قصور وار خاتون براستہ موٹر وے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں کہ برا وقت پوچھ کر نہیں آتا، اب چاہے سفر موٹر وے سے کیا جائے یا جی ٹی روڈ سے منزل بالآخر گوجرانوالہ ہی تھی۔ آج پھر ایک اور واقعہ ہو گیا، ابھی کل ہی تو ایک پھول جلا تھا، دھواں ابھی بھی اٹھ رہا تھا، دل بے چینی سے سلگ رہا تھا کہ ہائے کس کافر نے یہ ظلم ڈھا یا اور اس ماں کے کلیجہ کو کیسے اور کب قرار آئے گا؟ اس پاک شہزادی کا کیا قصور تھا؟ ان گنت سوال دماغ میں گھوم رہے تھے کہ اچانک ایک ماں اور اجڑ گئی، عزت خاک میں مل گئی اور منزل پہ پہنچنے سے پہلے ہی درندگی کا سامنا کر نا پڑ گیا۔

آخر اس لاچار کا کیا قصور تھا؟ شاید ناقص العقل تھی اسی لیے ہوس کا نشانہ بن گئی؟ یا شاید ایک شہری کو ریاست کا تحفظ نہیں ملا۔ اور جب ملا تو بہت سے سوالات کا سامنا، تجاویز کا پلندا، گھڑی کی سوئی سے لے کر پٹرول کی سوئی تک کی نوک جھوک، جس میں وہ بے چاری خود کو بے گناہ ثابت کرتے کرتے تھک کر چور ہو چکی گی۔

اب ہم اپنے گھروں میں بیٹھے قیاس آرائیاں کرتے کرتے آخر کار چپ ہوجائیں گے، حکومت کوئی ایکشن لیتے لیتے رہ جائے گی اور پھر کسی اور ماں کی عزت داؤ پر لگ جائے گی، کسی اور بیٹی کا دامن تار تار ہو جائے گا، کسی ننھی کلی کو بے دردی سے مسل دیا جائے گا۔ کیا عورت ہونا ایک خطا ہے؟ کیا اکیلے سفر کرنے پر کوئی فرد جرم عائد ہوتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ تو پھر اس عورت کو کس خطا کی سزا ملی، اور اگر کوئی فرد جرم عائد نہیں ہوتا تو وہ پولیس اور تفتیشی افسران کے سوالات کی بھینٹ کیوں چڑھی ہوئی ہے۔ ہمارے ہاں تو یہ عام رویہ بن چکا ہے کہ مرد حضرات جہاں اکیلی عورت دیکھ لیں ان کی نیت خراب ہو جاتی ہے وہ عورت چاہے جتنی بھی پاکباز ہو اس معاشرے کے لیے داغدار ہو جاتی ہے، اور ذہن میں یہی خباثت گھوم رہی ہوتی ہے کہ یقیناً یہ با کردار عورت نہیں ہے ورنہ ایسے اکیلے نہ گھوم رہی ہوتی۔

ابھی کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے ایک خاتون کا اسلام آباد کے معروف گرلز کالج جانے کا اتفاق ہوا، ان کا مقصد محض داخلہ فارم کا حصول تھا لیکن یہ مقصد پورا ہونے سے پہلے ایک محاذ بن گیا تھا، دراصل گوگل میپ نے اچانک کام کرنا بند کر دیا اور میں نے سڑک کے کنارے بیٹھے ایک ادھیڑ عمر لیکن با شعور انسان سے کالج کا راستہ پوچھ لیا۔ وہ شخص بظاہر تعلیم یافتہ اور سلجھا ہوا دکھائی دے رہا تھا اور وقت بھی صبح نو بجے کا تھا اس لیے وہ بے خوف ہو کر اس شخص سے کالج کا راستہ سمجھنے لگی، اچانک ان صاحب نے کہا، بیٹی، کیا میں بھی آپ کے ساتھ بیٹھ جاؤں، گاڑی کا انتظار ہے معلوم نہیں کب ملے آپ بھی اسی طرف جا رہی ہیں مجھے بھی راستے میں ڈراپ کر دینا اور جناب انہوں نے پگھلتے دل کے ساتھ ان صاحب کو گاڑی میں بٹھا لیا۔

اگلے سگنل پر خاتون نے گاڑی روک دی اور کہا، آپ یہاں اتر جائیں یہاں بہت آرام سے کوئی بھی گاڑی آپ کو مل جائے گی لیکن وہ صاحب گاڑی سے اترنے پر راضی نہ تھے۔ کہنے لگے بیٹی تھوڑا آگے تک ساتھ لے جاؤ تو آپ کی مہربانی ہوگی۔ وہ کہتی ہیں کہ اچانک دماغ نے فوراً سرخ سگنل دے دیے اور انہوں نے انہیں کہا نہیں میں آپ کو نہیں لے جا سکتی میں نے کالج سے فارم لے کر دفتر پہنچنا ہے مجھے کافی دیر ہو گئی ہے۔ پھر تھوڑا آگے سڑک کے کنارے انہوں نے دوبارہ گاڑی روک دی اور ان صاحب کو گاڑی سے اترنے کو کہا تو وہ بضد ہو گئے کہ یا مجھے ڈراپ دو یا مجھے کچھ پیسے دے دو تاکہ میں کرایہ ادا کروں۔

خاتون نے فوراً گاڑی کالج کے گیٹ کے سامنے لے جا کر نو پارکنگ ایریا پر بریک لگائی تو گارڈ بھاگا بھاگا آیا اور کہا، میڈم گاڑی یہاں سے ہٹائیں یہاں راستہ بند ہو جائے گا ابھی پرنسپل صاحبہ نے آنا ہے۔ وہ بغیر جواب دیے گاڑی سے اتر گئی اور گیٹ کی جانب ایک طرف رک گئی تو دوسرا گارڈ اور ایک ملازم بھاگے بھاگے آئے اور کہنے لگے کہ میڈم جی جلدی گاڑی ہٹائیں یہاں سے، یہاں پارکنگ کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے گارڈ کو کہا کہ میری گاڑی میں ایک اجنبی شخص ہے اگر اسے نکال دو گاڑی سے تو میں گاڑی ہٹا دوں گی، وہ حیران ہوئے کہ آپ کی گاڑی میں کوئی شخص بیٹھا ہو اور آپ کہہ رہی وہ اجنبی ہے ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟

خیر اللہ پاک بھلا کرے ان ملازمین کا جن کی مدد سے بیچاری خاتون کو اس شخص سے چھٹکارا ملا لیکن آج میں یہ سوچ رہی کہ خدانخواستہ وہ کسی حادثے کا شکار ہوتی تو پولیس افسران سب سے پہلے یہ پوچھتے کہ بی بی اگر یہ شخص اجنبی تھا تو گاڑی میں کیسے آیا؟ اور آپ نے اس سے راستہ کیوں پوچھا؟ کیا واقعی آپ گھر سے آ رہی ہو یا رات اس آدمی کے ساتھ گزار کے آئی ہو۔ یہ وہ مقام ہوتا ہے جب مجبور کی مجبوری کو مذاق بنا دیا جاتا ہے، سچ کو سامنے لانے کے لیے بہتان لگا دیا جا تا ہے اور مدد کرنے کی بجائے دھونس جمائی جاتی ہے۔ تفتیش کرنا پولیس کے فرائض میں شامل ہے لیکن اس کے لیے جو طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے وہ ایک سفید پوش کی عزت نفس مجروح کرنے کے لیے کافی ہے۔

یہ تو بات ہو رہی ہے با اختیار اور با کردار خواتین کی لیکن ابھی تو معصوم بچیوں نے سکول جانا ہے، لڑکیوں نے تعلیم، کھیل اور سیاحت کے میدان میں ترقی کرنی ہے، شعبہ خواتین کو مستحکم کرنا ہے اور خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا ہے ابھی تو کئی اور منزلیں طے کرنی ہیں لیکن بیٹیاں اور بیویاں اب راستے میں ہی پامال ہو رہی ہیں۔ اب چاہے کوئی جسٹس نوٹس لے یا کوئی وزیر، کھوئی ہوئی عزت اور لٹی ہوئی سانس واپس نہیں آ سکتی۔ اب وقت ہے فیصلہ کر نے کا اور اس طرح کے جرائم کے خلاف سخت سزائیں لاگو کرنے کا تاکہ کوئی جرات نہ کر سکے کسی کی بیٹی کی طرف آنکھ اٹھانے کی بھی۔ ورنہ وہ وقت دور نہیں جب لوگ بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا شروع کر دیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •