بوریت سے بھرا پرانا کھیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

طلسم کدہ ہے ہمارا ملک۔ دیکھتے ہی دیکھتے پوری تصویر یوں بدلتی ہے کہ دیکھنے والوں کے سامنے کھیلنے والے فریق اپنی پوزیشن بدل کر اسی مقام پر کھڑے ہوتے ہیں جس کے خلاف انہیں ووٹ ملا تھا۔ مثلاً غور کریں کہ آج کل تحریک انصاف کے لیڈر اور کارکن جو لڑائی لڑ رہے ہیں, وہ کبھی ان کی تھی ہی نہیں مگر وہ لڑ رہے ہیں۔ ان کی سیاسی جدوجہد اس لئے نہیں تھی کہ انہیں ریٹائرڈ جنرل صاحبان کے کاروباری معاملات کا دفاع کرنا تھا مگر وہ کر رہے ہیں. کچھ کو احساس ہے کہ انہیں جس مقدمے کی وکالت کرنی پڑ رہی ہے، اسی کے خلاف تو ان کی تحریک کا نام تھا۔ ہر اس ایک ایک سچائی جس کا طعنہ تحریک کے لوگ نواز شریف کو دیا کرتے تھے کہ یہ نواز ہے جو مقتدرہ کا پٹھو ہے، یہ نواز ہے جو عوام کی حمایت نہیں بلکہ بیساکھیوں پر حکومت کرتا ہے، دیکھتے ہی دیکھتے آج عین اسی مقام پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں جس کا طعنہ وہ نواز کو دیا کرتے تھے کہ چونکہ نواز یا زردای کرپٹ ہیں اس لئے طاقتور حلقوں سے بلیک میل ہوتے ہیں، میرٹ کا قتل کرتے ہیں۔ آج ان کا سب سے بڑا فخر ہی یہ ہے کہ فوج اور حکومت ایک ہیں۔ دوسرا مقتدرہ کی سنے تو کرپٹ اور جھکنے والا، یہ کریں تو قابل فخر۔

عمران خان کہتے ہیں کہ حکومت اور فوج ایک ہیں، انہیں گویا بھول ہی گیا ہے کہ قوم اور خود ان کا ورکر بھی ایک حقیقت ہیں۔ یہ نہیں کہتے کہ قوم، سیاسی کارکن، فوج اور حکومت ایک ہیں بلکہ فوج اور حکومت ایک ہے۔ اس سے یوں لگتا ہے کہ جناب وزیر اعظم، اپوزیشن ہی نہیں خود اپنی پارٹی اور قوم تک کو ڈراتے ہیں کہ فوج ان کے ساتھ ہے۔ اس طرح کیا مملکت مضبوط ہو گی ؟ اگر کوئی قوم دشمن کی نہیں بلکہ اپنی ہی فوج سے ڈرنے لگے تو دشمن اس کا فائدہ کیوں نہیں اٹھائے گا۔

آج وزیراعظم، منتخب صحافیوں کو ہی انٹرویوز دیتے ہیں۔ عوام سے بہت دور اسی محل کے مکین ہیں جہاں کبھی نواز شریف عوام کی پہنچ سے بہت دور تھے.

نواز شریف کی سرپرستی جس کام کے لئے کی گئی وہ کرتے رہے مگر جب جب بھی انہوں نے اصل اقتدار کی طرف قدم بڑھایا تب تب انہیں اس کی سزا دی گئی اور اس طرح سے دی گئی جیسے کسی اپنے کو بے وفائی پر دی جاتی ہے۔ عمران خان، وہ غلطی دہرانا نہیں چاہتے مگر انہیں یاد رکھنا ہوگا کہ موجودہ دور کی ہر پالیسی، ہر فیصلے کا بوجھ تنہا انہیں اٹھانا ہے۔ انہیں ماننا پڑے گا کہ اختیار اور اقتدار کے وہ ہی مالک تھے اور تمام فیصلے وہ ہی کر رہے تھے، جس کی سیاسی قیمت بھی ان کی پارٹی اور ورکر دے گا۔

البتہ جو پالیسی کامیاب رہے گی اس کا کریڈٹ انہیں مل پائے گا یا نہیں، اس کی ضمانت مشکل ہے۔ مثلآ آج ہی کے اخبار پڑھ لیں تو سمجھ آ جائے گا کہ کرونا، سیلابی صورتحال اور ٹڈی دل سے نمٹنے کا کریڈٹ کہاں جا رہا ہے۔

دوسری جانب مقتدرہ بھی نئی صورت حال میں ہے کیونکہ ایک جانب تو ان کی امیدیں پوری نہ ہوئیں مثلاً بیرون ملک سے وہ پیسہ نہیں آ سکا جس کی امید تھی، سب کے علم میں ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر مقتدرہ کے شدید تحفظات ہیں جس کا اظہار وہ ہر ممکن ذریعے سے قوم کے سامنے بھی لا چکے ہیں کہ عثمان بزدار ان کا انتخاب نہیں۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر ان کا کنٹرول نہیں رہا، لہذا اب صرف پرانے طریقوں سے کام نہیں بن رہا۔ وہ اپنا دامن بچانے میں لگے ہیں کہ ناکامیوں کا بوجھ ان پر نہ آئے مگر بات نہیں بن رہی اور موجودہ حکومت کی ناکامیوں میں ان کا نام اور ذمہ کم ازکم سینہ گزٹ اور سوشل میڈیا کی حد تک موجود ہے جس کا شدید احساس خود فوج کے اپنے حلقوں میں بھی ہے۔

 ابھی ایک بھارتی میجر کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں وہ، اپنی حکومت کو مشورہ دے رہا ہے کہ بریلوی ملاؤں کو پیسہ، جیپ اور سٹاف دیں کہ وہ دیوبندی مکتبہ فکر کو کافر قرار دیں، اور دیو بندی ملاؤں کو پیسہ وغیرہ دیں کہ وہ بریلوی مسلک کو کافر بنا ڈالیں تاکہ پاکستان اپنی ہی جنگ میں الجھا رہے۔ درست ہے کہ اس وار کا جواب دینے کی تیاری ہو رہی ہے اور کوشش بھی۔ لیکن بھولنا نہیں چاہیے کہ بھارتی انتہا پسند اور ہمارے انتہا پسندوں میں مرکزی فرق ہے۔ بھارتی مذہبی انتہا پسندی کی جڑیں بھارتی زمین کے اندر ہیں اور وہ اسے پوتر یا پاک کرنے کا نام لیتے ہیں۔ مثلآ، مسلمان، عیسائی وغیرہ کو دوبارہ ہندو بنایا جائے، انہیں بھارت سے نکال دیا جائے یا زیادہ سے زیادہ یہ کہ پاکستان، بنگلہ دیش وغیرہ سے اکھنڈ بھارت بنایا جائے۔ اس سے آگے کی دنیا کو فتح کرنا ان کا مسئلہ نہیں۔ ان کی انتہا پسندی دوسری طرح کی وطن پرستی ہے اسی لئے وہاں کا انتہا پسند بھارتی فوج کا دشمن نہیں اور نہ ہی وہ ان سے لڑتا ہے بلکہ وہ تو اسے اور طاقت دینا چاہتا ہے۔

یہاں کا معاملہ الٹ ہے، ہمارا انتہا پسند، چونکہ قومی ریاست پر یقین نہیں رکھتا، اس کے نزدیک وہ پہلے مسلمان اور بعد میں پاکستانی ہے لہذا، اس کے تصور اسلام کے جہاد کے راستے میں جب بھی پاکستانی آئین اور قانون رکاوٹ بنیں گے وہ انہیں حقارت بھری ٹھوکروں سے اڑا دے گا۔ اس رویے کی انتہا یہ ہے کہ وہ پاکستانی فوج تک سے جنگ کر چکا اور ابھی بھی خطرہ مکمل ختم نہیں ہوا۔ یعنی، ہندو انتہا پسند بھارت اور بھارت کی فوج دونوں کو مزید طاقتور چاہتا ہے اور اس کی حتمی منزل اکھنڈ بھارت ہے جبکہ ہمارا انتہا پسند نہ صرف خود پاکستان اور اس کی فوج سے جنگ کرنا بھی جہاد سمجھ بیٹھا ہے بلکہ اس کی حتمی منزل پوری دنیا پر خلافت کا نظام قائم کرنا ہے۔ یہ ہی وہ مقام ہے جہاں، تمام دنیا بشمول چین، پاکستان سے پریشان ہوتی ہے۔

ہم نے ماضی کی جنگوں میں اسلام کا وقتی اور سیاسی استعمال تو کر لیا مگر یہ نہ سوچا کہ اسلام، ہندو مذہب نہیں کہ ایک ہی خطہ زمین پر موجود ہو بلکہ یہ پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ اسلامی انتہا پسند، کی جڑیں پاکستان کی زمین میں نہیں بلکہ اس مذہبی فکر سے جا ملیں گی جو دنیا بھر خاص طور سے عرب، ترک اور ایرانی معاشروں میں زیر بحث ہے۔ جس کے بعد ہم خود بخود ان جھگڑوں میں فریق بن جائیں گے جو صدیوں سے جاری ہیں حالانکہ بطور قومی ریاست، یہ پاکستان کا مسئلہ ہی نہیں۔ مذہبی فکر، کسی خاص وقت یا سیاسی ضرورت کی تابع نہیں رہتی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستانی انتہا پسند، دنیا بھر کو فتح کرنے کا اعلان، بھرے جلسوں میں کرنے لگے۔ کبھی سوویت یونین کو توڑنے کا دعوے کبھی امریکہ کو سبق سکھانے کی باتیں۔ حاصل تو ہم نے کیا کرنا تھا الٹا ہوا یہ کہ بھارت نہیں آج خود امریکہ کے نشانے پر آ بیٹھے۔ فاٹف کی سخت شرائط، گرے لسٹ، بلیک لسٹ اور اس کے رد عمل میں ہماری بھاگم بھاگ قانون سازیاں اس کا ثبوت ہیں۔

یہ بات کہ چین اپنا یار ہے، اس پہ جان نثار ہے،نعروں میں ٹھیک ہے مگر اسی طرح چلتے رہے جیسا ماضی میں چلے تو یہ موقع اور بہترین دوست بھی گنوا بیٹھیں گے۔ ماضی میں ہمیں ترقی کے بہت مواقع ملے جو گنوا بیٹھے آج بھی وہی صورت ہے، ایک جانب، آئین اور قانون کی بالادستی کا راستہ ہے دوسری جانب آمریت کے نظام کا راستہ ہے۔ دوبارہ لکھتا ہوں آمریت بطور نظام، یہ نہیں کہ ایک جنرل صاحب بندوق پکڑ کر کے انتخابات کروانے آئے دوسرے اصلی جمہوریت دینے آ گئے۔

دنیا کو اس سے دلچسپی نہیں کہ جمہوریت ہے یا آمریت ہے ان کو محض، پالیسیوں کے تسلسل اور نظام کے استحکام سے غرض ہے۔ ہمیں صرف اتنا کرنا ہے کہ ہم استحکام اور قانون کی بالادستی قائم کر دیں مگر ایسا کبھی ہو نہیں پائے گا جب تک یہ طے نہ ہو کہ یہاں ملک آخر چلا کون رہا ہے۔ سامنے کوئی اور پردے کے پیچھے کوئی اور والی، چھپن چھپائی بس کر دیں۔ سایوں کی حکومت والا دور چلا گیا، اب دنیا کو بوریت بھرے اس پرانے کھیل سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ کھل کر جاننا چاہتے ہیں کہ یہاں کس سے بات کی جائے اور کون انہیں کسی بھی پالیسی کے مستقبل کی ضمانت دینے کی طاقت رکھتا ہے۔

کہنے کو آج یہاں جمہوریت، آئین اور اس کے تحت حکومت سب کچھ ہے مگر دراصل یہ طاقت سے خالی ڈھول ہے اور دوسری جانب جہاں طاقت ہے وہ، اس جمہوری ڈرامے کے بھرم کو قائم رکھنے کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ آخری سوال یہ کہ اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت رکھنے والی فوج آخر جمہوریت کی مکمل جان نکال کیوں نہ پائی اور جمہوری پارٹیاں تمام جدوجہد اور قربانیوں کے بعد بھی آمریت کا مکمل خاتمہ کیوں نہ کر پائیں ایک ایسا سوال ہے جو مستقبل سے مایوس کر دیتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •