جنگ ابھی جاری ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنرل عاصم سلیم باجوہ گزشتہ ہفتہ دس دنوں سے ایک بے نامی ویب سائٹ پر نشر ہونے والی سٹوری کے نشانہ پر رہے ہیں۔

نشر ہونے والی سٹوری تو احمد نورانی کی تھی مگر بھارت میں بیٹھے میجر گورو آریا اپنی جگہ پرخاصے پر جوش رہے۔ اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے جنرل باجوہ کی بیرون ملک جائیدادوں کی مزید تفصیلات جلد لانے کا وعدہ کیا ہے۔ میجر صاحب ہی کی طرح کئی ایسے اور نام بھی سوشل میڈیا پر سرگرم نظر آئے، جن کو ہم اسی کارن جانتے ہیں۔ پی ٹی ایم والے علی وزیربھی خاصے متحرک دکھائی دیے۔ پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر نے تحقیقات جبکہ مریم نواز صاحبہ نے رسیدیں پیش کرنے کا مطالبہ پیش کیا۔ میاں صاحب اور ان کی صاحبزادی کی تصویروں والے اکاؤنٹس نے تو تین روز آسمان سر پر اٹھائے رکھا۔

اپنی اپنی عصبیتوں کا نام کسی نے ’آئین کی حکمرانی‘ تو کسی نے ’کرپشن‘ رکھ لیا ہے۔ ناپنے کے پیمانے مگر اپنے اپنے ہیں۔ ابھی کچھ روز پہلے ایف سی کے ایک سپاہی کے ہاتھوں بلوچستان کے دور افتادہ علاقے میں ایک نوجوان کے مارے جانے پر انسانی حقوق کے علمبردار کئی روز تک مشتعل رہے تھے۔ مضامین دھڑا دھڑ چھاپے گئے۔ ٹاک شوز ہوئے۔ سوشل میڈیا پر مخصوص گروہ آگ برساتارہا۔ اسی ’محکوم‘ صوبے کے دارالحکومت میں تین سال پہلے ڈیوٹی پر کھڑا ایک پولیس کانسٹبل بیچ چوراہے روندا گیا تھا۔ گاڑی عبدالمجید اچکزئی نامی ممبر صوبائی اسمبلی چلا رہے تھے۔ واقعے کی ویڈیو اب بھی سوشل میڈیا پر موجود ہے، عدالت نے مگرتین سال بعد ملزم کو عدم شواہد کی بنا پرباعزت بری کر دیا ہے۔ ایم پی اے کا تعلق پختون خواہ ملی عوامی پارٹی سے ہے، پختونوں کے حقوق کی جنگ لڑنے والی پی ٹی ایم کی جو پشت پرکھڑی ہے۔ ایم پی اے صاحب کی بریت پر بلوچستان کے مسنگ پرسنزکا گلہ کرنے والے بھی خاموش ہیں۔ اغلب امکان یہی ہے کہ دن دیہاڑے مارے جانے والے بے گناہ پولیس کانسٹبل کی نوحہ خوانی وہ تبھی کرتے اگر وہ ایف سی کی گاڑی کے نیچے کچلا گیا ہوتا۔

خفیہ منصوبہ سازوں نے کارگل کی چوٹیوں پر قبضہ کر کے عظیم حماقت کا ارتکاب کیا۔ بحرانی مہینوں میں مگر میاں صاحب کا سیاسی قد بھی ڈیڈھ بالشت ہی نکلا۔ ’فاتح کشمیر‘ بننے کا خواب دیکھتے دیکھتے جو کلنٹن سے دو گھڑی تنہائی میں ملنے کے لئے گڑگڑاتے رہے۔ نسیم زہرہ کی ’فرام کارگل ٹو کو‘ (From Kargil to Coup) ’چار کے ٹولے‘ کی ہی نہیں اس وقت کے وزیر اعظم کی فکری مفلسی کی بھی داستان ہے۔ عظیم قومی بحران کے عروج پر اہم فیصلے ادارہ جاتی نہیں، شریف فیملی کے ہاں جاتی عمرا میں ہو رہے تھے۔

وزیر اعظم کے رازدان وزیر خارجہ نہیں طارق فاطمی تھے۔ 10 اکتوبرسے 12 اکتوبر 99 ء کے درمیان میاں صاحب کے ہم رکاب شہباز شریف اور چوہدری نثار نہیں، پرویز رشید تھے۔ دو عشروں بعد ’ڈان لیکس‘ سے ایک بار پھر انہی دو حضرات نے شہرت پائی۔ اب کی بار مگروزیر اعظم ہاؤ س میں معاملات صاحبزادی دیکھ رہی تھیں۔ پرویز رشید اب انہی کے اتالیق ہیں۔

دہشت گردی کی بے چہرہ جنگ کے بعد پاک فوج کو طویل، صبر آزما اور منفرد نوعیت کی ایک اور جنگ کا سامنا ہے۔ اس جنگ میں ملوث زیادہ تر کردار نئے نہیں۔ سوشل میڈیا نے مگر ان کے حملوں کو نئی جہت عطا کی ہے۔ پاکستان آرمی بھی لیکن ایک ’زندہ ادارہ‘ ) (Living Organization ہے، جہاں خود احتسابی اور اصلاحات کا عمل ہمیشہ سے ایک کار مسلسل رہا ہے۔ دہشت گردی کی جنگ میں اس کی خیرہ کن کامیابیوں پر دنیا ششدر ہے۔ جنگ میں جانیں نثار کرنے والے شہداء کے خاندانوں کی بہبود کے لئے حالیہ سالوں میں بہت قابل قدر کام ہوا ہے۔ تاہم مجھے اس حقیقت کا اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں مختلف رینکس کے لئے متعین موجودہ سروس بینیفٹس اور بعد از ریٹائر منٹ سہولیات میں نسبتاً توازن لانے کے لئے اصلاحات کی ضرورت ہے۔ معاشروں کی طرح اداروں میں بھی بہت زیادہ طبقاتی تفاوت نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

جنرل عاصم باجوہ کے ساتھ لگ بھگ ایک سال بہت قریب کام کرنے کا خوشگوار تجربہ مجھے بھی حاصل ہے۔ حیران کن حد تک جفا کش، ان تھک اور کم خوراک۔ رات کے پچھلے پہر تک جاگتے اور علی الصبح ترو تازہ دفتر میں موجود ہوتے۔ جنرل صاحب کے بھائیوں کے کاروبار سے متعلق تو میں کچھ نہیں جانتا۔ تاہم مجھے پورا یقین ہے کہ جنرل عاصم باجوہ، ان کی بیگم اور بچوں کے مالی معاملات ان کی طرف سے جاری کردہ وضاحت سے پوری طرح مطابقت رکھتے ہوں گے۔

میرا اندازہ ہے کہ عوام اور فوج میں خلیج پیدا کیے جانے میں ناکامی کے بعد اب ایک منظم انداز میں خود ادارے کے اندر تقسیم کو ہوا دی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر جنرل عاصم باجوہ کے خلاف برپا کی گئی حالیہ مہم میں اس بار نشانہ پاک فوج نہیں، بلکہ عسکری قیادت نظر آئی۔ تاہم مجھے یقین ہے پاک فوج کو ہائبرڈ جنگ کا بطور ادارہ مجھ جیسوں سے کہیں بہتر ادراک حاصل ہے۔

برٹرنڈ رسل اپنی کتابConquest of Happiness میں لکھتے ہیں کہ سیاست دانوں اور بزنس مینوں کے برعکس ’پروفیشنلز‘ (ڈاکٹرز، وکلاء، سائنسدان، ججز اور جنرلز وغیرہ) کی کامیابی اور وقار کا پیمانہ بھاری بنک بیلنس، عظیم الشان ولاز اور بڑی بڑی گاڑیوں کی ملکیت نہیں، بلکہ ان کی پروفیشنل ہنر مندی (Expert Power) میں ہوتا ہے۔ ابراہام میزلو (Maslow) کی ’ہایئرارکی آف نیڈز‘ (Hierarchy of Needs) کے چھ درجوں میں سب سے نچلے درجے پر جینے والے افراد کی ضرورت دو وقت کی روٹی، جب کہ سب سے بلند درجے پرفائز کامیاب ترین پروفیشنلز کی ضرورت دولت، جائیداد اور بھاری بھر کم تنخواہیں نہیں بلکہ Self Actualization ہوتی ہے۔ اداروں کے اندر میزلو کی درجہ بندی کی روشنی میں تاریخی جنگ جیتنے والی ہماری عسکری قیادت کو میزلو کی درجہ بندی میں چھٹے درجے پر فائر نظر آنا چاہے۔ میری رائے میں یہ ایک صورت ہے کہ ادارے کے اندر طبقاتی تقسیم کے خواہشمندوں کو ہر روزپلٹ کر حملہ آور ہوتے رہنے سے روکا جا سکے۔

آج کے ڈان اخبار میں عباس ناصرصاحب کا مضمون چھپا ہے۔ معمول کے عین مطابق تعصب میں ڈوب کر لکھا گیا ہے۔ اس بار مگرحیران کن طور پر آخری چند سطروں میں وہ نوجوان لیفٹینٹ ناصرحسین خالد اور اس کے دو ساتھیوں کی حالیہ شہادت پر دل گرفتہ نظر آئے۔ تاہم یہ حیرانی اسی لمحے دور ہو جاتی ہے جب اگلے ہی جملے میں موصوف ان شہداء کو ’اوروں‘ (others) سے الگ کر دیتے ہیں۔ عباس ناصر تین شہداء کو باقی ادارے سے الگ کرنے کی کوشش میں بھول جاتے ہیں کہ پاک فوج دنیا کی وہ واحد سپاہ ہے کہ جس کا جرنیلوں سمیت ہر فرد بیس سال سے جاری بے چہرہ جنگ کی آگ اور خون کے دریا سے گزرا غازی یا شہید ہے۔ اس امر سے عباس ناصر جیسے سینئرصحافی کی بظاہر بے خبری کی وجہ غالباً یہی ہے کہ جنگ ابھی جاری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •