کھاراپانی آنکھوں تک آپہنچا
کراچی کے نہ تو ہاتھ باگ پہ ہیں اور نہ ہی پاؤں رکاب میں ہیں۔ یہاں کے لوگوں کو چاہیے کہ اگر اس شہر میں رہنا ہے تو اپنی زبان بند رکھیں اور اس شہر میں ظلم و ستم سہتے رہیں۔ اپنی زندگیوں کو جمع جوگ کرتے کرتے اس نامہرباں وقت کے ہاتھوں نیچے ہوتے ہوئے آسماں کے پانیوں میں ان کی سب خواہشیں بہتی ہی چلی جارہی ہیں۔ امیر شہر بھی لگتا ہے اب تو اپنی ہی نالائقیوں جو اب یقیناً طوفان کا رخ اختیار کرچکی ہیں کا شکار ہوگئے ہیں۔
جب آپ وقت پر کوئی کام نہیں کرتے تو پھر وقت اپنا آپ ضرور دکھاتا ہے۔ خواہ وہ بارشوں کا پانی ہو یا ارض زمیں سے اڑتی ہوئی دھول مٹی کا طوفان۔ کراچی کو نجانے کس کی نظر لگ گئی روشنیوں کا شہر گندگی کا شہر بن گیا۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں متاثرین کا برا حال ہے۔ قطرہ قطرہ کر کے زندگی اور اس کے اسباب جمع کیے جاتے ہیں۔ شدید گرمی، حبس اور اوپر سے بجلی کا چلے جانا لوگوں کے لیے قیامت سے کم نہیں۔ کراچی کے تمام دفاتر اور تجارتی مراکز بند ہوچکے ہیں۔
کئی روز سے اربوں کی تجارت کا نقصان ہوچکا ہے۔ اس وقت کراچی میں تباہ کن بحران ہے، بیشتر علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔ ایسے میں لگتا ہے کہ دنیا میں دراصل ہر کام تو اس مشیت ایزدی کے حکم کے مطابق چلتا ہے۔ وہ قادر مطلق چاہے تو آسمانوں سے پانی برسائے۔ وہ جانتا ہے کہ آسمان سے چھما چھم گرنے والی بوندوں کے قطرے کہاں جمع ہو کر زحمت کی صورت دریا کا رخ اختیار کر لیں گی۔ لہٰذا ہم سب کو اپنی اپنی غلطیوں کا احتساب کرنا ہوگا۔
دیکھنا ہوگا صفائی اور سیوریج کے منصوبوں میں کہاں کہاں غلطیاں ہوئیں۔ یوں تو سندھ کے پورے صوبے میں طوفانی بارشیں آنے کی وجہ سے ندی نالوں میں طغیانی آنے سے وسیع علاقے زیر آب آگئے۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں تقریباً اًیک کم نوے سال بعد بارشوں کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ گھروں، دفتروں، دکانوں، بازاروں حتیٰ کہ ہسپتالوں تک میں منھ زور پانی داخل ہوگیا۔ مون سون کی بارشوں کا یہ سلسلہ 24 اگست کو شروع ہوا۔ ریکارڈ توڑ بارشوں کے بعد اب تک نکاسئی آب کا سلسلہ شروع نہ ہوسکا۔
یوں تو کراچی کے سمند ر کا پانی پہلے ہی کھارا تھا۔ اب یہی کھارا پانی گھٹنوں سے ہوتے ہوئے لوگوں کی آنکھوں تک آ پہنچا ہے۔ نارتھ ناظم آباد، سرجانی ٹاؤن، ملیر، گلشن اقبال یہاں تک کہ ڈیفنس کے پوش علاقے کے مکینوں کے گھروں کے اندر تک پانی داخل ہوگیا۔ برسوں کی محنت کی کمائی پانی کی بے رحم موجوں کی نظر ہوگئی۔ شہر کے بیشتر متاثرہ علاقوں میں سرجانی ٹاؤن، گلشن حدید، ملیر، ندی سے ملحقہ کورنگی، لانڈھی، منظور کالونی، شاہ فیصل کالونی، اورنگی ٹاؤن، آئی آئی چندریگرروڈ، صدر، نارتھ کراچی، ناگن چورنگی، بفر زون، گلبرگ، عزیز آباد اور لیاقت آباد شامل ہیں۔
کراچی مختلف علاقوں کے مکینوں کا مالی نقصان تو ہوا ساتھ ہی بہت سی قیمتی جانیں بھی ضائع ہوگئیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہنگامی حالات میں تمام ندی نالوں سے گندگی کو صاف کیا جائے۔ کراچی کا ترقیاتی ماسٹر پلان نئے سرے سے بنایا جائے۔ سیوریج نالوں میں پھنسی تمام گندگی کو نکال کر پانی کی نکاسی کو بہتر بنایا جائے۔ وہ تمام چھوٹے نالے جو کچرے کی وجہ سے بند ہیں، اسے نکالا جائے تاکہ سڑکوں پہ رکا ہوا پانی ختم ہو سکے۔
کراچی شہر میں جابجا کوڑا کرکٹ، بارشوں کا رکا ہو ا بے قابو پانی، ذرائع آمد و رفت کی بازیابی میں مشکلات یہ سب چیزیں مل کر ایک ابتری بستی کا منظر پیش کررہی ہیں۔ لگتا ہے، لگتا کیا ہے بلکہ سچ ہے کہ ہمارے اندر قومی حمیت اور غیرت نام کی کوئی چیز نہیں رہی۔ مقامی حکومتوں اور صوبائی حکومتوں کے جھگڑوں میں میرا پیارا کراچی اور اس کے باسی پس کے رہ گئے ہیں۔ تمام ترقیاتی فنڈز میں بد عنوانیوں کی وجہ سے آب پاشی کے منصوبے بھی تاخیر کا شکار ہوچکے ہیں۔
اندرون سندھ کی زمینوں پر قبضہ گروپ کے ناجائز قبضوں نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا رکھی ہیں۔ آخر کیوں نہیں ہم مل کر اپنے پیارے کراچی کی ترقی کے لیے کام کرتے۔ ایک بڑی سی قبر کھود کر ماضی کی دانستہ اور نا دانستہ تمام تر غلطیوں کو دفنا کر از سر نو کیوں کام نہیں کرتے۔ وہ تمام بنیادی مسائل جن کی تشخیص تو بہر طور ہو چکی ہے۔ جب ناکامیوں اور مسائل کی نشان دہی ہو جائے تو پھر اس کے حل کے لیے کام شروع ہوجانا چاہیے۔
میڈیا پر کراچی کے حالات دیکھ کر اور کراچی والوں سے ابتری کے نوحے سن کر دل پھٹتا ہے۔ سندھ حکومت نے جو پیسے اب تک فنڈز کی صورت میں لیے آخر کو وہ کہاں گئے؟ بلدیہ کراچی والے آخر کون سی افیون کی گولیاں کھا کر سوئے پڑے ہیں۔ کراچی ڈیفنس کے ایک مصور وصی حیدر کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے۔ اس ویڈیو میں وہ کہہ رہے ہیں ان کی کروڑوں کی مالیت کی پینٹنگز ضائع ہوگئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا حال تو ہٹلر نے ورلڈ وار میں بھی نہیں کیا۔
اس نے بھی پکاسو اور دیگر مصوروں کی گیلریوں پر حملہ کرنے سے منع کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم اپنے ہی وطن میں اپنوں ہی کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں۔ تو صاحب! کہنا یہ ہے کہ ہٹلر تو خود بھی پینٹر تھا لہٰذا اس کو مصوری کی اہمیت کا اندازہ تھا۔ لیکن ہمارے ملک میں بدقسمتی سے جہاں فن و ادب تو دور کی بات انسان کی قدر ہی نہیں وہاں فن مصوری کے ضائع ہوجانے کا قلق کس کو ہوگا؟ خوف ناک بارشوں میں کراچی پورا ڈوب چکا ہے۔ شہر اپنی گلیوں کی پہچان بھی نگل گیا ہے۔
لوگوں کے صوفے، کھانے کی میزیں، بیڈ، کتابیں، کپڑے، فریج، چولھے، برتن، بستر غرض یہ کہ ہر چیز کو پانی پی گیا۔ کراچی اور اہل کراچی کی چیخیں نکل گئیں۔ آج تک سب لوٹتے رہے، کھسوٹتے رہے، نوچتے رہے۔ شہریوں کی چیخیں تو رستے میں ہی کہیں ہوا برد ہوگئیں۔ پاکستان کے دارالحکومت تک ان کی یاس و حسرت کی آہ و فغاں نہ پہنچ سکی۔ بلاول زرداری جو بھٹو کا لاحقہ لگاتے ہیں وہ بھی اپنے قلعے سے یہ بتانے کو نہ نکلے کہ ”کیا بھٹو اب بھی زندہ ہے وہاں“ شہری بچارے اپنی مدد آپ کے تحت جھاڑو بھارو لے کر پانی نکالنے کی اپنی سی کوشش کر رہے ہیں۔
کیا یہ ارباب اختیار کو آئینہ دکھانے کے مترادف ہے۔ کراچی والوں نے عمران خان کو ووٹ دیے، وہ دہائی دیتے رہے لیکن وہ شاید منصوبہ بندیوں میں مصروف ہیں۔ کراچی کئی دہائیوں سے مختلف مافیاز کا شکار ہے۔ کہیں ٹینکر مافیا تو کہیں بجلی مافیا تو کہیں میٹر مافیا اور کہیں بوٹ بیسن کو کاٹ کے نئی بستیاں بسانے کا مافیا۔ یہ جو پاکستان میں لوٹ مار کا مافیا ہے اور اس ملک میں نیب زدہ لوگ جب گورنر، میئر، ایم۔ این۔ اے، ایم۔
پی۔ اے بنیں گے تو سوچیے پھر آمدن جا کہاں رہی ہے؟ دس سال تو پیپلز پارٹی کی حکومت کو ہوگئے۔ آج تک کیرتھر واٹر شیڈ کے اوپر چھوٹے چھوٹے ڈیم کیوں نہ بنائے گئے۔ یہ ڈیم کاشت کاروں اور زمین داروں کے کام آکر کراچی کو ڈوبنے سے بچاتے۔ کراچی کو ہمیشہ پھلنے پھولنے کے گیت تو سنائے گئے لیکن بدلے میں ملا تو بس گولیوں کی گھن گرج۔ جب سب لوگوں کے ٹیکس کھا لیے جائیں گے تو پھر شہر کا وہی حشر ہوگا جو ہورہا ہے۔ آخر میں افتخار عارف صاحب کے چند اشعار آپ کی نذر ہیں!
یہ کیا کہ خاک ہوئے ہم جہاں وہیں کے نہیں
جو ہم یہاں کے نہیں تو پھر کہیں کے نہیں
وفا سرشت میں ہوتی تو سامنے آتی
وہ کیا فلک سے نبھائیں گے جو زمیں کے نہیں
تیری شوریدہ مزاجی کے سبب تیرے نہیں
اے میرے شہر تیرے لوگ بھی اب تیرے نہیں
میں نے ایک اور بھی محفل میں انھیں دیکھا ہے
یہ جو تیرے نظر آتے ہیں سب تیرے نہیں


