کیا سزائے موت ریپ کیسز کا حل ہے؟
سزائے موت کسی بھی چیز کا حل نہیں ہے چہ جائیکہ ریپ کی۔ یہ بات سماجی مسائل اور جرائم پر کام کرنے والے ماہرین متعدد بار ثابت کر چکے ہیں۔ اس کی ایک مثال زینب کے قاتل کی پھانسی کی ہے۔ اس کی پھانسی کے اگلے ہی ماہ چھ بچیاں جنسی زیادتی کا شکار ہوئیں۔ اگر پھانسی حل ہوتی تو اگلے ماہ ہی اتنے زیادہ کیسز سامنے نہ آتے۔ تشدد کا حل کبھی بھی تشدد نہیں ہوتا۔ کوئی کہہ رہا پھانسی پر چڑھاؤ کوئی کہہ رہا ہے گردن اتار دو چوک میں۔ پہلے جو قوانین ہیں ان پر عمل درآمد ہو نہیں رہا اور تشدد کے مقابلے میں نئے متشدد اور فرسودہ طریقوں کی فرمائشیں آ رہی ہیں۔ اگر ایسا نہیں کرنا چاہیے تو پھر کیا کیا جائے؟
پہلے تو مردوں کو بچپن سے سکھائیں کہ وہ اپنی وحشت کو کیسے قابو میں رکھیں اور خواتین کو انسان سمجھیں۔ صرف اپنے گھر کی نہیں سب خواتین کو۔ دوسری بات نہ اور کانسینٹ کا مطلب سمجھائیں۔ ریپ، جنسیات اور نفسیاتی معاملات کی الف بے بتائیں۔ یہ سب چیزیں بچوں کو بچپن سے سلیبس میں سکھائیں۔ اس کے بعد ایک عوامی ڈیٹا بیس بنائیں جو ہر کسی کی پہنچ میں ہو۔ جنسی درندوں کو رجسٹر کریں۔ جیل ہونے کے بعد ان کو چی پی ایس ڈیوائس پہنائیں۔ ان کو مخصوص ملازمتوں اور مخصوص رہائشی علاقوں تک محدود کریں۔ بچوں، سکول اور پبلک مقامات سے دور رکھیں۔ یقین مانیں یہ خود اپنی زندگی سے تنگ آ جائیں گے۔ ریپیٹ اوفینڈرز یعنی دوبارہ ان کاموں میں ملوث ہونے والوں کی کیمیکل کاسٹریشن (خصی) کر دیں یعنی کیمیکلز سے ان کی جنسی طاقت ختم کر دیں۔
اچھا اس پہلے یہ بات سوچیں کہ کیا پہلے سے قوانین نہیں ہیں اور ہمارے رویے کیسے ہیں؟ کیا ان قوانین پر عمل درآمد ہوتا ہے؟ ابھی کچھ عمر رسیدہ خواتین ریپ ہونے والی خاتون کو ہی سی سی پی او صاحب کی طرح مورد الزام ٹھہرا رہیں تھیں۔ یعنی مرد کیا خواتین کے رویے بھی ایسے ہیں جس میں مظلوم ہی کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے کہ کپڑے کیسے پہنے اکیلی کیوں تھی؟ مختاراں مائی کو پنجاب کے فیصلے پر درجنوں افراد مل کر ریپ کرتے ہیں اور ہم لوگ کہتے ہیں کہ مختاراں مائی مغربی ایجنٹ ہے۔ زیادہ سے زیادہ چند دن شور مچاتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔ کسی نے وزیراعظم سے پوچھا کہ سانحہ ساہیوال کا تو آپ حل نکالنے جا رہے تھے وہ قاتل تو باہر آزاد گھوم رہے؟
یہ تو ہو گئی ہمارے معاشرتی رویوں کی بات۔ اب آتے ہیں قوانین کی طرف۔ پہلے سے شب قوانین موجود ہیں لیکن ان پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوتا۔ ایک شخص کیمرے کے سامنے ایک پولیس والے کو گاڑی کے نیچے کچل دیتا ہے۔ شاہ رخ جتوئی معصوم شاہدین کو بھون ڈالتا ہے۔ راؤ انوار نوجوان نقیب کو جعلی مقابلے میں مار ڈالتا ہے اور یہ تینوں با اثر لوگ گلے میں ہار ڈالے انگلیوں سے وکٹری کے نشانات بناتے رہا ہو جاتے ہیں۔
ہم تشدد کے مقابلہ میں مزید تشدد سے یا خاموشی سے حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم مظلوموں کو ہی جرم کا ذمہ دار ٹھہرا دیتے ہیں۔ ہم اصل مسائل کی نشاندہی نہیں کرتے نہ کرنا چاہتے ہیں۔ نہ ہم قانون اور آئین کی بالادستی کے حامی ہیں جو کہ مضبوط جمہوریت سے مشروط ہیں۔ ہم ہمیشہ اپنی انگلی غلط سمت میں اٹھاتے ہیں۔
جب تک اصل مسائل کی نشاندہی نہیں ہو گی، قوانین پر عمل درآمد نہیں ہو گا، مظلوم کے بجائے ظلم اور ظالم کی سرکوبی نہیں کی جائے گی یاد رکھیں یہ مسائل اس وقت تک حل نہیں ہو سکتے۔ خدارا پہلا کام یہ کیجیے کہ اپنے رویے درست کیجیے مظلوم پر الزام نہ دھریے اور تشدد کی کسی بھی قسم کی حمایت نہ کریں۔ اپنی آواز درست طریقے سے بلند کیجیے اگر آپ معاشرے میں بہتری چاہتے ہیں تو۔ یہ وقتی اور مصنوعی غصہ کوئی حل نہیں پیش کرے گا یہ بات لکھ لیجیے۔


