برطانیہ میں اسلامی شادیوں کی رجسٹریشن میں تردد کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برطانیہ میں اس وقت 60 فی صد سے زیادہ مسلمان عورتیں اسلامی شادی (نکاح) کے مطابق رہ رہی ہیں اور ان کی کوئی سول میرج رجسٹر نہیں ہوئی ہے۔ یوں مسلمان بیویاں لا علم رہتی ہیں کہ ان کو بھی وہ ازدواجی حقوق حاصل ہیں جو سوسائٹی میں دوسری عورتوں کو حاصل ہیں۔

برطانوی گورنمنٹ کی طرف سے کوئی فیصلہ کن قدم نہ اٹھائے جانے پر ہزاروں مسلمان عورتیں ایسی شادیوں میں محبوس ہیں جن کو اسلامی طلاق کے نتیجہ میں جا ئیداد میں حصہ اور نان نفقہ کے لئے کوئی مداوا نہیں ملتا بلکہ بعض صورتوں میں تو ایسی عورتوں کو اپنے بچوں سے بھی الگ کر دیا جاتا ہے۔ مغربی ممالک میں عورت کو طلاق کی صورت میں جائیداد میں پچاس فی صد ملتا ہے۔ چونکہ ایسی اسلامی شادیوں کے خلاف کوئی قدغن نہیں ہے اس لئے بعض مرد متعدد بیویاں رکھے ہوئے ہیں کیونکہ بائیگیمی (دو زوجیت) کا قانون ایسی غیر رجسٹرڈ شدہ شادیوں پر لاگو نہیں ہوتا ہے۔ برطانوی دو زوجیت کا قانون Matrimonial Causes Act 1973 کے ما تحت ایک جرم ہے جس کی سزا سات سال قید ہے۔

برطانیہ سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ہزاروں مسلمان عورتیں ”شادی کی قید“ میں زندگی گزار رہی ہیں کیونکہ گورنمنٹ نے شریعہ شادیوں کو لازمی طور پر رجسٹرڈ کروانے میں لیت و لعل سے کام لیا ہے مبادا ان پر اسلامو فوبک کا لیبل چسپاں نہ کر دیا جائے۔

اس رپورٹ کا نام Fallen Through the Cracks ہے جس کی مصنف ایما ویب Emma Webb جس کا تعلق CIVITAS تھنک ٹینک سے ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق بر طانیہ میں ہر سال ایک لاکھ اسلامی شادیاں ہوتی ہیں جن میں سے صرف 25 % گورنمنٹ کے ساتھ رجسٹر کی جاتی ہیں۔

یہ رپورٹ اگست 2020 کے شروع میں شائع ہوئی تھی جس کے مطابق گورنمنٹ کے اندر ایسے افراد ہیں جو اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر انہوں نے لوگوں کو سرکار کے ساتھ شادیاں رجسٹر کروانے پر مجبور کیا تو کہیں ان کو اسلاموفوبک نہ کہہ دیا جائے۔ ان کے نزدیک ایسی شادیاں سوشل اور مذہبی مسئلہ ہیں جس کا مداوا کمیونٹی کو کرنا چاہیے بجائے قانون کے ذریعہ کیا جائے۔ رپورٹ کے مطابق% 60 فی صد سے زیادہ مسلمان عورتیں اسلامی شادی کے مطابق رہ رہی ہیں اور ان کی سول میرج رجسٹر نہیں ہوئی ہیں۔ یوں وہ لا علم رہتی ہیں کہ ان کو وہ ازدواجی حقوق حاصل نہیں جو سوسائٹی میں دوسری عورتوں کو حاصل ہیں۔

برطانوی ہوم آفس نے 2018 میں ملک میں شریعہ لاء کے نفاذ پرایک ریویو کا حکم دیا تھا جس کے نتائج یہ تھے مسلمانوں کو برطانیہ میں سول میرج کے ساتھ اسلامی میرج بھی کر نی چاہیے تاکہ مسلمان عورتوں کو قانون کے مطابق مکمل تحفظ مل سکے۔ 2017 کی رائے شماری میں پتہ چلا تھا کہ برطانیہ میں قریباً تمام مسلمان عورتوں کا نکاح ہوا تھا لیکن ان میں سے دو تہائی کی سول میرج نہیں ہوئی تھی۔

برطانوی لیگل سسٹم کے متوازی ملک میں شریعہ کونسل 1982 سے کام کر رہی ہیں۔ سول لاء کے مطابق ایسی شریعہ کونسلوں کا کوئی لیگل سٹیٹس نہیں اور نہ ہی ان کی کوئی binding authority ہے۔ برطانیہ میں اسلامی شادیوں کے بعد طلاق کے فیصلے اسلامک شریعہ کونسل (مجلس شریعہ الا سلامیہ) کی وساطت سے کیے جاتے ہیں۔ اس وقت ملک کے شہروں میں 85 کونسلیں کام کر رہی ہیں۔ کونسل کے ویب سائٹ

کے مطابق خاوند کو یہ حق حاصل ہے کہ چاہے تو وہ طلاق زبانی دے یا پھر تحریر میں۔

ویب سائٹ پر تفصیل سے طلاق کا طریق دیا گیا ہے اور طلاق یا خلع فارم بھی موجود ہے۔ طلاق یا خلع ہر صورت میں اس کی فیس تین سو سے چار سو پاؤنڈ ادا کرنی ضروری ہوتی ہے۔ کونسل کے ممبران میں چھ مرد سکالر اور ایک خاتون سکالر ہے۔ کونسل کے سامنے ہر مہینے دو سو سے لے کر تین سو تک کیسز آتے ہیں۔ کو نسل پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ چونکہ اس کے ممبران اکثر مرد ہوتے ہیں اس لئے یہ فیصلے بھی مردوں کے حق میں کرتے ہیں۔

لیکن بعض عورتوں کے ساتھ یہ بھی ہوا کہ جب شوہر نے طلاق دینے سے انکار کرد یا تو عورت شریعہ کونسل کے پاس گئی اور اس کو خلع دلوائی گئی۔ ثالثی کا کام ایک اور ادارہ بھی کر تا ہے جس کا نام مسلم آربٹریشن ٹرائی بیونل ہے جس میں عدالت کی طرف رجوع کر نے کی بجائے مسلمان اپنے کمرشل تنازعات کے فیصلے اسلامی قوانین کے مطابق کر وا سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ ہندوستان کی پارلیمنٹ نے جولائی 2019 میں تین طلاق کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا تھا۔ مسلم دنیا بشمول پاکستان، بنگلہ دیش اور سعودی عرب میں تین طلاق غیر قانونی مانی جاتی ہے۔ 2018 میں ایک فیملی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ نکاح void marriage تھا۔ اس کے خلاف سرکار نے اپیل دائر کردی۔

دو زوجیت کا قانون

رپورٹ کی مصنف ایما ویب نے اخبار دی ٹیلی گراف کو بتایا کہ مسلم ویمن ایکٹوسٹ اور بین الاقوامی اداروں کے احتجاج کے باوجود روزانہ عورتوں سے سفاکانہ سلوک کیا جا رہا ہے محض اس وجہ سے کہ ہمارے قانون میں خامیاں ہیں۔ اگرچہ دو زوجیت bigamy برطانیہ میں غیر قانونی ہے مگر اس کے باوجود شریعہ شادیاں ریڈار میں آنے سے بچی رہتی ہیں۔ اور جب مسلمان مرد کثیر الازدواجی تعلقات استوار کر لیتے ہیں تو اس کی وجہ سے عورتوں کو شادی کے حقوق نہیں مل پاتے اور نہ ہی ان کو برطانیہ کے قانون کے مطابق کوئی حفاظت ملتی ہے۔ یوں عورتیں اور بچے ظلم وستم، ایکس پلائی ٹیشن اور مفلسی و ناداری کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ایک سے زیادہ اسلامی شادیوں سے مرد ان قوانین کو خاطر میں نہیں لاتے جیسے بائی گیمی اور پولی گیمی جو ایک سے زیادہ شادی کو غیر قانونی قرار دیتے مگر ایسی شادیوں کو سول میرج میں رجسٹر نہیں کروایا جاتا۔ ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں 20,000 سے زیادہ ایسی شادیاں ہیں جن پر برطانوی قانون کی گرفت نہیں ہے۔ اسلامی طریق سے فوری طلاق کے بعد عورت اور بچے دگرگوں حالت میں چلے جاتے ہیں۔ ایسی عورتیں ڈومیسٹک اور سیکس اؤل ابیوز کا شکار ہو جاتیں۔ کوئی چائلڈ سپورٹ نہیں ملتی ہے، اور وہ ان حالات سے فرار بھی نہیں پا سکتیں۔

اسلامی شادیوں کی رجسٹریشن

گورنمنٹ کو چاہیے کہ تمام اسلامی شادیوں کی سٹی ہال میں باقاعدہ رجسٹریشن کی جائے تاکہ مسلمان عورتوں کے ساتھ جو امتیازی سلوک روا رکھا جاتا اس کا تدارک ہو سکے۔ بہت ساری مسلمان عورتیں اس حقیقت سے بے بہرہ ہوتیں کہ اسلامی شادی کے بعد ان کو لیگل پروٹیکشن نہیں ملتی اور نہ ہی ان کو شادی کے بعد حقوق مل سکتے۔ اسلامی قانون کے مطابق کوئی مسلمان مرد اپنی بیوی کو تین مرتبہ طلاق کہہ کر اس سے دست بردار ہو سکتا مگر عورت کو یہ حق حاصل نہیں وہ مرد کو تین مرتبہ طلاق کہہ اس سے چھٹکارا حاصل کر سکے۔ سول عدالتیں ان خانگی امور میں مداخلت نہیں کرتیں، اور طلاق کی صورت میں اکثر عورتیں فنانشل استحصال کا نشانہ بن جاتیں۔ بعض صورتوں میں شریعہ کونسل زخم پر نمک چھڑکنے کا کام کرتیں جب ان کا رجحان عورت کی طرف منفی ہوتا یا عورت پر بے جاپر یشر ڈالا جاتا کہ وہ خاوند کے ساتھ مصالحت کر لے۔

گزشتہ دس سال سے تمام حکومتیں اس مسئلہ سے آگاہ رہی ہیں لیکن کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ بیرونس کاکس نے اس ضمن میں کئی ایک بل پیش کیے مگر ان میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہوا، جیسے Independent Review into the application of sharia law in England and Wales۔ پھر 2012 کے منظور شدہ استنبول کنونشنIstanbul Convention کے مطابق ہماری حکومت نے کچھ بھی نہیں کیا۔
رپورٹ میں اس بات زور دیا گیا ہے کہ موجودہ قوانین پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے تاکہ اسلامی شادیوں کی رجسٹریشن لازمی قرار دے دی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •