جندر، حاجرہ، ایک آزاد عورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کتنے نسوانی کردار ہیں جو کسی تخلیق کار کی نظر اور بنت کے انتظار میں ہیں۔ ان میں سے ایک پہ تو اختر رضا سلیمی کی نظر گئی ہے۔ اور حق ادا کر گئی ہے۔ حاجرہ کا کردار ناول کے وسطانیے کے بعد رونما ہوتا ہے۔ ناول میں وہ ایک ضدی اور خود شناس خاتون کے روپ میں متعارف کرائی گئی ہے۔ جو مرکزی کردار ولی خان کی چچا زاد ہے اور اس سے بارہ برس چھوٹی ہے۔ چھ بھائیوں کی اکلوتی بہن کا یہ اعزاز ہے کہ وہ اپنے گاؤں کی پہلی میٹرک پاس لڑکی ہے۔

لڑکوں کے ہائی اسکول میں پڑھنے والی واحد لڑکی ہونے کے باعث بہادری اور بے خوفی اس کا وصف بن گئی ہے۔ وہ سکول کے زمانے سے ہی ولی خان کے پاس جندر جاتی ہے اور یہیں اسے کتب بینی کی چاٹ لگتی ہے اور یہ کتاب دوستی اس کے ذہن کی پرواز کو بلند اور شعور کو پختہ کر دیتی ہے۔ وہ میٹرک کے بعد آنے والے ہر رشتے سے انکار کر دیتی ہے اور اسکول میں پڑھانا شروع کر دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ تعلیم جاری رکھتے ہوئے علاقے کی پہلی بی اے خاتون کا حق بھی محفوظ کر لیتی ہے۔

ادب، فلسفہ، نفسیات، تصوف، سائنس اور تاریخ میں دلچسپی رکھنے کے باعث اس کی فہم میں گہرائی اور تجزیوں میں وسعت آ جاتی ہے۔ جس سے کبھی کبھار ولی خان بھی حسد کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایک دن ولی خان اپنی اس جلن کا اظہار کرتا ہے تو وہ اسے کہتی ہے کہ مجھے تو تمہاری زندگی پہ رشک آتا ہے۔ ولی خان کہتا ہے کہ میں تو عام سی زندگی گزار رہا ہوں۔ تو حاجرہ جواب میں کہتی ہے

”تم ایک آزاد مرد ہو۔ زندگی کے تمام بندھنوں اور بکھیڑوں سے آزاد۔ اور مجھے ایسے لوگ اچھے لگتے ہیں جو اپنی مرضی کی زندگی گزارتے ہیں اور کسی کی کوئی پروا نہیں کرتے۔“ ص 86

اور یہی بات ولی خان سے شادی کی اساس ہے۔ اس کے اس فیصلے میں جذبات کے ساتھ ساتھ ذہن کی آمادگی بھی نظر آتی ہے۔ وہ وجود، روح، خیال اور حقیقت کے تقاضوں سے آشنا ہے۔ وہ ایک آزاد عورت ہے۔ جو پابند معاشرے میں رہنے کے باوجود جنگل جنگل گھوم آتی ہے۔ وہ ولی خان کو آزاد انسان سمجھتی ہے جو اس منافقت بھری زندگی سے دور الگ، آزاد اور خودمختار زندگی گزار رہا ہے۔

پسند کی شادی کو ہمارے ہاں کچھ زیادہ اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا اور اگر کوئی یہ فیصلہ کر لے تو معاشرہ اس انتظار میں رہتا ہے کہ کب یہ شادی ٹوٹے اور فیصلہ کسی طور غلط ثابت ہو۔ یہ شادیاں ٹوٹتی بھی ہیں اور ساتھ بھی چھوٹتے ہیں۔ لیکن اکثر اسباب وہ نہیں ہوتے جو سماج کو نظر آتے ہیں۔ اس تناظر میں کسی کے انتخاب کا فیصلہ مشکل ہوتا ہے اور یہ مشکل بھی حاجرہ سر کرتی ہے۔ وہ ولی خان پہ اپنے جیون ساتھی ہونے کی مہر لگاتی ہے۔ وہ اپنی چاہت سے آگاہ ہے۔ اس کی چاہت حقیقت کا روپ دھار سکتی ہے یاں نہیں یہ ایک الگ قضیہ ہے۔

حاجرہ کے میٹرک کے بعد سے ہی اس کے گھر والے اس کے شادی کے فیصلے سے آگاہ ہیں۔ سو ایک دن حاجرہ کی ڈولی ولی خان کے آبائی گھر اتر جاتی ہے۔ جہاں وہ صرف اٹھارہ دن گزار سکتا ہے کیونکہ اسے جندر کے بغیر زندگی راس نہیں آتی۔ انیسویں دن وہ حاجرہ سے جندر جانے کو کہتا ہے تو وہ مان جاتی ہے۔ اور وہاں ان کی زندگی رواں دواں ہو جاتی ہے مگر ایک دن جندر کی گونج ان کی زندگی میں پہلا سکوت لاتی ہے۔ جب ولی خان یہ خبر سنا تا ہے کہ جندر کی گونج کے بغیر اسے نیند نہیں آتی۔ حاجرہ یہ خبر سننے کے بعد اعلان کر دیتی ہے کہ

”میں نے ایک آزاد مرد سے شادی کی تھی مجھے کیا پتا تھا کہ وہ جندر کی گونج کا قیدی ہے۔ میں ایک معذور انسان کے ساتھ تو زندگی گزار سکتی ہوں لیکن ایک مجبور مرد کے ساتھ نہیں۔ تمہیں اس مجبوری سے آزاد ہونا پڑے گا“ ص 89

حاجرہ اپنے والدین کے ہاں چلی جاتی ہے اور جندر چھوڑنے کی شرط پہ قائم رہتی ہے دو ماہ بعد اس کے فیصلے کو دیکھتے ہوئے ولی خان جندر چھوڑ کے ٹال کا کام شرع کرتا ہے تو دونوں میں معاملات پھر سے استوار ہو جاتے ہیں۔ بلکہ حا جرہ پہلے سے بھی بڑھ کر ولی خان کا خیال کرتی ہے۔ اور اسے جندر کی گونج سے آزاد کرانے کی بھرپور کوشش کرتی ہے۔ مگر ولی خان جندر کی آواز کی قید سے آزاد نہیں ہو پاتا۔ وہ دوپہر میں جندر کی گونج سنتے ہوئے اپنی نیند پوری کرتا رہتا ہے۔

اور جب حاجرہ پہ اس کی حقیقت کھلتی ہے تو اسے فیصلہ کن چپ لگ جاتی ہے۔ اس دوران ان کے بیٹے راحیل کی پیدائش کو ولی خان حاجرہ کے لیے بیڑی سمجھتا ہے جو ایک خام خیال ثابت ہوتا ہے۔ پھر ایک رات کی سرد مہری ان دونوں کو ہمیشہ کے لیے الگ کر دیتی ہے۔ یہاں بھی حاجرہ ہی اپنے فیصلے کا حق استعمال کرتی ہے کیونکہ وہ خود ایک آزاد عورت ہے۔ اس کے بعد ولی خان ہمیشہ کے لیے جندر کی گونج کی نذر ہو جاتا ہے۔ ایک با اصول اور اعلی ظرف خاتون ہونے کے باعث وہ باپ کو بیٹے سے جدا نہیں کرتی وہ ملتا رہتا ہے اور ولی اس کا خرچ بھی بھیجتا رہتا ہے۔

وہ باپ بیٹے کو اس حق سے محروم نہیں کرتی لیکن بیٹے کی ملازمت کے بعد وہ رقم بھیجنے سے منع کر دیتی ہے اور اسے اس بندھن سے آزاد کر دیتی ہے۔ وہ ولی خان کو اپنے جنازے پہ آنے کے حق سے بھی محروم نہیں کرتی کیونکہ وہ تعلق کی رمزوں سے آشنا ہے۔ وہ ایسی عورت ہے جو اپنی چاہ کو پانے کے لیے محنت کرتی ہے۔ اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں نہ بدلتا دیکھ کر وقت حالات اور زمانے سے گریہ نہیں کرتی۔ اور یہی اس کی اصل طاقت ہے۔

اس معاملے میں بقول مرکزی کردار وہ مثالیت پسند نکلتی ہے۔ اسے اس کے کردار سے زیادہ اس کے بارے میں قائم کردہ اپنے تصور سے محبت ہے۔ وہ ساری زندگی اپنے کہے کی لاج رکھتی ہے کہ

”مرد ہو تو ولی خان جیسا ؛بہادر، آزاد اور بے نیاز“ ص 110

اسی وجہ سے وہ راحیل کو اس کے والدین کی جدائی کا سبب نہیں بناتی اور ولی خان بھی حاجرہ کے مرنے کے بعد اس بات کی حرمت قائم رکھتا ہے۔

دراصل حاجرہ ایک ایسے مرد سے شادی نہیں چلا سکتی جو کسی بھی سطح پہ اک کمزور انسان ثابت ہو۔ کیونکہ کمزور انسان رشتہ نہیں نبھا سکتا اور ذہن کا تو کبھی بھی نہیں۔ وہ ایک پڑھی لکھی خاتون ہے۔ جس نے کتاب سے علم سیکھا ہے وہ اس علم کو حقیقت کا روپ دینا چاہتی ہے۔ اور زندگی خوابوں کو حقیقت بنانے کا نام ہی تو ہے۔

پہلی بار جب اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کا شوہر جندر کی گونج کا محتاج ہے تو یہ محتاجی اسے اچھی نہیں لگتی۔ جندر میں اتنی طاقت کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ اک انسان کو قید کر لے اور وہ جندر جس میں دانے بھی خود ڈالیں اور کیل بھی خود کھینچیں۔ یہ جندر اس کی رقیب بن جاتی ہے۔ عورت کسی بھی حیثیت میں زندگی گزار رہی ہو وہ اپنی زندگی میں آنے والے مرد کے لیے ملکیت کا احساس ضرور رکھتی ہے۔ اس لیے جندر اور اس کی ظالم گونج اسے اچھی نہیں لگتی وہ اس رقیب سے اپنے محبوب شوہر کو دور لے جانا چاہتی ہے اور لے بھی جاتی ہے۔

یہ اس کی ایک فطری کوشش ہے کیونکہ انسان اپنے پہلے ادراک پر فیصلہ نہیں کرنا چاہتا اس کی سرشت میں موقع دینا شامل ہے اور یہاں تو معاملہ بھی محبت کا ہے۔ لیکن جندر کی آواز اس رشتے کو خا موش کر کے ہی دم لیتی ہے۔ جندر کی علامت کو بہت سے مفاہیم پہنائے گئے ہیں۔ اس میں ایک علامت آواز بھی ہے۔ آوازیں جو رشتوں میں آ جائیں تو بوجھ بن جاتی ہیں ایسا بوجھ جسے پھر ہر کوئی نہیں اٹھا سکتا۔ چاہے یہ آواز غرض کی ہو یاں کسی پہ منحصر ہونے کی، دھوکے کی ہو یاں بے ایمانی کی رشتے کھا جاتی ہے۔

حاجرہ کا یہ کردار اگرچہ چند صفحوں پہ محیط ہے لیکن مٹتی ہوئی تہذیب کے اس نوحے میں روشنی کا استعارہ ہے۔ عورت زندہ رہے تو تہذیب سانس لیتی رہتی ہے۔ اختر رضا سلیمی نے نے اس کردار کو ناول کی دنیا میں جینے دیا ہے۔ اس کی بنت میں کوئی شعوری عمل نظر نہیں آتا۔ بس یہ کردار جو ہے، سو ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے۔ خواب دیکھتا ہے۔ فیصلہ کرتا ہے۔ غم سہتا ہے۔ اور اپنی شرطوں پہ زندگی گزارتا ہے۔
اردو ناول میں ایسے نسوانی کردار تخلیق ہوتے رہنے چاہیے اس سے پہلے کہ پو پھوٹے اور پانی سروں سے گزر جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ثوبیہ مقبول کی دیگر تحریریں