شکر ہے کہ میں عورت نہیں ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مردوں کے سماج میں ایک مرد پیدا ہونے پر میں خود کو بہت خوش قسمت محسوس کرتا ہوں اور شکر بھی ادا کرتا ہوں کہ خدا نے مجھے یہاں عورت پیدا نہیں کیا۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو مجھے میرے پیدا ہونے سے لے کر اور مرتے دم تک وہ سب جھیلنا پڑنا تھا جو ایک عورت کو یہاں اپنی پوری زندگی جھیلنا پڑتا ہے۔ میری سزا کے لیے میرا عورت ہونے کا جرم ہی کافی ہوتا۔ سب سے پہلے میرے پیدا ہونے پر ہی کوئی خاص خوشی نہ منائی جاتی اور رب کی رضا سمجھ کر مجھے برداشت کیا جاتا۔

پھر میرے بچپن میں ہی میرے گھر والوں کی طرف سے میرے ساتھ لڑکوں کے مقابلے میں امتیازی سلوک کیا جاتا اور میرے کچے سے ذہن کو اس سب کی وجہ بھی نہ سمجھ آتی۔ مجھے بہت ہی چھوٹی عمر میں اپنے جاننے والے اور انجان مردوں کی طرف سے جنسی ہراسانی بھی برداشت کرنا پڑتی۔ ہو سکتا ہے مجھے کچھ درندوں کی طرف سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا اور مار کر بھی پھینک دیا جاتا۔ جیسے قصور کی ننھی زینب کے ساتھ ہوا یا حال ہی میں کراچی کی ماورا کے ساتھ ہوا، یا ایسی اور کتنی بے شمار ننھی کلیوں کے ساتھ ہوا۔

چلیں فرض کریں میری قسمت اچھی ہوتی اور میرے ساتھ ایسا کوئی سانحہ رونما نہ ہوتا۔ تو جیسے جیسے میں جوان ہوتی ویسے ویسے میرے گھر والوں کی پریشانی میں بھی اضافہ ہوتا۔ مجھے مسلسل یہ باور کروایا جاتا کہ چونکہ میں ایک لڑکی ہوں۔ اور ہمارے سماج میں لڑکی کے لیے لڑکوں سے ہٹ کر سب اصول ہوتے ہیں۔ اس لیے مجھے ان کی پاسداری کرتے ہوئے نہ تو بے جا باہر جانا ہے۔ نہ ہی کسی سے بہت زیادہ بات کرنی ہے۔ پڑھائی کے ساتھ مجھے میرے گھر کے کام بھی کرنے پڑنے تھے۔ اس کے ساتھ مجھے کوئی ایسا عمل نہیں کرنا تھا کہ جس سے میرے والدین اور بھائیوں کی عزت میں ذرا بھی کمی آجاتی۔ کیونکہ اپنے گھر والوں کی عزت کی رکھوالی بھی تو میرے ذمہ ہی ہونا تھی۔

اور اگر کسی لڑکے کے تنگ کرنے پر میں اپنے گھر والوں کو اس کے بارے میں بتاتی تو مجھے ہی چپ ہو جانے کا کہا جاتا۔ کیونکہ اس بات کا کسی اور کو پتا لگ جانے سے میرے خاندان کی عزت خاک میں مل جانا تھی۔ اور ویسے بھی لڑکیوں کو چھیڑنا یہاں کون سی اتنی بڑی بات ہے۔ میری پڑھائی اور اس کے بعد نوکری کرنے کے فیصلے میرے گھر والوں نے ہی لینے تھے۔ یہاں تک کہ میری شادی کب ہونی ہے اور کس سے ہونی ہے اس کا فیصلہ بھی انھوں نے ہی کرنا تھا۔ اور اگر خدانخواستہ مجھے کوئی لڑکا پسند ہوتا اور میں اس کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے کی خواہاں ہوتی پھر تو بس ایک قیامت آ جانی تھی۔

مجھے پتا نہیں کن کن القابات سے نوازا جاتا کیونکہ ویسا کر کے میں نے سب کی عزت خاک میں ملا دینی تھی۔ چاہے جو لڑکا مجھے پسند ہوتا، وہ کتنا ہی اچھا اور پیار کرنے والا ہوتا۔ مگر نہ تو وہ میرے گھر والوں کو قبول ہوتا بلکہ اس لڑکے کے گھر والے بھی مجھے ہی غلط سمجھتے اور اپنے بچے کو پھنسانے کا الزام بھی مجھ پر ہی لگاتے۔ اور اگر اس کے ساتھ میں کہیں باہر گھومنے جاتی اور مجھے کچھ مسلح افراد اغوا کر کے لے جاتے۔ تو اس کی وجہ میرا لباس بتایا جاتا جیسا کہ کراچی ڈی ایچ اے میں دعا منگی کے ساتھ ہوا۔ اس دوران اگر میں کسی لڑکے کو دوستی یا شادی سے انکار کر دیتی تو وہ میرے چہرے پر تیزاب پھینک کر میری ساری زندگی برباد بھی کر سکتا تھا۔ جیسے کہ کچھ عرصہ پہلے فیصل آباد میں عظمیٰ اور اس جیسی کئی اور بد نصیب لڑکیوں کے ساتھ ہوا۔

اور اگر ہم دونوں کہیں بغاوت کر کے شادی کر لیتے تو ہمیں میرے گھر والوں کی طرف سے غیرت کے نام پر مار دیا جاتا جیسا کہ حال ہی میں لاڑکانہ کے میاں بیوی کو تب ایسے مار دیا گیا جب وہ عدالت سے تحفظ مانگنے کے لیے جا رہے تھے۔ یا ایسی اور بہت سی بد نصیب لڑکیوں کے ساتھ یہاں پر ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ چلیں فرض کریں میرے ساتھ ایسا بھی کچھ نہ ہوتا اور میرے گھر والوں کی مرضی سے میری شادی کر دی جاتی تو مجھے یہ بتا کر وہاں بھیجا جاتا کہ تیرا سب کچھ اب وہی ہے۔ چاہے جو مرضی ہو جائے تو نے اب ساری زندگی وہیں گزارنی ہے۔ چاہے میرے خاوند میں جتنے بھی عیب ہوتے تو بھی مجھے خاموش رہنے کا ہی کہا جاتا۔

وہ بے شک جتنی مرضی عورتوں سے تعلق رکھتا لیکن مجھے کچھ نہیں بولنا تھا۔ اور آواز اٹھانے پر مجھ پر اس کی طرف سے تشدد بھی ہو سکتا تھا۔ بلکہ میری جان بھی جا سکتی تھی۔ جیسے حال ہی میں بلوچستان کی شاہینہ شاہین کے ساتھ ہوا۔ یا کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد کے صحافی علی سلمان علوی کے رویے نے اس کی بیوی صدف زہرہ کے ساتھ کیا تھا۔

چلیں یہ بھی نہیں ہوتا اور میں اپنے بچوں کے ساتھ رات کے وقت کہیں سفر کرتی تو میرے بچوں کے سامنے میرے ساتھ جنسی زیادتی بھی ہو سکتی تھی۔ اور پھر مجھے ہی اس کا قصور وار بھی ٹھہرایا جاسکتا تھا کہ میں اس وقت اور اس رستے سے کیوں گئی۔ جیسا کہ دو دن پہلے لاہور کے قریب گجر پورہ کے علاقہ میں موٹروے پر ایسا دل دہلا دینے والا واقعہ رونما ہوا۔ جہاں وہ بد نصیب ماں اپنے بچوں کے ساتھ پولیس کو کال کرتی رہی مگر نہ کوئی پولیس اس کی مدد کو آئی اور نہ ہی پاس سے گزرنے والے لوگوں نے اس کا حال پوچھنے کی زحمت گوارا کی۔ اور پھر جنسی زیادتی کا شکار ہو گئی۔ جس پولیس نے حفاظت کرنا تھی اس کا سربراہ ایسا گھناؤنا جرم کرنے والے درندوں کو پکڑنے کی بات کرنے کی بجائے اس بد نصیب خاتون کو بھاشن دیتا رہا۔

اس لیے شکر ہے کہ میں عورت نہیں ہوں، کیونکہ یہ جو سب کچھ یہاں عورت کے ساتھ ہوتا چلا آیا ہے۔ مجھ سے یہ قطعاً برداشت نہیں ہونا تھا۔ شکر ہے کہ میں مرد ہوں اور میں یہ سب یہاں عورت کے ساتھ کر سکتا ہوں، اور اس سب کا قصور وار بھی عورت کو ہی قرار دے سکتا ہوں۔ اور کسی قسم کی سزا سے بھی بچ سکتا ہوں۔ جیسا کہ کچھ عرصہ پہلے رائٹر خلیل الرحمٰن قمر نے اپنے ڈرامہ اور انٹرویوز میں کہا یا حال ہی میں معروف اداکار نعمان اعجاز نے عفت عمر کو دیے گئے انٹرویو میں کہا۔

لیکن میں اس مردوں کے اخلاقی گراوٹ کے شکار سماج میں عورت کے ساتھ یہ سب کچھ ہونے پر بہت شرمندہ ہوں۔ یہ سب برداشت کر کے اس سماج میں رہنے پر عورت کی دل میں عزت بھی بہت ہے۔ مگر میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ عورت کے ساتھ یہ ناروا سلوک اور ظالمانہ رویہ اب ختم ہونا چاہیے۔ اس کے لیے عورت کو تو آواز اٹھانا ہی ہوگی لیکن اس کا ادراک رکھنے والے مردوں کو بھی آگے آنا ہوگا تب ہی اس پدر شاہی سوچ میں بدلاؤ آ سکے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •