حمایت جنرل قمر جاوید باجوہ کی کرتے نظر آتے ہیں اس سے پاکستان میں جمہوریت کے ”خالص“ ہونے کا اندازہ خوب اچھی طرح لگایا جا سکتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فی زمانہ جس شد و مد کے ساتھ صداتی نظام کی آوازیں اٹھائی یا اٹھوائی جا رہی ہیں کیا وہ عملاً ختم ہو گیا؟ جو نظام خالصتاً 40 سال سے زیادہ عرصے پاکستان میں نافذ رہا کیا پاکستان کے عوام کے دل میں اس کے خلاف کسی بھی قسم کا کوئی غم و غصہ نہیں پایا جاتا۔ کیا وہ پاکستان میں اس نظام کو نافذ کرنے میں کامیاب ہوا جس کے لئے اس ملک کو بنایا گیا تھا اور کیا وہ سارے آمر حکمران عوام میں اتنی بھی جگہ بنانے میں کامیاب ہو سکے کہ بغیر کسی سیاسی پارٹی کا سہارا لئے کسی یونین کونسل کے ناظم کا الیکشن بھی جیت سکیں۔

جس وقت بھی قوم نے اس بات کو سمجھ لیا اسی دن اسے یہ احساس ہو جائے گا کہ ان کے دل جبر کی پابندیوں سے زیادہ، امنگوں کی آزادیاں پسند کرتے ہیں اور جب تک ان کے منتخب حکمرانوں کو بلا روک ٹوک کام کرنے کی مکمل آزادی نصیب نہیں ہوگی ان کا مطمئن ہونا ممکن نہیں اور انھیں مزید اطمنان اس وقت تک حاصل نہ ہو سکے گا جب تک پاکستان کے آئین و قانون کو اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کا پابند نہیں بنالیا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •