کرول جنگل میں انسانی درندگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوں تو جنگل میں خطرناک جانوروں کا راج ہوتا ہے لیکن انسان کی درندگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اب شہر ہوں یا دیہات یہاں تک کے جنگل بھی انسان کی درندگی سے محفوظ نہیں رہے۔ انسان کی درندگی دیکھ کر جانوروں نے بھی جنگل چھوڑنا شروع کر دیے ہیں۔ اب نہ جانے جانور کہاں روپوش زندگی گزار رہے ہیں۔ خطرناک سے خطرناک جانور بھی وہ کچھ نہیں کرتے جو آج کل انسانی درندے کرنے لگے ہیں۔ ایسے ہی انسانی درندگی کا ایک واقعہ چند روز قبل موٹر وے پر ہوا جہاں ایک خاتون کی عصمت دری اس کے بچوں کے سامنے کی گئی۔

پولیس کی رپورٹ کے مطابق گوجرانوالہ کی رہائشی خاتون کے ساتھ انسانی درندگی کا یہ واقعہ 8 اور 9 ستمبر کی درمیانی شب اس وقت پیش آیا جب خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالہ جانے کے لیے لاہور۔ سیالکوٹ موٹروے پر سفر کر رہی تھی۔ یہ موٹر وے حال ہی میں ٹریفک کے لیے کھولا گیا تھا۔ موٹر وے پر خاتون کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہو گیا اس نے مدد کے انتظار میں گاڑی ایک سائیڈ پر کھڑی کرلی اور گاڑی کے شیشے بند کر دیے۔

کچھ دیر بعد دو نامعلوم مسلح افراد موٹر وے کے نزدیک کرول جنگل سے نمودار ہوئے، انھوں نے موٹر وے کی جالی کاٹی، گاڑی کے شیشے توڑ کر دروازہ کھولا اور خاتون اور اس کے بچوں کو گھسیٹتے ہوئے کرول جنگل کے اندر لے گئے، پھر ان بدبختوں نے جنگل میں انسانی درندگی کا ایسا مظاہرہ کیا کہ جانور اور درندے بھی اپنا منہ چھپانے لگے۔ معصوم بچوں کے سامنے ان کی ماں کی عصمت دری کر کے ایسے غائب ہوئے کہ ابھی تک ان کا سراغ نہیں مل رہا۔ موٹر وے پر اس سے قبل چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں سننے کو ملتی تھیں لیکن شاید یہ پہلا ایسا اندوہناک واقعہ تھا جس میں چوری کے ساتھ عصمت دری بھی کی گئی اور وہ بھی زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون کے دو معصوم بچوں کے سامنے۔ یہ کیسے سنگدل لوگ تھے جو خدا کے قہر سے بھی نہیں ڈرے۔

جس مقام پر یہ وقوعہ ہوا ہے وہاں موٹر وے سڑک کے نیچے تقریباً 30 فٹ گہرائی میں جھاڑیاں ہیں اور پھر آگے جا کر کرول نامی جنگل شروع ہو جاتا ہے۔ جنگل کے قریب گاؤں بھی واقع ہے۔ کرول جنگل اور موٹر وے کے درمیان جالی بھی لگائی گئی ہے تاکہ کوئی خطرناک جانور موٹر وے پر آ کر حادثے کا سبب نہ بن سکے لیکن کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ جالی جانوروں کو تو روک لے گی لیکن انسانی درندوں کو روک نہیں پائے گی۔ وقوعہ کے روز مسلح افراد نے پہلے جالی کاٹی اور پھر موٹر وے پر چڑھ کر خاتون کی گاڑی تک پہنچے۔

کرول کا جنگل بڑا خطرناک اور گھنا ہے اکثر اسی جنگل کے نزدیک موٹر وے پر ڈاکو ناکہ لگا کر وارداتیں کرتے ہیں۔ ابھی پچھلے ماہ جولائی میں اسی جنگل کے پاس تین ڈاکو ناکہ لگا کر لوٹ مار کر رہے تھے کہ اطلاع پر پولیس پہنچ گئی اور ڈاکوؤں سے فائرنگ کے تبادلے میں ایک ڈاکو ہلاک جبکہ دو ڈاکو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

کرول جنگل کے 5 کلومیٹر تک کے علاقے میں 3 گاؤں آتے ہیں۔ اسی لئے پولیس کرول جنگل سے ملحقہ گاؤں میں بھی تفتیش کر رہی ہے، اب تک 15 سے زائد افراد کو گرفتار کر کے تفتیش کی جا رہی ہے۔ اس کیس میں پولیس جدید اور روایتی طریقے سے تفتیش کر ہی ہے۔ تفتیش میں گاؤں کے تین کھوجی بھی حصہ لے رہے ہیں۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے کھوجیوں کے ہمراہ 5 کلومیٹر علاقے میں سرچ اینڈ سویپ آپریشن کیا جس میں 20 کے قریب مشتبہ لوگوں کو حراست میں لے کر تفتیش کی گئی جب کہ 7 افراد کا ڈی این اے بھی کرایا گیا۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق میڈیکل رپورٹ میں متاثرہ خاتون سے زیادتی کی تصدیق بھی ہو چکی ہے۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں پولیس کی 20 ٹیمیں واقعہ کی تفتیش میں مصروف ہیں، ٹیموں نے وقوعہ سے ڈی این اے سمیت دیگر اہم شواہد جمع کرلئے ہیں جبکہ کیمروں سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر کے جیو فینسنگ بھی کرائی گئی ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ کے اطراف میں موجود کارخانوں اور فیکٹری ملازمین کے کوائف اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار موٹروے پر خاتون سے زیادتی کیس پر پیشرفت کا ذاتی طور پر جائزہ لے رہے ہیں۔ پاکستان کی عوام، انسانی اور خواتین کے حقوق کی تنظیموں اور سوشل میڈیا صارفین نے اس اندوہناک واقعہ پر شدید مذمت کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کب واقعہ کے ذمہ دار پکڑے جائیں گے اور قانون کے مطابق کیسی عبرتناک سزا پائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •