عمران خان نے کمراٹ کو ایک کامیاب سیاحتی علاقہ کیسے بنایا؟

عمران خان کے طرز سیاست، حکومت میں آنے کے طریقے اور اپوزیشن کے خلاف مسلسل سخت موقف رکھنے جیسے بہت سے معاملات پر بات کی جا سکتی ہے اور ہو بھی رہی ہے۔ اور حکومت میں دو سال مکمل کرنے کے بعد اب ان کے ناقدین میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے یہاں تک کہ اپنے بھی پرائے ہوتے جا رہے ہیں لیکن ایک چیز ایسی ہے جس پر پاکستان کے زیادہ لوگ اب بھی اتفاق کرتے ہیں کہ عمران خان نے سوشل میڈیا کی طاقت کو جس طرح اپنے مخالفین کے خلاف کامیابی سے استعمال کیا اسی طرح انہوں نے سیاحت کے معاملے پر لوگوں کی رائے کو انتہائی حد تک متاثر کیا جن میں اگر کوئی ایک مثال دیکھنا چاہے تو وہ ہے خیبرپختونخوا کے ضلع اپر دیر کے انتہائی دوردراز جنگلات پر مشتمل علاقے کمراٹ کی طرف لوگوں کی توجہ دلانا ہے۔
پش اور اور اسلام آباد دونوں سے یکساں قریبا تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کمراٹ کوہ ہندوکش کے دامن میں خوبصورت ترین علاقہ ہے جہاں پر جنگل، آبشاریں، دریا، بادل اور خوبصورت پہاڑ سب یکجا ملتے ہیں، حسن ایسا کہ جب تک انسان دیکھے تو جیسے موجود ہے اور جیسے ہی نظروں سے اوجھل ہوا جیسے خواب دیکھ رہے تھے۔
سال دو ہزار سولہ میں صرف خیبرپختونخوا میں حکومت کے حامل عمران خان جو اکثر صوبے کے خوبصورت علاقوں کی سیر کرتے ہوئے پائے جاتے تھے اپنے اس وقت کے دوستوں کی جھرمٹ میں غالباً تیس مئی کو ہیلی کاپٹر میں کمراٹ کے جنگل میں اترے (ان دوستوں میں جہانگیر خان ترین، افتخار درانی، عون رضوی اور عاطف خان شامل تھے جو اب منظر عام سے مختلف وجوہات کی بنا پر ہٹ چکے ہیں ) تو علاقے سے ایم پی اے محمد علی خان نے ان کا استقبال کیا جن کا تعلق تو جماعت اسلامی سے تھا لیکن ہوٹل اور سیاحت کے شعبے سے تعلق رکھنے کی بدولت وہ اس بات سے واقف تھے کہ سوشل میڈیا اور عمرانیات کے اس دور میں اگر کمراٹ کو کامیاب کرنا ہے تو کسی اور کو نہیں عمران خان کو وہاں آنے پر آمادہ کرنا ہوگا اور پھر یہی ہوا۔
عمران خان اپنی سوشل میڈیا کے کیمروں اور ٹیم سمیت کمراٹ پہنچے جہاں انہوں نے خوب فلمنگ کی اور تصویریں بنا کر ان کو سوشل میڈیا پر ڈال دیا جنہیں وہاں عمران خان اور ان کی جماعت کے چاہنے والوں نے دیکھا اور وہ خود بھی اس علاقے کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔
اپنے مختصر دورے کے دوران جہاں عمران خان نے جنگل، دریا اور پہاڑ دیکھے وہیں پر وہ اس علاقے میں سب سے بڑی آبشار پر بھی گئے اور وہاں پر لسی بھی پی۔ اس دورے کے دوران انہوں نے ان کو دیکھنے کے لئے جمع ہونے والے مقامی لوگوں سے خطاب کیا اور ان سے وعدہ کیا کہ وہ حکومت میں آتے ہی سب سے پہلے اس علاقے کو آنے والے راستے کو قابل استعمال بنائیں گے یعنی سڑک بنا کر پاکستان کے دیگر حصوں سے آنے والوں کو یہاں لائیں گے اور یوں ان پہاڑی علاقوں میں رہنے والوں کی معاشی حالت بغیر ان کی تہذیب پر کوئی اثر پڑے بدل جائے گی۔
تاہم حکومت میں آنے کے دو سال مکمل ہونے کے باوجود نہ ہی عمران خان اور نہ ہی ان کی حکومت کے کسی اہم فرد نے پھر اس خوبصورت علاقے کا تذکرہ تک کیا۔ ہاں ایک بات ہے کہ ان کی ترغیب پر عمل کرنے والے بہت سارے لوگ اب بھی ان علاقوں میں آتے ہیں انہیں سب سے بڑا شکوہ سڑک کی خرابی کا ہوتا ہے لیکن وہ پھر بھی یہاں آنے سے باز نہیں آرہے۔
کمراٹ کے دروازے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سابق ایم پی اے محمد علی خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو کمراٹ آنے کی دعوت انہوں نے دی تھی اور اب جبکہ وہ وزیراعظم بن چکے ہیں تووہ چاہتے ہیں کہ وہ انہیں ان کا کمراٹ کی سرزمین پر کیا ہوا وعدہ یاد دلا سکیں۔ ؛میں مانتا ہوں کہ وہ بہت مصروف ہوں گے لیکن ہم انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے آنے سے پہلے جس کمراٹ میں سالانہ تیس ہزار تک سیاح آتے تھے اب وہاں خود ان کی وجہ سے آنے والے لوگوں کی تعداد اتنی بڑھ چکی ہے کہ صرف پچھلے سال دو ہزار انیس میں چودہ لاکھ سے زیادہ سیاحوں نے کمراٹ کی سیر کی؛ اس علاقے کا سب سے بڑا مسئلہ یہاں آنے والی سڑک ہے اور یہ مسئلہ صرف وزیراعظم عمران خان ہی حل کر سکتے ہیں جن کا کیا ہوا وعدہ ہر کوہستانی کو یاد ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی سڑک کو جلد از جلد تعمیر کیا جائے۔
یہ جگہ مری، ناران، چترال، سوات اور ہر جگہ سے مختلف ہے اسے ایک دن میں دیکھنا ممکن نہیں پانچ چھ دن لگیں گے یہاں پر ہر وہ چیز موجود ہے جو باقی علاقوں میں ایک ایک ملتی ہے جیسے کہ دریا، پہاڑ، جنگل، آبشار اور سبزہ سب یکجا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ یہ سب لوگ عمران خان اور سوشل میڈیا کی وجہ سے آرہے ہیں تو اس لئے اگر یہ علاقہ ان کی وجہ سے آباد ہورہا ہے تو ان کو یہاں کی سڑک پر توجہ دینا چاہیے۔ لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے لیکن خیبرپختونخوا حکومت اس علاقے کو ترقی نہیں دے رہی۔ یہاں سے ہونے والی کمائی سے پورا صوبہ چل سکتا ہے کسی اور بجٹ کی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔
پاکستان کے بہت سے علاقوں خصوصاً پنجاب اور سندھ کے لوگوں نے دو ہزار سولہ کے بعد ان پہاڑی علاقوں کا رخ کیا اور اب بھی ان علاقوں کی کچھ باقاعدہ اور کچھ غیر روایتی طور پر بنے ہوئے ہوٹلوں اور کیمپنگ کے لئے لگائے ہوئے خیموں میں انہی علاقوں سے آئے لوگ ملتے ہیں جو دن رات دریا کنارے اونچے درختوں تلے بیٹھ کر ارد گرد خوبصورت پہاڑوں کو تکتے ہی رہتے ہیں ایسے میں وہ کبھی دریا کے پانی میں پیر بھی ڈالنا چاہتے ہیں لیکن دریا کہاں ناک پر مکھی بیٹھنے دیتا ہے وہ اپنے ٹھنڈے یخ پانی کی مار مار کر چند ہی سیکنڈز میں اسے چھونے والوں کو پیر واپس سمیٹنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ اتنے ٹھنڈے پانی میں پاؤں رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔
جن کے پاس وسائل ہوتے ہیں وہ مقامی سطح پر چلنے والی فور بائی فور گاڑیوں کا کرایہ، جو اکثر کافی زیادہ لیا جاتا ہے، بھر کر آبشاروں کی سیر کو نکل پڑتے ہیں کسی کو ان آبشاروں کی تعداد نہیں معلوم کہ دراصل اس علاقے میں کتنے آبشار بہتے ہیں۔ انہی پہاڑیوں کے بیچ میں ایک ایسی پہاڑی بھی ہے جس کے گھنے جنگل اور پراسراریت کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ آج تک اس جنگل میں جانے والا واپس آتے ہوئے نہیں دیکھا جا سکا اسی لئے اسی پہاڑی کا نام ہی جنات کی پہاڑی پڑ چکا ہے۔
جابجا بنتے بے ہنگم ہوٹلوں کی بھرمار جنگل کے حسن کو متاثر کر رہی ہے اور نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ محکمہ سیاحت نے بھی اس سمت میں کام شروع کیا ہے کہ جنگل کو متاثر کرنے والی چیزوں کو خصوصاً ان ہوٹلوں کو ختم کیا جائے۔
دوسری جانب عمران خان نے سال دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات کے نتیجے میں مرکز میں حکومت بھی بنا ڈالی وہ ملک چلانے لگے اور ان کی بات کا لاج رکھتے ہوئے عام لوگوں نے کمراٹ کا رخ کر لیا۔
اس خوبصورت جنگل کا اختتام یہی نہیں ہوتا بلکہ ایک طرف چترال اور دوسری طرف کالام سے منسلک ان وادیوں کو سڑکوں کے راستے جوڑنے کا جو عمل جاری ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بہت جلد یہ علاقہ آج آنے والے سیاحوں سے دگنی تگنی تعداد کو کھینچ لائے گا تاہم اگر اس سے پہلے تیاری نہ کی گئی تو اس سارے عمل کا کوئی فائدہ نہیں ہو پائے گا۔
علاقے میں رہنے والے مشہور صحافی محمد قاسم کہتے ہیں کہ یہ سڑک تو کبھی سیاحت کے لئے بنی ہی نہیں تھی یہ تو محکمہ جنگلات کی بنائی ہوئی سڑک کی تھی جس پر صرف لکڑیاں لے جائی جانی تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صرف سڑک ہی ایک مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ علاقہ جو تاریخی طور پر ہندو مذہب کے لوگوں کے کلچر کا حامل تھا وہ کلچر ختم ہورہا ہے بلکہ اس علاقے کی اپنی زبان کوہستانی بھی معدوم ہو رہی ہے صرف ایک سڑک بننے سے مسئلے حل نہیں ہوں گے جب تک اس علاقے کی ثقافت اور زبان کو محفوظ نہ کیا جائے۔ رسم الخط بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اس علاقے میں دو سو ایسے پودے ہیں جو ادویات کی تیاری میں استعمال ہوتے تھے وہ بھی ختم ہوتے جا رہے ہیں حکومت اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی۔ یہاں کے لوگ سالانہ چار ارب روپے کی لکڑی جلاتے ہیں حکومت کو اس علاقے میں ایندھن کا بندوبست کر کے اس لکڑی کو بچانا ہوگا۔











