تجسس سے تخلیق کا سفر: سر ظفر عمران کے سنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


خدا نے انسان کو علم کی بدولت اشرف مخلوقات کے درجے پہ فائز کیا۔ انسان کی فطرت میں جاننے کی جستجو کو بیدار رکھا۔ تجسس سے لے کر دریافت کے مرحلے تک تعلیم اور تخلیق کا سفر بے حد ضروری ہے۔

کچھ عرصہ قبل میں اسی تجسس کے عمل سے گزر رہی تھی۔ مگر دریافت کے معجزے تک رسائی کے لیے خود کی تلاش بے حد ضروری ہے۔ کیونکہ جب تک انسان خود کی ذات سے آشنا نہیں ہوتا ہزار کوشش کے باوجود وہ اپنی تخلیقات اور دریافت میں ادھورا پن محسوس کرتا ہے۔ تجسس کے بعد علم وہ سیڑھی ہے جو انسان کو اس کی ذات سے آشنا کرتی ہے۔

اپنی زندگی کے بیشتر سال میں نے اپنی ذات کی تلاش میں صرف کیے مگر یہ جاننے سے قاصر رہی کہ خدا نے مجھے کس صلاحیت سے نوازا ہے چونکہ کسی بھی مخلوق کو بے مقصد خلق نہیں کیا گیا۔ ہر انسان کی زندگی کسی نہ کسی مقصد کے تحت وجود میں آئی، یہ الگ بات ہے کہ اپنی ذات کا ادراک حاصل کر گیا اور کوئی تا حیات اس مقصد حقیقی سے نا آشنا رہا۔

رواں سال کورونا کی وجہ سے حالات نے جہاں پوری دنیا کے اعصاب کو جکڑے ہوا تھا۔ اور سب آؤٹ ڈور سرگرمیاں تقریباً ختم ہونے کی وجہ سے دنیا کی بیشتر سرگرمیاں انٹرنیٹ میں سمٹ آئیں وہیں میں نے بھی ذہن کو مثبت تبدیلی دینے کی خاطر اسکرپٹ رایٹنگ آنلاین کورس میں داخلہ لیا۔ چار ہفتوں کا یہ کورس میری ذات میں بے شمار مثبت تبدیلیوں کا موجب ہو گا اس کا اندازہ نہیں تھا مجھے۔

اسکول، کالج، یونیورسٹی غرض ہر تعلیمی مقام پہ اچھے اساتذہ ملے۔ مگر سر ظفر عمران نے جس خلوص اور محنت سے ہمیں پڑھایا اس کے لیے جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ لیکچر میں ہر پواینٹ کو کلیئر کرنا، سٹوڈنٹ کے سوالات کے تسلی بخش جوابات دینا، اسائمنٹ سے طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنا نہ صرف یہ بلکہ کورس مکمل ہونے کی صورت میں طلبہ کو اس شعبہ میں آگے بڑھنے کے لیے بہترین رہنمائی فراہم کرنا۔ ظفر عمران اور سائرہ غلام نبی کسی تعارف کے محتاج نہیں، ادب اور فنون لطیفہ میں دونوں اساتذہ کی لا تعداد خدمات ہیں۔ متعلقہ شعبہ ان کی علمی قابلیت اور وسیع تجربہ سونے پہ سہاگا ہے۔

اسکرپٹ رایٹنگ کورس میں نہ صرف افسانہ کو ڈرامائی انداز میں لکھنا آ گیا مجھے بلکہ سوچ کی وادی میں گم ہو کر کہانی کس طرح لکھی جاتی ہے اس ہنر سے بھی متعارف ہوئی۔ اسکرپٹ کے لیے ون لاینر کا انتخاب اور منظر کشی سے لے کر کرداروں کی تصویری صورت کو الفاظ کی شکل دینا میرے لیے اسی کورس کی بدولت ممکن ہوا۔

میں اسکرپٹ رایٹنگ کورس میں بیچ ون کی سٹوڈنٹ تھی اور اب ماشا اللہ پانچواں بیچ اپنے اختتامی مراحل میں ہے۔ ایک قدم سے کیسے یہ وسیع کارواں بن گیا اس میں سر ظفر اور ان کی پوری ٹیم کا خلوص نیت شامل ہے۔ دوسرے اداروں کی نسبت جو کہ بھاری بھرکم فیسیں لینے میں مشغول ہیں اس ادارے نے اس امر کو پس پشت ڈال کر انتہائی مناسب فیس میں ضرورت مند طلبہ کا احساس کرتے ہوئے اس مشن کا آغاز کیا۔

جس تیزی سے ظفر عمران اسکول آف فلم اینڈ ڈرامہ تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے امید ہے کہ نہ صرف اس سے لاتعداد طلبہ مستفید ہوں گے بلکہ پاکستانی فلم اور انڈسٹری میں بھی مثبت تبدیلیاں رونما ہوں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •