اردو کمیونٹی اور جیتو جمالی کی متنازعہ ویڈیو


وفاق کی نمائندہ جماعت پاکستان پیپلز پارٹی جو اپنی جدوجہد اور قربانیوں کی شاندار مثال رکھتی ہے اور 53 سال سے اس پارٹی کا وجود عوام میں برقرار ہے، ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی ہمیں پیپلز پارٹی کا جیالے باآسانی مل جاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی شاندار سفر میں ملک بھر کے جیالے اور عوام کا بھرپور کردار ہے جو پیپلز پارٹی پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی جو کہ فیڈریشن کا نعرہ لگاتی ہے اور خود کو چاروں صوبوں کی زنجیر قرار دیتی ہے۔

حالیہ دنوں شہر قائد کراچی پر سیاست ایک بار پھر گرم ہے، اس گرما گرمی میں سندھ حکومت اور وفاق بھی آمنے سامنے آچکے ہیں، جہاں متحدہ قومی موومنٹ کا برسوں پرانا مطالبہ اور نعرہ ”مہاجر صوبہ“ اور ”سندھ کی تقسیم“ ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے تو وہی اس مطالبے اور نعرے کے خلاف سندھ کی عوام میں شدید غم و غصہ بھی پایا جاتا ہے۔ اس متنازع مطالبے پر اب تحریک انصاف بھی ایم کیو ایم کے ساتھ کھڑی ہے، تحریک انصاف کے کراچی سے منتخب نمائندگان بھی اس مطالبے اور نعرے کو تقویت دیتے دکھائی دیتے ہیں، تحریک انصاف کے رہنما کراچی کے مسائل کو بنیاد بنا کر کبھی کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو کبھی دبے الفاظ میں کراچی کی تقسیم کی بات کرتے ہیں، ایسے میں ایم کیو ایم اور مہاجر قومی موومنٹ کے رہنما بھی سندھ مخالف بیانات دے کر ماحول کو گرم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حال ہی میں جب سندھ مخالف نعروں اور بیانات کی باز گشت ہوئی تو اس پر پیپلز پارٹی کا سخت موقف آیا، کچھ ہفتے قبل پیپلز پارٹی کے ضلع دادو کے جیالے کارکن سکندر علی جمالی عرف ”جیتو جمالی“ نے سوشل میڈیا پر ایک متنازع ویڈیو جاری کی جس میں اس نے سندھ مخالف نعرے کے خلاف ایک ویڈیو جاری کی لیکن جیتو جمالی نے اپنی ویڈیو میں مخصوص اردو اسپیکنگ کمیونٹی (مہاجر) کو شدید نشانہ بنایا اور نازیبا الفاظ کا استعمال کیا، متنازعہ ویڈیو میں جیتو جمالی نے کراچی کی اردو بولنے والی کمیونٹی کو اس قدر نشانہ بنایا کہ تقسیم ہند تک یاد دلا دی، یہ ویڈیو مختصر وقت میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس پر اردو کمیونٹی نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔

اردو کمیونٹی نے جیتو جمالی کی اس متنازعہ ویڈیو پر شدید ردعمل دیا تو جیتو جمالی نے ایک اور ویڈیو جاری کی جس میں اس نے وضاحت پیش کی اور معافی مانگتے ہوئے اپنی کہی بات سے یوٹرن لے لیا۔ پارٹی قیادت کے علم میں آتے ہی پیپلز پارٹی ضلع دادو نے جیتو جمالی کی بنیادی رکنیت معطل کرتے ہوئے باقاعدہ ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جس میں جیتو جمالی کو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا۔

جیتو جمالی جو کہ دادو کا رہائشی ہے اور پیپلز پارٹی رہنماؤں سے خاص قربت رکھتا ہے، جیتو جمالی کی پارٹی رہنماؤں اور قیادت کے ساتھ تصاویر بھی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر موجود ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جیتو جمالی کی پارٹی قیادت تک رسائی باآسانی ممکن ہے۔ لیکن جیتو جمالی نے اپنی متنازعہ ویڈیو سے نا صرف پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی بلکہ سندھ اور سندھ کے باسیوں کو ناراض کیا۔

پیپلز پارٹی کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو دیگر کمیونٹی کی طرح اردو کمیونٹی نے بھی بھرپور قربانیاں دی ہیں، اردو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے شہداء کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، ان قربانیوں کی داستان میں ایک لازوال داستان و قربانی شہید نجیب احمد کی ہے جو کہ پیپلز پارٹی کی طلبہ تنظیم پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کراچی سے تعلق رکھتا تھا، شہید نجیب احمد ایک نوجوان مگر نڈر طلبہ لیڈر تھا جس نے لسانیت کے خلاف آواز بغاوت اس وقت بلند کی جب شہر میں لسانی فسادات اپنے عروج پر تھے لیکن یہ نوجوان لسانیت کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن رہا، بھٹو کے اس جیالے نے پیپلز پارٹی کے لیے 1990 میں سینے پر گولیاں کھا کر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، شہید نجیب احمد کو طلبہ سیاست میں آئرن مین (فولادی آدمی) کا لقب حاصل ہے۔

قائد طلبہ شہید نجیب احمد کے بھائی اور سابق صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سید نجمی عالم بھی اسی جماعت کا حصہ ہیں، اپنے بھائی نجیب احمد کی طرح نجمی عالم بھی پارٹی کے ایک نظریاتی جیالا رہنما ہیں اور عرصے دراز سے پیپلز پارٹی کے لئے اپنی خدمات نیک نیتی اور خوش اسلوبی سے سرانجام دے رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی میں اردو کمیونٹی سے تعلق رکھنے نمایاں نظریاتی جیالے رہنماؤں میں استاد مسرور احسن، تاج حیدر، راشد ربانی، وقار مہدی، محمد صدیق ابو بھائی، سعید چاؤلہ، غلام قادر، سلام بہاری، مرزا مقبول، جاوید احمد شیخ، فرید انصاری، اصغر حسین بہاری، رؤف احمد ناگوری، سہیل عابدی، منظور عباس، جاوید ناگوری، نوید زبیری، آصف راہی، شہلا رضا، فیصل شیخ، محمد اقبال ساند اور ظفر احمد صدیقی ہیں۔ یہ وہ جیالے رہنما ہیں جو روز اول سے پیپلز پارٹی کے ساتھ منسلک ہیں، آمرانہ ادوار میں بھی یہ تمام رہنما پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور ہر مشکل کا سامنا قیادت کے ساتھ شانہ بشانہ کیا ہے۔

پیپلز پارٹی میں اردو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے کئی جیالے کارکنان بھی موجود ہیں جو پارٹی کے نظریات سے بھرپور اتفاق رکھتے ہیں اور بنا کسی مفاد کے پارٹی کے لیے اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ایسے میں پیپلز پارٹی ضلع دادو کے ایک کارکن کی شرانگیزی ناقابل برداشت اور لسانیت کو فروغ دینے کا باعث ہے جس کا مداوا نہیں کیا جا سکتا۔

جیتو جمالی کی طرف سے اردو کمیونٹی کی تذلیل دانستہ نہیں بلکہ ایک خاص مائنڈ سیٹ کی عکاسی ہے جو سندھی قوم پرست جماعتوں کے بیانیے کو تقویت دیتی ہے، ایک خاص مقصد کے تحت پیپلز پارٹی میں سندھی قوم پرست جماعتوں کا مائنڈ سیٹ گھولا جا رہا ہے تاکہ پیپلز پارٹی پر سندھی قوم پرست مائنڈ سیٹ باقاعدہ علانیہ لاگو کیا جا سکے جو کہ پیپلز پارٹی اور شہید بھٹو کے نظریات اور فلسفے کے مترادف ہے۔

جس طرح سندھی قوم پرستوں کے مائنڈ سیٹ سے بمشکل دس فیصد سندھی بولنے والے اتفاق کرتے ہیں، اسی طرح مہاجر قومی موومنٹ اور متحدہ قومی موومنٹ کے مائنڈ سیٹ (مطالبہ سندھ کی تقسیم اور کراچی صوبہ) سے صرف بیس فیصد اردو بولنے والے اتفاق کرتے ہیں اور اس مائنڈ سیٹ کے لوگ ان کی دی ہوئی شناخت لفظ مہاجر کو خود پر مسلط کیے ہوئے ہیں، جب کہ 80 فیصد اردو کمیونٹی سندھ کی تقسیم اور کراچی صوبہ کے مطالبے کے مخالف ہیں، یہ 80 فیصد کراچی کو اپنا شہر، سندھ کو اپنا صوبہ اور سندھ کی ثقافت کو من و عن اپنی ثقافت سمجھتے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو جو کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے نظریہ اور فلسفے کے وارث ہیں، بلاول بھٹو زرداری اس بات کا ازخود نوٹس لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی رہنما و کارکن اردو کمیونٹی یا کسی بھی کمیونٹی و ذات برادری کے خلاف ہرزہ سرائی سے گریز کرے اور تمام قومیتوں کی عزت و حرمت پامال کرنے سے باز رہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی فیڈریشن کی جماعت ہے اور تمام قومیت کی حرمت یکساں ہے، اختلافات لسانی جماعتوں یا ان کے نظریے سے ہونا چاہیے نہ کہ کسی بھی کمیونٹی سے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لسانیت ہمیشہ گھروں کو اجاڑ دیتی ہے، جبکہ ایک قوم ایک شناخت گھروں کو بسائے اور سرخرو رکھتی ہے۔

Facebook Comments HS