کرکٹ بیجنگ میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شائقین کی تعداد کے اعتبارسے فٹ بال کے بعد کرکٹ دنیا کا دوسرا مقبول ترین کھیل ہے۔ پاکستان، ہندوستان اور برطانیہ سمیت اس کی دیگر سابقہ نو آبادیوں میں تو لوگ کرکٹ کے دیوانے ہیں ہی لیکن انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ICCکے 104 رکن ممالک کے ساتھ ساتھ چین میں بھی کسی نہ کسی شکل میں کرکٹ موجود رہا ہے۔ تاریخی طور پر چینیوں کو کرکٹ سے اتنی دلچسپی نہیں رہی لیکن اب ICCکی نظریں چین پر ہیں اور وہ یہاں کرکٹ کو فروغ دینے کی کوشش میں ہے۔ ویسے بیجنگ میں 1980۔ ۔ 1990 کے عشروں میں کرکٹ کھیلا جاتا تھا۔ اس وقت بیجنگ میں موجود غیر ملکی سفارت خانے کرکٹ میچز کراتے تھے۔ ہر سال کرکٹ ٹورنامنٹس کا انعقاد ہوتا تھا لیکن 1996 کے بعدموزوں گراؤنڈز نہ ہونے اور لوگوں کی دلچسپی برقرار نہ رکھ پانے کے باعث یہ سلسلہ ختم ہو گیا۔

نئے ہزارئیے کے آغاز کے ساتھ کرکٹ کے متوالوں کو امید کی کرن نظر آئی ہے۔ 2006 میں ڈولوچ کالج بیجنگ میں ایک کرکٹ گراؤنڈ بنایا گیا جس کی پچ کی مٹی آسٹریلیا سے منگوائی گئی۔ بیجنگ میں مقیم غیر ملکیوں کی کوششوں کی بدولت بیجنگ کرکٹ کلب کا قیام عمل میں آیاجو قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں شامل ہوتا ہے اور بیجنگ میں بھی کرکٹ کے شائقین کے لئے باقاعدگی سے میچز کرواتا ہے۔ اہم ترین مقابلہ بی سی سی انٹرنیشنل سکسز ہوتا ہے۔ 2019 کے ٹورنامنٹ میں تین کلبوں، بیجنگ ڈکس کرکٹ کلب، بیجنگ زلمی اور بیجنگ فینکس کلب نے حصہ لیا تھا۔ 2020 میں کرونا کی وجہ سے یہ ٹورنامنٹ نہیں ہو سکا۔

بیجنگ میں ہمارے قیام کے دوران وہاں مقیم غیر ملکیوں کے درمیان باقاعدگی سے میچز ہوا کرتے تھے۔ آئیے آج آپ کو 1986 اکتوبرمیں ہونے والے ایسے ہی ایک میچ کا حال سناتے ہیں۔ یوں تو جب بھی بیجنگ میں غیر ملکیوں کے درمیان کرکٹ میچ ہوتا تھا تو اسٹیڈیم میں پکنک کا سا سماں ہوتا تھالیکن اس روز بی سی سی آئی کی ٹرافی کے لئے سری لنکا اور پاکستان میں فائنل میچ ہو رہا تھا، اس لئے رونق کچھ زیادہ ہی تھی۔ ان دنوں پاکستان ٹی وی کی ٹیم ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے لئے بیجنگ آئی ہوئی تھی اور بہروز سبزواری اور بختیار احمد بھی پاکستان کی طرف سے کھیل رہے تھے۔ تماشائیوں میں پاکستانی طلبہ، سفارت خانے کے عملے کے علاوہ نیر کمال، سفینہ بہروزاور ٹی وی کا تکنیکی عملہ شامل تھا۔ پاکستانی فنکاروں کی موجودگی نے کھلاڑیوں اور تماشائیوں میں ایک نیا جوش و جذبہ بھر دیا تھا۔

اس دفعہ بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے کی کرکٹ ٹیم نے دو ٹرافیاں حاصل کی تھیں۔ ایک بی او اے سی اور دوسری بی سی سی آئی کی۔ بیجنگ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم 1984 میں تشکیل پائی تھی۔ برطانیہ، آسٹریلیا اور ہندوستان کی ٹیمیں پہلے سے موجود تھیں اور پاکستانی کھلاڑی ان میں سے ہی کسی ٹیم کی طرف سے کھیلتے تھے۔ جب پاکستانی کرکٹ ٹیم بنی تو اس کے پہلے کیپٹن سفارت خانے کے منسٹر کرامت اللہ غوری تھے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم بننے کے بعد میچز کو بی سی سی آئی نے اسپانسر کیا۔

بی سی سی آئی کے نمائندہ اعلیٰ جناب سلطان محمد خان (سابق سفیر) تھے جو کرکٹ کے مقابلوں میں بے حد دلچسپی لیتے تھے۔ وہ اوران کی اہلیہ عابدہ سلطان ہر میچ میں موجود ہوتے تھے۔ عابدہ سلطان ہاتھ میں سروتا لئے چھالیہ کترتی رہتی تھیں اور کھلاڑی آکر ان سے پان مانگتے رہتے تھے۔ اگر کبھی پاکستان کی ٹیم کی پوزیشن کمزور پڑتی تو وہ دعائیں مانگنا شروع کر دیتی تھیں۔ مستقل تماشائیوں میں پاکستانی سفارت خانے کی سفید بالوں اور خمیدہ کمر والی بوا جی بھی شامل تھیں۔ ہم سب انہیں سلام کرنا اور ان سے دعائیں لینا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ ان کے بیٹے سرفراز پاکستانی ٹیم کی جانب سے کھیلتے تھے۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی بی سی سی آئی کی چیمپئن شپ ٹرافی کی۔ 1984 ء کی ٹرافی انڈیا نے حاصل کی تھی جبکہ 1985، 1986 میں پاکستان نے یہ ٹرافی حاصل کی تھی۔ 1986 میں بی او اے سی نے بھی ایک ٹرافی رکھی تھی۔ وہ بھی پاکستان نے حاصل کی تھی۔ اس کے لئے میچ لیگ سسٹم کی بنیاد پر ہوئے تھے اور برطانیہ، آسٹریلیا، پاکستان، انڈیا، سری لنکا، ہر ٹیم نے ایک ایک میچ کھیلا تھا۔

اس زمانے میں بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے میں جو کرکٹ کی گہما گہمی نظر آتی تھی، اس کا سہرا پاکستان کے نیول اتاشی کیپٹن اطہر طاہراور سفارت خانے کے سید عبد ا لرزاق کے سر جاتا تھا۔ اطہر صاحب ٹیم کے کیپٹن بھی تھے۔ دیگر کھلاڑیوں میں سرفراز حسین، عکسی شمیم، احفاظ ا لرحمن، سید عبد ا لرزاق، قیصر، ارسلان، ذولفقار اور واجد پیر زادہ شامل تھے۔ ان کے علاوہ تا لیانگ سے صدیقی صاحب اور نجم صاحب بھی میچ کھیلنے بیجنگ آتے تھے۔ اور جیسا کہ ابتدا میں ذکر ہوا، اس میچ میں پی ٹی وی کے نسیم صاحب، بختیار صاحب اور بہروز سبزواری نے بھی پاکستان کی جانب سے سری لنکا کے خلاف ہونے والے میچ میں حصہ لیا تھا۔

اس میچ کے بعد گیارہ اکتوبر 1986 کو پاکستانی سفارت خانے کے چانسری ہال میں ”ٹی وی تماشا اور دعوت مشترکہ“ منعقد کی گئی اور قاضی واجد (مرحوم لکھتے ہوئے دل دکھتا ہے ) بہروز سبز واری، نیر کمال اور دیگر فنکاروں کے ساتھ ایک شام منائی گئی۔ یہ فنکار چین اور پاکستان کے تعاون سے بننے والی ٹیلی فلم کی تیاری کے سلسلے میں بیجنگ آئے ہوئے تھے۔ ہم وطنوں کی محبت اور ان کے جذبات کا پاس کرتے ہوئے وہ ان کے لئے ایک چھوٹا سا پروگرام پیش کرنے کو تیار ہو گئے تھے۔

اس پروگرام کی کمپئرنگ ٹی وی کے پروڈیوسر بختیار احمد نے کی اور اپنے ساتھیوں کا تعارف کرایا تو سب سے زیادہ تالیاں نیر کمال کے حصے میں آئیں۔ بہروز سبزواری اور قاضی واجد کے مختصرخاکے بھی پسند کیے گئے۔ قدیم اور جدید شاعری کے بارے میں پروفیسر درانی کی دلچسپ گفتگو سے بھی لوگ محظوظ ہوئے۔ پروگرام کا سب سے دلچسپ حصہ عامل معمول والا تھا جس میں بہروز سبزواری نے آنکھوں پر پٹی باندھ کر سفارت خانے کے چند افراد کے بارے میں دلچسپ تبصرے کیے ۔

پروگرام کے بعد خواتین نے نیر کمال کو گھیر لیا۔ نیر کمال چین اور پاکستان کے تعاون سے بننے والی ٹیلی فلم میں ہنزہ کی خاتون کا کردار ادا کر رہی تھیں۔ گزشتہ دنوں وہ بے حد بیمار رہی تھیں اور صحت یابی کے بعد یہ ان کی پہلی مصروفیت تھی۔ اس فلم میں قاضی واجد ان کے شوہر بنے تھے اور ٹی وی پروڈیوسر بختیار احمد خان کے بیٹے کا کردار ادا کر رہے تھے۔ یہ تین نسلوں کی کہانی تھی۔ بیجنگ میں بہت سی پاکستانی خواتین کو نیر کمال کے فن سے زیادہ یہ جاننے میں دلچسپی تھی کہ ان کے دبلے پن یا سمارٹنس کا راز کیا ہے لیکن جو نسخہ انہوں نے بتایا اس پر عمل کرنا کسی کے بس کی بات نہ تھی۔ نیر کمال کا کہنا تھا کہ وہ اکثر کھانے کے بجائے محض جوس پر گزارا کرتی ہیں۔ یہ سن کر خواتین چپ ہو گئی تھیں۔

اس مختصر سے پروگرام نے یہ بات ثابت کر دی کہ فنکار کسی بھی ملک کے بہترین سفیر ہوتے ہیں۔ اس سے سات ماہ پہلے پاکستان کا ایک ثقافتی طائفہ بیجنگ آیا تھا تو اس کا پروگرام بھی بے حد پسند کیا گیا تھا۔ 13 اکتوبر کو چینی ٹی وی نے اس پروگرام کی ریکارڈنگ بھی دکھائی۔ یہ پروگرام واقعی بڑی ذہانت سے ترتیب دیا گیا تھا۔ اس میں نہ صرف پاکستان کے علاقائی رقص پیش کیے گئے بلکہ اقبال قاسم نے چینی نغمے گا کر چینی عوام کا دل جیت لیا۔ حکومت کو اس سلسلے کو جاری رکھنے کی آج بھی ضرورت ہے۔ فنکاروں، ٹی وی ڈراموں اور فلموں کا تبادلہ دونوں ملکوں کے عوام کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے محبت میں اضافہ کرے گا۔

اس سیریز کے دیگر حصےچین کے دیہی نوجوان اور شادیاںچین کی عورتیں کتنی آزاد ہیں؟
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •