مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی


بنیادی انسانی حقوق حاصل نہ ہونے کی وجہ سے انسان کے اندر عدم برداشت اور انتہا پسندانہ سوچ جنم لیتی ہے۔ بنیادی حقوق کی غیرموجودگی ملک میں نظام عدل کی حقیقی تصویر کشی بھی کرتی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں انفرادی سطح پر مذہب اور رنگ ونسل کی بنیاد پر اس ملک میں بسنے والے اقلیتی افراد کے ساتھ تفریق کی جاتی ہے۔ بھلے وہ سیکولرا زم کا نام نہاد علمبردار بھارت ہو یا ملٹی کلچرازم کا کھوکھلا دعویدار امریکہ۔ ویسے تو یہ سب مارکیٹنگ کے ایسے ہی نعرے ہوتے ہیں جیسے یہ کہنا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے یا یہ کہ سعودی عرب امت مسلمہ کا واحد ناخدا ہے۔ در اصل کسی بھی ریاست کو اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لئے ایسے نعروں کو ہوا دینا پڑتی ہے۔

اس کام کے لئے ریاستیں دوسرے ممالک میں موجود اپنے سفارت خانوں کو استعمال کرتی ہیں جیسے پاکستان مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر دنیا بھر میں آواز بلند کر رہا ہے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ جن انسانی حقوق کا واویلا پوری دنیا میں کشمیریوں کے لئے کیا جاتا ہے انہی کی خلاف وزری ملک کے اندر ہوتی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر بین الاقوامی فورمز پر آواز اٹھاتا ہے تو بھارت بھی پاکستان میں ہندوؤں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔

بہرحال انسانی حقوق کی پامالی ہر صورت میں قابل مذمت ہے، اس میں وٹہ سٹہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ جس طرح بیرونی ممالک میں تعینات سفارتکار ملک کا سافٹ امیج پیش کرنے کے لئے کام کرتے ہیں ویسے ہی مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ہونے والا سلوک بین الاقوامی سطح پر ملک کی ساکھ پر اثرانداز ہوتا ہے۔ سفارت کار تو سرکاری ملازم ہوتے ہیں اور حاصل ہونے والے مشاہرے اور دیگر مراعات کے بدلے میں ملازمت کے دوران حکومت کی وضع کردہ پالیسیوں کا دفاع کرنا ان کے فرائض منصبی میں شامل ہوتا ہے۔

ان کی اپنی آزاد سوچ تو ریٹائرمنٹ کے بعد ہی معلوم ہوتی ہے۔ پاکستان کا امیج دنیا میں بہتر ہوگا تو لازمی طور پر بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گی، غیر ملکی سیاح پاکستان آئیں گے اور یوں ملک کے معاشی حالات بہتری کی طرف گامزن ہوں گے۔ گزشتہ تہتر برسوں میں پاکستان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی مذمت اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کر رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے قومی بجٹ کا ایک بڑا حصہ دفاع پر خرچ ہوتا ہے جس کی وجہ سے تعلیم، صحت، معیشت اور انفراسٹرکچر کے مسائل کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ حکومت کی کل توجہ کشمیر اور دفاع رہ گئی ہے۔ نتیجتاً ملکی معیشت، معیار زندگی، تعلیم اور صحت کہیں دور رہ گئے ہیں۔ کوشش بسیار کے باوجود، گزشتہ تہتر سالوں میں حاصل جمع کہیں نظر نہیں آتا۔

220 ملین سے زائد آبادی والے ملک کی سالانہ پیداوار تقریباً 270 ارب ڈالر ہے۔ رواں سال کے دوران صرف 24 ارب ڈالر کی برآمدات کی گئیں۔ بین الاقوامی برادری میں ہماری وقعت یہ ہے کہ دنیا میں پاکستان کا پاسپورٹ 192 نمبر پر ہے جبکہ افغانستان 104 اور ایتھوپیا 96 نمبر پر ہے۔ ایسے ہی دیگر اعداد و شمار کا موازنہ اگر دنیا کے چھوٹے ممالک سے کیا جائے تو سوائے شرمندگی کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ مان لیا کہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے لیکن اس کو بنیاد بنا کر پاکستان کو دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات بگاڑنے کی کیا ضرورت ہے جیسا کہ حال ہی میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان کی وجہ سے ہوا۔

ملکی مفادات کو مدنظر رکھنا ہر ملک کا فرض ہوتا ہے اور وہی ممالک ترقی کرتے دکھائی دے رہے ہیں جن کی پالیسیاں ملکی مفاد اور اپنی عوام کی بہتری کے لئے تشکیل دی جاتی ہیں۔ لیکن ہم ہیں کہ دنیا کے تمام مسائل میں ٹانگ اڑانا اپنا پیدائشی حق اور بنیادی فرض سمجھتے ہیں لیکن حیثیت یہ ہے کہ مسلم ممالک میں سے بھی کچھ ممالک ہمارے ساتھ اس مسئلے پر کھڑے نظر نہیں آتے۔ ہم کشمیر، فلسطین، میانمار، شام اور دیگر ممالک میں بسنے والے شہریوں کے حقوق کے لئے بولتے ہیں جبکہ اپنے ملک کے عوام کی حالت زار کی پرواہ نہیں کرتے۔

ریاست اگر شہریوں سے کچھ توقع رکھتی ہے تو بطور شہری ہم بھی ریاست سے کچھ توقع رکھتے ہیں، بائیس کروڑ عوام ہیں غلام نہیں۔ کشمیر کے معاملے پر بات کریں لیکن صرف اس مسئلے کے لئے 22 کروڑ عوام کو برباد کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔ ملک کا غریب سے غریب شخص بھی جو کچھ خریدتا ہے اس پر ٹیکس ادا کرتا ہے۔ تمام سرکاری معاملات عوام کے ٹیکس سے چلتے ہیں۔ ابھی چند روز قبل ہی جاز ٹیکس سرٹیفکیٹ سے یہ معلوم ہوا کہ میرے جیسے غریب آدمی نے جولائی 2019 ء تا جون 2020 ء تک صرف جاز نمبر پر 21329 روپے کا لوڈ کیا جس پر 2666 روپے ٹیکس ادا کیا۔

یہ صرف ایک موبائل فون کا حساب ہے، اگر یوٹیلٹی بلز اور گھریلو استعمال کی خریداری پر ٹیکس جمع کیا جائے تو یقیناً ہزاروں روپے سالانہ بنتا ہے۔ ہمیں فوج سے رتی برابر بھی بغض نہیں، بلکہ فوج اور وطن سے پیار ہے اورخدا نخواستہ ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے اور دیتے رہیں گے۔ وطن کی محبت اور وفاداری کآثبوت دینے کے لیے کسی سے سرٹیفیکیٹ لینے کی ضرورت نہیں۔ یہ وطن اور یہ فوج ہماری ہے مگر خدارا ہم پر رحم کریں۔ عوام کو تشدد، عدم برداشت اور انتہا پسندانہ سوچ تک مت لے کر جائیں۔ ذاتی مفادات سے ہٹ کر ملکی ترقی کے لئے اقدامات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آزاد عدلیہ، آزاد پارلیمان، آزاد میڈیا اور آزاد ادارے ہی ملکی تحفظ کی ضمانت ہیں۔ بین الا قوامی برادری میں ملک کی ساکھ اسی صورت میں بہتر ہوگی جب ہر شہری محفوظ اور آزاد ہوگا۔

Facebook Comments HS