دادی اماں کا دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب اماں اور ابا کا دن مناتے ہیں تو دادی کا دن منانا بھی ضروری تھا۔
میں شگفتہ پھولوں کا گلدستہ لے کر ان کے گھر اور پھر ان کے کمرے میں پہنچی تو وہ سنگھار میز کی دراز میں کچھ سٹر پٹر کر رہی تھیں، یعنی کوئی ایسی چیز ڈھونڈ رہی تھیں جو وہاں نہیں تھی کیونکہ انھوں نے وہاں رکھی ہی نہیں تھی۔ اب کھوئی یادوں اور چیزوں کو ڈھونڈتے رہنا ہی ان کا مشغلہ رہ گیا تھا۔ بہرحال میں نے ان کے کمزور کانوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ذرا اونچی آواز میں کہا۔ ”دیکھئے دادی اماں میں آپ کے لئے پھول لائی ہوں۔“

انھوں نے پلٹ کر دیکھا اور کہا، ”ہاں بھول گئی جبھی تو ڈھونڈ رہی ہوں۔“
"دادی اماں بھول نہیں پھول پھول آپ کے لئے۔ ”
”میرے لئے کیوں خیریت؟“

"آج دادیوں کا دن ہے۔ اس لئے میں آپ کے لئے پھول لائی ہوں، دیکھئے تو سہی کتنے خوبصورت اور تازہ ہیں۔ ابھی یہ اور کھلتے جائیں گے۔ ۔ ۔ دادی آپ کچھ خوش نہیں ہوئیں۔ کوئی اعتراض۔ ”

”ہاں بھئی ان کا خیال رکھنا پڑتا ہے، وہ کون کرے گا“
” کچھ نہیں کرنا پڑتا، بس دو انچ نیچے سے کاٹیں اور۔ ۔ ۔“
”دس انچ، لو بھلا۔ ۔ ۔“
”دس انچ نہیں، صرف دو انچ کاٹیں۔ کسی گلدان یا شیشے کے گلاس میں رکھ کر نلکے کا پانی ڈال دیں۔ ۔ ۔“
”کون سا پانی؟“

” عام پانی، نلکے کا ، آب حیات نہیں“ میں نے دھیمے سے کہا اور پھر اونچی آواز میں ”اور پیکٹ میں یہ جو اس کی غذا ہے وہ ڈال دیں“

اے ہے پھولوں کی غذا بھی ہوتی ہے، کیا کھاتے ہیں ڈبل روٹی یا ملیدہ؟ ”
” ان کی غذا اس چھوٹے سے پیکٹ میں ہے، دیکھئے۔“

” ارے یہ پیکٹ ویکٹ مجھ سے کہاں کھلے ہیں۔ اپنا بٹوہ کھولنا مشکل ہے۔ بھئی تو ایک کام کر ۔ مجھے پتہ ہے تم جھٹ پٹ تصویریں کھینچ لو ہو، سو ان پھولوں کی ایک تصویر کھینچ کر مجھے دیدے اور یہ پھول لے جا کر اپنی ماں کو دیدے، وہ انھیں کھلاتی پلاتی رہیں گی۔“

”میں ان کو ماؤں کے دن پر دے چکی ہوں، یہ آپ کے لئے بڑے شوق سے لائی ہوں۔“
”ہاں میں بھی بڑے شوق سے اس کی تصویر رکھوں گی، وہ تو ساری عمر میرے پاس رہے گی، رنگ ونگ بھی ویسے ہی رہیں گے۔“

” دادی اماں یہ اپنی طرف کے گلاب ہیں سونگھیے ایسی بینی بھینی خوشبو ہے۔“
” ارے ہوگی، میں تصویر پر عطر گلاب لگا دوں گی۔“
” دادی، اب میں آپ سے ناراض ہو جاؤں گی۔“

” کیا کہا، یہ کیا منھ ہی منھ میں ممیا رہی ہے، ذرا زور سے بول“
” میں کہہ رہی ہوں آپ مجھے بالکل بھی نہیں چاہتیں! ۔“
” ایلو، چاہنے اور پھولوں کا کیا تعلق۔ ۔ ۔ پھول تو ایک دو ہفتے کے ہیں، چاہت تو عمر بھر کی ہے۔“

”یہ تو آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں، اچھا میں یہ کرتی ہوں کہ آج تو میں پھولوں کو ٹھیک ٹھاک کر جاتی ہوں، حالانکہ جلدی میں ہوں۔ دوسرا پیکٹ بھی کھول جاتی ہوں، بس آپ یہ ڈال دیں۔“

” ارے مجھے یاد واد نہیں رہے گا، بے کار میں۔ ۔ ۔“
”اچھا دادی میں تین دن بعد آن کر خود دانہ پانی ڈال دوں گی، آپ فکر نہ کریں،“
” اب کی تو نے پوتیوں والی بات۔“

میں نے ان کے پھول اسی میز پر رکھ دیے جس کی دراز میں پہلے وہ کچھ ٹٹول رہی تھیں اور دادی خوش ہو گئیں۔ میں سلام کر کے رخصت ہوئی۔
تین دن بعد گئی تو گلاب پوری طرح کھل کر اپنے عروج پر پہنچ چکے تھے۔ دادی بہت خوش تھیں۔ میں نے ایک بار پھر ان کی دیکھ بھال کی۔ رخصت ہونے لگی تو بولیں۔ ”بیٹی ایک کام اور کرنا ہے۔“

” کیا؟“ میں نے پوچھا۔
”تین دن بعد آن کر ان کر ان پھولوں کو اٹھا کر لے جانا۔“
” کیوں، دادی اماں؟“ میں نے حیرت سے پوچھا۔

” اس لئے یہ کہ مرجھانے شروع ہوجائیں گے۔ لٹک جائیں گے، ان کا رنگ اڑ جائے گا۔ مجھ سے برداشت نہیں ہوگا۔ اس سے پہلے تو انھیں لے جانا بیٹی، تیرا احسان ہوگا۔“
میں نے دادی کے چہرے پر وہ کرب دیکھا جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).