روبی بریجز: چھ سالہ سیاہ فام بچی جس نے امریکہ کی تاریخ بدل دی
چودہ نومبر 1960 ء امریکہ کی تاریخ کا یادگار دن تھا جب امریکی ریاست لیوزیانا کے شہر نیو آرلینز میں واقع ولیم فرنٹز ایلیمنٹری کے باہر کم از کم دو سو افراد کا مشتعل ہجوم جو والدین اور اس اسکول کے کمسن بچوں پہ مشتمل تھا اسکول کے باہر احتجاجی نعرے لگا رہا تھا۔
ٹو فور سکس ایٹ ۔ ۔ ۔ وی ڈونٹ وانٹ ٹو انٹیگریٹ
two four six eight، we don ’t want to integrate
ان کا کہنا تھا کہ ان کے بچے کسی نگر یعنی کالے بچے کے ساتھ نہیں پڑھیں گے۔ ان لوگوں کے ہاتھوں میں نفرت انگیز نسلی تعصب کے بینرز تھے۔ وہ اس بچی کو جان سے مارنے، پھانسی لٹکانے اور کھانے میں زہر دینے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ کچھ عورتیں توننھے سے لکڑی کے تابوت میں سیاہ فام گڑیا کا جنازہ بھی اٹھائے ہوئے تھیں۔ لوگوں کے ہاتھ میں جو چیزیں بھی تھیں وہ مشتعل ہوکر اس کی جانب پھینک رہے تھے جیسے وہ بچی انسان نہیں پتھر کی دیوار ہو۔
دراصل ان تمام لوگوں کے اشتعال کا نشانہ ایک چھ سالہ بچی تھی جو چار یو ایس فیڈرل مارشلز کے حفاظتی حصار میں بغیرمڑے، اسکول کہ جانب چلتی جارہی تھی۔ اس کو یہی ہدایت تھی کہ کسی کی طرف مت دیکھنا بس آگے بڑھتی رہنا۔ اس بچی کا نام تھا روبی بریجز۔ گلابی فراک میں ملبوس سر پہ ربن لگائے اور ہاتھ میں اپنا لنچ بیگ اٹھائے اپنی ماں کے ساتھ تیز قدم اٹھاتی پہلی جماعت کی ننھی طالبہ جس کا قصور یہ تھا کہ اس کی جلد کی رنگت کالی تھی۔
روبی غریب مگر انتہائی محنتی اور خود دار ایفرو امریکی والدین کی بیٹی تھی۔ جس کا داخلہ بورڈ کے بہت مشکل داخلے کے امتحان جس میں کسی سو بچوں نے شرکت کی تھی، میں کامیابی کے بعد اپنی قابلیت کی بنیاد پہ اس اسکول میں ہوا تھا جو صرف سفید فام بچوں کے لیے تھا اور وہ اس اسکول میں داخلہ پانے والی پہلی سیاہ فام لڑکی تھی۔ اس کے داخلے کے فیصلہ کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ اسکول میں پہلے دن اس کی آمد کی صبح جب والدین کو اس کے داخلے کا علم ہوا تواسکول کے پانچ سو بچوں کو ان کے والدین نے کورٹ کے اس نسلی مخلوط تعلیم کے فیصلہ کے خلا ف اسی دن احتجاجاً اسکول سے نکال لیا۔ وہ اس فیصلے سے ہرگز متفق نہیں تھے اور یہ سارا ہنگامہ اسی احتجاج کی کڑی تھا۔
1960 ء کی دھائی میں امریکہ میں لسانی تفریق کا دور دورہ تھا۔ اس سے قبل 1896 میں امریکی عدالت عالیہ نے پلاسی بالمقابلہ فرگوسن کے مقدمہ کے بعد کالے اور گوروں کی تفریق کو قانونی طور پہ رائج کیا تھا۔ پھر بدنام زمانہ جم کروز لاز نافذ ہوا کہ جن کے تحت رنگت کی بنیاد پہ اداروں کی تفریق ہوئی کہ سفید اور سیاہ کو برابر کے حقوق تو ملیں مگر دونوں علیحدہ ہوں۔ جو پانی کے نلکوں کے استعمال سے لے کر تعلیمی اداروں میں داخلہ پہ قانونی طور پہ لاگو تھا۔
اس تفریقی رویہ کو براؤن بالمقابلہ بورڈ آف ایجوکیشن آفٹوپیکا میں چیلنج کیا گیا۔ اس طرح 1954 ء میں امریکی عدالت عالیہ نے فیصلہ دیا کہ اسکولوں میں تعلیم کے حصول کے لیے کالے اورگورے طلبہ کے درمیان تفریق اور داخلہ کی منادی غیر قانونی ہے اور یہ حکم جاری ہوا کہ لازما سفید فام بچوں کے اسکولوں میں ڈی سیگریگیشن یعنی نسلی تفریق کے بغیر داخلے دیے جائیں۔ اس سلسلے میں بورڈ آف ایجوکیشن نے پہلی جماعت میں داخلے کے لیے سخت امتحان تیار کیے تاکہ کم سے کم بچے کامیاب ہوسکیں۔
کئی سو میں سے کل چھ بچوں نے اس امتحان کوپاس کیا۔ جن میں روبی کا شمار بھی تھا۔ ان چھ میں سے تین کو کسی دوسرے اسکول ڈسٹرکٹ کے لیے چنا گیا اور تین کو ولیم فرنٹزایلیمنٹری کے لیے۔ سفید فام لوگوں کے ڈر سے دو بچوں کے والدین نے تو اپنے بچوں کو اسکول جانے سے روک دیا لیکن روبی کے والدین نے اس خطرہ کو مول لیا۔
روبی کے والدین غریب لیکن بہت محنتی تھے۔ اور مقامی اداروں کے دفاتر میں صفائی ستھرائی کا کام کرتے تھے۔ اس وقت ان کے چار بچے تھے۔ روبی کی پیدائش 8 ستمبر 1954 ء میں ٹیلر ٹاؤن مسسی سپی میں ہوئی تھی لیکن جب وہاں کاشتکاروں کے ہاتھوں کی جگہ مشینوں نے لے لی تو اس کے والدین نوکری کی تلاش میں مسسی سپی سے نیو آرلین منتقل ہو گئے۔ جہاں دونوں میاں بیوی محنت سے نوکری کرتے تاکہ بچوں کو وہ تعلیم دے سکیں جس سے وہ خود محروم تھے۔ انہوں نے بچوں کو انسانی قدریں دیں۔ ان کاگھرانہ باقاعدگی سے چرچ جاتا تھا۔ جہاں سماجی سپورٹ کا ایک نظام قائم تھا۔ جب روبی کا داخلہ ہوا تو پوری کمیونٹی نے مبارکباد کے ساتھ اپنے بھر پور تعاون کا اظہار کیا۔
روبی کا نیا اسکول اس کے گھر سے محض پانچ بلاک دور تھا۔ جس دن روبی کو اسکول جانا تھا اس صبح سویرے روبی کے دروازہ پہ دستک ہوئی۔ دروازہ پہ چار گورے باوردی فیڈرل مارشلز افسر زتھے۔ ان کے لباس پہ ان کے بیچ لگے ہوئے تھے۔ یہ پولیس افسر صدر آئزن ہاورکے حکم پہ روبی کی حفاظت کے لیے حفظ ماتقدم کے طور پہ تعینات کیے گئے تھے۔ کیونکہ مقامی اور ریاستی پولیس نے روبی کی حفاظت سے انکار کر دیا تھا۔ اب چونکہ اسکولوں میں مخلوط نسل کے بچوں کی تعلیم قانونا لازمی قرار دے دی گئی تھی، اس بات کاخدشہ غالب تھا کہ اسکول میں ایک سیاہ فام بچی کے داخلہ پہ ہنگامہ ہوگا۔ لہٰذا روبی اور اس کی ماں کو پولیس کی گاڑی سے اترنے کے بعد پوری حفاظت کے ساتھ اسکول کے اندر پہنچایا گیا اور یہ پولیس پورے دن اس کی حفاظت کے لیے وہیں اپنا فرض انجام دیتی رہی۔
اسکول میں روبی کا استقبال محبت سے ایک دلکش اور نرم لہجہ والی پہلی جماعت کی استانی مسز بار برا ہنری نے کیا۔ اتفاق سے یہ ان کا بھی ملازمت کا پہلا دن تھا۔ وہ بوسٹن کی تعلیم یافتہ تھیں اور وہیں رہتی تھیں۔ جب ان کو ولیم فرنٹز ایلیمنٹری سے نوکری کی پیشکش ہوئی تو انہوں نے بہت خوشی سے اس اسکول کی ملازمت کو قبول کیا۔ کیونکہ وہ نسلی تفریق کے رویہ کے خلا ف تھیں جبکہ اس کے برعکس اس اسکول کی تمام اساتذہ نے سیاہ فام طلبا کو پڑھانے سے انکار کر دیا تھا۔
روبی کا داخلی تعصب کے سمندر میں پہلا کنکر تھا۔ روبی کا تعلیمی سال کا پہلا دن احتجاجی ہنگاموں کی نذر ہوگیا اور بجائے کلاس روم کے وہ پرنسپل کے دفتر میں بیٹھی رہی۔ پھر جب چھٹی کا وقت آیا تو بقول روبی۔ ”میں سمجھی تھی میں نے اتنا اچھا کیا تھا کہ میرا داخلہ بجائے اسکول کے کالج میں ہو گیا ہے۔ میں نے سوچا، واہ کالج تو بہت آسان ہوتا ہے“ اسے لگا یہ اسکول نہیں کالج ہے۔ ۔ ۔ پولیس مارشلز روبی کو لینے اورگھر پہنچانے کے ذمہ داری پہ مامور رہے۔ جو انہوں نے پورے سال نبھائی۔
روبی کی تعلیم کا سلسلہ پہلی جماعت کے ایک ایسے کمرے میں ہوا جہاں بچوں کے بغیر خالی ڈیسک تھے۔ اس کلاس میں صرف روبی اور اس کی بھر پور مسکراہٹ اور محبت اور محنت سے پڑھانے والی ٹیچر مسز ہنری تھیں۔ جو اسے انگریزی، حساب، آرٹ، جم، فونکس سکھانے کے ساتھ ڈھیروں کہانیاں بھی سناتیں۔ روبی کے متعلق انہوں نے کہا ”اس کا (روبی) مسکراتا چہرہ اورخوبصورت براؤن آنکھیں۔ بھلا آپ کیسے نہ اس سے پیار کریں“ ۔ روبی نے کبھی کسی گوری ٹیچر سے نہیں پڑھا تھا۔ گو باہر تمام سفیدلوگوں کا ہجوم اس کے خلاف ہر روز نفرت سے نعرے لگاتا اور زہر سے مارنے کی دھمکی دیتا، مردوں کے ڈھانچے کا پوسٹر اٹھائے۔ مگریہ سفید عورت کتنی محبت اور گرمجوشی سے اسے پڑھاتی ہے۔ وہ محنت سے پڑھتی اور اسے اتنا اچھا لگتا کہ پورے تعلیمی سال میں اس نے ایک دن بھی ناغہ نہ کیا۔
اپنے خلاف پہلے دن ہونے والے احتجاجی ہجوم کا تجربہ روبی اس طرح بتاتی ہیں ”مجھے لگا کہ یہ مارڈی گراس (ایک تہوار) کے میلے کی پریڈ ہے اور لوگ میرے لیے خوشی سے ہاتھ ہلا رہے ہیں“ ۔ لیکن جلد ہی روبی کو اندازہ ہوگیا کہ یہ لوگ اس کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں اور اس کو زہر دینے کی بات کر رہے ہیں۔ ذہنی صدمہ اورکھانے میں زہر کی ملاوٹ کے خوف سے اس نے لنچ کے وقت کھانا کھانے کے بجائے اسے کہیں چھپا دیا کرتی تھی۔ روبی کی ذہنی صحت کے لیے امریکہ کے قابل نفسیات دان رابرٹ کولس نے اپنی خدمات پیش کیں۔
جو بچوں کی نفسیات کا ماہر تھا۔ اس کا قابل قدر اور اہم کام نسلی طور پہ علیحدہ کی جانے والے بچوں کی نفسیات پہ تھا۔ وہ اس نسلی تفاوت کے رویے کا مخالف تھا۔ وہ ہر ہفتے روبی کے گھر جا کر اس کے ساتھ وقت گزارتا اور اس کے نفسیاتی رویے کا مشاہدہ کرتا۔ وہ روبی کے رویہ کی مضبوطی اور نارمل نفسیات پہ بہت حیران ہوتا۔ ایک دن روبی کی ٹیچر نے رابرٹ کو بتایا کہ ایک صبح اسی مشتعل ہجوم کے درمیان سے گزرتے ہوئے روبی کچھ لمحہ کو رکی اوراس نے منہ ہی منہ میں کچھ کہا۔
اس کی ٹیچر نے کلاس روم کی کھڑکی سے یہ منظر دیکھا تو متفکر ہوکے اس کا ذکر رابرٹ سے کیا۔ جب رابرٹ نے روبی سے پوچھا کہ وہ کیا کہہ رہی تھی تو روبی نے بتایا وہ اس صبح اپنی معمول کی دعا کرنا بھول گئی تھی لہٰذا رک کے وہ دعا پڑھ رہی تھی۔ رابرٹ کو حیرانی ہوئی کہ ہر صبح اور دوپہر جو مجمع اس کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگاتا ہے اور جس نے اس کا بائیکاٹ کیا ہے وہ ان کے لیے کیا دعا مانگ رہی ہے۔ روبی نے کہا وہ روز دعا مانگتی ہے۔
”پیارے خدا! پلیز ان کو معاف کردیں۔ وہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں“ ۔ یہ دعا اسے اس کے والدین اور چرچ کے منسٹر نے سکھائی تھی۔ جب رابرٹ نے کہا کہ ”وہ لوگ تو تمھارے ساتھ اتنے برے ہیں“ ۔ تو الٹا روبی نے سوال کیا۔ ”کیا آپ نہیں سمجھتے کہ ان کو دعا کی ضرورت ہے؟“ رابرٹ نے کہا۔ ”میں اس انتہائی غریب گھر کے کچن کی میز پہ بیٹھا سوچ رہا تھا کہ ایک طرف ایک غریب گھر کی لڑکی جس کا گھرانہ انتہائی پسماندہ اور جاہل تھا اور ادھر وہ ہجوم جو پڑھا لکھا اور امیر تھا۔ پھر میں نے مزیداس سے کچھ نہ پوچھا“ ۔
گو اگلے ہفتے سے آہستہ آہستہ کچھ بچے کلاس میں آنے لگے مگر پرنسپل نے روبی کو کلاس روم تک ہی محدود رکھا۔ اسے کینٹین یا پلے گراونڈ پہ جانے کی اجازت نہ تھی۔ ان آنے والے بچوں کے والدین اپنی جان کا رسک لے کر اپنے بچے بھیج رہے تھے۔ روبی کے داخلے کی وجہ سے اس کے والد کو نوکری سے نکال دیا گیا تھا۔ انہیں مالی مسائل کا سامنا تھا تاہم ان کی کمیونٹی کی سپورٹ کی وجہ سے ان کو یہ مشکلات جھیلنے میں قدرے آسانی ہوئی۔
تعلیمی سال کے اختتام پہ والدین کے احتجاج میں کمی آتی گئی اور اب روبی کو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت مل گئی تھی۔ نیا سال آیا مگر اس سال اس کی پسندیدہ ٹیچر مسز ہنری حاملہ ہونے کے سبب واپس بوسٹن جا چکی تھیں۔ ایلیمنٹری اسکول کے بعد آگے بھی روبی کی تعلیم کا سلسلہ جاری رہا۔ اس نے گریجویشن کے بعد کنساس سٹی بزنس اسکول سے ٹریول اور ٹورزم میں ڈگری حاصل کی اور ملازمت شروع کی۔
1984 ء میں شادی کے بعد روبی کے چار بچے ہوئے اور اس کی توجہ ان کی تربیت پہ رہی۔ 1996 ء میں امریکہ کے مشہور اوپرا شو میں چھتیس سال بعد اس کی ملاقات اپنی پسندیدہ ٹیچر باربرا سے ہوئی۔ یہ ان دونوں ہی کے لیے ایک انتہائی پرمسرت اور جذباتی موقع تھا۔ روبی کا کہنا تھا کہ اس نے اپنی ٹیچرکے رویہ سے یہ سیکھا کہ ”آپ کسی شخص کو اس کی رنگت کی بنیاد پہ نہیں پرکھ سکتے“ ۔ وہی پیغام جو ہمیں مارٹن لوتھر کنگ کی مشہور تقریر ”آئیہیو اے ڈریم“ میں ملتا ہے ”۔ روبی بریجز نے 1993 ء سے اسکول میں بطور والنٹئیر کام شروع کیا۔ وہ ملک کے اسکولوں میں جاکر اپنے تجربہ کو بطور اسپیکر سناتی ہے۔ روبی بریجز کی زندگی پہ 1998 ء میں ڈیزنی پروڈکشنز نے فلم بنائی۔
1999 ء میں اس نے روبی فاؤنڈیشن کا آغاز کیا۔ جس کے منشور کے مطابق ”نسلی تفریق بڑوں کی بیماری ہے اور ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کی مدد سے اسے بڑھنے سے روکیں“ ۔ اپنے کاموں سے وہ معاشرے میں، خاص کر بچوں میں تحمل اور یکجہتی کا پیغام دیتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ”ہر بچہ ایک صاف دل کے ساتھ دنیا میں آتا ہے“ ۔ روبی کی سوانح عمری 1999 ء میں شائع ہوئی۔ شہری حقوق کی تحریک کے مشہور آرٹسٹ نارمن راکویل نے 1963 ء میں روبی کی مشہور پینٹنگ بنائی جس میں وہ مارشلز کی حفاظتی تحویل میں اپنی کتابیں اٹھائے چل رہی ہے اور اس کے ایک جانب دیوار پہ سرخ ٹماٹر اور اس کی پچکاری کی سرخی نمایاں ہے۔ یہ تصویر جو وائٹ ہاؤس کی زینت بھی بنی ہے اس پیغام کو دیتی ہے کہ نسلی بنیادوں پہ تفریق کے خلاف جو کام روبی نے علم کی جوت جلا کے شروع کیا تھا وہ آج بھی علم و آگہی اور روشن فکر کی الاؤ کا منتظر ہے جو تعصبات سے پھیلے اندھیروں کو فنا کرسکے۔










