مدبر استاد ’عمدہ تخلیق کار‘ سنجیدہ فکر محقق ونقاد۔ ۔ ۔ ڈاکٹر تنظیم الفردوس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدر شعبہ اردو جامعہ کراچی ’اردو کی باذوق استاد‘ محقق اور شاعرہ ڈاکٹر تنظیم الفردوس ایک علمی و ادبی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کے والد محترم اعلیٰ شعری ذوق کے مالک تھے۔ ڈاکٹر تنظیم الفردوس کو یہ شعری ذوق ورثے میں ملا۔ ان کے پی ایچ ڈی کے مقالے کا عنوان ”اردو کی نعتیہ شاعری میں امام احمد رضاکی انفرادیت و اہمیت“ ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ 1995ء میں شعبہ اردو ’جامعہ کراچی سے بطور استاد منسلک ہوئیں۔ آپ مئی 2016ء سے صدر شعبہ اردو جامعہ کراجی کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

ڈاکٹر تنظیم الفردوس تحقیق‘ تنقید اور شاعری کے حوالے سے درجن بھر کتب کی مصنفہ ہیں۔ میرا ڈاکٹر تنظیم الفردوس سے ابتدائی تعارف اگست 2006ء میں اس وقت ہوا جب وہ شعبہ اردو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے زیراہتمام منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں ہماری دعوت پر فیصل آباد تشریف لائیں اور تحقیق و تنقید کے عنوان کے تحت اس کانفرنس میں اپنا مقالہ پیش کیا۔ ڈاکٹر صاحبہ اور دیگر مہمانان گرامی کو چناب کلب فیصل آباد میں ٹھہرایا گیا۔

کانفرنس کے وہ تین روز مصروفیت سے بھرپور تھے لیکن ڈاکٹر صاحبہ کے ساتھ خوب گپ شپ رہی۔ اس کے بعدسندھ یونیورسٹی جام شورو اور شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور کی کانفرنسوں اور شعبہ اردو ’جامعہ کراچی کی ادبی نشستوں میں ڈاکٹر صاحبہ کے ساتھ بھرپورملاقاتیں خوشگوار یادوں کا اثاثہ ہیں۔ مہمان نوازی‘ محبت اور شفقت ان کی شخصیت کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ وہ ایک سنجیدہ فکر محقق اور نقاد ہیں۔ جامعہ کراچی کی ادبی نشستوں نے ان کے شعری ذوق کی آب یاری کی۔

”منظر بدلنا چاہیے“ کے نام سے ان کا شعری مجموعہ 2016ء میں زیور طبع سے آراستہ ہوا۔ ممتاز شیریں کے حوالے سے ان کا تحقیقی و تنقیدی کام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ مختلف تحقیقی جرائد میں ان کے مقالے تواتر کے ساتھ شائع ہوتے ہیں۔ زندگی کے بارے میں مثبت فکر کی مالک یہ استاد جرات اور حوصلے کی مثال ہے۔ انھوں نے زندگی کے مصائب کو کبھی اپنی راہ کی رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ زندگی کو زندہ دلی سے بسر کرتی ’سیروتفریح کی دلدادہ‘ علمی و ادبی کانفرنسوں کی عمدہ منتظم اور نفاذ اردو کے لیے عملی طور پر متحرک ڈاکٹر تنظیم الفردوس اردو دنیا میں انفرادی حیثیت کی حامل ہیں۔

ان کی گفتگو کی خاص تاثیر اورلہجے کی پختگی ان کے ظاہر و باطن کے مضبوط اور پائیدار تعلق کی عکاس ہے۔ وہ چین ’ایران‘ جاپان اور ہندوستان کے اسفار کرچکی ہیں۔ تدبر اور تفکر ان کی شخصیت کے نمایاں پہلو ہیں۔ ڈکشنری بورڈ کراچی ’سندھ بورڈ کے مختلف مدارج کے نصاب کی ترتیب‘ ریڈیو اور ٹی وی کے پروگراموں کے ساتھ ساتھ مختلف رسائل و جرائد سے وابستہ ہیں۔ ادارہ یادگار غالب کراچی سے بطور معتمد منسلک ہیں۔ مختلف ادبی اور سماجی انجمنوں کی فعال رکن ہیں۔ ان کی مستقل مزاجی اور سنجیدہ علمی کاوشوں نے انھیں اردو دنیا میں ایک باوقار مقام عطا کیا ہے۔ میں نے ہمیشہ ڈاکٹر تنظیم الفردوس کو مشفق اور مہربان روپ میں ہی دیکھا ہے۔ ایسی علمی و ادبی شخصیات اردو دنیا کا حقیقی سرمایہ ہیں۔ ان کی عزت و وقار میں مزید اضافے کے لیے بہت دعا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).