بنام سلیم احمد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

[محترم سلیم احمد صاحب کے مضمون(ہم سب 1-9-2020) کے جواب میں میری یہ تحریراگست 1983 کو ’الاعلام‘ کے شمارہ نمبر 9 میں شائع ہوئی تھی۔ رسالہ یکم اگست کو شائع ہونا تھا لیکن بوجوہ تاخیر ہوئی اور اگست کے آخری دنوں میں پریس سے چھپ کر آیا۔ ابھی ڈاک میں ترسیل شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ یکم ستمبر 1983 کو جناب سلیم احمد کی ناگہانی وفات کی اندوہ ناک خبر ملی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ یوں ان سے جس مکالمے کے آغاز کی امید بندھی تھی وہ ابتدا ہی میں دم توڑ گئی۔ میری یہ تحریر ان کی نظر سے نہیں گزری تھی۔ اتفاق یہ ہوا کہ یہ ’الاعلام‘ کا بھی آخری شمارہ ثابت ہوا۔ آں قدح بشکست و آں ساقی نماند۔]

٭٭٭  ٭٭٭

انقلاب زمانہ بھی عجیب چیز ہے۔ اس صدی کے نصف اول میں جب مغربی تہذیب کا استیلا اپنے عروج پر اور مغربی علوم کا بڑا چرچا تھا، اس وقت ہمارا جدید تعلیم یافتہ طبقہ مغرب سے آنے والے ہر تصور فریفتہ اور اپنے ماضی پر شرمندہ تھا۔ ترقی پسندی اور روشن خیالی کا شہرہ تھا۔ ایسے عالم میں روایت کا لفظ گالی بن گیا۔ بقول رشید احمد صدیقی کے یہ اتنا بڑا الزام تھا کہ آپ جس شخص پر تھوپ دیں، اس کی پگڑی پونجی غائب۔ اسی صدی کے نصف دوم میں محمد حسن عسکری مرحوم کی قلب ماہیت ہوئی اور یہ لفظ احترام کی مسند پر فائز ہو گیا۔ ان کے نزدیک روایت نہ صرف جدید تہذیب کے تمام امراض کا شافی علاج ہے بلکہ حق تک رسائی کا واحد ذریعہ ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ جس شخص کو غیر روایتی کہہ دیا، اس کا دین ایمان سب غائب۔ عسکری صاحب کے اس تصور پر بحث میں گرمی پیدا ہوئی تو ہم نے بھی ان کے تصور روایت و مابعد الطبیعیات پر ایک مضمون لکھا اور ’الاعلام‘ میں چھپوا دیا۔ مضمون کا چھپنا تھا کہ عسکری صاحب کے خلیفۂ مجاز اعلیٰ حضرت سلیم احمد صاحب نے برہمی کے عالم میں، آؤ دیکھا نہ تاؤ، قلم سنبھالا اور ہمیں نام نہاد اسلام پسند، تجدد پسند، غیر مقلد، گمراہ، پروٹسٹنٹ مذہب سے متاثر، اور نجانے کیا کچھ قرار دے ڈالا۔ انہوں نے جو کچھ میرے بارے میں لکھا ہے مجھے اس پر کوئی گلہ نہیں، البتہ میں نے ان کے متعلق جو رائے قائم کی تھی، اس پر مجھے افسوس ہے۔ میں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا: ’سلیم احمد صاحب کا شمار ملک کے مسلمہ دانشوروں میں ہوتا ہے‘۔ اب جی چاہتا ہے کہ اس فقرے میں یہ ترمیم کر دوں کہ ان کا شمار ملک کے مبینہ دانشوروں میں ہوتا ہے۔

سلیم احمد صاحب کا مضمون اپنے مشمولات کے پیش نظر جواب کا متقاضی نہ تھا، مگر انہوں نے نادانستگی میں ہی سہی، چند سوالات ایسے اٹھائے ہیں کہ جن سے اعتنا برتے بغیر چارہ نہیں۔

سلیم احمد صاحب نے اپنے مضمون میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ دین کے معاملے میں ان کا ذاتی علم صفر کے برابر ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ یہ دھمکی بھی دیتے ہیں کہ وہ مستند علماء کے حوالوں سے ہمارے افکار کا تاروپود بکھیر کر رکھ دیں گے۔ ان دونوں باتوں میں کیا ربط ہے، یہ میرے فہم سے بالاتر ہے۔ گمان تو یہی ہے کہ مستند علماء کی چند تصانیف انہوں نے پڑھی ہوں گی، پڑھنے کے ساتھ انہیں سمجھا بھی ہو گا، ان کے دلائل پر غور و تفحص کے بعد انہیں اپنایا ہو گا۔ اس اپنانے کے بعد وہ ان کا حوالہ دیں گے۔ اب ذاتی علم اس کے سوا اور کیا ہوتا ہے؟ اگر وہ بغیر پڑھے، بغیر سوچے سمجھے، کچھ حوالے نقل کرنا چاہتے ہیں تو میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ ایسی حرکت کا انہیں کچھ فائدہ نہ ہو گا بلکہ نقصان کا احتمال ہے، کیونکہ علم وہی نافع ہوتا ہے جس کی دلیل سے واقفیت ہو۔

سلیم احمد صاحب سے گفتگو میں ایک دقت یہ ہے کہ انہوں نے مستند علماء کی کوئی فہرست شائع نہیں کی۔ اس لئے میں حوالہ دیتے ہوئے ڈرتا ہوں کہ نجانے کون کس وقت غیر مستند قرار پا جائے، میں کوشش کروں گا کہ صرف انہی کا حوالہ دوں جو سلیم احمد صاحب کے نزدیک مستند ہوں، سوائے ابن تیمیہ کے۔ ابن تیمیہ سلیم احمد صاحب کے نزدیک نہ سہی، مگر محقق علماء کی کثیر تعداد کے ہاں مستند ہی شمار ہوتے ہیں۔ یہاں میں ایک وضاحت کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ کسی شخص کا تائیدی حوالہ نقل کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ میں اس کی ہر رائے سے متفق ہوں۔ نہ کسی رائے پر تنقید کا یہ مطلب ہے کہ وہ شخص کلیتہً رد کئے جانے کے لائق ہے۔ علم کی دنیا تحلیل و تجزیہ کی دنیا ہے، یہاں کامل رد و قبول کے کوئی معنی نہیں۔

سلیم احمد صاحب نے ایک انکشاف یہ کیا ہے کہ سواد اعظم کا عقیدہ کیا ہے۔ ان کے نزدیک سواد اعظم میں شامل ہونے کے لئے قرآن،حدیث، فقہ، کلام، اور تصوف کا ماننا لازم ہے۔ جو کوئی ان میں سے کسی ایک کا انکار کرے گا، وہ گمراہ، تجدد پسند، پروٹسٹنٹ مذہب سے متاثر شمار ہو گا۔ گمان تو یہی ہے کہ یہ بات انہوں نے پوری سنجیدگی سے لکھی ہو گی، اگرچہ ان کے مضمون میں اس کے قرائن تلاش کرنا مشکل ہے۔ اس لیے ان سے چند سوالات پوچھنے کو جی چاہتا ہے۔ کیا آئمہ اربعہ میں سے کوئی تصوف اور کلام کا قائل تھا؟ قرآن کے اکابر مفسرین، ابن جریر، ابن کثیر، زمخشری میں سے کوئی تصوف کا قائل تھا؟ کیا صحاح ستہ کے مرتبین میں سے کوئی تصوف کا قائل تھا؟ سلیم احمد صاحب سوچ لیں کہ اس فارمولے کے تحت کون لوگ سواد اعظم سے نکل جائیں گے، اور جو باقی رہ جائیں گے، ان کی کیا حیثیت ہو گی۔

سلیم احمد صاحب کے نزدیک یہ کہنا غلط ہے کہ وحدت الوجود کا نظریہ ابن عربی نے پیش کیا ہے کیونکہ یہ ایک عالمگیر اور غیر شخصی تصور ہے۔ اب وحدت الوجود کی اصطلاح اگر کسی متعین مفہوم کی حامل ہے تو مسلمان صوفیاء میں ابن عربی سے پیشتر کوئی اس کا قائل نہیں تھا۔ سلیم احمد صاحب نے سید علی ہجویری کا نام خواہ مخواہ لیا ہے، اگر وہ انہیں وحدت الوجود کا حامی ثابت کرنا چاہتے ہیں تو بار ثبوت سلیم احمد صاحب کے ذمہ ہے۔ ان کے نزدیک وحدت الوجود رأس التوحید ہے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ عہد رسالت مأب میں، عہد صحابہ میں، یہاں تک کہ تابعین و تبع تابعین کے عہد میں بھی کوئی اس تصور سے آشنا نہیں تھا۔ سلیم احمد صاحب نے جمعہ کے خطبوں میں ’خیر القرون قرنی‘ والی حدیث اکثر سنی ہو گی، اس کے تحت بھی ان ادوار کے لوگوں کو اس رأس التوحید کا علم لازمی ہے۔ اب کیا وہ اس سے ناواقف تھے؟ کیا ان کا تصور توحید خام تھا؟ ایسی کسی بات کا تصور بھی محال ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ان سے اس ضمن میں نفیاً کچھ منقول نہیں، اور اگر یہ بحث ان کے زمانے میں چھڑی ہوتی تو وہ ضرور اس کی تائید کرتے۔ کیا اس اصول کے تحت انہیں جمہوریت اور اشتراکیت کا موید بھی ثابت کیا جا سکتا ہے؟ کسی نظریے کا قائل ہونے کے لئے محض اتنی بات کافی نہیں کہ نفیاً کچھ منقول نہ ہو، بلکہ مثبت حمایت کے قرائن کا ہونا لازمی ہے۔

فقہ اور کلام کے ضمن میں انہوں نے یہ صراحت نہیں کی کہ وہ کس فقہ اور کلام کا انکار مراد لے رہے ہیں۔ فقہ اور کلام کا علی الاطلاق انکار کوئی معنی نہیں رکھتا۔ جو بھی معاشرہ اسلام کے اصولوں پر قائم ہو گا، اس کے اندر اسلامی قوانین کا نفاذ بھی ہو گا، یہی اس کی فقہ کہلائے گی۔ دین کی حکمت سمجھنے کے لیے بھی لوگ ہر دور میں کوشاں رہیں گے۔ ان کی یہ کاوش علم کلام ہی کہلائے گی۔ سلیم احمد صاحب کا اشارہ اگر اشاعرہ کے علم کلام کی طرف ہے تو میں یہ بات کامل جزم سے کہتا ہوں کہ اس کا بیشتر حصہ رد و انکار کے لائق ہے۔ فقہ ہو یا کلام اور تصوف، ان کے بارے میں عمومی اصول یہی ہے کہ ان کی ہر بات کو قرآن و سنت پر لوٹایا جائے گا، جس رائے کی وہاں سے تائید ہو گی، اسے قبول کر لیا جائے گا، بصورت دیگر رد کر دیا جائے گا۔

عسکری صاحب کے اماموں کو سند نہ ماننے اور قرآن سے ثبوت طلب کرنے کو گمراہی قرار دینے پر میں نے لکھا تھا کہ دین میں قرآن سے بالاتر کسی شخص کو سند قرار دینا شدید قسم کا فتنہ ہے۔ اپنی بات کی تائید میں صحابہء کرام و آئمہ اربعہ کے اقوال پیش کیے تھے کہ انہوں نے بلا دلیل تقلید کی کتنی شدید مذمت کی ہے۔ نصوص کی جگہ افراد کو سند قرار دینے کا یہ تصور دور انحطاط کی پیداوار ہے۔ اس وقت مختلف فقہی، کلامی، اور متصوفانہ مسالک نے مستقل بالذات حیثیت اختیار کر لی۔ جب کوئی آیت اپنے قراردادہ مسلک کے خلاف نظر آئی تو بلا جھجک آیت کی یا تاویل کر ڈالی، یا اسے منسوخ قرار دے دیا، یا متشابہات کی فہرست میں داخل کر دیا۔ ایسی تقلید جس میں شخصی استنباطات کو نصوص پر ترجیح دی جانے لگے، دین میں قطعاً حرام ہے۔

سلیم احمد صاحب نے میری بات کا کوئی جواب نہیں دیا، مگر مستند شارحین کو تسلیم نہ کرنے اور قرآن سے سند حاصل کرنے کو عہد جدید کا فتنہ قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک اگر مستند شارحین کو تسلیم نہ کیا جائے تو قرآن سے نہ شراب کی حرمت کا ثبوت ملتا ہے نہ نمازوں کی تعداد اور ہیئت کا

ببیں عقل و دانش بباید گریست

مجھے سلیم احمد صاحب سے ہمدردی ہے کہ انہیں اس عقل و دانش کے حامل کسی فرد سے الجھنا پڑا، اس سے زیادہ مجھے اس شخص سے ہمدردی ہے کہ ہمارے فاضل دوست یہ نہ ثابت کر سکے کہ شراب قرآن کی رو سے بھی حرام ہے۔ نمازوں کی تعداد قرآن کی نصوص سے بنی کریم ؐ نے اصول تبیین کے تحت مقرر کی ہے، یہ سنت متواترہ ہے جو دین میں بجائے خود حجت ہے۔

مگر سلیم احمد صاحب قرآن کے اصول و معانی پر غور کرنے کی بجائے مستند نمائندوں پر اصرار کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں :

’’اسلامی تہذیب اسلام کی دینی روایت سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کی بنیاد قرآن مجید پر ہے۔ اس کے مستند نمائندے رسول کریمؐ، اصحاب رسول، امام، فقہا، اور علمائے کرام ہیں۔ ان میں بعض کی حیثیت مرکزی اور بنیادی ہے اور ان کا کلام استناد کے مختلف مدارج رکھتا ہے۔ ‘‘

اس اقتباس میں ’’بعض‘‘ کا لفظ قابل غور ہے کہ اس کا مصداق فرد واحد نہیں ہو سکتا۔ یعنی رسول کریمؐ کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی مرکزی اور بنیادی حیثیت کے حامل ہیں۔ نہ معلوم سلیم احمد صاحب کے پاس وہ کونسی سند ہے جس کی بنا پر انہوں نے کچھ لوگوں کو رسول کریم ﷺ کے مساوی قرار دے دیا ہے، گویا وہ خدا کے رسول کی مانند واجب الاطاعت ہیں، ان کا فرمودہ، فرمودہء رسول کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ بات دین میں شدید قسم کی فتنہ انگیزی ہے، جس سے ہر مسلمان کو پناہ مانگنی چاہیے۔ سلیم احمد صاحب قرآن حکیم کی اس آیت پر ذرا تدبر کریں:

یا ایھا الذین اٰمنوا اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم ج فان تنازعتم فی شیئٍ فردوہ الی اللہ و الرسول ان کنتم تومنون باللٰہ و الیوم الاٰخرط ذٰلک خیر’‘ و احسن تاویلاً۔

ـاے ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اولوالامر کی۔ پس اگر کسی امر میں تمہارا اختلاف رائے واقع ہو تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ۔ اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ طریقہ بہتر اور باعتبار مآل اچھا ہے۔ (النساء 59)

اس آیت سے دو باتیں قطعی طور پر معلوم ہوتی ہیں :

1۔ اطاعت صرف اللہ اور رسول کی ہے، باقی ہر اطاعت ان کے تابع ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اطیعوا کا فعل اللہ اور رسول کے لیے استعمال ہوا ہے، مگر اولی الامر کے ساتھ نہیں۔ بلکہ ان کا ذکر تبعاً ہے۔

2۔ فصل نزاعات کے لیے صرف اللہ اور رسول حکم کا درجہ رکھتے ہیں۔ باقی ہر شخص کی بات قرآن و سنت پر لوٹائی جائے گی۔ کسی شخص کو بذات خود سند قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سلیم احمد صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہود و نصاریٰ نے اپنے احبار و رہبان کو مستند قرار دیتے ہوئے تورات و انجیل سے بالاتر قرار دے دیا تھا۔ اسی لیے قرآن نے ان کی مذمت کی کہ انہوں نے احبار و رہبان کو ’ارباباً من دون اللٰہ‘ بنا لیا ہے۔ آج ہماری حالت اس سے کچھ مختلف نہیں۔

’مستند نمائندوں‘ کے اس تصور پر اعتراض کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا ’’اسلام میں دین کا علم حاصل کرنا، قرآن کو پڑھنا اور سمجھنا ہر آدمی کا حق ہے، بلکہ دنیا و آخرت کی فلاح کے لیے ایک حد تک فرض ہے۔ جہاں تک تفسیر اور تعبیر کا تعلق ہے اس کا حقدار ہر وہ شخص ہو سکتا ہے جو اس کی استعداد بہم پہنچا لے، اس کے لیے نہ برہمن ہونا ضروری ہے نہ پوپ‘‘۔

اس پر سلیم احمد صاحب کا تبصرہ ملاحظہ کیجیے اور ان کے فہم و فراست کی داد دیجیے:

’’اب اگر یہ اصول صحیح ہے تو ہر شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اسلام و قرآن سے جو کچھ میں نے سمجھا ہے وہی حق ہے اور اس کے علاوہ میں کسی کو سند نہیں مانتا۔ لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ مذہب کی تفہیم ایک انفرادی اور موضوعی چیز بن کے رہ جائے گی اور اس کا کوئی معروضی معیار باقی نہیں رہے گا۔ اگر تفسیر و تعبیر کے لیے صرف استعداد کافی ہو گی اور روایت سلف کا لحاظ نہیں رکھا جائے گا تو تفسیر بالرائے کا دروازہ کھل جائے گا اور جس کے جو منہ میں آئے گا، کہنے لگے گا۔ ‘‘

نہیں معلوم آنجناب نے میرے محولہ بالا اقتباس سے یہ نتائج کس اصول تفسیر کے تحت اخذ کیے ہیں۔ ایسے لوگ اگر مجھ جیسے عامی کی بات بھی صحیح طور پر سمجھنے سے قاصر ہوں تو ان کے لیے مناسب یہی ہے کہ علمی معاملات میں دخل اندازی سے احتراز ہی کریں۔ سلیم احمد صاحب کی دیانت ملاحظہ فرمائیے، انہوں نے اس اقتباس کا آخری جملہ نقل ہی نہیں کیا۔ میں نے یہ بات اسی سیاق میں لکھی تھی کہ اسلام میں نہ کوئی نسلی گروہ دین کی تعبیر کا اجارہ دار ہے نہ پوپ جیسا کوئی منصب ہے۔ رہ گیا آئمہ کی تقلید کا سوال، تو آئمہ کو برہمنوں یا پوپ کی مانند قرار دینا نرا سفسطہ ہے۔ مسلمانوں کی علمی تاریخ میں امام کسی منصب کا نام نہیں، بلکہ ایک لقب ہے۔ جو شخص علم کے کسی شعبے میں نئے اصول وضع کرے اسے اس فن کا امام کہا جاتا ہے۔ تفسیر، حدیث، فقہ، اصول، نحو، ادب، منطق، فلسفہ، کلام، ہر ایک کے امام الگ الگ ہیں۔ ان کی آراء کا درجہ ماہرین فن کی آراء کا ہے۔

سلیم احمد صاحب کے نزدیک آئمہ اربعہ کی تقلید لازم ہے اور ان کا قول سند کا درجہ رکھتا ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ جب آئمہء اربعہ باہم مختلف فیہ ہوتے ہیں تو اس وقت کون سند کا درجہ رکھتا ہے؟ اختلاف کی اس صورت میں، کس کی رائے قابل ترجیح ہو گی اور اس ترجیح کی بنیاد کیا ہو گی؟ کیا یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کونسی رائے قرآ ن و سنت سے اوفق ہے۔ آج اگر کوئی فقیہ آئمہء اربعہ کی کسی رائے سے مطمئن نہ ہو، اور قرآن و سنت کے دلائل سے کسی نئی رائے پر پہنچ جائے تو کیا وہ گمراہ شمار ہو گا۔ سلیم احمد صاحب لکھتے ہیں کہ امت مسلمہ آئمہ اربعہ کے بعد آنے والے کسی بھی ماہر کو وہ درجہ دینے کے لیے تیار نہیں۔ جناب کا احناف کے اس اصول کے متعلق کیا خیال ہے کہ اگر امام ابو یوسف اور امام محمد کی رائے امام ابو حنیفہ سے مختلف ہو تو صاحبین کی رائے کو ترجیح حاصل ہو گی۔

علمی معاملات میں اور عام زندگی میں بھی تقلید کے بغیر چارہ نہیں۔ مگر تقلید دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک محمود، دوسری مذموم۔ محمود تقلید یہ ہے کہ آپ کسی ماہر فن کی رائے کو بربنائے دلیل تسلیم کرتے اور اپناتے ہیں۔ مگر اپنی عصبیت کو حق کے ساتھ خاص رکھتے ہیں۔ اگر کسی وقت بر بنائے دلیل آپ پر یہ واضح ہو جائے کہ وہ رائے غلط تھی، تو آپ شخصی عقیدت و احترام کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس رائے کو ترک کر دیں گے۔ مذموم تقلید یہ ہے کہ دلیل کے بجائے اشخاص کی پیروی کی جائے۔ انہیں معیار حق و باطل سمجھا جائے، اگر ان کی رائے قرآن و سنت سے صریح متعارض نظر آئے، تب بھی یہ کہہ کر ان کی رائے کو ترجیح دی جائے کہ اعلیٰ حضرت اتنے بڑے عالم تھے، وہ اس آیت یا حدیث سے بھی واقف ہوں گے، اب اگر انہوں نے اس کے برعکس رائے دی ہے تو ضرور ان کے پاس کوئی دلیل بھی ہو گی جسے ہم سمجھنے سے قاصر ہیں۔ قرآن کی زبان میں یہ حق سے عناد رکھنے والوں کا وہ گروہ ہے جو حق کو جانتے ہوئے یہ کہہ کر انکار کرتا اور باطل پر اصرار کرتا ہے کہ نحن و جدنا علیہ آباء نا۔ عسکری صاحب اور سلیم احمد صاحب اسی تقلید پر اصرار کرتے ہیں حالانکہ علمائے امت نے ہر دور میں اس تقلید کی مذمت کی ہے۔

سلیم احمد صاحب لفظ استعداد سے بہت بدکے ہیں۔ وہ ذرا توقف کرکے اس پر غور کر لیتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ یہ لفظ اتنا سادہ نہ تھا۔ رہ گئی بات روایت سلف کا لحاظ نہ کرنے کی، تو یہ بات میں نے کہیں نہیں کہی۔ استعداد کے معنی ہیں کہ آدمی عربی زبان، اس کے اسالیب، محاورہ، روزمرہ وغیرہ پر ماہرانہ عبور رکھتا ہو، صحیح و سقیم روایات میں تمیز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، علاوہ ازیں تفسیر قرآن کی تاریخ سے واقف ہو۔ اس استعداد کے ساتھ وہ جو تفسیر بھی کرے گا اس کی تائید قرآن کے متن سے ہونی چاہیے۔ اگر روایات سلف سے بھی ہم آہنگ ہو تو فبھا۔ مگر روایات سلف کو قرآن حکیم پر حکم نہیں بنایا جا سکتا۔ اور نہ اقوال سلف تفسیر کا معروضی معیار قرار پا سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ اکثر و بیشتر باہم متعارض ہیں اور انہیں معیار قرار دینے کی صورت میں اس تعارض کو دور کرنا ممکن رہے گا۔ معروضی معیار صرف اور صرف قرآن کا اپنا متن ہے جو کسی قسم کی تحریف کے شائبے سے پاک ہے، اس کی زبان کا علم زندہ سلامت ہے۔ لہٰذا جس تفسیری رائے کی تائید قرآن کے متن سے ہو گی وہ صحیح ہو گی، وگرنہ غلط۔

سلیم احمد صاحب کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس طرح تفسیر بالرائے کا دروازہ کھل جائے گا۔ بہتر ہوتا کہ آنجناب یہ لفظ لکھنے سے پہلے کسی مستند کتاب میں اس کے معنی بھی ملاحظہ کر لیتے۔ علماء کے نزدیک تفسیر بالرائے یہ ہے کہ آپ کوئی نظریہ قائم کرکے قرآن حکیم کی تفسیر اس کی روشنی میں کریں۔ ظنیات کو قرآن پر حکم بنانا اور ان کے مطابق آیات کی تاویل کرنا، تفسیر بالرائے کہلاتا ہے۔ اس کی ایک بین مثال اشاعرہ کا یہ موقف ہے کہ خدا بندوں کو تکلیف ما لا یطاق دیتا ہے۔ یہ نظریہ قائم کرنے کے بعد انہیں قرآن حکیم کی یہ آیت لا یکلف اللٰہ نفساً الا وسعھا اپنے موقف کے برعکس نظر آئی۔ اس پر امام رازی نے اپنی تفسیر کبیر میں اس آیت کو متشابہ قرار دیتے ہوئے لکھا: ’’جب عقلی دلائل سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو تکلیف ما لا یطاق دیتے ہیں، تو اس سے اللہ تعالیٰ کی مراد وہ نہیں ہو سکتی جو ظاہر آیت سے معلوم ہوتی ہے‘‘۔ یہ ہے تفسیر بالرائے۔ اپنے ایک عقلی مزعومہ کو قرآن کی صریح آیت پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ ابن عربی نے فصوص الحکم میں جہاں جہاں آیات قرآنی سے استدلال کیا ہے وہ تمام تفسیر بالرائے ہے۔ سلیم احمد صاحب اگر چاہیں تو ابن عربی سے منسوب عبد الرزاق قاشانی کی تفسیر قرآن ملاحظہ فرما لیں، انہیں معلوم ہو جائے گا کہ تفسیر بالرائے کیا ہوتی ہے۔ صوفیا کے اعتباری معنوں کا تصور بھی اسی ذیل میں آتا ہے۔ ہر وہ تفسیر، تفسیر بالرائے ہے جس کی تائید لغت، نحو، اسالیب زبان، سیاق و سباق اور نظم قرآن سے نہ ہوتی ہو۔

سلیم احمد صاحب نے ذاتی علم نہ ہونے کے باوجود، اپنے مضمون میں دو جگہ قرآن حکیم سے استشہاد کیا ہے۔ آیات محکمات و متشابہات کا فرق بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ آیات متشابہات راسخین فی العلم کے لیے ہیں۔ گویا وہ ان کی تاویل و حقیقت سے آگاہ ہوتے ہیں۔ نہ معلوم یہ مطلب انہوں نے کن مستند علماء سے اخذ کیا ہے۔ اگر وہ مستند علماء کی طرف رجوع کرنے سے پہلے قرآن حکیم میں یہ آیت ملاحظہ فرما لیتے تو مجھے یقین ہے کہ یہ مفہوم بیان سے باز رہتے۔ آیت یہ ہے:

ھو الذی انزل علیک الکتٰب منہ آیٰت’‘ محکمٰتٗ ھن ام الکتٰب و اخر متشابھاتٍ ط فاماالذین فی قلوبھم زیغ’‘ فیتبعون ما تشابہ منہ ابتغاء الفتنۃ و ابتغاء تاویلہٖ ج و ما یعلم تاویلہ الا اللٰہ م و الرا سخون فی العلم یقولون اٰمنا بہ۔ لا۔ کل’‘ من عند ربناج و ما یذکر الا اولو الالباب۔ (آل عمران)

’’وہی ہے اتاری جس نے تم پر کتاب، جس میں کچھ آیات محکمات ہیں اور وہی اصل کتاب ہیں اور دوسری متشابہات ہیں۔ تو جن کے دلوں میں کجی ہے، وہ قرآن کی متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں فتنہ پیدا کرنے کے لیے اور اس کی ماہیت دریافت کرنے کے لیے۔ حالانکہ اس کی ماہیت نہیں معلوم ہے مگر اللہ کو۔ اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے۔ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نہیں سمجھتے وہ مگر جو عقل والے ہیں۔ ‘‘

سبھی مستند علماء نے و ما یعلم تاویلہ الا اللٰہ کے بعد وقف مانا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کا یہ قول نقل کیا ہے:

ان تاویلہ الا عند اللہ و الراسخون فعل العلم یقولون اٰمنا بہٖ۔

’’اس کی تاویل کا علم صرف اللہ کو ہے اور راسخون فی العلم کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے۔ ‘‘

امام مالک نے فرمایا ہے:

انھم یومنون بہٖ و لا یعلمون تاویلہ

’’وہ یعنی راسخین فی العلم اس پر ایمان لاتے ہیں اور تاویل سے آگاہ نہیں ہوتے۔ ‘‘

امام رازی نے تفسیر کبیر میں یہاں وقف ماننے کے حق میں دلائل دیئے ہیں۔ میں ان کے چند دلائل کا خلاصہ پیش کیے دیتا ہوں۔

1۔ امام رازی سیاق کلام سے استشہاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس آیت سے پہلے جو آیت آئی ہے وہ یہ بات قطعی طور پر کہتی ہے کہ متشابہات کی تاویل جاننے کے درپے ہونا مذموم ہے۔ لہٰذا راسخون فی العلم کے بارے میں یہ گمان کیسے کیا جا سکتا ہے کہ وہ ان کی تاویل جاننے کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔

2۔ کلام کا سباق بھی اس تاویل کے مانع ہے۔ آیت میں راسخین کی مدح یہ کہہ کر بیان کی گئی ہے وہ تاویل جانے بغیر ایمان لاتے ہیں۔ اس کی تائید سورہء بقرۃ کی اس آیت سے ہوتی ہے: فاماالذین اٰمنوا فیعلمون انہ الحق من ربھم۔ اگر راسخون پہلے سے تاویل جانتے ہیں تو مدح کا جملہ بے ضرورت ہو گا۔ جو تفصیل جانتا ہے لازم ہے کہ ایمان بھی رکھتا ہو۔

3۔ بعض مفسرین نے مثلاً علامہ زمخشری نے اپنی تفسیر الکشاف میں یقولون کو حال مان کر، تاویل کرنے کی کوشش کی ہے۔ امام رازی اس نحوی تالیف کا یہ جواب دیتے ہیں کہ اگر اس جملے کو حال مانا جائے تو ذوالحال پہلے مذکور اور وہ دو ہیں، یعنی اللہ اور راسخون فی العلم۔ اب یہ کسی طور ممکن نہیں کہ اس جملے کو راسخون کا حال تو مانا جائے اور لفظ اللہ کا حال نہ مانا جائے۔ اس طرح ظاہر کو چھوڑ کر مضمر پر تاویل کرنا پڑے گی۔ قاعدہ زبان یہ ہے کہ ظاہر کو ترک کرکے مضمر کو اسی وقت اختیار کیا جائے گا جب اس کے لیے کوئی قوی قرینہ موجود ہو اور ظاہر پر تاویل کرنا کسی طور ممکن نہ ہو۔ اس آیت میں ترک ظاہر کے لیے کوئی قرینہ موجود نہیں۔ امام رازی مزید لکھتے ہیں کہ اگر یہ کہا جائے کہ یقولون سے جملہ مستانفہ ہے تو اس صورت میں کلام غیر فصیح ہو گا، جملہ مستانفہ کی صورت میں آیت کا آغاز اس طرح ہونا چاہیئے: و یقولون یا و ھم یقولون۔

4۔ اگر جملے کو مدح کی بجائے خبر قرار دیا جائے تو خبر بے فائدہ ہو گی۔ راسخین جب تاویل کا علم رکھتے ہیں تو لازماً مانتے بھی ہوں گے۔ یوں خبر تکرار محض ہو گی اور قرآن جیسے فصیح کلام میں اس کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

خلاصہ بحث یہ ہے کہ سلیم احمد صاحب کا بیان کردہ مفہوم سیاق و سباق، نحو، اور روایات سلف سب کے خلاف ہے۔ مجھے امید ہے کہ امام رازی، امام مالک،حضرت عبداللہ بن مسعود کا شمار سلیم احمد صاحب کے مستند شارحین میں ضرور ہوتا ہوگا۔ اردو میں شاہ عبد القادر، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا فتح محمد جالندھری اور بہت سے دیگر مترجمین نے یہاں وقف مان کر ہی ترجمہ کیا ہے۔ وقف سے انکار صرف اہل تشیع نے کیا ہے کیونکہ وہ اپنے آئمہ معصومین کے لیے ان کا علم ثابت کرنا چاہتے تھے۔

آیات متشابہات کے متعلق یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ وہ حقیقت معنیٰ کے پہلو سے متشابہ ہوتی ہیں نہ کہ لفظ و معنیٰ کے پہلو سے۔ الفاظ تو عام زبان کے ہی استعمال ہوتے ہیں مگر ان کا تعلق ایسے احوال و حقائق سے ہوتا ہے جو ہمارے تجربے سے ماورا ہوتے ہیں۔ الفاظ کے ذریعے ایک اجمالی تصویر تو سامنے آ جاتی ہے مگر ہم پوری حقیقت کو کامل وضوح کے ساتھ جاننے سے قاصر رہتے ہیں۔ مثلاً جنت کی زندگی، دوزخ کا عذاب، صفات و افعال باری تعالیٰ۔ ان کے مبنی بر حق ہونے کا اجمالی یقین ہوتا ہے، مگر جنت کی زندگی فی الواقع کیسی ہو گی، دوزخ کی آگ اور اس کے عذاب کی شدت کیسی اور کتنی ہو گی، اللہ تعالیٰ کے افعال کس طرح بروئے کار آتے ہیں، اس کی صفات کی صحیح ماہیت کیا ہے؟ ان سوالات کی کامل حقیقت کا علم کسی انسان کے لیے ممکن نہیں۔ اس لیے قرآن حکیم نے راسخین فی العلم کی مدح کی ہے کہ وہ اس اجمال پر قانع، اور تفصیل جاننے کے طالب نہیں ہوتے۔ اس کے بر عکس جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہوتی ہے وہ انہی آیات کو اپنی مطلب براری کا ذریعہ بناتے ہیں۔

وہ تمام گروہ جو متشابہات کی بنا پر مختلف کلامی موشگافیوں میں الجھے ہیں، قرآن حکیم کے صریح ارشاد کے مطابق ان کا شمار ارباب زیغ میں ہوتا ہے۔ وحدت الوجود کی بحث کا تعلق بھی متشابہات سے ہے۔ صوفیا کے متعلق مجھے حسن ظن ہے کہ ابتغاء فتنہ ان کے پیش نظر نہ تھا لیکن وہ تاویل جاننے کے درپے ضرور رہے ہیں۔

سلیم احمد صاحب نے سورۂ حدید کی آیت ھو الاول و الآخر و الظاھر و الباطن وھو بکل شیٍٔ علیم کو وحدت الوجود کی حمایت میں استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ لکھتے ہیں :

’’ قرآن حکیم میں خدا کے جو نام گنوائے گئے ہیں ان میں اول، آخر، اور باطن و ظاہر بھی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر ظاہر بھی اللہ ہے تو پھر کائنات اور اللہ میں کیا فرق ہے۔ بالفاظ دیگر اللہ اول ہے تو کس چیز کا اول ہے اور آخر ہے تو کس چیز کا۔ ظاہر ہے تو کس چیز کا ظاہر ہے۔ ‘‘

ان سوالات کے جواب میں گزارش ہے کہ آنجناب نے آیت کا مفہوم بالکل الٹ سمجھا ہے۔ آیت میں ھو الاول، ھوالظاھر ہے۔ عربی زبان کا یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ اگر جملہ اسمیہ میں دونوں کلمے معرفہ ہوں تو پہلا کلمہ ہی مبتدا ہو گا دوسرا لازماً خبر۔ اس قاعدے کی رو سے یہ مفہوم کسی صورت نہیں لیا جا سکتا کہ ظاہر اللہ ہے۔ اصل معنی ہیں اللہ ظاہر ہے۔ یعنی اللہ ظاہر ہے مگر ہر ظاہر اللہ نہیں۔ منطق کی زبان میں اللہ موضوع ہے محمول نہیں۔ ان دونوں باتوں میں جو فرق ہے وہ سلیم احمد صاحب کے فہم میں نہ آئے تو منطق جاننے والے کسی مستند عالم سے پوچھ لیں۔

اس آیت کی صحیح تفسیر رسول اللہ ﷺ کی ایک دعا میں مذکور ہے، جو حضرت ابوہریرہؓ کی روایت سے مختلف کتب حدیث میں درج ہے۔ دعاؤں سے متعلق یہ یاد رہے کہ ان میں بالعموم روایت باللفظ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

ٓانت الاول فلیس قبلک شییئ، و انت الآخر فلیس بعدک شییئ، و انت الظاھر فلیس فوقک شییئ، وانت الباطن فلیس دونک شییئ۔

’’تو اول ہے پس کوئی چیز تجھ سے پہلے نہیں۔ تو آخر ہے پس کوئی چیز تیرے بعد نہیں۔ تو ظاہر ہے پس کوئی چیز تجھ سے اوپر نہیں۔ تو باطن ہے پس کوئی چیز تجھ سے نیچے نہیں۔

نبی کریم ؐ کی اس تشریح کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ آیت کامل تنزیہ کو بیان کرتی ہے۔ خدا کے اول و آخر ہونے کا یہ مفہوم نہیں کہ وہ سلسلہء موجودات کا پہلا اور آخری فرد ہے۔ بلکہ اول و آخر سے اس کی جہت زمانی کا انکار ہے۔ جو کوئی چیز زمان کے اندر موجود ہو گی تو لازماً کوئی اس سے پہلے ہو گا، کوئی اس کے بعد ہو گا۔ یہاں اول و آخر کا مطلب ہے کہ نہ کوئی اس کا ما قبل ہے اور نہ ما بعد ہے۔ خدا کی ذات زمان سے بالاتر، ازلی و ابدی ہے۔ باقی ہر شے فانی ہے، کل شییئٍ ھالک’‘ الا وجھہ۔ الظاہر و الباطن سے جہت مکانی کا انکار ہے۔ جو کوئی شے مکان کے اندر موجود ہو گی، کوئی اس سے اوپر ہو گی، کوئی نیچے۔ اس لیے خدا کا وجود کسی مکان میں اسیر نہیں۔ وہ ظاہر ہے کہ کوئی اس سے اوپر نہیں، باطن ہے کہ کوئی اس سے نیچے نہیں۔ علیٰ ھٰذا وہ زمانی و مکانی تعینات سے ماورا ہے۔

اگر سیاق کلام پر غور کیا جائے تو معلو م ہوتا ہے کہ آیت ما قبل میں خدا کے احاطۂ قدرت کو بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت میں اس کے احاطۂ علم کا بیان ہے۔ اس لیے اس آیت کا اختتام وھو بکل شیٍٔ علیم کے الفاظ پر ہوتا ہے۔ وہ زمان و مکان سے ماورا ہونے کے باوصف علیم و خبیر بھی ہے۔ سلیم احمد صاحب کو معلوم ہونا چاہئیے کہ آیات کے آخر پر اللہ کی جن صفات کا ذکر ہوتا ہے وہ برائے وزن بیت نہیں ہوتا، نہ محض تبرک کی خاطر، بلکہ یہ قرآن کے استدلال کا ایک اسلوب ہے۔ آیت کے آخر پر جن صفات کا ذکر ہو گا، ان کے حوالے سے آیت کا مفہوم متعین ہو گا۔

آیت کی اس تفسیر سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سلیم احمد صاحب کے اشکال کا آیت کے مضمون سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اشکال پیدا ہوا ہے عربی زبان کے اسلوب سے ناواقفیت کے نتیجے میں۔ اب آنجناب اپنی حمایت میں جتنے بھی حوالے لے آئیں، بہرحال نبی اکرمؐ سے بڑھ کر کوئی حوالہ معتبر نہیں ہو سکتا۔

اب رہ گیا یہ سوال کہ اگر ظاہر بھی اللہ ہے تو پھر کائنات اور اللہ میں کیا فرق ہے؟ اس سوال کے پہلے حصے کا جواب اوپر آ گیا ہے کہ یہ سوال ہی غلط ہے، جہاں تک فرق کا تعلق ہے تو قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ اللہ بدیع السمٰوات والارض، خالق کائنات ہے۔ وہ کائنات کو اپنے ارادے اور مشیت سے عدم سے وجود میں لایا ہے۔ لہٰذا فرق ہے خالق اور مخلوق کا، صانع اور مصنوع کا۔ سلیم احمد صاحب نے تکوین و تشریع کے اختلاف کا سوال بھی اٹھایا ہے۔ لکھتے ہیں :

’’مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ہر چیز کا فاعل حقیقی خدا ہے۔ یعنی مختلف اعمال مختلف واسطوں سے صادر ہوتے ہیں لیکن ان کی حقیقی علت ارادۂ الٰہی ہوتا ہے۔ اب اس کے معنی یہ ہوئے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے سب خدا کی مرضی اور ارادے سے ہو رہا ہے۔ اس میں کفر و ایمان اور خیر و شر کی کوئی تخصیص نہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کفر و ایمان اور خیر و شر دونوں تکوینی طور پر خدا ہی کی مرضی اور ارادے کا نتیجہ ہیں تو ان میں اور تشریع میں اختلاف کیوں ہے اور ان کی بنا پر جزا اور سزا کا کیا جواز ہے۔ ‘‘

اس اقتباس میں مغالطوں کا ایک پیہم طومار ہے۔ سلیم احمد صاحب کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ صورت معاملہ کو غلط طور پر بیان کرتے ہیں اور بنائے فاسد علی الفاسد کے مصداق، چند غلط قسم کے سوالات اٹھا دیتے ہیں۔ وہ جس بات کو مسلمانوں کا عقیدہ قرار دے رہے ہیں، اصلاً جبریہ کا نظریہ ہے۔ ان کا موقف یہ تھا کہ اللہ ہر چیز پر خالق ہے اور انسان مجبور محض ہے۔ اعمال انسان کی طرف مجازاً منسوب ہوتے ہیں۔ جزا و سزا جبر ہے۔ اور شرعی احکام کا مکلف کرنا بھی جبر ہے۔ اس موقف کو اختیار کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اگر بندے کو اپنے افعال کا خالق قرار دیا جائے تو اس سے قدرت خداوندی میں قصور لازم آتا ہے اور یہ استحالہ واقع ہوتا ہے کہ خالق ہونے میں بندے خدا کے شریک ہیں۔ اب اس نظریے کی رو سے ثواب و عتاب، اور احکام شرعیہ کی تکلیف بے معنی ہو جاتی ہے۔ بلکہ عتاب کی صورت میں خدا کا ظالم ہونا لازم آتا ہے کہ وہ ایسے افعال پر سزا دیتا ہے جو فاعل نے اپنی مرضی سے انجام نہیں دیے ہوتے۔

اس کے برعکس معتزلہ کا موقف یہ تھا کہ بندہ اپنی قدرت اور آزادی سے افعال انجام دیتا ہے۔ وہ کسی بات پر مجبور نہیں۔ اضطراری افعال کی کوئی جواب دہی نہیں۔ اطاعت پر ثواب اور انکار پر سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ اس پر اعتراض کیا گیا کہ اس تصور کی رو سے خدا کی قدرت محدود ہو جاتی ہے۔ گویا بندہ خدا کی مشیت کے علی الرغم افعال کی انجام دہی پر قادر ہے۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو یہ اعتراض نافہمی پر مبنی ہے۔ بندے کا افعال کی انجام دہی پر قادر ہونے کا مطلب خدا کی قدرت کو محدود کرنا، یا اسے خدا کی قدرت میں شریک کرنانہیں بلکہ اس کا مفہوم صرف اتنا ہے کہ بندہ خدا کی ودیعت کردہ قدرت اور اختیار کے ذریعے اپنے افعال انجام دیتا ہے۔ اور اسی لیے وہ افعال کے لیے ذمہ دار ہے۔ اشاعرہ نے جبر و قدر کا درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کی۔ ان کا نظریہ ’اکتساب‘کے نام سے معروف ہے۔ ان کے نزدیک بندہ اپنی قدرت کا خالق نہیں۔ جب بندہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس میں قدرت پیدا کر دیتے ہیں،مگر یہ قدرت حادثہ احداث اشیا میں مؤثر نہیں ہوتی۔ فعل کی خالق خدا کی قدرت ہوتی ہے، بندہ صرف کسب فعل کرتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو یہ نظریہ بھی دراصل جبر کا ہی ہے۔ اسی لیے علمأ نے اشاعرہ کے اکتساب کو محالات میں شمار کیا ہے۔

اب سلیم احمد صاحب نے جبر کے اسی تصور کو مسلمانوں کا عقیدہ قرار دیا ہے۔ اس کی رو سے کفر و ایمان، خیر و شر یکساں اور جزا و سزا بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اس معاملے میں مغالطہ کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ خدا کے ارادۂ تکوینی اور ارادۂ تشریعی، امر تکوینی اور امر تشریعی، قضائے تکوینی اور قضائے تشریعی میں فرق کا لحاظ نہیں کیا جاتا۔ ابن تیمیہ نے اپنے رسالہ ’’الفرقان بین اولیاء الرحمان و اولیاء الشیطان‘‘ میں ان کے فرق پر بحث کی ہے۔ میں انہی کی بحث کے چند نکات پیش کیے دیتا ہوں۔

ارادۂ کونیہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا نام ہے جو اس کی مخلوق کے لئے ہوتی ہے اور تمام مخلوقات اس کی مشیت اور ارادۂ کونیہ میں شامل ہے۔ ارادۂ دینیہ وہ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور اسے دین و شریعت قرار دیا ہے۔ یہ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ مختص ہے۔ اس آیت میں امر سے مراد امر تکوینی ہے:

انما قولنا لشيئٍ اذا اردناہ ان نقول لہ کن فیکون۔

جب ہم کسی شے کا ارادہ کرتے ہیں تو اتنا ہی ہمارا کہنا ہوتا ہے کہ اس کو کہتے ہیں ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔

جبکہ اس آیت میں امر سے مراد امر دینی ہے:

ان اللٰہ یامرکم بالعدل و الاحسان و ایتاء ذی القربیٰ و ینھیٰ عن الفحشاء و المنکر و البغی یعظکم لعلکم تذکرون۔

بے شک اللہ تمہیں عدل و احسان اور رشتہ دارں کو دیتے رہنے کا حکم دیتا ہے اور روکتا ہے بے حیائی، برائی اور سرکشی سے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاددہانی حاصل کرو۔

اس آیت میں قضا سے مراد قضائے تکوینی ہے:

اذا قضیٰ امراً فانما یقول لہ کن فیکون۔

جب وہ کسی امر کا فیصلہ کر لیتا ہے تو بس اس سے کہتا ہے، ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے۔

جبکہ اس آیت میں قضائے دینی مراد ہے:

و قضٰی ربک الا تعبدوا الا ایاہ۔

اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ تم عبادت نہ کرو مگر اسی کی۔

ظاہر کہ یہاں قضیٰ سے مراد امر ہے یعنی حکم دیا نہ کہ مقدر کیا۔ یہ امر واقعہ ہے کہ دنیا میں اللہ کے سوا معبودان باطل کی عبادت بھی ہوتی ہے۔ ابن عربی نے یہاں قضٰی کو قدر کے معنوں میں لے کر ہی یہ کہا ہے کہ دنیا میں جو کوئی جس کسی چیز کی پرستش کرتا ہے وہ درحقیقت خدا ہی کی پرستش کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے کہ اس کے سوا کسی اور چیز کی عبادت نہ ہو گی، لہٰذا بت پرست بھی در حقیقت خدا ہی کی عبادت کرتے ہیں۔ تکوین و تشریع کے اس فرق کو ملحوظ نہ رکھنے سے ہی اشاعرہ نے تکلیف ما لا یطاق کا نظریہ پیش کیا۔ ان کے نزدیک ابو جہل و ابولہب کو ایمان کی دعوت دینا تکلیف ما لا یطاق تھی، کیونکہ اللہ کو علم تھا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے، مگر اس کے باوجود انہیں ایمان لانے کی دعوت دی گئی۔

مسئلہء تقدیر میں اصل گھپلا یہ ہے کہ مقدرات کے خیر و شر اور افعال کے خیر و شر میں فرق کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔ مقدرات کا خیر و شر خدا کی طرف سے آنے والی نعمت و نقمت ہے۔ مومن کا عقیدہ ہے کہ ہرنعمت و نقمت خدا کی جانب سے ہے۔ نعمت یعنی زندگی، صحت، مال، اولاد وغیرہ۔ شر یا نقمت آزمائش ہے،موت، بیماری، حادثہ، بھوک، پیاس وغیرہ۔ جہاں تک افعال کے خیر و شر کا تعلق ہے تو اللہ نے کہیں بھی اس شر کو اپنی جانب منسوب نہیں کیا۔ خدا صرف خیر کا خالق ہے، بیدہ الخیر۔ اس نے انسان کو اختیار اور ارادے کی صلاحیت سے سرفراز کیاہے، یہ اس کا انعام ہے۔ لیکن اس انعام کے اندر آزمائش ہے۔ اب شر پیدا ہوتا ہے اس خیر کے سوئے استعمال سے۔ شر کوئی مستقل بالذات حقیقت نہیں، بلکہ خیر کا ظلال اور عکس ہے۔ شر اگر تکوینی حقیقت ہوتا تو انسان سے پہلے بھی کائنات کے اندر اس کا وجود ہوتا، جبکہ ایسا ثابت کرنا ممکن نہیں۔ اب بھی شر کا وجود صرف انسانی اعمال کے دائرے کے اندر ہے۔ جمادات، نباتات، حیوانات، غرض کہ کائنات کے کسی گوشے میں شر کا کوئی وجود نہیں۔ اس کائنات میں شر کے جس اولیں فعل کا ارتکاب کیا گیا وہ ابلیس کا آدم کو سجدہ کرنے سے انکار تھا۔ قرآن کے نزدیک اس انکار کی وجہ حسد تھا۔

انسان کو اختیار اور ارادے کی جو صلاحیت ودیعت کی گئی ہے، وہ اس کی بنا پر مکلف ہے۔ جہاں تک فعل کی انجام دہی کاتعلق ہے وہ توفیق الٰہی پرمنحصر ہے۔ بندہ جب کسی کام کا ارادہ کر لیتا ہے تو خدا اس کے لیے سازگار حالات پیدا کر دیتا ہے۔ اگر وہ کسی بنا پر اپنے ارادہ کو عملی جامہ نہ پہنا سکے، تب بھی وہ آخرت میں ارادۂ فعل کی بنا پر مکلف گردانا جائے گا۔

اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ شر جو افعال سے صادر ہوتا ہے کوئی تکوینی حقیقت نہیں۔ اس لیے تکوین و تشریع میں اختلاف کا کوئی سوال نہیں۔ جزا و سزا کا تعلق تشریعی امور سے ہے۔ انسان اس دائرے میں اختیار اور ارادے کی قوت رکھتا ہے، لہٰذا اپنے افعال کے لیے ذمہ دار، جوابدہ ہے۔

 سلیم احمد صاحب نے محدود اور لا محدود کے باہمی تعلق کے بارے میں بھی چند سوالات اٹھائے ہیں۔ لکھتے ہیں :

’’عقیدہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز محدود اور خدا لامحدود ہے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ لامحدود الگ ہے اور محدود الگ ہے۔ اگر یہ دونوں الگ ہوں گے تو لامحدود بھی محدود ہو جائے گا۔ کیونکہ محدود اسے اپنی حدود میں داخل نہیں ہونے دے گا۔ چنانچہ یہ کہنا پڑے گا کہ لامحدود میں محدود شامل ہے۔ اس بات کو سیدھے لفظوں میں یوں سمجھ لیجیے کہ جہاں آپ بیٹھے ہوئے ہیں بتائیے وہاں خدا ہے کہ نہیں۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ آپ وہاں ہیں اور خدا نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے خدا کو اپنی حد سے باہر رکھ کر محدود کر دیا ہے اور یہ کفر ہے۔ اگر آپ یہ کہیں کہ میں بھی موجود ہوں اور خدا بھی موجود ہے تو یہ شرک فی الوجود ہے۔ تو اب صحیح جواب کیا ہے؟ اس طرح کی ہوتی ہیں وجودی بحثیں۔ ‘‘

کاش اس طرح کی نہ ہوتیں وجودی بحثیں۔ یہ وجودی بحث نری مغالطہ آفرینی ہے۔ مغالطے کا سبب لفظی اشتراک ہے۔ مسلمانوں میں علمائے سلف کا یہ موقف رہا ہے کہ صفات، مثلاً رحم، عدل، تخلیق، حیات، علم، ارادہ، وغیرہ خدا اور انسان میں مشترک ہیں، مگر یہ اشتراک لفظی ہے،معنوی نہیں۔ یعنی انسان جن معنوں میں خالق، عادل، رحیم ہے، خدا ان معنوں میں عادل، خالق اور رحیم نہیں۔ خدا کے بارے میں جب بھی کسی صفت کا اثبات کیا جائے گا تو وہ اس کلیہ کے تحت ہو گا لیس کمثلہٖ شیئ’‘۔ یہ عمومی اصول ہے جس کا اطلاق خدا کے بارے میں کی گئی ہر گفتگو پر ہو گا۔ اب سلیم احمد صاحب جسے شرک فی الوجود قرار دے رہے ہیں وہ در حقیقت اس لفظی اشتراک کو نہ سمجھنے پر مبنی ہے۔ وجود ایک صفت ہے۔ خدا ہے اور انسان بھی موجود ہے مگر ان کے مابین اس لفظی اشتراک سے زیادہ کوئی اور چیز مشترک نہیں۔ خدا بذات خود موجود ہے جبکہ انسان اپنے وجود کے لیے کسی خارجی علت کا محتاج ہے۔ جہاں تک محدود اور لامحدود کے تعلق کا سوال ہے تو خدا محدود کے مد مقابل کے طور پر لامحدود نہیں۔ انسان اس لیے محدود ہے کہ اس کا وجود زمان و مکان کا پابند ہے۔ خدا چونکہ زمان و مکان کے تعینات سے ماوراء ہے، اسے داخل یا خارج سے کوئی چیز محدود کرنے والی نہیں، اسی لیے تنزیہ کے اثبات کی خاطر اسے لامحدود کہا جاتا ہے۔ رہ گئی یہ بات کہ اگر لامحدود محدود سے الگ ہو گا تو لامحدود بھی محدود ہو جائے گا۔ اس صورت میں اس کا نقیض بھی درست ماننا پڑے گا یعنی محدود لا محدود میں شامل ہو کر خود بھی لامحدود ہو جائے گا۔ یہ وہی بات ہے جسے غالب نے قطرے اور دریا کے حوالے سے بیان کیا ہے۔ یا دوسرا نتیجہ یہ نکلے گا کہ محدود لامحدود میں شامل ہو کر اس کے بعض پہلوؤں کی تعیین کر دے گا، اس طرح لامحدود بھی محدود ہو جائے گا۔

وحدت الوجودی مفکرین کا اصل المیہ یہ ہے کہ انہوں نے خدا اور کائنات کے تعلق کو بیان کرتے ہوئے خدا کو بھی نوامیس فطرت پر قیاس کیا ہے۔ اس لیے تخلیق عن العدم کے نظریے کو رد کرکے مختلف توجیہات پیش کی ہیں۔ ان کے نزدیک کسی چیز کا عدم سے وجود میں آنا محال ہے۔ اس لیے خدا کائنات کا خالق نہیں بلکہ کائنات اس سے صادر ہوئی ہے۔ کائنات درحقیقت ذات خداوندی کے امتداد اور توسیع ہی کا نام ہے۔ اس کو ایک مثال سے سمجھ لیں۔ فرض کریں کہ کہیں دور ایک بہت بڑا ذخیرۂ آب ہے جس کے کناروں کا کوئی علم نہیں۔ اس ذخیرۂ آب سے ایک دریا نکلتا ہے۔ وہ دریا ایک طویل فاصلہ طے کرتا ہے۔ راستے میں بہت سی کثافتوں کو بھی سمیٹ لیتا ہے۔ ایک طویل چکر کاٹ کر وہ دریا واپس پلٹتا ہے اور اسی ذخیرۂ آب میں جا کر گم ہو جاتا ہے۔ وحدت الوجود کا خدا اور کائنات کا تصور یہی ہے۔ وہ ذخیرۂ آب اگرچہ اپنی جگہ موجود رہتا ہے، اور ہر حال میں دریا سے زائد بھی ہوتا ہے، مگر دریا نکلتا اسی سے ہے اور اسی میں جا کر گم ہو جاتا ہے۔ یہ صدور اور رجوع کا نظریہ ہے۔ اس کے برعکس قرآن حکیم کا تصور یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ نے کائنات کو عدم سے اپنے ارادے سے تخلیق کیا ہے۔ وہ تخلیق کے لیے کسی پیشگی مواد کا محتاج نہیں، وہ جس شے کا ارادہ کرتا ہے، اسے امر کن کے ذریعے وجود میں لے آتا ہے۔ موجودہ تخلیق کی فنا کے بعد وہ اس کا اعادہ کرے گا۔ قرآن حکیم میں کئی مقامات پر خلق اول اور خلق جدید یا اعادۂ خلق کا ذکر ہے۔ اس خدائے قدیر کے لیے نہ خلق اول کوئی مشکل امر تھا اور نہ اعادۂ خلق کوئی مستبعد امر ہے۔ سورۂ انبیا ء میں ارشاد ہوتا ہے:

کما بدأنا اول خلقٍ نعیدہ ط وعداً علینا ط انا کنا فاعلین۔

’’جس طرح ہم نے پہلی خلقت کا آغاز کیا۔ اسی طرح ہم پھر اس کا اعادہ کریں گے۔ یہ ہم پر ایک حتمی وعدہ ہے۔ بے شک ہم یہ کرکے رہیں گے۔

اب جو کوئی بھی قرآن حکیم پر تدبر کرے گا اسے یہ بات سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ قرآن اور وحدت الوجود کے تصور میں کتنا عظیم بعد ہے۔ سلیم احمد صاحب قرآن پر غور کرنا تو شاید پسند نہ کریں، اس لیے میں انہیں امام غزالی کی کتاب تہافۃ الفلاسفہ کے مطالعہ کا مشورہ دوں گا جس میں امام صاحب نے نظریہء صدور پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس کی لغویت کو بدلائل آشکار کیا ہے۔

سلیم احمد صاحب نے لفظ توحید سے بھی وحدت الوجود برآمد کرنے کی کوشش کی ہے۔ فرماتے ہیں ’’ لغت میں ہے کہ توحید کہتے ہیں کثیر کو واحد بنانے کو، یعنی کثرت کو واحد بنانے کو۔ یعنی لفظ توحید میں وحدت الوجود کا مفہوم چھپا ہوا ہے‘‘۔

ہو سکتا ہے سلیم احمد صاحب کی یہ تحقیق درست ہو مگر انہیں یہ جان کر یقینا صدمہ ہو گا کہ یہ فعل اور نہ ہی اس کا کوئی اشتقاق قرآن حکیم میں کہیں استعمال ہوا ہے۔ البتہ احادیث میں اس کا استعمال موجود ہے۔ وہاں اس فعل کا مفعول لفظ اللہ ہے۔ عربی زبان کا قاعدہ یہ ہے کہ فعل متعدی کے معنوں کا تعین اس کے مفعول سے ہوتا ہے۔ احادیث میں وحدو اللہ کا مفہوم یہ ہے کہ بہت سے خداؤں کو ماننے کے بجائے، الوہیت کو اللہ کے لیے خاص کرتے ہوئے اسے الٰہ مانو۔ کثرت کو واحد کرنے کے معنی تبھی ہو سکتے تھے اگریہ لفظ مطلق استعمال ہوتا۔ احادیث میں یہ لفظ کہیں مطلقاً استعمال نہیں ہوا۔ توحید کا بطور اصطلاح کے استعمال شرک کے مقابل ہوتا ہے نہ کہ کثرت کے۔ سلیم احمد صاحب سے گزارش ہے کہ وہ لغت دیکھنے سے پہلے زبان کا علم رکھنے والوں سے لغت کے استعمال کا طریقہ ضرور سیکھ لیں، وگرنہ لغت سے اکثر لوگ گمراہ بھی ہو جاتے ہیں۔

عسکری صاحب کے تصور روایت پر اعتراض کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا کہ اس کے ڈانڈے وحدت ادیان کے تصور سے ملتے ہیں۔ سلیم احمد صاحب اس پر بہت چراغ پا ہوئے ہیں اور اسے صریح دجل و فریب قرار دیا ہے۔ حالانکہ دوسروں کو الزام دینے سے پیشتر، اگر وہ عسکری صاحب کے استدلال پر غور کر لیتے تو یہ بات ان سے مخفی نہ رہتی۔ عسکری صاحب کے نزدیک مکمل روایتی تہذیبیں تین ہیں، اسلامی، ہندو اور چینی۔ ان میں مابعد الطبیعیاتی اساس یعنی توحید کا تصور مشترک ہے۔ توحید کا یہ تصور اصلاً وحدت الوجود ہے۔ یونانی، یہودی اور عیسوی تہذیبیں اس لیے نامکمل ہیں کہ ان میں وحدت الوجود کا تصور موجود نہیں۔ اسلامی، ہندو اور چینی روایتیں ایک ہی حقیقت کے اظہار کی مختلف شکلیں ہیں۔ ان کے اختلافات بنیادی نہیں ثانوی ہیں، کیونکہ یہ اختلافات حقیقت کے ظہور کے مختلف زمانی و مکانی تناظرات سے پیدا ہوتے ہیں۔ اب چونکہ ایک ہی بنیادی حقیقت نے ان مختلف صورتوں میں ظہور کیا ہے اس لیے یہ تینوں روایتیں اپنی اپنی جگہ برحق ہیں اور حقیقت کی معرفت کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

وحدت ادیان کا تصور اس کے سوا اور کیا ہے کہ تمام ادیان (اپنی موجودہ حالت میں بھی) منزل من اللہ ہیں۔ یہ حقیقت تک وصول کے مختلف راستے ہیں، منزل سب کی ایک ہی ہے۔ آپ جس راستے پر بھی چلیں گے، اسی منزل واحد پر پہنچیں گے۔

ہر قوم راست راہے، دینے او، قبلہ گاہے

سلیم احمد صاحب کے نزدیک عسکری صاحب کا تصور وحدت ادیان کا نہیں، بلکہ یہ ادیان کا سیاسی اتحاد ہے۔ فی زماننا تمام ادیان کو چونکہ مغربی تہذیب کے باطل سے خطرہ ہے اس لیے انہیں متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ قرآن کی رو سے ’’الصراط المستقیم‘‘ صرف اور صرف اسلام ہے،جو اپنی کامل ترین صورت میں حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا ہے۔ تمام ادیان سابقہ اور ان کی شرائع منسوخ ہیں۔ اب قرآن حق و باطل کے لیے فرقان ہے۔ اس صراط مستقیم کے علاوہ ہر راستہ منزل سے دور لے جانے والا ہے۔ لہٰذا باطل باطل ہے،خواہ مشرقی ہویا مغربی۔ نہ حق مشرق و مغرب میں تقسیم ہو سکتا ہے نہ باطل۔ سلیم احمد صاحب اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ایک باطل کو ملاکر دوسرے کو شکست دی جا سکتی ہے تو یہ ان کی سادہ لوحی ہے، کیونکہ اس صورت میں نقصان صرف حق کو پہنچے گا۔ میں اقبال کے الفاظ میں اتنا ہی کہوں گا

باطل دوئی پسند ہے حق لا شریک ہے

شرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول

سلیم احمد صاحب نے مضمون کے آخر میں ایک دلچسپ نکتہ بیان کیا ہے۔ ان کے نزدیک وحدت الوجود ایک عالمگیر تصور ہے جو دنیا کی تمام روایتی تہذیبوں میں موجود ہے اور عالم انسانیت کا کسی بات پر متفق ہونا اس کی صداقت کی دلیل ہے۔ آنجناب کی یہ دلیل بڑی قاطع ہے۔ مگر ان سے ایک سوال پوچھنے کو جی چاہتا ہے۔ جب نبی کریمؐ نے خدا کا دین لوگوں کے سامنے پیش کیا، اس وقت عالم انسانیت کا اتفاق کس بات پر تھا؟ اتنی بات تو وہ بھی تسلیم کر لیں گے کہ اتفاق خدائے واحد کے نام پر تو نہیں تھا۔ اب کیا وہ اتفاق ان کی صداقت کی دلیل قرار پائے گا؟ عالم انسانیت کی کثیر تعداد آج کس با ت پر متفق ہے؟ سلیم احمد صاحب سے گزارش ہے کہ وہ کلیہ بنانے سے پیشتر اس کے نتائج پر غور فرما لیا کریں۔

سلیم احمد صاحب نے اپنے مضمون میں یہ بات بتکرار کہی ہے کہ وحدت الوجود کے مخالفین اپنے علم و فہم کے اعتبار سے ایسے نہیں کہ ان دقیق مسائل پر کلام کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ اب سنجیدہ گفتگو میں ذاتی توتکار اچھی نہیں معلوم ہوتی۔ میں یہ بات تسلیم کرتے ہوئے ان سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ محض کالم نگاری میں مصروف نہ رہیں بلکہ ایک بار وحدت الوجود کا مسئلہ اپنی زبان میں، اپنے دلائل اور مستند حوالوں کی مدد سے بیان کر دیں۔ ’الاعلام‘ کے صفحات اس خدمت کے لیے حاضر ہیں۔ اس کے بعد میں ان کے بیان کردہ دلائل پر گفتگو کروں گا، اور مجھے یقین ہے کہ انہیں اس شکایت کا موقع نہیں رہے گا کہ وحدت الوجود کے مخالفین بات سمجھے بغیر کلام کرتے ہیں۔

ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •