بچوں کو اپنے پیشے کی آگاہی دیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سڑک پار کرتے ہوئے ایک صاحب کو دیکھا جو موٹر سائیکل روک کر اپنے بچے کو تابڑ توڑ تھپڑوں سے نواز رہے تھے۔ پہلے تو سوچا، ہمیں کیا، لیکن پھر ہمیں مرنے کا شوق جاگا اور ان صاحب کو نیک نصیحت کر بیٹھے۔ سامنے سے ٹھیٹ پاکستانی سوال آیا، ”تم ہوتے کون ہو میرے معاملے میں بولنے والے؟“

اس سوال کا ایک جواب تو ہے خاموشی اور اپنی راہ لینا، دوسرا اپنے منہ کا سامنے والے کے مکے سے تعارف کروانا، اور تیسرا درویشی کی راہ لے کر محبت سے سمجھانا۔ اور یہ تیسرا طریقہ کام کر گیا۔ ان صاحب کو ڈوروتھی نولتے کی نظم ”بچے جیسے رہتے ہیں وہی سیکھتے ہیں“ کے کچھ اقتباسات سنائے اور کہا کہ آپ کے طرزعمل سے یہ معصوم بچہ ایک بلند کردار، با عمل انسان کے بجائے عادی مجرم، کوئی موبائل سنیچر وغیرہ ہی بن سکے گا۔

جناب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اور ہماری آنکھوں میں بھی جب صاحب نے ایک زناٹے دار تھپڑ ہمیں بھی رسید کر دیا۔ اندھیرا چھٹا تو وہی صاحب ہمارے سر پر ٹی ٹی پستول رکھے تھے اور موبائل فون اور بٹوے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

استفسار پر بتایا کے وہ اصل میں موبائل سنیچر ہی تھے اور بچے کو اپنے پیشے کی آگاہی دینے ساتھ لے کر نکلے تھے۔ دو سڑک پہلے بچے کی غلطی کی وجہ سے مہنگا ایپل موبائل ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ اسی لئے صاحبزادے کی ٹھکائی ہو رہی تھی۔

مستقبل کے معمار کی تربیت کے لئے موبائل اور بٹوا مہنگا سودا نہیں تھا، پھر بھی حوالے کرتے ہوئے دکھ ہوا۔ صاحب نے مال اپنی قمیض میں ڈالا، اور پستول بیٹے کو دے کر کہا، ”ہوشیاری دکھائے تو ٹھوک دینا۔“

وہ موٹر سائیکل سٹارٹ کر رہے تھے اور ہم سوچ رہے تھے کے کل کا بچہ ہے، ایک ہاتھ ہم بھی رسید کرتے ہیں، پستول چھینتے ہیں، اور باپ پر تان کر اپنا مال واپس لیتے ہیں، لیکن بچے کی آنکھوں میں دیکھا تو دل کانپ گیا۔ وہ دوبارہ باپ کی درگت کھانے کو تیار نہیں تھا۔ جسے انگریزی میں کہتے ہیں، ”he meant business“ اور ہم پیچھے ہٹ گئے۔

بچوں کی تربیت کا یہ گر مغرب میں استعمال ہوتا ہے۔ باقاعدہ طور پر ایک دن منایا جاتا ہے جب والدین اپنے بچوں کو کام پر لے جاتے ہیں، ساتھیوں سے ملواتے ہیں، اپنے کام کے چیلنجز کے بارے میں بتاتے ہیں، کچھ چھوٹے موٹے کام کرواتے ہیں، بالکل اس موبائل سنیچر کی طرح۔

بچوں کو اس طرح عملی زندگی کی جھلک دیکھنے کو ملتی ہے، کیریئر پلاننگ کرنے کا موقع ملتا ہے، وغیرہ۔

لیکن ہمارے یہاں تو صرف سیٹھ کا بچہ ہی کام پر آتا ہے۔ وہ بھی دفتر میں باپ سے فرعونیت سیکھتا ہے، یا پھر دکان میں پیسوں کے گلے پر بیٹھنا۔ ملازم کے بچوں کے لئے تو ایسے کوئی مواقع ہیں ہے نہیں۔
اگر ایک موبائل سنیچر بچوں کی تربیت کے اس اہم پہلو کو سمجھتا ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ عام لوگوں کے بچوں کو بھی ایسی تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •