سیاستدانوں کے ساتھ جرنیلوں کا احتساب کیسے ہو گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دنوں سے ذہن میں پھر چند سوالات ابھر رہے ہیں کہ کیا احتساب کا دائرہ کسی فرد، گروہ یا ادارے سے مخصوص ہو سکتا ہے؟ کسی بھی فرد، گروہ یا ادارے کے احتساب سے فرار یا استثنیٰ کے بعد احتساب کے معانی و مقاصد کا حصول ممکن ہو سکتا ہے؟ احتساب کی لپیٹ میں آئے شخص کا اسے انتقام یا سازش قرار دینا درست ہے؟ احتسابی عمل کے نفاذ کے ذمہ دار خواص ہی محاسبے اور جواب دہی سے انکاری ہوں تو عامیوں پر اس کا اطلاق ممکن ہو سکتا ہے؟ طاقت کے استعمال یا کسی دیگر طریق احتساب سے فرار حاصل کیا جا سکتا ہے؟

احتساب ایک آفاقی نظریے اور قانون فطرت کا نام ہے۔ یہ نظریہ وجود کائنات سے پیشتر بھی کسی نہ کسی جگہ موجودگی رکھتا تھا بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ احتساب ہی وجود کائنات کا اصل سبب ہے۔ یہی وہ جواز تھا جس کی بدولت اس کارخانہ قدرت کی ضرورت محسوس ہوئی۔ جزا اور سزا کا تصور موجود نہ ہوتا تو شاید یہ کائنات وجود میں ہی نہ آتی اور یہ بھی پیش نظر رہے وجود میں آنے کے بعد معاشرتی نظام کو درست چلانے کے لیے بھی جوابدہی کا خوف لازم تھا۔

جوابدہی کا خوف قائم کرنے کی خاطر ہی جنت اور جہنم قائم کی گئی۔ جنت کی طمع اور جہنم کا ڈراوا پیش نظر نہ ہوتا تو یہ نظام دو گھڑی سے زیادہ کبھی نہیں چل سکتا تھا۔ پھر ہر طاقتور کمزور سے، ہر با اثر مجبور سے جینے کا حق چھین لیتا۔ ہر کوئی دوسرے کے حلق سے نوالہ نکال لیتا اور زمین تنگ کرکے رکھ دیتا۔ احتساب کے خوف کی بدولت ہی اب تک انسانی معاشرہ اپنا امتیاز برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اسی لیے تمام مذاہب عالم کی تعلیمات میں آخرت اور جواب طلبی کے خوف پر بہت زور دیا گیا ہے۔ فی زمانہ اسلام دین برحق ہے اور اس کی تعلیمات خدائے بزرگ و برتر کی جانب سے انسانوں کے لیے حتمی ہیں، اس لیے اسلامی تعلیم میں جزا اور سزا کے تصور کو مرکزیت حاصل ہے۔ دین اسلام میں مگر اس تصور کو دیگر ادیان سے یہ انفرادیت حاصل ہے کہ اس میں کسی بھی طبقہ ہائے فکر کے لیے استثنی یا رعایت ممکن نہیں۔ اس کے مطابق جو جتنا طاقتور ہے، اتنا ہی وہ پابند ہے۔

جتنی جس کی مستحکم حیثیت ہوگی، اتنا ہی وہ جواہدہی کا مکلف ہوگا۔ حکمراں وقت کے لیے حضرت عمرؓ نے ضابطہ مقرر فرمایا۔ احتساب کے لیے آپ رضی اللہ عنہ کی خود سپردگی کا یہ عالم تھا کہ ہمہ وقت خود کو عوام کے دربار میں پیش رکھتے۔ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ منبر پر تشریف فرما تھے کہ ایک شخص اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے آپؓ کے دراز قد کی وجہ سے استفسار کیا کہ بیت المال سے ملنے والے کپڑے سے آپ کا لباس بننا ممکن نہیں۔ لہذا ہم اس وقت تک آپ کی بات نہیں سنیں گے، جب تک آپ ہمیں مطمئن نہیں کرتے کہ مقررہ حصے سے زائد کپڑا آپ کے پاس کہاں سے آیا؟ آپؓ کے ماتھے پر کوئی شکن نہ آئی آپ منبر سے اتر آئے اور اپنے بیٹے سے فرمایا کہ اس شخص کو وضاحت پیش کی جائے۔ جس کے بعد آپؓ کے بیٹے اس شخص کو بتایا کہ میں نے اپنے حصے کا کپڑا اپنے والد کو دے دیا تھا۔

یہ بھی نہیں کہ اسلامی تعلیمات میں قانون یا ضابطہ اخلاق صرف عوام یا سویلین حکمران تک ہی محدود ہے۔ حضرت عمرؓ نے اسلامی ریاست کے سپہ سالار حضرت خالد بن ولیدؓ کو معطل کرکے، حضرت ابو عبیدہؓ کو ان کی جگہ مقرر فرما دیا۔ خالد بن ولیدؓ نے حکمران وقت کو معزول کرنے یا مارشل لاء لگانے کے بجائے فی الفور حکم کی تعمیل کی۔ انہوں نے تعمیل حکم میں عار محسوس کی اور نہ ہی ریاست اسلام کے لیے اپنی خدمات گنوائیں۔ سب سے بڑی بات ان کی معزولی پر سپاہ نے بے چینی محسوس کی نہ ہی ماتحتوں کا مورال ڈاؤن ہوا۔

اب آ جائیں ذرا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں۔ یہاں جب بھی کسی حکمراں سے آمدن سے زائد اس کے اثاثوں کے متعلق سوال ہو تو جواب ملتا ہے کہ میرے اثاثے میری آمدن سے زائد ہیں تو تمہیں اس سے کیا تکلیف؟ یہ بھی یاد کیجیے! اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سپہ سالار اور ”فاتح کارگل“ کو وقت کے حکمران نے اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے معزول کیا تو اس نے کیسا تاریخ ساز ردعمل دیا تھا؟ صرف یہی نہیں بلکہ بعد از ملازمت بھی جب موصوف کے مواخذے کی کوشش کی گئی تو منتخب حکومت کے گلے پر موجود انگوٹھے کا دباؤ اتنا بڑھا دیا گیا کہ جاں خلاصی کے لیے حکومت کو اسے با عزت چھوڑتے ہی بن پڑی۔

اسی باعث ہمارے ہاں کسی کا احتساب اور نظام عدل پر یقین برقرار نہیں رہا۔ ہر کوئی اپنے خلاف اقدام کو انتقام بتلا کر مزاحمت پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔ احتسابی عمل کی تضحیک اور نظام عدل کی بے توقیری کی ایک وجہ ماضی کے انتقامی و امتیازی اقدامات بھی ہیں جس کا آغاز قیام پاکستان فوراً بعد شروع ہو گیا تھا اور اس کا زیادہ نشانہ سیاستدان بنے۔ اس کے باوجود سیاسی جماعتوں نے کوئی سبق نہیں سیکھا نوے کی دہائی سے اب تک ہر سیاسی جماعت نے اپنے دور میں احتساب کا نام استعمال کرکے مخالفین کے ساتھ جو کچھ کیا وہ سب کے سامنے ہے۔

مخالفین کی سرکوبی کی خاطر سرکاری مشنری کے استعمال کا ہمیشہ وہی گھسا پٹا جواز کہ لوٹی دولت واگزار کرائی جائے گی۔ اس سرگرمی سے آج تک ایک پائی حاصل نہیں ہوئی، الٹا جنہیں چارج شیٹ کیا گیا وہ عوامی ہمدردی سمیٹ کر دوبارہ حکومت میں آنے اور پہلے سے زیادہ مال بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی، گزرے تمام عرصے میں احتساب سے متعلق تمام ادارے اور عدل کی ذمہ دار قوتیں طاقتوروں کے ہاتھ کی گھڑی اور جیب کی چھڑی بنی رہیں۔ اس تمام عرصے میں ریاستی ادارے اپنے فرائض منصبی کی ادائی اور ریاستی مفاد کے تحفظ کی بجائے مقتدر مفادات کے تحفظ میں سرگرم رہے۔

آج اگر سیاستدان پھر یہ سمجھ رہے ہیں کہ احتساب کا ڈنڈا صرف ان کے خلاف حرکت میں آتا ہے تو یہ نظام کی خرابی کے ساتھ ان کی اپنی کمزوری بھی ہے۔ پارلیمنٹ کو بلا تخصیص احتساب کا قانون بنانے کا موقع ملا تو کیوں وہ اس کار خیر کی انجام دہی میں ناکام رہی؟ سسٹم کو بدلنا اور نظام کو درست کرنا یقیناً انہیں لوگوں کی ذمہ داری تھی جو عرصہ دراز حکومتوں میں رہے اب بعد از مرگ واویلے کی بجائے ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوط کریں اور انتقامی جذبات کے تحت آئندہ غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھوں نہ کھیلنے کا عہد کریں۔ آج یہ سیاستدان دل میں حضرت عمرؓ کی طرح خوف آخرت پال لیں اور نظام عدل و احتساب کو مکمل اسلامی بنانے کا عہد کر لیں تو کوئی فرد یا ادارہ خود کو احتساب سے ماورا قرار دینے پر اصرار نہیں کرے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •