افریقی مصنفین اور جنسی تشدد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایمی سیزارے (Aime Cesaire) فرانسیسی میں لکھنے والے افریقی مصنف تھے۔ شاعر تھے، سیاست دان تھے اور سب سے بڑھ کر زبانِ غیر میں اپنی افریقی اصل کو مسخ کیے جانے کا استغاثہ پیش کرنے و الے۔ اردو میں فرانز فینن کا ذکر خاصا ہوا ہے، لیکن سیزارے نے فینن سے پہلے، مغرب کے استعماری جبرو استحصال پر لکھا۔ فینن سمیت باقی ردّ نو آبادیاتی مصنفوں نے محکوموں کی نفسیاتی اور ثقافتی حالت کو لکھا جب کہ سیزارے نے اس پہلو سے لکھا کہ دنیا کے بڑے حصے پر استعماریت مسلط کرنے کے بعد خود سفید حاکموں کی نفسی، اخلاقی اور ثقافتی حالت میں کیا کیا تبدیلیاں ہوئی ہیں۔

پہلے فرانسیسی میں پھر انگریزی میں ترجمہ ہونے والی اس کی کتاب  Discourse on Colonialismکو رابن ڈی جی کیلی (جس نے ا س کتاب کا زبردست مقدمہ لکھا ہے )نے ”تیسری دنیا کا منشور“ کہا ہے۔ 1950 کی دہائی میں، جب تیسری دنیا کی اصطلاح وضع کی گئی تو اس کا منشور ردّنو آبادیات کے سوا کیا ہوسکتا تھا؟ اسی لیے اس کتاب کا ذیلی عنوان ”ردّنو آبادیات کی شعریات“ ہے۔ سفید، مغربی تہذیب پر خود اس کی اختراع کردہ استعماریت کے اثرات کو بیان کرنے کے باوجود، یہ کتا ب کیسے ردّ نو آبادیات کی شعریات ہے، اس کا جواب سیزارے کے خیالات ہی سے مل سکتا ہے۔

سیزارے، سچائی کو سادہ لفظوں مگر پرزور پیرائے میں پیش کرتا ہے۔ اس کے صرف چند جملوں کا ترجمہ دیکھیے (حالاں کہ یہ ترجمے کا ترجمہ اور اصل سے دو درجے دور ہے)۔ دیکھیے، وہ کیسے مغربی تہذیب کو انسانی تاریخ کی عدالت میں لا کھڑا کرتا ہے، اور ان یورپی تہذیب کے اپنے متعلق پرشکوہ، کبیری دعووں کو پلٹا دیتا ہے۔

وہ تہذیب جو اپنے ہی پیداکردہ مسائل کو حل کرنے کے قابل نہ ہو، وہ گلی سڑی تہذیب ہے۔

وہ تہذیب جو اپنے انتہائی اہم مسائل کی طرف سے آنکھیں بند رکھنے کا انتخاب کرتی ہے، وہ گرفتار تہذیب ہے۔

وہ تہذیب جو اپنے اصولوں کو مکاری اور دھوکے کے لیے استعمال کرتی ہے، وہ مرتی ہوئی تہذیب ہے۔

سب سے سنجیدہ بات یہ ہے کہ ”یورپ“ اخلاقی، روحانی طور پر اپنا دفاع کرنے سے قاصر ہے۔

Aime Cesaire

سیزارے نے جو کچھ مغربی تہذیب کے بارے میں کہا، ٹھیک وہی اس ”مردانہ تہذیب“ کے بارے میں کہا جاسکتا ہے جس کے دامن پر عورتوں اور بچوں کو جنسی تشدد کے داغ ہیں۔ مرد، بہ حیثیت مجموعی، عورت کے لیے بدترین استعمار کارثابت ہوا ہے۔ مرد کو یہ زعم ہے کہ اسے عورت کی ذہنی و جذباتی دنیا کو قابومیں رکھنے ہی کا اختیار نہیں بلکہ اس دنیا کوخود اپنی مرضی سے تشکیل دینے کا خدائی حق بھی حاصل ہے۔ عورت کے مسائل میں سے بیشترمرد کی بنائی ہوئی تہذیب کے پیدا کردہ ہیں، مگر وہ ان کی طرف سے آنکھیں بند رکھنے کا انتخاب کرتا ہے اور یورپی استعمار کی مانند کسی احساس جرم میں مبتلا نہیں ہوتا۔

جنسی تشدد کا ہر واقعہ، مردانہ تہذیب کو کٹہرے میں لا کھڑا کرتا ہے اور باور کراتا ہے کہ اس تہذیب کے پاس اپنے دفاع کے لیے کچھ نہیں۔ یہ کہنا کہ صرف چند مردوں کے عمل کو مردوں کی تہذیب پر محمول نہیں کیا جاسکتا، بنیادی مسئلے سے گریز ہے اور اسے کوئی دوسرا رخ دینے کے برابر ہے۔ آپ جنسی تشدد کے ہرواقعے کے بعد شروع ہونے والے ڈسکورس کا تجزیہ کیجیے۔ بلاشبہ مردوں کی ایک بڑی تعداد اپنی صنف کے اعمال کا دفاع نہیں کرتی مگر صاحبان ِ اختیار کی لفظیات، منطق اور عزم کو دیکھیے۔

اوّل :قانون، انصاف، قرار واقعی سز ا جیسی لفظیات کی تکرار۔ یہ سب مجرد لفظیات ہیں۔ یہ ایک خصوصی واقعے سے متعلق خصوصی رائے اورعزم کے اظہار سے یکسر قاصر ہیں۔ وہ حقیقت میں لرزا دینے والے واقعے کی مناسبت سے صحیح لفظوں کا انتخاب نہیں کرسکتے۔ اصل یہ ہے کہ وہ تخیل کی مفلسی سے زیادہ جذبات کی عدم موجودگی کے روگ میں مبتلا ہیں۔ لیکن عورت سے متعلق سٹیریوٹائپ ان کے لاشعور کا حصہ ہیں اور مرد کو نہیں معلوم کہ ہر طرح کے سٹریوٹائپ، اس کی ذہنی وجذباتی نشوونما میں مزاحم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مذکورہ مجرد لفظوں کے بیچ بیچ، عورت سے متعلق قدیمی تمسخر کا اظہار ضرور کریں گے۔ یہ تمسخر کسی صاحبِ اختیارکی انا پسندی کے ساتھ ساتھ، اس کی فکر پر چھائی مردنی کے سوا کیا ظاہر کرتا ہے؟ کیا مردہ فکر کے حامل، سب سے زیادہ انا پرست ہوتے ہیں؟

عورتوں اور بچوں پر جنسی تشدد کے اسباب متعدد ہیں۔ ایک سبب یہ ہے کہ اب تک، مجموعی طور پر مردوں اور عورتوں میں وہی فرق و امتیاز ہے، جو مغربی تہذیب نے غیر یورپی تہذیب سے روا رکھا ہے۔ آج بھی مغربی تہذیب کے مقتدرنمائندوں کے یہاں اپنی سفید نسل پر تکبر موجود ہے، جس کا ہدف دوسری نسل اور رنگ کے لوگ ہیں۔ اسی تکبر کا ظل آپ کو مردانہ تہذیب کے مقتدر نمائندوں کی اکثریت کے یہاں ملے گا۔ مرد، انسانی پیمانے پر عورت کو دوسرا درجہ دیتا ہے ؛اسے غیر سمجھتا ہے اور اس کی بزعم خویش اسفل خصوصیات سے تقابل کی مدد سے اپنی نام نہاد افضل صفات کو واضح کرتا ہے۔

زبانی کلامی باتیں کرنا اور بات ہے۔ جہاں بھی کوئی لمحہ آزمائش کا آتا ہے، مرد اپنے ہی اعلان کردہ اخلاقی، روحانی اصولوں پرعمل کرنے میں ناکام ہے۔ آزمائش سے مراد ایک ایسا لمحہ جہاں مرد کے مقابل ایک عورت ہے، خواہ وہ تنہائی کا لمحہ ہو یا مسابقت کا یا کسی بھی نوع کا اختیار کا، مرد کے دل میں چھپے سب بہائم باہر آجاتے ہیں۔

J M Coetzee

مردانہ تہذیب کی اس جہت کی نمائندگی ایک اور افریقی مصنف جے ایم کوٹزی کے ناولThe Disgrace میں ہوئی ہے۔ یہ ناول کیپ ٹاؤن یونیورسٹی کے تقابلی ادبیا ت کے پروفیسر ڈیوڈ لیوری کی کہانی ہے۔ اس کے دو شوق ہیں۔ جنس اور ادبی تحقیق۔ روزالنڈ سے اس کی شادی ناکام ہوتی ہے، جس اسے اس کی ایک بیٹی بھی ہے۔ وہ یہ رائے قائم کرتا ہے کہ وہ ادبی تحقیق پورے اطمینان سے اسی وقت انجام دے سکتا ہے، جب وہ جنسی دباؤ سے آزاد ہو۔

کیا ہم اسے اتفاق کہیں یا ”مردانہ تہذیب“ میں مضمر مردوں کا اتفاق کہیں کہ بلراج مین را کے افسانے ”ہوس کی اولاد“ میں راہی نام کا ایک کردار اولاد پیدا کرنے سے پہلے جنسی دباؤ یعنی ہوس سے آزادی چاہتا ہے۔ راہی حقیقی اولاد اور پروفیسر لیوری معنو ی اولاد (ادبی تحقیق ) کے لیے جنسی دباؤ سے آزادی کی آرزو کرتے ہیں۔ راہی، ہسپتال کی نرسوں اور ڈاکٹروں سے جنسی مراسم قائم کرتا ہے اور لیوری کیپ ٹاؤن کی عورتوں سے۔

سوال یہ ہے کہ اس دونوں کرداروں کی جنسی دباؤ اور اس کے سلسلے قائم کی گئی رائے کا جواز(legitimacy) و ہ کہاں سے اخذ کرتے ہیں؟ کیا اس سوال کا جواب ”مردانہ تہذیب“ کے سوا کہیں تلاش کیا جاسکتا ہے؟ لیوری کئی عورتوں سے آزادانہ مگر وقتی جنسی مراسم قائم کرتا ہے۔ حقیقت میں وہ خود کو جنس کے کاروبار میں ایک مرد صارف کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس کی ادبی تحقیق اور جنسی مراسم ساتھ ساتھ چلتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنی طالبہ اسحاق ملانی تک پہنچتا ہے۔

ملانی کے جوان، گدرائے بدن میں پروفیسر کی دل چسپی کا سبب، جنس کے سوا بھی ہے۔ وہ اپنی ڈھلتی عمر سے خوفزدہ ہے۔ وہ اپنے سابق جنسی تجربات سے، کسی واضح منطق کے بغیر یہ نتیجہ اخذ کرلیتا ہے کہ ایک بڑی عمر کا مرد، ایک نوعمر لڑکی سے تعلق کے ذریعے اپنی زوال پذیر جنسی وجمالیاتی صحت کا احیا کرسکتا ہے۔ یہاں بھی وہ اپنی ”مرد صارف“ کی شناخت برقرار رکھتا ہے۔ وہ اسحاق ملانی کو کلاس اور امتحان دونوں سے مستثنیٰ کر کے، اس کی جنسی خدمت کی قیمت ادا کرتا ہے۔

یہاں کہانی میں ایک اور مرد داخل ہوتا ہے۔ ملانی کا عاشق۔ یہاں سے دو مردوں کی لڑائی شروع ہوتی ہے اور اس لڑائی کا میدا ن ہے، بے چاری ملانی پر ملکیت کامرادنہ دعویٰ۔ وہ کہانی میں خاموش ہے۔ اپنے استاد اور اپنے عاشق دونوں کے آگے۔ جب پروفیسر لیوری، اسے اپنی جنسی صحت کی بحالی کا ذریعہ بناتا ہے، تب سے آخر تک اسے خاموش دکھایا گیا ہے۔ جیسے وہ ارادے اور روح جیسی انسانی خصوصیات سے محروم ہے۔ وہ ایک ہم عمر مرد اور ڈھلتی عمر کے مرد کے لیے ایک ”شے“ ہے، جس کا تبادلہ کیا جاسکتا ہے اور جس کی قیمت کے تعین کا اختیار دونوں مردوں کو ہے۔

لیوری کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسے یونیورسٹی کی ملازمت سے نکال دیا جاتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یونیورسٹی کی تفتیشی ٹیم، اسے بالواسطہ پیغام دیتی ہے کہ وہ خود کو بچا سکتا ہے مگر وہ اقبال کرتا ہے کہ اس نے ملانی کو ان پرچوں میں اچھے نمبر دیے، جن میں وہ شریک نہیں تھی۔ اسے ایک نوجوان لڑکی کے جنسی استحصال کے سبب نہیں، یونیورسٹی کے امتحانی قوانین کو توڑنے کی پاداش میں ملازمت سے برخاست کیا جاتا ہے۔

یوں اشخاص، ادارے، مرد کی جنسیت کو تحفظ دینے کا خفیہ میثاق کیے ہوئے ہیں۔ انوکھی بات یہ بھی ہے کہ اسے اپنی رسوائی کسی اخلاقی، روحانی ابتلا میں مبتلا نہیں کرتی۔ اس کے لیے سب ایک معمول کا معاملہ ہے۔ کیا چیز اسے احساسِ جرم سے محفوظ رکھتی ہے؟ اس کا جواب، مردانہ تہذیب کی اخلاقیات کے سوا کہاں تلاش کیا جاسکتا ہے؟ جب تک اس تہذیب میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی نہیں آتی، جنسی تشدد کا خاتمہ خواب رہے گا اور ہر نئے واقعے کے بعد چند دن کے احتجاج کی رسم نبھائی جاتی رہے گی۔

جہاں تک قوانین کا تعلق ہے توجنسی تشدد کا قانونی حل، وقتی طور پر مؤثر ضرور ہے۔ لیکن اسے بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ قوانین میں توڑے جانے اور بچ نکلنے کے راستے ہی نہیں مہیا کیے جاتے ہیں، ان کی من مانی تعبیر کا بھی بیش از بیش سامان ہوتا ہے۔ قوانین کی اس خصوصیت کو کافکا سے زیادہ کسی نے نہیں پیش کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •