اسلام تفریق کا سبب نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمر کافی اداس دکھائی دے رہا تھا، اس کے چہرہ اس کی اندرونی کیفیت کی ترجمانی کر رہا تھا۔ زید دور بیٹھا اس کی اس کیفیت کا اندازہ لگا تا رہا اور بالآخر وہ اٹھا اور عمر کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ اور اسے کہنے لگا بھئی خیریت! کافی پریشان لگ رہے ہو۔ اس نے کہا امام ابو حنیفؒہ کے بیان کردہ ایک نکتہ پہ کافی دیر سے سوچ رہا ہوں۔ اس کا یہ جواب سن کر زید چونک گیا۔ اور اس کی توجہ عمر کی جانب مزید بڑھ گئی۔ پھر زید نے اس سے پوچھا کون سا نکتہ؟

اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہنے لگا چند دن پہلے استاد محترم نے دوران درس ایک اختلافی مسئلہ میں امام ابو حنیفہؒ کا ایک قول ذکر کیا۔ کیا وہ مسئلہ سنو گے؟ زید نے کہا کیوں نہیں۔ پھر وہ کہنے لگا مسئلہ یہ تھا کہ اگر غیر مسلم میاں بیوی میں سے ایک کوئی مسلمان ہو جائے تو ان کا کیا حکم ہے؟ آیا ان میں تفریق کی جائے گی یا نہیں۔ اس مسئلہ میں دیگر آراء بھی ہیں۔ میں نہیں جانتا ان میں سے کس پر انگلی اٹھا کر یہ کہوں کہ فلاں درست ہے اور فلاں نہیں۔

مجھے اپنے اساتذہ نے ان تمام ہستیوں کا نام بھی ادب سے لینے کی تلقین کی ہے، ایک دفعہ کلاس میں ایک عظیم ہستی کا نام ایسے لیا جیسے اپنے دوست یار کا کوئی لیتا ہے تو فوراً استاد محترم نے جھڑک دیا، اور کہا کہ جن کا نام لے رہے اگر ان کا حق نہیں جانتے تو ان کا نام لینا چھوڑ دو۔ اختلاف اپنی جگہ لیکن انسانیت اور محبت کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھنے کی تلقین ہمیں مکتب میں کی جاتی ہے، وہ الگ بات ہے میری غلطی میرے مربی کی نہیں ہو سکتی۔

مجھے نہیں یاد کہ کسی دن میرے کسی مرشد و مربی نے مجھے کسی سے اختلاف کی بنیاد پر نفرت کرنے کا درس دیا ہو۔ ہاں البتہ تنقید کو ایک حق کے طور پر استعمال کرنا سکھایا ہے، لیکن بد قسمتی سے مجھے تنقید کرنا بھی نہیں آتی۔ میں سمجھتا رہا کہ تنقید کا مطلب بغض و عداوت سے ملے جلے احساسات کو ہی الفاظ میں ڈھالنے کا نام تنقید ہے، لیکن حقیقت میں کسی کی اچھائی اور برائی کو غیر جانب دار رہ کر بیان کرنا صحیح تنقید ہے اور مجھے اس کی ذرا بھر ہوا بھی نہیں لگی جیسا کہ میں اوپر ذکر چکا ہوں۔

دوران گفتگو زید نے اسے کہا کہ آپ مختلف فیہ مسئلہ میں امام صاحب کا نکتہ بتانا چاہتے تھے۔ اس نے کہا ہاں، ہاں! دیکھو بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ اچھا تو امام ابو حنیفہؒ کا بیان کردہ نکتہ دل کو بھا گیا۔ کہ اس مسئلہ میں وہ فرماتے ہیں کہ ”دیکھو اسلام تفریق کا سبب نہیں بن سکتا“ ۔ ہم اچھے بھلے بستے گھر کو اسلام کی وجہ سے اجاڑنا نہیں چاہتے، ہم نہیں چاہتے کہ کل کو کوئی کہے کہ دیکھو اسلام نے دلوں کو جدا کر دیا، اور اسلام نے انہیں تقسیم کر دیا۔

ہم یہ سننے کی سکت نہیں رکھتے کہ کوئی صدا لگائے کہ فلاں سر سبز و شاداب باغ میں اسلام داخل ہوا اور اسے ویران کر ڈالا۔ بلکہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ایسا موقف ہونا چاہیے جس سے یہ بات عیاں ہو کہ اسلام سے دوری تو ویرانی کا سبب بن سکتی ہے، اسلام سے منہ پھیرنا تو ہمیں جدا جدا کر سکتا ہے۔ لیکن اسلام سے قربت، باہمی قربتوں میں اضافہ کرتی ہے۔ پھر لوگ یک جان ہو جاتے ہیں۔ اور ان کی مثال ایک بدن کی سی ہوتی ہے کہ اگر جسم کے ایک حصہ پہ چوٹ آئے تو پورا بدن بے چین ہوجاتا ہے۔

پھر وہ جو چشمہ لگا کر خود کو دیکھتے ہیں اسی سے دوسرے کو دیکھنے کی بھی طاقت رکھتے ہیں۔ پھر انہیں جہاں دوسروں کی ہزاروں کوتاہیاں نظر آتی ہیں وہیں اپنی لاکھوں پر بھی نظر جمائے رکھتے ہیں۔ معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہوتو وہ انصاف پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے گریبان بھی ٹٹول سکتے ہوں کہ کہیں اس سب کے ذمہ دار ہم تو نہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے طویل دامن کی سریع حرکت سے پیدا ہونے والا ہوا کا ہلکا سا جھونکا کسی بجھتی ہوئی چنگاری کو سلگنے پر مجبور کر رہا ہو۔

اس لئے ایک بہترین موقف کی ضرورت ہے اور وہ یہ کہ ہم میاں بیوی میں سے جو بھی کفر پر قائم رہا اسے اسلام کی دعوت دے کر کچھ دن سوچ و بچار کا موقع دیں گے۔ اگر تووہ اسلام کو قبول کر لے تو ان کا رشتہ ازدواج جیسا تھا ویسا ہی رہے گا، اور انہیں دنیا کی کوئی طاقت جدا نہیں کر سکے گی، لیکن اگر اسلام سے منہ پھیر لیا تو دنیا کی کوئی بھی طاقت اس رشتہ ازدواج کو قائم رکھنے سے قاصر رہے گی۔ (یہاں تک بات کر کے وہ خاموش ہو گیا) زید نے اس کی طرف استفہامی انداز میں دیکھا، تو اس نے کہا کچھ سمجھ آیا؟

زید نے نفی میں سر ہلایا۔ تو اس نے زید کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور کہا دیکھو اس نکتہ میں گویا امام صاحب ہمیں یہ درس دینا چاہتے تھے کہ اسلام تو دو انسانوں کی جدائی کا سبب نہیں بن سکتا تو وہ ایک مملکت کے افراد میں جدائی کا سبب کیونکر ہو سکتا ہے۔ کتنی احتیاط سے کام لیا اور یہ گوارا تک نہ کیا کہ کل کو کوئی یہ کہے کہ ایک گھر اسلام کی وجہ سے اجڑ گیا، اور یہ رائے نہ قائم کر بیٹھے کہ اسلام تفریق کا سبب بنتا ہے۔

لیکن آج جب عجیب و غریب قسم کی خبریں سننے اور پڑھنے کو ملی کہ ایک جانب لوگ اسلام کے علم بردار ہونے کا دعوی بھی کرتے ہیں اور دوسری طرف اپنے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر رہے ہیں۔ میں نے کبھی اس نکتہ کو دیکھا، تو کبھی ملک میں فرقہ واریت کے اس طوفان کو جو اس قدر تلاطم خیز کبھی دکھائی نہیں دیا۔ تو امام صاحب کی بہت یاد آئی اور ان کا بیان کردہ نکتہ اب بھی دل و دماغ میں ہل چل مچائے بیٹھا ہے کہ ”تفریق اسلام سے نہیں بلکہ ترک اسلام سے آتی ہے“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •