فلم ”جوش“ اور کراچی کی بپتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


آج سے کوئی سترہ یا اٹھارہ سال قبل ایک بھارتی فلم ”جوش“ ریلیز ہوئی تھی، فلم میں شاہ رخ خان صاحب اور دیگر معروف اداکاروں نے کام کیا تھا، فلم تو خیر عام سی تھی مگر اس میں خاص چیز دکھائی گئی تھی جو اس فلم کے آنے کے کچھ عرصے بعد کراچی کی کہانی بھی بنی اور جس کے اثرات یہ شہر آج کے دن تک بھگت رہا ہے۔

اس فلم میں بھارتی ریاست ”گوا“ دکھائی گئی تھی۔ یہ چھوٹی سی خوبصورت ریاست ہندوستان کی آزادی کے بعد بھی پرتگال کے قبضے میں تھی۔ پرتگال نے کیونکہ اس جگہ 500 سال حکومت کی اس لیے یہاں پر ہندو اور وہاں کے سابق حاکم یعنی مسلمان سرے سے مٹ گئے۔ وہ جگہ بالکل پرتگال کی ثقافت اور وہیں کے مذہب میں رنگی ہوئی تھی۔ پھر نہرو جی نے گوا پر فوج کشی کر کے اسے بھارت کا حصہ بنا لیا۔ کہنے کو گوا آزاد ہو گیا مگر آزادی کے ساتھ ہی وہاں کے حاکم ہندوستانی بن گئے۔

اب ارد گرد کے علاقوں سے ہزاروں کی تعداد میں مقامی ہندو بھی آ کر یہاں بس گئے۔ پرتگالی حکومت نے جنگ میں شکست کھائی تھی۔ وہ برطانویوں کی طرح حکومت منتقل کر کے گئے نہیں تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پرانا سارا ہی نظام تاش کے محل کی طرح بکھر گیا۔ پرتگالیوں کی املاک پر مقامی گوا کے لوگوں نے اور ارد گرد کے علاقے سے آئے ہندوؤں نے قبضہ جما لیا۔ اب پرانے پرتگالی عہد کی زمینوں، مکانوں کے کاغذات بس نام نہاد حیثیت ہی رکھتے تھے۔

بس جس کے پاس جس چیز کا قبضہ تھا وہی مالک تھا۔ اس چھینا جھپٹی میں مقامی عیسائیوں اور پڑوسی ریاستوں سے آئے ہندوؤں میں تناؤ اور تفاوت نے جنم لیا۔ غنڈوں کے گروہ بن گئے جو بزور طاقت عمارتوں پر قبضہ جماتے اور وہاں رہنے والوں کو وہاں سے نکال پھینکتے، جو لوگ نکال پھینکے جاتے۔ عموماً ان کے پاس بھی اس عمارت یا زمین کا کوئی کاغذ پتر نہ ہوتا، محض قبضہ ہوتا۔

اس پس منظر میں ایک غنڈے گروہ کے ایک شخص کو بڑے ادارے کی طرف سے ایک بڑی زمین حاصل کرنے کا آرڈر ملتا ہے۔ اسے کوئی زمین اتنی بڑی نظر نہیں آئی۔ پھر اس کی نظر اس علاقے کے فٹبال گراؤنڈ پر پڑی۔ اس زمین کا قصہ کیا تھا اور اس فلم کی بنیادی کہانی کیا تھی۔ وہ جاننے کے لئے تو آپ کبھی فرصت میں وہ فلم دیکھئے گا مگر ہم یہاں تک کی کہانی اور حالات میں کراچی سے مماثل کیا ہے، اس پر بات کرتے ہیں۔

ظاہر سی بات ہے کہ کراچی اور گوا میں تو کوئی مماثلت نہیں مگر اتنا ضرور ہے کہ مشرف صاحب کے اقتدار میں آنے اور 2002 ء کے انتخابات اور 9 / 11 کے تناظر میں ملک میں قوم پرستوں کو پروان چڑھانے کے ان کی پالیسی سے کراچی بڑے مطلق العنان طور پر متحدہ قومی موومنٹ کو مل گیا اور رفتہ رفتہ وہ تجربہ کراچی میں کیا گیا جو اب چائنا کٹنگ کے عنوان سے اخبارات اور ٹی وی پر اکثر زیر بحث رہتا ہے۔

2002 ء سے 2007 ء تک مشرف صاحب بڑی حد تک مطلق العنان ہی رہے اور یوں کراچی بلاشرکت غیرے متحدہ کے پاس رہا مگر جب مشرف صاحب کو اقتدار پیپلز پارٹی سے بانٹنا پڑا اور آخر میں 2008ء میں جانا ہی پڑا تو متحدہ کی پلیٹ میں بوٹیاں کم اور روٹی اور اچار زیادہ رہ گیا۔ اب یہاں سے جوش فلم بڑی حد تک شروع ہوئی۔ جو قوتیں یہ اقتدار اور اختیار کا تماشا اس کھیل سے باہر رہ کر دیکھ رہی تھیں اور للچا رہی تھیں، انہوں نے بھی اب اپنا بدلہ لینے اور قبضہ جمانے کی ٹھانی، اس فضا میں پیپلز پارٹی نے لیاری کی گینگ وار کے کارندوں کے سرپر ہاتھ رکھ کر پیپلز امن کمیٹی بنائی اور عوامی نیشنل پارٹی نے پٹھانوں کے علاقوں سے سر اٹھایا۔

ان سب ہی کھلاڑیوں نے لوٹ مار کا بڑا خوفناک کھیل شروع کیا۔ چوری، ڈکیتی، رہزئی، موبائل کی چھینا جھپٹی، بھتہ اور زمینوں پر قبضہ۔ یہ سب کچھ سیاسی سرپرستی میں بڑے ہی زور و شور سے شروع ہوا اور ہر جماعت نے اپنے اپنے علاقے میں عوام اور تاجروں کا خوب جوس نکالا۔

کراچی کا زیادہ حصہ اب بھی متحدہ کے ہی پاس تھا، اس لیے اب پارکوں کی شامت بڑے زوروں سے آئی۔ اس لیے کہ شہر کے گنجان علاقوں میں ”خالی پڑے پلاٹ“ یہی تھے۔ جامعات کی زمینیں اور اسکولوں، کالجوں، اسپتالوں کے لئے مختص پلاٹ بھی نہ بچے، گنجان آباد علاقوں میں پلاٹوں کی قیمتیں بھی آسمان پر تھیں، لوگ شہر کے مضافات کے علاقوں میں بسنا بھی نہ چاہتے تھے کیونکہ عموماً یہی مضافاتی علاقے متحارب جماعتوں کے میدان جنگ بنا کرتے۔

مضافاتی علاقوں میں عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی قبضے کا کام بڑے زور و شور سے کر رہی تھی۔ میں 2011ء میں اسپیشل سیکیورٹی یونٹ سندھ پولیس کا ملازم تھا۔ ایک روز میں رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹر سے اپنے ایک دوست کے ساتھ (جو پولیس کا ڈی ایس پی تھا) واپس اپنے گھر آ رہا تھا، ڈی ایس پی نے دبئی ہاؤس کے پاس گاڑی روک دی اور راقم کو ایک شخص سے ملوایا جو اس پورے علاقے میں زمینوں پر قبضے کرواتا تھا اور ان پر گوٹھ بنواتا تھا۔ ڈی ایس پی نے اس شخص سے کسی زمین یا گھر خریدنے کی خواہش ظاہر کی، اس شخص نے تعاون کا یقین دلایا۔

جب وہاں سے چل پڑے تو میں نے ڈی ایس پی سے دریافت کیا کہ وہ قبضے کی زمین خریدنے کا ارادہ کیوں رکھتا ہے؟ ڈی ایس پی نے کہا کہ دراصل یہ ایک قسم کا جوا ہے۔ اگر قبضہ کی گئی زمین بچ جائے تو لاکھوں دے جاتی ہے اور اگر حکومت ریگولرائز کر دے تو فائدہ بے پناہ ہوتا ہے اور اگر زمین حکومت نے خالی بھی کرا لی تو بھی معمولی رقم کا نقصان ہوتا ہے۔ گلستان جوہر کے بلاک 8 کے پاس دبئی ہاؤس کے سامنے کی طرف یہ قبضہ 2012 کے اپریل میں زرداری صاحب نے ریگولرائز کر دیا۔ یوں ہمارے ڈی ایس پی دوست کے بقول جوا کامیاب رہا اور کئی لوگوں نے سرکاری زمینوں سے کروڑوں روپے بنا لئے۔

یہ سارے کھیل بڑی شدت سے 2013 ء تک جاری رہے۔ مگر پھر یہ قبضہ، بھتہ اور دیگر مافیا اچانک مع اپنی پشت پناہ جماعتوں کے، اسٹیبلشمنٹ کے لئے ناقابل برداشت ٹھہرے۔ پھرکراچی کے عسکری گروہ ایک خطرناک آپریشن سے گزرے اور شہر کا امن بڑی حد تک بحال ہو سکا اور اب 2019 ء میں یہ نوبت ہے کہ سارے ہی قبضے کی زمینیں واگزار ہو رہی ہیں۔ NAB، اینٹی کرپشن، اینٹی انکروچمنٹ، ادارہ ترقیات کراچی، بلدیہ عظمیٰ کراچی، الغرض ہر ادارہ ہی ان قبضوں پر ہی بات کر رہا ہے یا بلڈوزر لے کر چڑھا جا رہا ہے۔ NAB کی عدالتوں میں بہت سے چائنہ کٹنگ کے ریفرنس زیر سماعت ہیں۔

اس صورتحال میں ہر وہ شخص جس نے یہ سب کچھ، یہ سارے ادوار اپنی آنکھوں سے دیکھے، جو ان حالات میں جیا، وہ سوچتا ہے کہ وقت اتنا کیسے بدل گیا؟ وہ سوچتا ہے کہ جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو یہ سارے ہی ادارے کہاں سو رہے تھے؟ اب یہ توڑ پھوڑ، یہ اٹھا پٹخ، ایک اتنا ہی بڑا المیہ پیدا کر رہی ہے کہ جتنا بڑا المیہ تب ہوا تھا جب یہ قبضہ گیری عروج پر تھی۔ تب المیہ اخلاقی تھی، اب انسانی ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ جو خالی کرایا جائے گا وہ دوبارہ کبھی نہ کبھی قبضہ ضرور ہو گا، اس لیے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے؟

معلوم نہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہے، بہن ہے، بیٹی ہے یا خالہ۔۔۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ جب کوئی نظام، کوئی مستحکم انتظام نہ ہو بس افراتفری اور عارضی انتظامات ہوں تو اس خلاء سے ویسا ہی ماحول برپا ہوتا ہے جو کراچی نے عرصے تک بھگتا ہے اور اب بھی اس کے اثرات و نقصانات سے لڑ رہا ہے۔ یہ ”جوش“ فلم کسی مستقل نظام سے ہی ختم ہو گی۔ اس لیے انتظار فرمائیے، انٹرول کے بعد دوبارہ جوش فلم شروع ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •