جمیکا کا پیٹرک اور چین


رات کا پچھلا پہر تھا کہ تیس ہزار فیٹ کی بلندی پر کافی کی طلب ہوئی۔ اب یاد نہیں کہ دست دعا بلند کرتے میں ہمارا ہاتھ کال بیل سے ٹکرایا تھا کہ کافی کی طلب تھی۔ جیف بیزو جیسے مالدار (ایمزن والے اور فوربز میگیزین کے مطابق امریکی تاریخ کے سب سے مالدار فرد) یا برازیل کے ماڈل Marlon Teixeira جنہوں نے بہت دھوم مچا رکھی ہے جیسےجوان نہ سہی اپنے کپتان جیسے ہی ہوتے تو خوش گمانی یہ ہوتی کہ دل کے ہاتوں مجبور ہوکر آئی ہے۔ سر پر بلند بلب بند کیا تو لگا روشن بلب کی وجہ سے آمد ہوئی ہے۔ ہماری تائیوان والی فضائی میزبان Su-Wei نے پوچھا کہ جاگتے ہو؟۔ کافی لائی تو سامنے ہی خالی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ بے چاری چین سے بہت ڈری ہوئی تھی۔

ہم نے پوچھا تائیوان کیسا ملک ہے؟ جواب تھا "خوف زدہ”۔ ہم ہانگ کانگ اور سنکیانگ کے ایغور مسلمانوں کے حشر سے ڈرتے ہیں۔ ہم چھوٹا سا ملک ہیں۔ ہمارا ایک اور بھی مسئلہ ہے۔ ہانگ کانگ ان کا علاقہ تھا سو ان سے مل گیا ہے اور ہم ان سے لڑ بھڑ کر جدا ہوئے ہیں۔ ہم پر ان کا غصہ زیادہ ہوگا۔ چین کا ویسے تو مزاج ہمارا والا ہی ہے مگر جب سے وہ مائوزے تنگ اور دوسرے مطلق العنان لوگوں کے زیر حکمرانی رہے۔ اس وجہ سے ان کا مزاج بہت پر فریب، خود کو سینت سنبھال کر رکھنے ولا، مالی حرص سے لتھڑا ہوا، تہہ دار اور آسانی سے سمجھ میں نہ آنے والا ہوگیا ہے۔ چینی کہتے ہیں راجہ کا مزاج ہی جنتا کا مزاج ہوتا ہے۔ جب کہ ہم سادہ مزاج لوگ ہیں۔ ہماری صدر بھی بہت تعلیم یافتہ اور ھکہ اقلیت کی ہے، پہلی خاتون صدر ہے۔ امریکہ کی صحبت میں ہم نے ان کے بود باش کے بہت سے انداز اپنا لیے ہیں مگر ہمارے ہاں شو آف کرنے کا مرض نہیں جو چین میں عام ہے۔

کوورنا کے ایام میں ہمیں پہلی دفعہ احساس ہوا کہ چین تو امریکہ کے برابر کی طاقت ہے۔ گو ہم جانتے ہیں امریکہ سے چین مقابلے میں بہت پیچھے ہے۔ ہم نے جانچ لینے کی خاطر متبادل بیانیہ پکڑا۔ چین عظیم ملک ہے۔ اسے بندے مارنے مروانے ہوں تو کوئ اہم مسئلہ نہیں۔ ان کے دو انقلابات میں چالیس لاکھ بندے پھڑک گئے، انڈونیشیا میں تین لاکھ بندہ چینی مرگیا۔ ان کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ کہنے لگی اب چینیوں کو بھی جینے میں مزہ آنے لگا ہے۔ سو مرنے سے امریکیوں کی طرح ڈرتے ہیں۔ رک رک کر بات کرتی ہے۔ بہت دیر تک بے اعتباری سے نگاہیں جما کر رکھتی ہے۔ کہنے لگی تم پہلے پاکستانی مرد ہو جس سے میں نے بات کی ہے۔ دل میں آیا کہ تجویز دیں ہم باہر ٹیکسی اسٹینڈ پر انتظار کریں گے۔ چل کہیں بھاگ جائیں جہاں پیار ہی پیار ہو۔ گفتگو سنجیدہ اور عمر پختہ تھی، سو اسے نابینا مرد کا اندھیری رات میں خواب جان کر موضوع پر پلٹ گئے۔ ہم نے چین کی جو تعریف کی تھی سو امریکہ کے طفیلی تائیوان کی Su-Wei پلٹ کر پوچھنے لگی

‘میں تم سے پوچھوں کہ تم نیویارک میں رہنا پسند کرو گے کہ شنگھائی میں۔ ہم نے کہا یہ سوال الان بطور منگولیا میں 1258 عیسوی میں پوچھا جاتا کہ ہم یہاں رہنا پسند کریں گے کہ بغداد میں۔ تو جواب اس وقت بغداد ہوتا۔ ہلاکو رہتا تو منگولیا میں تھا مگر اس کی نگاہیں بغداد کے مال و دولت پر تھیں۔ بابر کو فرغانہ اور کابل بہت پسند تھے مگر راج پاٹ اس نے دہلی آن کر جمایا۔

ہم نے پوچھ لیا کہ تیری طرف بھی کوئی ریاست مدینہ ہے یا اللہ کا انعام صرف ہم پاکستانیوں پر ہی ہے۔ سو وائی نے ہمارے سوال کے جواب میں بتایا کہ ان کے ہاں صدارتی نظام ہے اور ان کی صدر جو ایک ماہر قانون اور امریکہ سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والی Tsai Ing-wen ہیں۔ یونی ورسٹی میں پروفیسر تھیں۔ وہ پچھلے چار سال سے صدر ہیں اور امریکہ کے بہت قریب مانی جاتی ہیں۔ ٹرمپ سے بہت خصوصی مراسم ہیں۔ ہمارے پچھلے صدر چین کے قریب تھے۔

ہم نے کہا اگر کبھی لیڈر شپ کا بحران ہو تو ہمارے پاس تین ایسے عظیم لیڈر ہیں جنہیں تمہارے عوام فوراً اپنا صدر بنا سکتے ہیں۔ اس میں ایک تو دو چار ہاتھ لب بام رہ گیا والے ملتان کے پیر قریشی ہیں۔ ایک لاہور کے برادر یوسف ہیں اور ایک جوانی میں بیوہ ہو جانے والے مری کے عباسی ہیں۔ انہیں پاکستان زر مبادلہ کمانے کےBuy one- Get two free کے تحت ایکس پورٹ کرنا چاہتا ہے۔ جھونگے میں شیخ رشید بھی دے دے گا جس کے تعلقات کی وجہ تم کو پنڈی میں گیٹ نمبر چار پر سیلوٹ مار کر سیدھا بڑے صاحب کے پاس لے جائیں گے۔ ذہین تھی۔ پوچھنے لگی پیکج ڈیل بتائو۔ ان کو ملک میں در آمد کرنے کا کیا فائدہ ہوگا۔ ہم نے کہ ان کی اتنی اولادیں ہیں کہ آئندہ پانچ سو سال تک تائیوان میں لیڈر شپ کا بحران نہیں ہوگا۔ تمہارے ہاں بس دو پارٹیاں اور ایک دشمن ہے۔ ہمارے ہاں جتنے دشمن ہیں اتنی پارٹیاں ہیں۔

اس کی سپروائزر نے بلایا تو وہ اس مکالمے کو ادھورا چھوڑ کر چلی گئی۔

جمیکا کا پیٹرک جو ساڑھے چھ فیٹ کا ہے اور ہمیشہ ہمیں اپنی کار میں نیویارک ایئرپورٹ لینے آتا ہے۔ وہ بھی کھلم کھلا چین کی مخالفت پر اترا ہوا تھا۔

پیٹرک کا غصہ یہ تھا کہ ٹرمپ نے چین سے کیوں پنگا لے لیا ہے۔ پیٹرک ہینڈ سم ہے۔ امریکی اداکار ڈینزل واشنگٹن جیسا۔ دو ٹرپ پہلے کچھ ٹپ دی تھی۔ تب سے ہمیں ینگ مین کہتا ہے ہماری بیگم کو خالہ اماں کہتا ہے۔ یہ لفظ اس نے نیویارک میں اپنے کان پور کے کسی ہندوستانی دوست سے سیکھا تھا۔ پیٹرک کی چنتا یہ ہے کہ امریکہ میں روز مرہ کے استعمال کا سامان کہاں سے آئے گا۔ پیر ایکسلریٹر سے ہٹا کر کہنے لگا "میرا جوگر ہر چھ مہینے میں پھٹ جاتا ہے”۔ ہم نے کہا” تو ریت روڑی کے موزے پہنتا ہے کیا؟ کہنے لگا میرا بڑا انگوٹھا بہت وائڑہ ہے۔ سب سے پہلے جوتا وہیں سے برباد ہوتا ہے۔ سوچ رہا ہوں دو تین درجن جوڑے لے لوں کیا پتہ چین سے جوتے آنا بند ہو جائیں۔ ہم نے کہا تو فکر مت کر، نایکی اور آئیڈی ڈاس پاکستان میں فیکٹری ڈال لیں گے۔

اپنے ملک کے سربراہان کے بارے میں شکوہ کرتے ہوئےسیکرٹری خارجہ پومپیو کے لہجے میں کہہ رہا تھا ہمeasy money from places like China” قبول کررہے ہیں۔ جمیکا پر چین کی خصوصی عنایت ہے۔ وہاں انہوں نے ایسے ہائی ویز بنا دیے ہیں جن پر مقامی افراد تو سفر نہیں کرتے مگر ٹیکس ان سے مانگا جاتا ہے۔ جس طرح اورنج ٹرین اور جنگلہ بس کا قرضہ دادو اور بھاولپور کا ہاری بھی دے رہا ہے۔ اس طرح کی غیر ضروری تعمیرات سے ہماری کمر ٹوٹ گئی ہے۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ یہ اپنے مزدور اور انجنیئر بھی ساتھ لاتے ہیں۔ ہماری معدنیات پر قبضہ کر رہے ہیں۔ ہماری عورتیں بھی لے جارہے ہیں۔ جن عورتوں کی چینی مردوں سے شادی ہوگئی ہے وہ ناچنا اور خوش رہنا بھول گئی ہیں۔

پچھلے دورے میں ہم نے اس سے ڈیمی مور کی فلم Indecent Proposal پر بات کی تھی۔ سن 1993 کی فلم نے بہت اودھم مچایا تھا۔ ایک شادی شدہ جوڑے کو جب ایک رات کی بیوفائی کی قیمت ایک لاکھ ڈالر آفر ہوتی ہے تو بیوی میاں کی ترغیب پر بھائو دینے والے مرد سے جنسی تعلق پر رضامند ہو جاتی ہے۔ ہم نے کہا تم تو مافیا کے گڑھ میں رہتے ہو۔ تم نے گاڈ فادر ڈان ویٹو کارلیونے کا وہ قول نہیں سنا "I will make him an offer he can’t refuse.”

اتنے بڑے سرمائے کی پیشکش کو نہ کہنا غریب حسین عورت اور غریب وسائل سے مالا مال ملک کے لیے ناممکن ہوتا ہے۔ سیاست دان، فوجی جرنیل، جج اور افسر اپنے عہدوں پر تین سے سات برس کے لیے ہوتے ہیں جب ایسی بڑی آفر ہوتی ہے تو وہ یہ سوچتے ہیں کہ مال بنانے اور پٹزا کھانے اور بیچنے کا اس بہتر موقع شاید پھر نہ ملے۔ ہمارے ہاں بھی سنگترہ ریل اور دیگر منصوبوں سے ہمارے اپنے بڑوں نے ایسا ہی کھیل کھیلا ہے۔ ٹونگا، جبوتی، کرغزستان، سری لنکا، گیمبیا۔ کمبوڈیا، نائیجر منگولیا، کس کس کا نام لیں لہذا جمیکا کے ساتھ جو ہو رہا اسےIndecent Proposal سمجھو۔ پہلے یہی کام برطانیہ امریکہ اور روس کرتے تھے۔ ان کی کارپوریشنز نے نائیجریا اور مڈل ایسٹ کا برا حال کر دیا۔ چینی چونکہ ہر وہ شے جس کی کمر آسمان کی طرف ہو کھا جاتے ہیں، سوائے ٹیبل کے، سو تم کو برے لگتے ہیں۔ پیٹرک نے دوسرا پیر بلند کیا تو ہمیں لگا کہ کوئی مسئلہ ہے کہنے لگا ” تمہاری باتیں سن کر میرے دوسرے جوتے میں بھی سوراخ ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے”۔

ہم نے سجھائونی دی کہ عورتیں بچائو۔ باقی کی خیر ہے۔ کرکٹر کرس گیل کو تو انڈین پریمر لیگ میں بھارت سے اور تجھے برونکس سے کوئی کالی مل جائے گی۔ چینی سب عورتیں لے گئے تو تیرے دیسی ہم وطنوں کا کیا ہوگا ؟۔ آہستہ سے کہنے لگا۔ وہ دوست جس نے مجھے خالہ اماں کہنا سکھایا تھا میں اس کی بہن سے ڈیٹ کر رہا ہوں۔ جولائی میں شادی کا پروگرام ہے۔ میری پڑھائی رکی ہوئی تھی۔ اب ہم دونوں سوفٹ ویر ڈیزائنگ پڑھ رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے مجھے ہندوستانی کھانے بہت اچھے لگنے لگے ہیں۔ ہم نے کہا جب تو انڈین ڈشز کھانا، ایک بات یاد رکھنا کہ رنگ رس عورت اور ہندوستانی کھانوں میں ایک بات مشترک ہے۔ پوچھنے لگا وہ کیا؟ ہم نے کہا دونوں رات کو بہت اچھے لگتے ہیں مگر صبح کو بڑی تکلیف دیتے ہیں۔ ہنس کر کہنے لگا

I hope Indian wife doesn’t hurt so much.

Facebook Comments HS

اقبال دیوان

ہمارے جگر جان ،اقبال دیوان پہلے کبھی افسر ہوتے وہ بھی ایسے کوئی خاص نہیں بس چھوٹے موٹے۔اللہ نے عزت رکھی ۔ اللہ بخشے خیر سے ریٹائر ہوگئے۔ ایسا ہی کچھ ہوتا ہے اس طرح کہ کاموں میں۔ ایک بات اچھی ہے کہ میمن ہونے کے باوجود لکھنے پڑھنے سے کبھی دل نہیں چرایا اور دھندے کو دھرم نہیں جانا۔ ان دنوں گزر اوقات کے لیے ایک آرٹ اسکول میں مصوری سیکھنے جاتے ہیں۔فگر ڈرائینگ اور واٹر کلر میں دل چسپی ہے گوآتے دونوں ہی نہیں۔ مگر خوش ہیں کہ ہیں تو کسی کی نگاہ میں۔اولاد امریکہ یورپ بلاتی ہے مگر وہ راج کپور کی طرح گا کر ٹرخا دیتے ہیں کہ جینا یہاںمرنا یہاں اس کے سوا جانا کہاں۔ میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں کروں گا کیا اگر ہوگیا ناکام ، بس سایہ دیوار ہے یہیں رہنے دو۔

iqbal-diwan has 123 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan