جاگیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


شہر کی گھٹن بھری فضاؤں سے میلوں دور وہ اپنے کھیت کی پگڈنڈی پر بیٹھا سوچوں میں گم تھا اسے احساس تک نہ ہوا کب دن کی سفیدی شام کی سیاہی میں بدلنے لگی۔ وہ بدستور بیٹھا گھاس کی ڈنڈیاں توڑنے میں مشغول تھا۔ مغرب کے بعد عشاء کی اذان کی صدائیں فضا میں گونجنے لگی۔ نوکر اسے ڈھونڈتے ہوئے کھیتوں میں آ گیا۔

مراد بابا، مراد بابا، وہ بڑے سائیں آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔
کرم چاچا، جا کر انہیں کہہ دیں ہمیں کسی سے نہیں ملنا۔ مراد نے انتہائی مشفق لہجے میں جواب دیا۔

مراد بابا آپ بڑے سائیں کے غضب سے واقف ہیں وہ نا سننے کے عادی نہیں ہیں۔ کرم چاچا ہاتھ باندھے ساتھ چلنے کے لیے منت سماجت کرنے لگا۔

مراد سے کرم چاچا کا مان توڑا نہ گیا۔ وہ کپڑے جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔ کرم چاچا ایک بات تو بتاؤ، مراد نے دھیمے لہجے میں کہا۔ جی، جی بولیں مراد بابا کیا حکم ہے؟ کرم چاچا نے چلتے چلتے مراد کے چہرے کو طرف دیکھا۔

کرم چاچا، آپ نے ساری زندگی ہماری خدمت کی ہے کیا کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ آپ کو آپ کی خدمت کا صلہ نہیں ملا۔

کرم چاچا مسکراتے ہوئے بولا، دیکھو مراد بابا جس در پر سر جھکا لیں وہاں اپنی ذات ختم کر دیتے ہیں، ہمارا کام وفاداری سے خدمت کرنا ہے جو ہم آبا و اجداد سے کرتے چلے آ رہے ہیں صلہ اس مالک کے پاس ہے جو دو جہانوں کا رب ہے۔

مراد کرم چاچا کے خیالات سے کافی متاثر ہوا ہے۔ اس نے آگے بڑھ کے کرم چاچا کو گلے لگا لیا۔

چاچا آپ کو پتہ ہے نا میں نے ابا سائیں سے زیادہ آپ کو اپنے قریب پایا ہے، دل کی کوئی بات آپ سے نہیں چھپائی۔

کرم چاچا ایک دم چونکا، مراد بابا سب ٹھیک تو ہے نا؟
کرم چاچا، مجھے نجمہ سے شادی نہیں کرنی! مراد نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔

یہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں مراد بابا، وہ وہ نجمہ بی بی تو آپ کی بچپن کی منگیتر ہے، کرم چاچا کی تو جیسے جان ہی نکل گئی۔

کرم چاچا بھی مراد کو بچوں کی طرح پیار کرتا تھا۔ فوراً مراد کے آگے ہاتھ باندھ دیے، دیکھو مراد بابا مت کرو ایسا، بڑے سائیں طوفان کھڑا کر دیں گے۔

کرم چاچا، اب جو بھی ہو جائے میں شادی کروں گا تو صرف چندہ سے۔ مراد نے پروقار لہجے میں جواب دیا۔

کرم چاچا پر تو جیسے بجلی گر گئی ہو۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگے، یہ چندہ وہی ہے نا فضلو کی بیٹی؟

ہاں کرم چاچا، وہی ہے۔ مراد نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔

مراد بابا کہاں ہم کمی لوگ اور کہاں آپ ایک سو تیس گاؤں کے مالک۔ مراد بابا بڑے سائیں ان کی نسلیں ختم کر دیں گے خدارا اپنا فیصلہ بدل دیجیے، کرم چاچا نے التجا کی۔

کرم چاچا آپ نے خود ہی تو کہا تھا جب کسی در پر سر جھکا لیں تو اپنی ذات ختم کر دیتے ہیں۔
کرم چاچا خاموشی سے مراد کو دیکھنے لگا۔

شام دھیرے دھیرے رات کی سیاہی میں بدل گئی، گھر کے لیونگ روم میں داخل ہوتے ہی مراد نے ابا سائیں کو منتظر پایا۔

مراد نے آنکھیں چراتے ہوئے بڑے سائیں کو سلام کہا،

جواباً بڑے سائیں نے غصے سے گھورتے ہوئے سوال کیا، یہ میں کیا سن رہا ہوں، تم نجمہ سے شادی نہیں کرنا چاہتے۔

جی وہ وہ میں چندہ سے۔ ۔ ۔ مراد کی آواز میں لڑکھڑاہٹ تھی۔
اپنے حوصلے اتنے بلند نا کرو مراد، بڑے سائیں نے رعب دار میں مراد کو ڈانٹ دیا۔

جس لڑکی کا تم نام لینا چاہ رہے ہو اوقات کیا ہے اس کی، خاندان کیا ہے اس کا، رتبہ کیا ہے اس کا، بڑے سائیں چیخے۔

جی جی وہ وہ ہمارے گاؤں کے فضل دین کی بیٹی ہے۔

بڑے سائیں کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے، تمہارا دماغ خراب ہو گیا مراد، تم اس فضلو کی بیٹی کی بات کر رہے ہو جو جدی پشتی ہمارے کمی ہیں۔

ایک بات کام کھول کر سن لو ایسا دوبارہ سوچا بھی تو ہم بھول جائیں گے کہ تم ہمارے بیٹے ہو۔ بڑے سائیں نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔

ابا سائیں میری بات تو سن لیں۔ مراد نے التجا کی۔
بڑے سائیں کچھ سنے بنا ہی چل دیے۔

مراد بوجھل قدموں سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔ سوچوں میں گم ہوئے وہ کب نیند کی وادیوں میں چلا گیا اسے پتہ ہی نا چلا۔

صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو دن کے گیارہ بج رہے تھے۔ جیسے ہی اس نے بالکنی سے کھڑی کا پردہ ہٹایا پولیس کو صحن میں کھڑا دیکھ کر جلدی سے لان کی طرف بھاگا۔

وہاں جا کر اس پر معاملہ کھلا کہ فضل دین اور اس کے پورے کنبے کو گاؤں سے نکال کر کہیں نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

مراد کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اپنے باپ کو کیسے سمجھائے کہ اس میں اس لڑکی یا اس کے گھر والوں کو کوئی قصور نہیں۔ وہ تو خود اس لڑکی کی یک طرفہ محبت میں گرفتار ہے وہ تو جانتی بھی نہیں ہوگی کہ جس اذیت سے وہ دوچار ہے وہ محض میری سوچوں کی وجہ سے ہے۔ مراد اپنے باپ سے گڑگڑا کر چندہ اور اس کے خاندان کی سلامتی بھیک کی طرح مانگنے لگا۔

بڑے سائیں نے مونچھوں کو تاؤ دیا اور سخت لہجے میں مراد کو مخاطب کیا، مراد! یہ میری جاگیر ہے اور میں یہاں کا حاکم ہوں۔ تیری ہمت کیسے ہوئی اپنے خاندان پر داغ لگانے کی ابھی صرف ان کو جاگیر سے نکالا اگر تو نے اپنی روش نا بدلی تو باخدا ان کی لاشیں کو زمین بھی نصیب نا ہو گی۔

مراد اپنی بے بسی پر آنسو بہاتا جا رہا تھا۔ کریم چاچا نے مراد کو سہارا دے کر اٹھایا۔ مراد کرم چاچا کے گلے لگ کے خوب رویا۔

مراد اپنے کمرے میں آ کر سجدہ ریز ہو گیا۔

اللہ، آپ نے مجھے کس امتحان میں ڈال دیا۔ مولا میری اتنی سکت نہیں تھی، الہی اپنا کرم فرما دے۔ سجدے میں روتے روتے اس کی آنکھ لگ گئی۔ جب اٹھا تو رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ وہ کافی دیر سوچوں میں گم رہا۔

اسے اپنا وجود بوجھ لگ رہا تھا جسے وہ مزید اٹھانا نہیں چاہ رہا تھا، اسے بار بار چندہ کا خیال کھائے جا رہا تھا کہ وہ بیچاری کس مصیبت میں پھنس گئی ہے۔ مراد لاکھ کوشش کے باوجود بھی اپنے ابا کے آگے کھڑا نہیں ہو پا رہا تھا، اس لیے نہیں کہ وہ کمزور ہے بلکہ اس لیے کہ چندہ اور اس کے خاندان کی زندگیاں داؤ پر لگ جائیں گی۔

اگلی صبح مراد فضل دین کے ٹھکانے پر پہنچا۔ فضل دین مراد کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ مراد سائیں، خیر سے آنا ہوا؟ ہمیں بلوا لیتے ہم خود حاضر ہو جاتے۔ فضل دین نے نظریں جھکا کر سوال کیا۔

فضل چاچا، آپ کو پتہ ہے آپ کیوں گاؤں سے نکالے گئے ہیں؟ مراد کے چہرے پر بے بسی کے آثار نمایاں تھے۔

مراد سائیں ہم کو رات کے اندھیرے میں بڑے سائیں کے لوگوں نے گاؤں سے باہر پھینک دیا۔ ہماری کیا مجال تھی جو اپنا قصور بھی پوچھتے۔ فضل دین نے آنسو چھپاتے ہوئے ساری داستان بیان کر دی۔

مراد فضل دین کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا، فضل چاچا آپ کا گنہگار میں ہوں، میری وجہ سے آپ اس اذیت سے دوچار ہیں۔ خدارا مجھے معاف کر دیں۔ مراد نے روتے ہوئے فضل دین کے پاؤں پکڑ لیے۔

فضل دین ایک دم گھبرا کے پیچھے ہو گیا۔ مراد سائیں کیا ہو گیا آپ کو، آپ بھلا کیسے میری بربادی کے ذمہ دار ہیں۔ فضل دین نے زمیں پر بیٹھ کر مراد کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔ مراد سائیں ہم بہت چھوٹے انسان ہیں آپ کی ذات، رتبہ، جاگیر بہت بڑی ہے، خدارا زمین سے اٹھیں کسی نے دیکھ لیا تو آپ کے ایک ایک آنسو کا حساب بڑے سائیں ہمارے خون سے لیں گے۔

فضل چاچا، میں چندہ کو بہت پسند کرتا ہوں، میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ مگر یہ بات کبھی چندہ کو بتا نا پایا۔ فضل چاچا چندہ کے نا کردہ گناہ اور میری محبت کی سزا آپ سب کو مل رہی ہے۔ جس پر میں آپ سے اور کے خاندان سے معافی چاہتا ہوں۔ مراد گڑگڑاتے ہوئے التجا کرنے لگا۔

یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں مراد سائیں، ہم زمیں سے بھی نیچے اور آپ کا رتبہ آسمانوں جیسا۔ بھلا آسمان اور زمیں بھی ملے ہیں کبھی۔ ہم خاک ہیں اڑ کر جوتے تک رہیں تو اچھا ہے اگر پگڑی تک جائیں گے تو کلنک بن جائیں گے۔ مراد سائیں آپ چندہ کو بھول جائیں اور چلے جائیں یہاں سے۔ فضل دین ہاتھ جوڑے منت سماجت کرنے لگا۔

مراد آنسو صاف کرتے ہوئے اٹھ کر چل دیا۔ گھر پہنچ کر اپنا کمرہ بند کر کے بیٹھ گیا۔ شام کو نوکر کھانے کے لیے مراد کو بلانے آئے، دروازہ نا کھلنے پر معاملہ بڑے سائیں تک پہنچا دیا گیا۔ بڑے سائیں نے دروازہ توڑنے کا حکم دیا جسے فوراً بجا لایا گیا۔

دروازہ کھلتے ہی پنکھے سے لٹکتی مراد کی لاش کو دیکھ کر نوکروں نے کہرام مچا دیا۔ شور کی آواز سن کر بڑے سائیں بھی بھاگتے ہوئے آئے، مراد کو لٹکتا دیکھ کر آہ بھر کر سکتے میں آگئے۔ مراد کی جیب میں ایک خط تھا جسے نکال کر بڑے سائیں کھولا جس پر درج تھا۔

”وصیت بنام سائیں علی داد ولد حاکم داد
مالک تعلقہ شمالی و جنوبی بشمول 130 گاؤں

جناب محترم، میں مراد داد ولد علی داد اپنے ہوش و حواس میں اپنی موت کا ذمہ دار خود کو ٹھہراتا ہوں۔ اور اپنے نفسیاتی قتل سے ہر ایک کو بری کرتا ہوں۔ میں اللہ تعالٰی کی زمین پر سب کو برابر سمجھتا ہوں۔ میں اس بات کا قائل نہیں کے آج کے دور میں بھی ہم انسانوں کی کیڑے مکوڑے سمجھیں۔ میری موت کی وجہ میری محبت یا آپ کی بے رخی نہیں بلکہ میری کمزوری ہے جو مجھے آپ کے سامنے حق بات پر ڈٹنے سے روکتی رہی۔ میں اپنی آخری وصیت میں صرف ایک استدعا کرتا ہوں کہ میرا جنازہ فضل دین ولد اللہ دتہ کے گھر سے اٹھایا جائے۔ مجھے قبر میں فضل دین خود اتارے تاکہ وہ بھی جان سکے کہ جب آسمان گرتا ہے تو سنبھالتی زمین ہی ہے اسے۔ اور میرے حصے کی جائیداد کا وارث اسے بنایا جائے ”

بڑے سائیں نم آنکھوں سے مراد کا لاشہ دیکھتے رہے۔ مراد کی وصیت کے مطابق اس کا جنازہ فضل دین کی رہائش گاہ سے اٹھایا گیا۔ فضل دین نے ہی اسے سپرد خاک کیا۔ مراد کی وفات کے بعد بڑے سائیں کو چپ لگ گئی اور کچھ ہی عرصہ بعد وہ بھی دنیا سے کوچ کر گئے۔ اپنی ساری جاگیر کا وارث چندہ کو بنا گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •