حاضر پاکستان، غائب پاکستان

محمد حنیف - صحافی و تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجودہ حکمرانوں کے کئی انقلابی نعروں میں سے ایک یہ ہے کہ دو نہیں ایک پاکستان۔

سیاسیات کے پروفیسر اس سے اختلاف کریں گے اور کہیں گے کہ دو نہیں کم از کم دس بارہ پاکستان موجود ہیں لیکن سیاسی نعرے پیچیدہ مسائل کو سادگی اور پُرکاری سے عام فہم زبان میں ڈھالنے کا فن ہے۔

تو یہ بات سب کو سمجھ آ جاتی ہے کہ ایک غریب کا پاکستان ہے ایک امیر کا، ایک پاکستان تھانیدار کے چھتر کا ہے اور ایک غریب کی پشت کا۔ ایک ورکشاپ میں کام کرتے چھ سالہ بچے کا اور ایک ڈیڑھ لاکھ روپے سے بنوایا گیا برتھ ڈے کیک کاٹتے بچے کا پاکستان۔

عورت کا پاکستان، مرد کا پاکستان، شیعہ اور سنی کا پاکستان، 13 سال کی عمر میں اسلام قبول کرتی ہندو لڑکی کا پاکستان اور اس کو رات کی تاریکی میں بھگا لے جانے والے اور کلمہ پڑھانے والے کا پاکستان۔

یقیناً ان پاکستانوں میں فاصلے دور کرنے کی ضرورت ہے۔

لیکن دو ایسے پاکستان ہیں جن پر بات کرتے ہوئے ہماری زبان پر لُکنت آ جاتی ہے۔ ہمارے قلم تھرتھرانے لگتے ہیں۔ ایک پاکستان وہ ہے جو حاضر ہے، جیسا بھی ہے نظر آتا ہے۔ پہاڑ ہیں، سمندر ہے، غائب ہوتے ہوئے دریا ہیں، ابلتے ہوئے گٹر ہیں، پریس کلب ہیں، اے ٹی ایم مشینیں ہیں، ایف 16 طیارے ہیں اور میٹرو بسیں ہیں۔

انصاف کا نظام جتنا بھی ناکارہ ہو لیکن موجود ہے، تھانے کچہریاں آباد ہیں، چھیپا کے لنگر خوان ہیں، ایدھی کے مردہ خانے ہیں اور جیسا ہے جہاں ہے کی بنیاد پر ہم اس پاکستان سے کسی دن پیار کرتے ہیں، کسی دن شکوہ کرتے ہیں اور کبھی کبھی اپنے آپ سے پوچھتے بھی ہیں کہ یہ ملک ایسا کیوں ہے؟

لیکن کبھی ایک لمحے کے لیے اس دھرتی کے ساتھ کان لگا کر سنیں تو آپ کو دھرتی کے نیچے بنے زندان خانوں سے کراہوں کی آوازیں آئیں گی، زنجیروں کی جھنکار سنائی دے گی، ایذا رسانی کے اوزار، بجلی کے جھٹکوں اور اس کے جواب میں آنے والی بددعاؤں کی آواز آئے گی۔

یہ آوازیں مل کر اتنی ہولناک سنائی دیں گی کہ آپ کان ڈھانپ لیں گے اور کہیں گے کہ ہماری ریاست اول تو اغوا نہیں کرتی اور اگر کرتی ہے تو یقیناً ان کے پاس کوئی وجہ ہو گی۔

ایک دفعہ ایک ریٹائرڈ جنرل نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہا تھا کہ کیا ہم آپ کو اغوا برائے تاوان والے لگتے ہیں۔

میں نے جنرل صاحب کو غور سے دیکھا اور ڈر گیا کہ اغوا برائے تاوان والوں کی تو سمجھ آتی ہے لیکن جو اغوا کر کے تاوان بھی نہ مانگے اور یہ بھی نہ بتائے کہ کیوں اغوا کیا ہے، کب چھوڑیں گے یا چھوڑیں گے بھی یا جیب میں نام کی پرچی ڈال کر لاش سڑک کے کنارے پھینک دیں گے اور جو دن دیہاڑے سی سی ٹی وی کیمروں کی موجودگی میں اغوا کر کے سپریم کورٹ میں مُکر جائے کہ میں آپ کو اغوا کار لگتا ہوں تو ایسے اغوا کار سے واقعی ڈرنا بنتا ہے۔

ریٹائرڈ جرنل صاحب نے قوم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ چیلنج اسی وقت دیا تھا جب ٹی وی پر کبھی کبھی غائب پاکستان کا تذکرہ ہو جاتا تھا اور پھر اس کے بعد غائب ہونے والوں کا ذکر بھی ہماری سکرینوں اور اخباروں سے غائب کر دیا گیا۔

میرے صحافی بھائیوں نے اور ان کے سیٹھوں نے اغواکاروں کے سہولت کاروں کا کردار اس لیے ادا کیا تاکہ ان کا دھندہ چلتا رہے۔ (ورنہ کون صحافی دل پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتا ہے کہ ایک شخص کا دن دیہاڑے ریاستی اداروں کے ہاتھوں اغوا اور پھر برسوں تک غائب رہنا بریکنگ سٹوری نہیں ہے۔)

لیکن غائب ہونے والوں کی خبریں کرنے والے خود ہماری سکرینوں سے غائب ہو گئے۔ تیسری مرتبہ وزیرِ اعظم بننے والے نواز شریف کو وزیرِ دفاع کے طور پر اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے طلب کیا کہ وزیرِ دفاع مسنگ پرسنز کے کیس میں حاضر ہوں۔ اب وزیرِ اعظم تو سپریم کورٹ میں پیش ہوتا اچھا نہیں لگتا تو انھوں نے راتوں رات خواجہ آصف کو وزیرِ دفاع بنا کر عدالت میں بھیج دیا۔ افتخار چوہدری کو شہ سرخیاں لگوانے اور ٹکر چلوانے کا شوق تھا، نواز شریف کو اپنی وزارت عظمیٰ بچانے کا شوق تھا۔ اس کے بعد سے آج تک سپریم کورٹ کی پیشیاں بھگت رہے ہیں اور تقریباً خود بھی ایک غائب شدہ شخص بن چکے ہیں۔

غائب شدگان کے لواحقین سے نظریں چرانے والے ان کی خبریں چھپانے والے ایک دن خود غائب ہو جاتے ہیں۔

عمران خان کو ان کے پرانے وعدے یاد کرانا ایک قومی مشغلہ بن چکا ہے۔ لیکن وہ بھی اُس ریاست کے سخت مخالف تھے جہاں انسانوں کو اغوا کر کے گمشدہ کر دیا جاتا ہے۔

اب ان کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں اب وہ اس موضوع پر بات نہیں کرتے، شاید کبھی کبھی سوچتے ہوں۔

بس اتنا سوچ لیں کہ چلو دو سے ایک پاکستان بن گیا سب غریب، امیر، عورت، مرد، مسلمان اور کافر ایک چھت تلے بارہ موسموں کے مزے لے رہے ہیں، ترانے بجا رہے ہیں، ایک مسلسل پارٹی چل رہی ہے لیکن یہ کیسے بھولیں کہ گھر کے پیچھے ہم نے ایک تہہ خانہ بنا رکھا ہے جس میں سے مسلسل آہوں اور بددعاؤں کی آوازیں آ رہی ہیں۔

اور آپ کے گھر کے دروازے پر ڈاکٹر دین محمد کی دو بیٹیاں بیٹھی ہیں جو ہر آنے جانے والے سے پوچھتی ہیں کہ ہمارے باپ نے کوئی جرم کیا ہے تو عدالت میں پیش کرو۔

ایسے ماحول میں آپ اپنے ایک پاکستان کا جشن کب تک جاری رکھ سکو گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •