عثمان بزدار پولیس سربراہان سے نالاں کیوں رہتے ہیں؟
تحریک انصاف کی حکومت کے دو سال کے عرصے میں پنجاب پولیس کے پانچ سربراہ تبدیل کیے جا چکے ہیں۔
تحریک انصاف کی حکومت آنے سے قبل پنجاب میں نگران حکومت نے کیپٹن (ر) عارف نواز کو تبدیل کر کے کلیم امام کو آئی جی پنجاب تعنیات کر دیا تھا۔ تحریک انصاف کو حکومت ملتے ہی کلیم امام کو ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ محمد طاہر کو آئی جی پنجاب تعینات کیا گیا لیکن وہ بھی زیادہ دیر نہ رہ سکے۔
اس کے بعد ان کی جگہ امجد جاوید سلیمی کو لایا گیا اور اس کے بعد ایک بار پھر عارف نواز خان کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔ کچھ عرصے بعد انھیں بھی ہٹا کر شعیب دستگیر کو نیا آئی جی پنجاب لگایا گیا۔
شعیب دستگیر کو نو ماہ بعد ان کے عہدے سے ہٹا کر انعام غنی کو آئی جی پنجاب تعینات کر دیا گیا ہے۔
آخر پنجاب حکومت یا وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے صوبے کے پولیس سربراہان سے کیوں نہیں بن پاتی اور اس طرح کچھ عرصے بعد پولیس سربراہ کی تبدیلی پولیس کے محکمے پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے ان سوالات کا جواب تلاش کرنے سے قبل پانچویں آئی جی کی تبدیلی کے پس منظر پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
افسران کی تقرریاں اور تبادلے، پنجاب میں کیا چل رہا ہے؟
پنجاب پولیس کو تجویز کردہ اصلاحات پر کیا اعتراضات ہیں؟
’ضرورت وردی بدلنے کی نہیں رویہ بدلنے کی ہے‘
آئی جی نے کام کرنا کیوں چھوڑ دیا تھا؟
شعیب دستگیر کو کیوں برطرف کیا گیا؟ اس حوالے سے حکومت اور ہٹائے جانے والے آئی جی کے موقف میں تضادات ہیں۔
پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم کوئی افسر لگائیں اور کوئی آ کر کہے کہ یہ نہ لگائیں یہ نہیں ہو سکتا‘ جبکہ خرم دستیگر نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی تعیناتی پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ ان کے ایک بیان سے متعلق وزیر اعلیٰ پنجاب سے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
آئی جی پنجاب کے عہدے سے ہٹائے گئے شعیب دستگیر گریڈ 22 کے افسر ہیں۔ وہ اس کمیٹی کا بھی حصہ تھے جس نے پولیس افسر عمر شیخ کی گریڈ 20 سے 21 میں ترقی کے خلاف سخت رائے دی تھی، جس کے بعد انھیں ترقی نہ مل سکی۔
کچھ ہفتے قبل نیب لاہور نے مسلم لیگ نواز کی رہنما مریم نواز کو طلب کیا تو نیب دفتر کے باہر سیاسی کارکنان اور پولیس کا ٹکراؤ ہوا۔ دونوں اطراف سے پتھراؤ کے الزامات عائد کیے گئے۔ تحریک انصاف کے کچھ رہنماؤں کے مطابق پنجاب پولیس کے سربراہ نے اس معاملے سے سختی سے نہیں نمٹا جس کی وجہ سے حکومت کی بدنامی ہوئی۔
ان رہنماؤں کے مطابق اس واقعے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کے ایک مشیر نے عمر شیخ کا تفصیلی انٹرویو کیا اور ان کا نام لاہور کے نئے سربراہ کے طور پر وزیر اعظم کو پیش کر دیا۔
اس تعیناتی پر مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا۔
تاہم سابق آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کی عمر شیخ سے ناراضگی کی وجہ عمر شیخ کا ایک متنازع بیان تھا۔ شعیب دستگیر نے میڈیا کو بتایا کہ تعیناتی کے بعد لاہور کے نئے سربراہ نے اپنے ماتحت افسران کا ایک اجلاس بلایا اور اس میں کہا کہ وہ ان کی بات پر کان دھریں اور آئی جی کی کسی ہدایت پر عمل نہ کریں۔
شعیب دستگیر کے مطابق انھوں نے اس صورتحال کے بارے میں وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم کو آگاہ کیا اور ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا کہ لاہور پولیس کے سربراہ کے خلاف انضباطی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
عمر شیخ نے آئی جی سے معافی مانگتے ہوئے کہا ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر ان تک پہنچایا گیا ہے۔
شعیب دستگیر منگل کو اپنے دفتر نہیں آئے اور ذرائع ابلاغ کے مطابق مطالبہ کیا کہ جب تک حکومت کی طرف سے عمر شیخ کے خلاف کوئی انضباطی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی تو وہ کام نہیں کر سکتے۔
اس صورتحال کے بعد حکومت نے شعیب دستگیر کو ان کے عہدے سے ہٹا کر گریڈ 21 میں کام کرنے والے ان کے ماتحت پولیس افسر انعام غنی کو پنجاب پولیس کا نیا سربراہ مقرر کر دیا۔
شعیب دستگیر کے ساتھ کام کرنے والے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ سابق آئی جی یہ جانتے تھے کہ جب وہ ایسا کریں گے تو حکومت ان کو ہٹا دے گی جو ان کے لیے ایک ’سیف ایگزیٹ‘ جیسا آپشن ہو گا کیونکہ اب حکومت کا ان پر اعتماد کم ہو گیا تھا۔
انعام غنی کے ماضی پر بات کرنے سے قبل اس سوال کا جواب تلاش کرنا بھی اہم ہے کہ آخر ہر کچھ تھوڑے عرصے بعد پنجاب میں نئے پولیس سربراہ کی ضرورت کیوں پیدا ہو جاتی ہے۔
پولیس سربراہان کی تبدیلی کے محرکات کیا ہیں؟
وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ ان کی پولیس سربراہان سے نہیں بنتی۔ انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ماضی کے تمام پولیس سربراہان سے ان کے اچھے تعلقات رہے ہیں۔
تاہم ان کے مطابق اگر کوئی افسر حکومت سے یہ کہے کہ اس کی مرضی کا افسر تعینات نہیں کیا تو یہ قبول نہیں ہے۔
لاہور کے ایک سینیئر صحافی طاہر ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ معاملہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا نہیں بلکہ وزیر اعظم عمران خان کا ہے جو پورے میچ کی پلاننگ کی بجائے اوور ٹو اوور تبدیلیاں کرتے نظر آ رہے ہیں۔
ان کے مطابق شعیب دستگیر کی تعیناتی کا دفاع کرتے ہوئے عمران خان نے یہ خود کہا تھا کہ انھوں نے دو تین ہفتے تلاش کے بعد یہ تعیناتی کی ہے۔
نئے تعینات ہونے والے آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی نے بی بی سی کے شہزاد ملک کو بتایا کہ ان کی پہلی ترجیح ’رٹ آف دی سٹیٹ‘ بحال کرنا ہو گی۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے کام میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہے تاہم پولیس کو پالیسی دینا تو سیاسی حکومتوں کا ہی کام ہوتا ہے۔
اسلام آباد میں وزارت داخلہ اور تحریک انصاف کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے صحافی عمران مختار کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان خود ماضی میں یہ کہتے رہے ہیں کہ سرکاری افسران کی کسی پوزیشن پر تعیناتی کا ایک عرصہ مقرر ہونا چائیے تاکہ وہ بغیر کسی سیاسی دباؤ کے اپنا کام کر سکیں۔
ان کے مطابق پولیس سربراہ کو جس طرح ان کے عہدے سے ہٹایا جاتا ہے اور حکومت ان کے ساتھ جو رویہ روا رکھتی ہے اس سے پولیس فورس کے حوصلے پست ہوتے ہیں۔
صحافی طاہر ملک اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس طرح پولیس سربراہ کی چھٹی کرا دینے سے اچھا پیغام نہیں گیا۔ ان کے مطابق جب ٹیم کا کپتان ہٹا دیا جاتا ہے تو پھر ٹیم پر اچھے اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ ’جب آئی جی کی اپنی رٹ بحال نہیں ہو گی تو وہ رٹ آف سٹیٹ کیسے بحال کر سکے گا۔‘
ان کے مطابق گورننس ماڈل میں ناکامی میں اب حکومت کنفیوژن کا شکار نظر آتی ہے۔
خیال رہے کہ دو سال میں پنجاب کے تین چیف سیکریٹری بھی تبدیل ہو چکے ہیں۔ اکبر درانی، یوسف نسیم کھوکھر اور میجر اعظم سلیمان وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے ساتھ چیف سیکریٹری کے طور پر کام کر چکے ہیں۔
نئے آئی جی پنجاب انعام غنی کو کن تنازعات کا سامنا رہا؟
انعام غنی کی نئے آئی جی پنجاب تعیناتی کے بعد انھیں سب سے پہلے جس تنازع کا سامنا کرنا پڑا وہ پولیس سروس میں ان کی مدت ملازمت اور گریڈ سے متعلق ہے۔ یہ معاملہ پنجاب میں ایڈیشنل آئی جی کے عہدے پر فائز طارق مسعود یاسین اٹھایا۔ اپنے ایک خط میں انھوں نے حکومت پنجاب کو یہ کہہ کر اپنی ٹرانسفر کی درخواست کی ہے کہ وہ اپنے سے ایک جونیئر پولیس افسر کے ماتحت کام نہیں کر سکتے۔
انعام غنی کے مطابق طارق مسعود ان کے ’بیج میٹ‘ ہیں، تاہم ان کے مطابق اگر کوئی کام نہیں کرنا چاہتا تو بہتر ہے کہ وہ ابھی چلا جائے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان بھی نئے آئی جی پنجاب انعام غنی کے بیج میٹ ہیں۔ انعام غنی کے خاندان کے زیادہ تر افراد سول سروس میں ہیں۔ ان کے ایک بھائی احسان غنی آئی بی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔
انسانی سمگلنگ کے الزامات
ماضی میں انعام غنی آئی بی اور ایف آئی اے میں بھی تعینات رہے۔
جب وہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر تھے تو انھیں ایک انکوائری کا سامنا کرنا پڑا۔ ایف آئی اے کی ایک انکوائری ٹیم نے جس کی سربراہی کیپٹن ریٹائرڈ محمد شعیب کر رہے تھے اپنی رپورٹ میں انعام غنی کو انسانی سمگلنگ کے جرائم کا مرتکب قرار دیا۔
ایف آئی اے کی انکوائری ٹیم نے ایک سال قبل اپنی انکوائری مکمل کر کے وزیر اعظم عمران خان کو بھیجی اور وہ بعد میں اس میں بری ہو گئے تھے۔
ماضی کے ان تنازعات پر انعام غنی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ تمام الزامات سے بری ہو کر اس وقت اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور اب پنجاب پولیس کے سربراہ کے طور پر قانون کی عملداری ان کی ترجیح ہو گی۔
سوشل میڈیا پر رد عمل
نئے آئی جی پنجاب کی تعیناتی پر سوشل میڈیا پر بھی خوب بحث گرم ہے۔
صحافی نسیم زہرہ نے جو خود بھی تحریک انصاف کا حصہ رہیں اس تبدیلی پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے یوں آئی جی کی تبدیلی کو ایک بدقسمتی قرار دیا ہے۔
https://twitter.com/NasimZehra/status/1303320645221130240?s=20
ان کے مطابق ایک ایسے پولیس افسر کو ہٹایا گیا ہے جس کی کارکردگی کو وزیر اعظم نے خود سراہا تھا۔
سینیئر صحافی احمد ولید نے لکھا کہ ’پولیس اصلاحات تو دور کی بات، سارا نظام ہی تلپٹ ہے۔ ایک افسر کا کہنا ہے کہ آئے روز تبادلوں کی وجہ سے کوئی کام نہیں ہو پا رہا۔ بس نئی ٹرانسفر کا انتظار رہتا ہے۔‘
کچھ دن قبل وزیر اعظم عمران خان کا انٹرویو کرنے والے صحافی کامران خان نے اسے طرز حکمرانی پر بڑا داغ قرار دیا اور کہا کہ مسئلہ قیادت کرنے والے کا ہے۔
https://twitter.com/AajKamranKhan/status/1303325333903618049?s=20
خیال رہے کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کامران خان کو انٹرویو دینے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد کامران خان نے نجی ٹی وی پر ان پر یہ کہہ کر کڑی تنقید کی تھی کہ انھوں نے وقت دے کر نہ آ کر دراصل ان کے ساتھ وعدہ خلافی کی۔
وزیر اعظم کے ایک ترجمان شہباز گل نے ٹوئٹر پر نئے آئی جی پنجاب کو مبارکباد دی تو پھر بحث سیاسی رخ اختیار کرتی نظر آئی۔
https://twitter.com/SHABAZGIL/status/1303304621880995843?s=20
انھوں نے مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگزیب کی ایک ٹویٹ پر جواب دیتے ہوئے انھیں پتھروں والی سرکار قرار دیا۔
صحافی حامد میر نے ٹویٹ کیا کہ دو سال میں پانچواں آئی جی بدل گیا ذرا سوچیئے نئے آئی جی کی رٹ قائم ہونے میں کتنا عرصہ لگے گا؟


