اسسٹنٹ کمشنر کی ڈائری


شہر کی سب سے قیمتی زمین پر قبضہ مافیا کی نظر تھی، قبضہ مافیا کو شہر کی ساری سیاسی قیادت کی بھر پور حمایت حاصل تھی اور سیاسی قائد کی وقت کے وزیر اعلیٰ سے ذاتی دوستی۔ صورتحال کافی گمبھیر تھی اور ہم بطور اسسٹنٹ کمشنر ان کی راہ میں واحد لیکن کمزور سی رکاوٹ تھے۔ شہر میں ہماری پوسٹنگ کا قصہ بھی بڑا دلچسپ تھا۔ ہمارے پیش رو نے اپنے اچھے کام سے دو نمبر مافیا کو نکیل ڈالی ہوئی تھی، نوجوان افسر شہر کے لوگوں میں خاصا مقبول تھا لیکن سیاسی قیادت پریشان تھی اور حواری تو ایسے کہ دم پہ پاؤں آیا ہوا۔

سو سارے چٹی دلال، کمیشن خور اور افسر کے ساتھ تصویر بنوا کر نمبر گانٹھنے والے وفد کی صورت سیاسی قائد سے ملے اور انہیں لاہور کی طرف روانہ کیا کہ افسر کا تبادلہ کروا کر آنا ہے، یوں وہ نیک نام افسر شدید سیاسی دباؤ پر تبدیل کر دیے گئے اور قرعہ فال اس خاکسار کے نام نکلا۔ اچھے افسر کی تبدیلی پر سارے ناجائز معززین نے مٹھائیاں تقسیم کیں اور ہمارے نام کے خوش آمدیدی بینر شہر کے ہر چوک چوراہے پر لٹکا دیے یوں ہم شہر میں وارد ہونے سے پہلے ہی متنازعہ اور ناپسندیدہ قرار پائے کہ سیاستدانوں کے ”اپنے“ بندے تھے۔ بات کچھ ایسی غلط بھی نہ تھی پر حواریوں کا پروپیگنڈا زیادہ۔ عوام کی رائے بہرحال ہمارے آنے سے پہلے ہی ہمارے خلاف نظر آئی۔

چارج سنبھالتے ہی پہلا پینڈنگ کیس انہی سیاسی رہنما کے قریبی دوست اور ایک بڑے سیاستدان کی ہزاروں کنال زمین کی بوگس الاٹمنٹ کا سامنے آیا۔ سو بسم اللہ یہیں سے کی۔ الاٹمنٹ کینسل کرنے کا کیس بنایا، اس کی پیروی کی، الاٹمنٹ کینسل کروا کر ریونیو ریکارڈ میں درستگی کروائی اور ساری زمین بحق سرکار ضبط کر لی۔ ہمارے دوست سیاسی رہنما کے لئے یہ پہلا جھٹکا تھا۔

بڑے صاحب تو بڑے صاحب چھوٹے صاحب سبحان اللہ۔ ہر پندرہ منٹ بعد کال کرتے اور جس مرضی حالت میں ہیں آپ پر کال اٹینڈ کرنا لازم ہے، کال بھی کیا پٹواری تبدیل کر دیں، کر دیا، پٹواری معطل کر دیں کر دیا، اضافی چارج دے دیں، دے دیا، پہلے سے تبدیل ہوئے پٹواری کو پھر اسی حلقہ میں لگا دیں لگا دیا۔ اور ہم سے یہ صورتحال پندرہ دن ہی برداشت ہوئی، اگلی فرمائش پہ عرض کیا چھوٹے صاحب اب آج کے دن جتنے پٹواری بدلنے ہیں بدلوا لیں پر ایک دفعہ بدلنے کے بعد میری تعیناتی میں پھر سے نہیں بدلے جائیں گے۔ صاحب خفا تو ہوئے ہی لیکن حیران زیادہ ہوئے اور یہ ان کے لئے دوسرا شاک تھا۔

کال آئی کسی شخص نے عرصہ ہوا سکول کی زمین پہ قبضہ کیا ہوا ہے ایک بندہ درخواست لے کر آ رہا ہے فوراً ایف آئی آر دلوائیں، درخواست دہندہ آیا تو رپورٹ کے لئے عملہ فیلڈ کو لکھ دیا، اگلے دن پھر کال، اس سے اگلے دن پھر شکوہ کہ ابھی تک ایف آئی آر نہیں دلوائی، الزام الیہ سے کوئی خاص تعلق ہے آپ کا؟ صاحب کی مسلسل سنجیدگی دیکھی تو دال میں کچھ کالا نظر آیا سو موقع دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ عملہ فیلڈ کے ذریعے متعلقہ فریقین کو اطلاع دلوائی اور چک جا پہنچے۔ الزام الیہ کو بلا کر موقف معلوم کیا تو بتایا کہ زمین سکول کی ضرور ہے لیکن ہم نے قبضہ نہیں کیا ہوا البتہ سکول کی زمین چونکہ غیر آباد تھی تو اپنے مویشیوں کے لئے چارہ کاشت کر لیا۔ صاحب ہم سے اس لئے ناراض ہیں کہ ہم نے انہیں ووٹ نہیں دیے تھے۔ سرکار کی زمین۔ آپ مائی باپ۔ سب حاضر ہے بے شک ہل چلوا دیں۔

عرض کیا ہل تو چلوائیں گے ہی پر ایف آئی آر بھی ہو گی کہ آپ نے سرکاری زمین پر قبضہ کر کے مفاد بہرحال لیا ہوا ہے۔ ہمیں سنجیدہ دیکھ کر غریب آدمی گھگیا کر بولا صاحب آپ نے پرچہ دینا ہی ہے تو دے دیں لیکن مدعی پر بھی پرچہ دیں کہ وہ سامنے موجود دکانیں اس کی ہیں اور وہ بھی سرکاری زمین پر قائم ہیں۔

اپنے ساتھ موجود پولیس انچارج کو حکم دیا کہ بات بجا ہے دونوں پہ ایف آئی آر دے دیں۔ مدعی جو صاحب کا خاص چیلہ تھا کے چہرے پہ ہوائیاں اڑنے لگیں۔ اب صاحب کی کالز شروع ہو گئیں کہ ہمارے خاص آدمی کو کچھ نہ کہیں پر مخالف کو ضرور اندر کروائیں۔ عرض کیا حضور ایک ہی جرم پر دو لوگوں سے یکسر مختلف سلوک کس طرح کر سکتا ہوں؟ صاحب نے غصے میں فون بند کیا اور ہم نے سگنل موصول نہ ہونے کا بہانہ بنا کر۔ یوں اسٹیشن پر ہمیں مشکل سے دو تین مہینے ہوئے تھے اور صاحبان اقتدار ہم سے شدید مایوس ہو گئے تھے۔ ایک فائدہ البتہ یہ ہوا کہ عوام کی مایوسی اور ناپسندیدگی آہستہ آہستہ ہم پر اعتماد میں بدلنے لگی تھی۔

اور اب شہر کی سب سے قیمتی زمین، شہر کا دل۔ طریقہ واردات یہ کہ سونے ورگے سرکاری پلاٹ پر ایک چھپر ڈال کر نیچے بجری اور چھوٹا موٹا مزدوری کا سامان وغیرہ رکھ کر ایک مزدور رکھ لیا گیا کہ غریب آدمی ہے روزی روٹی کما لے گا چند دن بعد گزر ہوا تو لگا کہ تجاوز بڑھ رہا ہے اب وہاں کرسیاں، چارپائیاں بھی آ گئی ہیں، ماتھا ٹھنکا اور اینٹی اینکروچمنٹ ٹیم بھیج دی کہ سارا تجاوز ہٹا کر ابھی رپورٹ کریں، کوئی ایک گھنٹے بعد اینکروچمنٹ انسپکٹر کی کال آئی تو لہجہ رونے والا اور شدید ناراض کہ سر آپ نے بے عزت کروانا تھا ہمیں؟

تفصیل پوچھی تو معلوم ہوا کہ قبضہ مافیا نے ہمارے سیاسی لیڈر کو بلا لیا تھا اور پھر صاحب نے عملے کو شدید گالیاں دیں اور بری طرح بے عزت کیا۔ اب خون کھولنے کی باری ہماری تھی اور ساتھ میں سروس کا پہلا بڑا امتحان بھی۔ عملے کو حکم دیا کہ وہیں موقع پر رہے میں خود آ رہا ہوں، پولیس کی نفری منگوا کر موقع پر جا پہنچے۔ صاحب تو تشریف لے گئے تھے لیکن ان کے حواریوں کا جو حشر کیا وہ سارے شہر نے دیکھا۔ موقع پر قبضہ واگزار کروایا، سامان قبضے میں لیا اور دفتر پہنچ کر ریسکیو 1122 کی عمارت کے لئے تجویز بنا کر افسران بالا کو بھیج، اللہ کا شکر ہوا کہ شہر بھر میں عزت اور عوام کا اعتماد بحال ہوا ضمیر کا اطمینان بھی ملا۔ یہ اور بات کہ اگلے ہفتے ہمارے تبادلے کا پروانہ موصول ہوا اور ہم افسر ”بے کار خاص“ بنا دیے گئے۔

اہم ترین بات یہ کہ آج اس قیمتی ترین زمین پر ریسکیو کا قائم دفتر انسانیت کی خدمت کے لئے ہمہ وقت چوکس ہے۔ بڑی نیکیاں بس اتنی ہی معمولی قربانیاں مانگتی ہیں۔
فبای آلاء ربکما تکذبان

Facebook Comments HS