چنیوٹ کی شیخ برادری میں خاندانی پہچان کا منفرد طریق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چنیوٹ شیخ برادری کاروباری میدان میں اس وقت پاکستان چھوڑ دنیا بھر میں معروف اور پھیلی ہوئی ہے۔ اور اس کامیابی میں پچھلے ڈیڑھ سو سال سے ”سفر وسیلۂ ظفر“ کے محاورہ پر عمل اور دل و جان سے محنت کی عادت اور کاروباری اسرار و رموز کے جلد سمجھ جانے کی صلاحیت کا گھٹی میں پڑے ہونے کا بڑا حصہ ہے

تاریخی طور پر چنیوٹ شیخ برادری کا تعلق ہندوؤں کے کھتری یا کھشتری طبقے کی ان شاخوں سے جا ملتا ہے۔ جو فوجی مہارت اور جنگجو ہونے کو ترک کر کے زمیندارہ یا کاروباری پیشوں میں آگئے اور ان کے کئی قبیلے چنیوٹ کے ارد گرد آ بسے اور قبول اسلام کے بعد شیخ کہلائے۔ چونکہ اکثریت چنیوٹ میں آ بسی اور کچھ خاندان جھنگ یا پنڈی بھٹیاں بھی گئے۔ مگر اب یہ عموماً چنیوٹی کھوجے سے آگے بڑھتے چنیوٹ شیخ برادری کہلاتی ہے۔ ان کی ذیلی شاخیں وہرہ۔ ودھاون۔ سہگل۔ مگوں۔ بھراڑہ۔ پسریچہ۔ گوڑوواڑہ۔ ڈھینگڑہ۔ منوں۔ پھپھرا پر مشتمل ہیں (کوئی سہوا رہ گیا تو معذرت)۔ آپ کو ہندوؤں میں بھی یہ تمام ذیلی ذاتیں مل جائیں گی۔ سکھ چونکہ زیادہ تر جاٹ ہیں اس لئے بہت کم تعداد ان ذاتوں کی نظر آتی ہے۔ البتہ سہگل یہاں برامپٹن میں کئی اور ودھاون ایک آدھ ملے۔

اب یہ رواج یا فطری جذبہ عام طور پہ دنیا بھر میں اور برصغیر میں خصوصاً ہے کہ کسی بھی وجہ سے (لیڈر کھلاڑی ایکٹر۔ قومی ہیرو ) کسی خاندان میں آنے والے بچے کا نام قبول عام حاصل کرلے تو اس عمر کے ایک ہی شہر یا محلے یا طبقے میں بے شمار اسی نام کے ملیں گے۔ سولہ سترہ سال قبل میرے گیس سٹیشن پر ایک ویسٹ انڈین ٹرک ڈرائیور آیا کرتا تھا۔ ایک دن اس کے ڈرائیور لائسنس پر نظر پڑی تو نام مشتاق محمد تھا۔ پوچھا تمہارے والد کرکٹ کے شوقین ہوں گے۔

تو اس نے والد سے سنی مشتاق محمد کی کئی اننگز گنوا دیں۔ پچھلے سال گھر کے نزدیک ایک عینکوں کی دکان پر جانا ہوا تو اس کانام سعید احمد تھا۔ بتایا کہ ویسٹ انڈیز میں ساٹھ ستر کی دہائی کے پاکستانی کرکٹر کے نام عام ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے سر ظفراللہ کی فلسطین اور افریقی عرب ممالک خصوصاً مراکش الجزائر وغیرہ کی آزادی کی جدوجہد میں اقوام متحدہ میں ناقابل فراموش خدمات کے وقت افریقی عرب ممالک میں ظفراللہ نام عام رکھا گیا۔

اب اگر ایک ہی نام اور عمر کے گروپ کے ایک ہی محلہ میں کئی نام ہو تو بات چیت میں شناخت اور تخصیص میں مشکل ہونا قدرتی ہے اکثر ولدیت بھی ایک جیسی ہوتی۔ ذیلی ذات سے بھی کام نہ بنتا۔ تو تخصیص اور پہچان کے لئے گھر کے کسی فرد کی عادت۔ حادثہ۔ واقعہ۔ چھیڑ چھاڑ والے نام کو لاحقہ بنا لیا جاتا۔ مثلاً میرے دادا شیخ شمس دین ودھاون اپنی ہر وقت کی بے چین طبیعت کے باعث شماں مچھی کہلائے جب کہ ایک دوسرے شمس دین شماں چکاں والے مشہور ہوئے۔

اسی طرح میرے والد دوست محمد اپنی بہت کم گو اور کم آمیز ہونے کی وجہ سے گھپ کا نام پاگئے۔ بعد میں کلکتہ پہنچے تو دوستوں نے انہیں شمس کا تخلص دے دیا۔ اس وقت ان کے ہم عمر اور دوستوں میں سے مجھے۔ دوست محمد آنول۔ دوست محمد نکؔا۔ (بلکہ دوسا کہیں) دوست محمد زنانہ (شاید نسوانی چال ہو) اور دوست محمد پوری کے نام ذہن میں ہیں۔

کچھ تو ایسے تھے یہ تعارفی نام ان کی حد تک رہے لیکن بہت سے خاندان ایسے ہیں جنہوں نے اپنے آبا و اجداد کے یہ تعارفی نام اپنے خاندانی تعارف کا حصہ بنا لیا۔ جسے چنیوٹ کی زبان میں ”ال“ کہا جاتا ہے۔ اور گو عام طور استعمال نہ کیا جائے مگر مخصوص مواقع پر مثلاً شادی بیاہ یا وفات یا تقریبات کی اطلاع دیتے وقت یہ نام ساتھ لکھ دیے جاتے اور اس کے لئے عموماً کے ”کا لاحقہ لگایا جاتا ہے۔ مثلاً“ مسٹر کے ”سے مراد میرے تایا اللہ بخش مسٹر کی اولاد ہوگی۔ یہی آج کا موضوع ہے اور چنیوٹ سے ہی وہاں کی معروف ادبی شخصیت عروض پر مکمل عبور رکھنے والے اعلی پایہ کی شاعر اور ناشر کتب عارف خواجہ صاحب نے اس پر لکھنے کی تحریک کی ہے۔

اب ایک چھوٹی سی کہانی۔ انیس سو آٹھ میں میرے والد کے بچپن کے دوست دو بھائی جو امرتسر کی ایک ٹینری میں پلے دار یا چمڑے کی گانٹھیں ایک جگہ سے دوسری لے جانے یا ریڑھی وغیرہ پہ لادنے پہ مامور تھے اور یہ بوجھ عموماً کمر پر لاد کر لے جایا جاتا۔ چھٹی پر چنیوٹ آئے۔ میرے والد آٹھویں پاس کرنے کے بعد کم آمیز ہونے کی وجہ سے برسرروزگار نہ تھے وہ والد کو اصرار کرتے ساتھ لے گئے اور ٹینری کے ان مزدوروں کی سفارش پر ٹینری کے مالک نے ابا جی کو منشی کی ملازمت دے دی۔

اس واقعہ سے صرف اس زمانے کے مالک اور مزدور کے درمیان باہمی احترام اور محبت کا رشتہ بتانا مقصود ہے جو بھٹو کے ڈرامہ باز دور تک اکثر صنعتی اداروں میں موجود تھا۔ دونوں بھائیوں کی سخت چمڑا کمر پر لاد کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے کمریں اور کندھے پیچھے سے معمول سے چوڑے ہو چکے تھے۔ لہذا برادری میں یہ ”چیڑی کنڈ والے“ یعنی چوڑی کمر والے مشہور ہوئے۔ یہ دو بھائی جن میں ایک کانام مولا بخش تھا اور میرے والد انیس سو اٹھارہ سے قبل ہی ٹینری میں کام کرتے، غور سے دیکھتے چمڑے کے کاروبار کو کچھ سمجھ چکے تھے اور یہ ملازمتیں چھوڑ کلکتہ آ کر کاروبار میں مصروف ہو گئے۔

پاکستان بننے کے بعد میں مولا بخش چیڑی کنڈ والے کی اولاد کا ایک حصہ مشرقی پاکستان میں پٹ سن۔ کیمیکل۔ اور ٹیکسٹائل ملز میں معروف اور مجیب الرحمان سے ذاتی تعلقات کے باوجود سب کچھ چھوڑ جنگی قیدی رہتے پاکستان آیا جبکہ میاں یحیی اور میاں ایوب نشاط ٹیکسٹائل ملز فیصل آباد بنا چکے تھے اور آج میاں منشا پاکستان کی امیر ترین شخصیت ہیں۔ اس کے باوجود مولا بخش چیڑی کنڈ والے اور بھائی کی اولاد برادری میں ”چیڑی کنڈ والے“ کے حوالے سے پہچان رکھتی ہے۔

یہ ”ال“ یا عرفیت بعض خاندانوں کی تو ان کی چنیوٹ سے دوسری جگہوں پر منتقلی ہونے کی نسبت دی گئی ہے۔ گو ہر خاندان کی چنیوٹ سے جڑیں مضبوط ہی رہیں۔۔۔ ان میں راوی والے۔ گواری (بنگال) والے۔ کانپوری۔ رنگون والے۔ مدراس والے۔ کلکتہ والے (قیام پاکستان سے قبل سب سے زیادہ کلکتہ میں تھے۔ پھر کانپور مدراس آگرہ کا نمبر تھا شاید جیسے آج کل کراچی فیصل آباد لاہور ہے) ۔ عباس پوری۔ دہلی والے۔ وغیرہ وغیرہ ہیں۔

کچھ خاندان اپنے کاروبار کی نسبت سے۔ مثلاً زینت (ملز) والے۔ کریسنٹ والے۔ ماسٹر لوم والے۔ سائزنگ والے۔ تیل والے کھنڈ والے۔ ہڈیاں والے۔ ٹال والے۔ وغیرہ وغیرہ۔

لیکن سب سے دلچسپ وہی ہیں جو خصوصی ”ال“ کہلاتے ہیں۔ مولا بخش چیڑی کنڈ والے کے ساتھ مولا بخش اشٹام فروش کے ہیں۔ بانی خاندان میاں صدیق بانی اور یوسف بانی کے والد انجمن اسلامیہ چنیوٹ کے بانی تھے۔ انہی کے ہم عمر اور عزیز کسی کو کنڈی ڈنڈے والے ڈنڈے (جسے چنیوٹ کی مخصوص لہجہ کی بولی میں ڈنڈکا کہا جاتا ) سے پیٹنے کی وجہ سے صدیق ڈنڈکا کہلائے اور اولاد ”ڈنڈکے کے“ کہلاتی ہے۔ آپ کوہ نور ملز کے سعید سہگل اور یوسف سہگل کے ساتھ کلکتہ ربڑ کی بچگانہ جوتے بنانے کی فیکٹری میں بارہ آنے (پچھتر فیصد) کے حصہ دار تھے۔

ایک گلی میں تین چار گھروں میں بیٹوں نے ماؤں کو مارا تو پوری گلی ”ماں ماراں دی گلی“ مشہور ہو گئی۔ گلزار ڈھینگرہ تھے تو گلزار گول ڈبل شاید بہت موٹے یا بہت پتلے (طنزیہ) تھے۔ گلزار پری سے میاں عمر مسٹر، میرے تایا زاد اور بہنوئی، کی وفات کے موقع پر ملاقات ہوئی۔ پوچھنے پر کہنے لگے کہ اوائل جوانی میں انتہائی خوبصورت ہونے کی وجہ لقب ملا۔ حتی کہ کانپور میں جب تانگے پر جا رہے ہوتے تو لوگ سائیکلوں پر دیر تک پیچھا کرتے تکتے رہتے۔ شاید صابن کا کاروبار کرنے والے کسی بزرگ کی اولاد صبونی کہلائی اور ماشاءاللہ وسیع تعداد ہے۔ تیز تیز بولنے والے ”تلیر“ کا لقب پاتے۔ اولاد کو ”تلیر کے“ کی پہچان بخش گئے۔ تو زیادہ باتونی بزرگ کی اولاد ”کاں کے“ ۔ کوا۔ ہے۔ کسی نے کسی پر چھرا اٹھایا تو ”چھرے” کہلاتے ہیں۔ عمر مسٹر کے ہم عمر“عمر ہولا” (ہلکا۔ حالانکہ بہت موٹے تھے شاید) اور “عمر پسو” اور ”عمر پاڈے کے“ تھے۔ اب بس کچھ عرفیت اور ”ال“ یونہی لکھتا جاتا ہوں۔ البتہ کسی قاری کو اس کے پس منظر کا علم ہو تو مضمون کے نیچے کمنٹس میں لکھ کر ممنون فرمائیں۔

خاکسار۔ بنڈی کے۔ ب کی زیر۔ موتی کے۔ ہیرے کے۔ لٹ کے۔ برخوردارئیے۔ باوے کے۔ فضل الہی منشی۔ زیاد چستی چالاکی کی بجائے بہت دھیرے اور صحیح طرح کام نہ کر سکنے پر۔ لولہے کے۔ رانجھے کے۔ بوکے کے۔ ڈھوکی کے۔ گھوگی ( فاختہ ) کے۔ بھولے کے۔ آلو کے۔ لالی کے۔ بڈھے کے۔ گاندھی کے۔ چور کے (اس کی سمجھ نہ آسکی) ۔ کالی بھوری کے (شاید پھلبہری کا مرض ہو) گوبھی کے۔ بانکے کے۔ واڑے والے۔ صافی کے۔ بابی کے۔ کل کے (اب پتہ نہیں مراد ٹونٹی سے ہے یا کسی مشین سے) بوٹی کے۔ چھٹکے کے۔ لالٹین کے۔ بھپ شاہ کے۔ رتو کے۔ حاجی کے۔ رنگ کے۔ جگنو کے۔ میاں تسلیم کے۔ میاں اللہ جوایا کے۔ شہر یار کے۔ اور فی الحال آخری ”ٹکؔر کے”۔ ٹکؔر چنیوٹی بولی میں روٹی کے ٹکڑے کو کہتے تھے یہ بزرگ رستے میں گری پڑی روٹی کے ٹکڑے اٹھا لیتے کہ رزق کی بے ادبی نہ ہو اور پرندوں کو ڈالتے۔

قیام پاکستان سے قبل یا بعد کسی عدالت سے ایک سمن اللہ بخش کے نام سے صرف محلہ کے ایڈریس پر بیلف تعمیل کرانے آیا۔ اسی ایک محلہ میں اکیس بندے اللہ بخش نام کے نکل آئے۔ اب سمن کسے تھمائے۔۔۔ یہ مثال چنیوٹ شیخ برادری کے خاندانی عرفیت یا ”ال“ کی ضرورت اہمیت اور استفادہ کو اجاگر کرتی ہے۔ بعض عرفیتیں جو نامناسب ناموں پر جسمانی نقائص سے معنون ہیں ان کا ذکر عمداً نہیں کیا۔۔۔

اگرچہ ہر برادری اور قوم میں ایسی عرفیت و پہچان کے نام موجود ہیں مگر جو تنوع ہے اور طنزیہ، مزاحیہ، اور بعض اوقات جگت کی بنا پر بھی رکھے جانے والے ناموں کو اپنی خاندانی پہچان اور شناخت کو بغیر کسی اعتراض بلکہ خوشی سے چنیوٹ شیخ برادری نے قبول کرتے بیان کرتے دیا ہے وہ کسی اور برادری میں شاید نہ ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •