اسکالرشپ یا مستحق غریب طلبا کا مذاق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کلاس دسویں کی طالبہ ہوں۔ مجھے ایک دوست کے ذریعے پتہ چلا کہ حیدرآباد کا ایک نجی اسکول (جس کو بیرون ملک مالی تعاون کرتا ہے ) ہمارے ٹاؤن میں اسکالرشپ کا امتحان لے رہا ہے۔ یہ سن کر مجھے بے حد خوشی ہوئی میں نے اسکالر شپ ٹیسٹ کے لیے اپلائی کیا جس کی فیس 250 روپے تھی۔ فیس ادا کرنے کے بعد کسی بھی قسم کی رسید نہیں دی گئی اور نہ ہی چالان تھا۔ ہمارے شہر اور شہر کے قریبی گاؤں کے بچوں نے اپلائی کیا۔

ٹیسٹ کے لیے کوئی بھی آفیشل ایڈورٹائیزمینٹ نہیں کروائی گئی تھی۔ جس کی وجہ سے صرف 150 کے قریب بچے تھے ورنہ ہمارے شہر اور آس پاس رہنے پڑھنے والے بچوں کی تقریباً تعداد 14000 ہے۔ صرف اس معاملے میں ہی نہیں بہت سے معاملات میں ادارے کی مس مینجمنٹ نظر آئی پر ہم تمام طالبات نے اسی لیے نظر انداز کیا کیونکہ ایک تو ہمارے لیے ایسے مواقع آتے نہیں ہیں اور اگر یہ موقع ملا ہے تو ہم اسے جانے نہ دیں۔ ٹیسٹ دینے کے بعد ہمیں کہا گیا کہ آپ کا رزلٹ 10 دن بعد دیا جائے گا کیونکہ ٹیسٹ Objective اور Written میں تھا اس لیے ہم نے انتظار کرنا بہتر سمجھا۔

رزلٹ کے لیے بھی ہم نے بار بار کالز کیں تب جا کر ہمیں پتہ چلا کہ رزلٹ بھیج دیا گیا ہے۔ ہم اسکول کی آفیشل ویب سائٹ اور کیمپس کے فیس بک پیج سرچ کرتے رہے پر وہاں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ تو انھوں نے پوچھنے پر بتایا کہ رزلٹ آپ کے واٹس ایپ پر بھیجی گئی ہے۔ کافی عجیب لگا پر جب رزلٹ دیکھا تو اور مشکل پیش آئی کیونکہ وہاں بچوں کے نام کے ساتھ والد کا نام یا ذات لکھی ہوئی نہیں تھی اور کچھ بچوں کے نمبر بھی ظاہر نہیں تھے۔

ہم نے پھر کال کی تو پتہ چلا کہ جن بچوں کا سلیکشن ہو گیا ہے ان کے نمبر ظاہر نہیں ہیں۔ پوچھا گیا کہ پھر کتنے نمبر چاہیے تھے سلیکشن کے لیے تو وہاں سے جواب ملا 70 ٪ یا اس سے زیادہ۔ انتظامیہ سے ہم نے سوال کیا کہ لسٹ میں ایک بچے کے مارکس ٪ 85 آئے ہیں پھر اس کا سیلیکشن کیوں نہیں کیا گیا تو انہوں نے تھوڑی دیر بعد بتایا کہ یہ غلطی سے لکھ دیے گئے ہیں، بچے کے مارکس 8.5 ہیں۔ ایسی بہت سی غلطیاں بار بار ہو رہی تھیں جن کی وجہ سے ہمیں بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔

ہم نے پوچھا کہ اب آگے کیا کرنا ہے تو وہاں کے وائس پرنسپل صاحب نے بتایا کہ آپ کو تو آج ہی آنا تھا، انٹرویو تو ہوچکے ہیں اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ آپ اگلے سال ٹیسٹ دیجیے گا۔ ہمیں بہت حیرانی ہوئی کہ ہمیں تو کوئی کال بھی نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی آفیشل لیٹر بھیجا گیا تو پھر یہ سب کیا ہے! جب ہم نے یہی بات ان سے کہی تو انہوں نے بات ٹال دی اور کہا آپ کل صبح آ جائیں پھر دیکھتے ہیں۔ ہم سب میں میرے ساتھ باقی چار لڑکے اور میری ایک دوست، جس کے مارکس ٪ 67 تھے، لیکن اس کا نام سیلیکشن لسٹ میں نہیں تھا، دوسرے دن صبح اس اسکول حیدرآباد پہنچے تو پتہ چلا کہ ڈائریکٹر صاحب ابھی نہیں آئے ہیں۔

جبکہ ہم صبح تقریباً ساڑھے دس بجے اسکول پہنچ گئے تھے۔ عملے نے بتایا کہ ڈائریکٹر صاحب ترکی سے تعلق رکھتے ہیں تو ان کا آنے کا وقت وہاں کے حساب سے ہے۔ ہم مسلسل تقریباً 2 سے 3 گھنٹے تک انتظار کرتے رہے اور ڈائریکٹر صاحب نے ہمیں دوپہر کے 2 بجے کے قریب انٹرویو کے لیے بلانا شروع کیا۔ پہلا لڑکا جیسے اندر بھیجا گیا اسے 5 منٹ بعد ہی واپس بھیج دیا گیا اور کہا گیا آپ کا ایک نمبر کم ہے آپ کو اسکالرشپ نہیں دی جا سکتی۔

لڑکے نے کہا کہ سر میرے نام کے سامنے نمبر ظاہر نہیں تھے اور آپ لوگوں نے ہی کہا تھا کہ جن کے نمبر ظاہر نہیں ہیں ان کا سیلیکشن ہوا ہے۔ میرے نمبر کتنے آئے ہیں وہ بتا دیجے تو انہوں نے بتایا کہ آپ کے 64 نمبر ہیں۔ لڑکے نے کہا سر آپ نے کہا کہ ایک نمبر کم ہے پر وائس پرنسپل صاحب نے بتایا کہ جن کے نمبر ظاہر نہیں ہیں ان کے نمبر 70 یا اس سے زیادہ ہیں۔ تو انہوں نے اپنی غلطی تسلیم نہیں کی اور اس لڑکے کو کہا کہ ہم آپ کو اسکالرشپ نہیں دے سکتے۔

وہ لڑکا اور اس کے ابو بہت مایوس ہوئے اور واپس آگئے۔ اس کے بعد باقی تمام کے ساتھ بھی ان کا رویہ غیر مناسب تھا۔ جن کے نمبر 75 اور 80 کے قریب تھے انہیں کہا گیا کہ آپ کو ٪ 50 اسکالرشپ دی جائے گی۔ آخر میں، میں میرا بھائی اور میری دوست (جس کا نام لسٹ میں شامل نہیں تھا) اندر گئے۔ ہم آفس میں گئے تو ہمیں کہا گیا کہ ڈائریکٹر صاحب سندھی یا اردو میں بات نہیں کر سکتے ہیں۔ ان سے ترکش یا انگلش میں بات کی جائے۔ جبکہ ہمارے پاس تو انگلش زبان صرف ایک مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی ہے اور وہ ہمارے ماحول میں رائج بھی نہیں ہے۔

اس لیے ہمیں کافی مشکل پیش آئی۔ ڈائریکٹر کے آفس میں ان کے اسکول کی پرنسپل موجود تھیں جوکہ انھیں ہماری بات انگلش میں ترجمہ کر کے بتا رہی تھی۔ پر ہم مطمئن نہیں ہو پا رہے تھے۔ کیونکہ وہ ہماری بات جس طرح ہم کہہ رہے تھے ڈائریکٹر صاحب تک نہیں پہنچا رہی تھیں۔ پر ادھر تو ڈائریکٹر صاحب کا رویہ بھی غیر مناسب تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا کرائیٹیریا ٪ 70 مارکس اور اس سے زیادہ کا تھا چونکہ آپ نے ٪ 70 مارکس لیے ہیں تو آپ کو ٪ 50 اسکالرشپ ہی دی جا سکتی ہے، جو کہ 59000 روپے بنتی ہے۔ کیونکہ ہمارے اسکول کی سالانہ ٹیوشن فی 118000 روپے ہے۔ اس کے علاوہ ایڈمیشن فیس 13000 روپے اور سیکیورٹی فیس 14000 روپے ہے جبکہ ہمارے پاس لڑکیوں کے لیے ہاسٹل بھی موجود نہیں ہے۔

اس پر بھائی نے کہا کہ ہم سے جو فارم فل کروایا گیا تھا اس میں ہاسٹل کا مینشن کیا گیا تھا۔ میرے بھائی نے ان سے کہا سر ہمیں تو ایسا کچھ نہیں کہا گیا تھا کہ اسکالرشپ ٪ 50 یا ٪ 25 دی جائے گی، ہمیں بس اسکالرشپ کا بتایا گیا تھا۔ جبکہ آپ کے اسکول نے پچھلے سال ہمارے ہی شہرکے ایک لڑکے کو ٪ 100 اسکالرشپ دی تھی پر تب شاید عملہ دوسرا تھا، اور آپ جو یہ ٪ 50 یعنی صرف ٹیوشن فیس میں 59000 روپے کم کرنے کی بات کر رہے ہیں، میری تو ایک مہینے کی تنخواہ ہی 20000 ہے جبکہ میرے خاندان میں چار اور افراد بھی شامل ہیں، ان کا خرچ بھی ہے۔ اور یہ فیس تو میرے اور میرے جیسے غریبوں کے لیے ٪ 100 سے بھی زیادہ ہے، اس پر ان کا رویہ مزید خراب ہو گیا اور کہا اگر آپ کو اسکالرشپ لینی ہے تو یہی ہے ورنہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ بھائی نے مزید کہا کہ اس طرح تو آپ چاہتے ہیں کہ ان اسکولز میں صرف امیر لوگ ہی پڑھیں اور غریب انسان کا کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے۔ اس بات پر پرنسپل صاحبہ نے فرمایا کہ ہم اپنی بساط سے بڑھ کر دے رہے ہیں۔ بھائی نے کہاکہ سر آپ کچھ خیال کریں ہم سب یہاں اسکالر شپ کی وجہ سے آئے ہیں ورنہ ہم اتنی مہنگی پڑھائی کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔

میرے ساتھ یہ بچی بھی آئی ہے اس کے ٪ 67 مارکس ہیں اور اس کا نام سلکشن لسٹ میں ہی موجود نہیں ہے تو ڈائریکٹر صاحب کہنے لگے کے ایسا نہیں ہو سکتا ۔ پرنسپل کہنے لگی کہ اس نام کی تو کوئی لڑکی ٹیسٹ میں موجود ہی نہیں تھی۔ بھائی نے ان کی لسٹ جوکہ انھوں نے واٹس ایپ پر بھیجی تھی انہیں دکھائی تو وہ حیران ہو گئے اور کہنے لگے کہ شاید نام رہ گیا ہوگا، اور اپنی غلطی سدھارنے کے لیے کہنے لگے کہ اسے ہم ٪ 25 اسکالر شپ دے سکتے ہیں حالانکہ تھوڑی دیر پہلے ہی وہ کہہ چکے تھے کہ سیٹ خالی نہیں ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ دو منٹ میں سیٹ کی ارینجمنٹ کہاں سے ہوئی؟

بھائی نے بتایا کہ سر اس بچی کے ابو سموسے بیچتے ہیں اور وہ بھی کوئی دکان نہیں ہے ٹھیلا وغیرہ لگا لیا بس، آپ چاہیں تو ان سے مل لیں۔ پر ڈائریکٹر صاحب اپنی بات سے ذرا بھی نہیں ہٹے، اپنی بات پر قائم رہے۔ اور تیکھے لہجے میں بس ایک ہی جملہ کہا اب آپ جا سکتے ہیں۔ یہ تمام تفصیل بتانے کا مقصد وہ مایوسی ہے جس کی وجہ سے ہم تمام بچے، بچیاں اچھی تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔ میرے ساتھ گئے وہ سارے لڑکے بھی خالی لوٹ آئے جن کے گھر کا چولہا بھی بہت مشکل سے جلتا ہے اور وہ اس آس میں چلے تھے کہ شاید یہ اسکالر شپ ان کے روشن مستقبل کی شروعات ہو۔

ہمیں یہ تو معلوم نہیں کہ یہ کرپشن ہے، دھوکا ہے یا مستحق لوگوں کا مذاق پر ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ اس جیسی تمام اسکالرشپ سے مستحق غریب لوگ مستفید نہیں ہو سکتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •