عمر (رضی اللہ عنہ) بھی ہمارے اور حسین (علیہ السلام) بھی ہمارے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم کلمہ گو ہیں لیکن اپنے عمل کو اسلام کے تناظر میں دیکھنے کی اجازت کسی کو نہیں دیتے۔ ہم عقل کی بنیاد پہ قرآن کے فہم کی ڈٹ کر مخالفت کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی اسلام کے دائرے کو اتنی ہی وسعت دینا پسند کرتے جتنی سی وسعت ہماری عقل کو حاصل ہے۔ پوری دنیا میں رمضان کا مہنہ ایک مخصوص مذہبی جوش اور جذبے کے ساتھ گزارا جاتا ہے جس میں صاحب ثروت افراد غربا اور مسکین کو اپنے دسترخوان تک نہ صرف رسائی دیتے ہیں بلکہ عبادات کی کثرت بھی عام مشاہدے کی بات ہیں۔

یہ بات یقیناً قابل ستائش ہے کہ لوگ اللہ کے حکم کی بجاآوری پہ سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ قرآن پاک رمضان کے روزے رکھنے کا حکم دیتا ہے اور سیرت رسول ﷺ اس کی عملی اہمیت کی عکاس ہے۔ رمضان میں روزہ اس لیے رکھا جاتا ہے کہ اللہ ایک ماہ تک مسلمان کو اس احساس سے گزارنا چاہتا ہے جس سے غریب اور استحصال زدہ طبقہ روز گزرتا ہے تاکہ صاحب ثروت افراد سال بھر ان کی دیکھ بھال کر سکیں۔ رمضان کے ساتھ ساتھ چار مہینے اور بھی ہیں جو اپنی روح کے مطابق منائے جانے لائق ہیں۔

قرآن مجید نے ذوالقعدہ، ذوالحج محرم اور رجب کے مہینوں کو حرمت کے مہینے قرار دیا جن میں لڑائی، جھگڑا اور جنگ جدل منع ہے۔ یہاں تک کہ جاری جنگ بھی ان مہینوں کے شروع ہونے سے روک دی جاتی تھی۔ آخر ان مہینوں کا اہتمام اس نقطہ نظر سے کیوں نہیں کیا جاتا کہ ہم پرامن، صلح جو رہیں۔ ہم برداشت عفو درگزر کا پیکر بن کر رہیں اور پھر ان چار مہینوں کی اس پریکٹس کو سال بھر جاری رکھیں۔

مسلمانوں کے ملک میں محرم الحرام کے احترام کے لیے حکومت کو اقدامات کرنے کی ضرورت نہیں پڑنی چاہیے بلکہ رمضان کی طرز پہ خود بہ خود ہمارے رویوں میں تبدیلی آجانی چاہیے لیکن ایسا نہیں ہوتا بلکہ اسلام کے دو بڑے گروہ آپس میں دست و گریباں نظر آتے ہیں۔ جہاں محرم الحرام کی اہمیت نواسہ رسول سیدنا امام حسین ؑ کی شہادت کی وجہ بڑھ جاتی ہے وہیں پہ خلیفہ دوئم سیدنا عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ کی یکم محرم الحرام کو شہادت کے باعث امت کے فرقوں میں توازن بھی قائم نہیں رہ پاتا۔ پھر جو دیکھنے سننے کو ملتا ہے وہ دونوں عظیم المرتبت ہستوں کو ایکدوسرے کے مقابل کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ ہم آپسی رنجشوں کی کسر بھی ان ہستوں کی تنقیص سے نکالتے ہیں۔ ہم قرآن کو اپنا مشعل راہ بتاتے ہیں لیکن قرآن کی صدا لا تفرقوا پہ کان دھرنے کو تیار نہیں۔

اگر ہم تھوڑا غور کریں تو یہ ہستیاں کبھی بھی ایکدوسرے سے متحارب نہ دیکھیں گی بلکہ ہمارے لیے دو مختلف رول ماڈل کی صورت میں موجود ہیں جن کی تعریف دنیا بھر میں ہوتی ہے۔ کیونکہ عمر جوڈیشل ماڈل جہاں آج کے دور میں بھی ایک کامیاب نظام کے طور پہ مقبولیت پا رہا ہے وہیں پہ حسین ؑ حریت پسندوں کے لیے عظیم مشعل راہ کی حیثیت سے ایک تحریک اور نظریے کا روپ دھار چکے ہیں۔ اس طرح اسلام کی تاریخ ہمیں دو ماڈلزسے روشناس کرواتی ہے ایک حضرت عمر کا اور دوسر امام حسین ؑ کا۔ حضرت عمر کا ماڈل ہمیں حکومت کرنے کا گر سیکھاتا ہے اور امام حسین ؑ کا ماڈل اپوزیشن کے کردار کی رہنمائی کرتا ہے۔

نبی کریم ﷺ بہت ہی ابتدائی حالت میں ریاست کو چھوڑ کر گئے تھے اس ابتدائی حالت کو عروج پہ پہچانے کا سہرا حضرت عمر کے سر پہ ہی ہے۔ جنہوں نے اس وقت کی دو عظیم سپر پاورز کے درمیان نہ صرف اپنا وجود برقرار رکھا بلکہ ان دونوں کو اپنی بہترین حکمت عملی کے باعث اپنے سامنے سر نگوں ہونے پہ مجبور کر دیا۔ بلکہ خانہ جنگی کی صورت حال جو نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد شدت اختیار کر گئی تھی اور اس کی سرکوبی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ میں کی گئی تھی اسے بھی دوبارہ سر نہیں اٹھانے دیا۔

یہ ماڈل ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ ریاست کو کیسے کام کرنا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ میں کسی بھی قسم کے تنازعہ کی صورت میں آپ ﷺ کی ذات مبارکہ عدالت کی حثیت رکھتی تھی لیکن حضرت عمر نے باقاعدہ عدالتی نظام قائم کیا جس میں ججز کے تقرر کے اصول اور ان کی تنخواہیں تک مقرر کیں۔ لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال کو منظم کرنے کے لیے محکمہ پولیس اور باقاعدہ جیل کے جدید نظام کا قیام عمل میں لائے۔ آپ نے نہ صرف بیت مال کا محکمہ قائم کیا بلکہ ذرائع آمدن کے قانونی استعمال کو بھی یقینی بنایا۔

ریاست میں خدمت خلق کے نظام کو انسٹی ٹیوشنلائز کیا۔ آپ نے آبادی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے مناسب فاصلوں پہ کوفہ، بصرہ موصل اور فسطاط جیسے شہر بنائے۔ یعنی آپؒ کے رول ماڈل سے ہم سیکھ سکتے ہیں کہ نظام کو کیسے ترتیب دینا ہے۔ عدل کو غریب کی دہلیز تک کیسے پہنچانا ہے۔ افسر ز کی تقرری اور ان کا احتساب حضرت عمر کے ماڈل سے سیکھا جا سکتا ہے۔ یہی فلاحی ریاست ہے۔ ہمیں حضرت عمر کے طرز حکمرانی کو پبلک ایڈمنسٹریشن کی یونیورسٹیوں میں بطور رول ماڈل پڑھانا بھی چاہیے۔

کسی بھی فلاحی ریاست کا قیام موثر حزب اختلاف کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ حزب اختلاف کی عدم موجودگی میں آمریت جنم لیتی ہے۔ جس میں جمہوریت، آزادی رائے، وسائل کی مساوی تقسیم، مساوات جیسے شخصی حقوق اور آزادیاں چھن جاتی ہیں۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس لیے حکومتیں جب اقربہ پروری، غیر آئینی، غیر قانونی، ظلم کی بنیادوں پہ استوار ہونے لگیں اورظلم و استبدادحکومت کا شیوہ بن جائے تو اس صورت میں امام حسین ؓکے ماڈل کوبطور لیڈر آف اپوزیشن تجویز کرتا ہے۔

امام حسین ؑ ایک انتہائی ذی وقار شخصیت کے مالک ہیں۔ آپ بھی اپنی ذات میں ایک پورا انسٹی ٹیوشن رکھتے ہیں۔ خلافت راشدہ کے بعد جب طرز حکمرانی میں تبدیلیاں آنا شروع ہوئیں تو آپ کے سامنے بھی دو راستے تھے۔ ایک یہ کہ باقی ریاستی شہریوں کی مانند نئی آنے والی تبدیلیوں کو قبول کرلیتے یا پھر اس بات کی پروا ا کیے بغیر کہ کون کون آپ کے ساتھ ہے اور کون کون آپ کے مخالف ایک اصولی موقف اپناتے اور اس پہ سٹینڈ لے لیتے۔

پہلا راستہ کافی قدرے آسان تھا۔ کیونکہ ایک تو اس کو اپنانے والوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ مثالی اصولوں سے انحراف کسی بھی طرح کوئی عار محسوس نہ ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ مالی مفادات اور پرکشش عہدے بھی آپ کے منتظر ہوتے۔ جبکہ دوسرے راستے کو چن لینے کے بعد آنے والے چیلنجز کا بھی آپ کو ادراک تھا کیونکہ آپ نے والے والد ماجد جنا ب سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ اور اپنے بھائی سیدنا حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے کو آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اس کے باوجود آپ نے کھٹن، دشوار اور پر خطر ہونے کے باوجود دوسرے راستے کو ہی ترجیح دی۔

امام حسین ؑ کوئی غیر معروف شخصیت نہ تھے۔ آپ کا یذید کی بیعت سے انکار کرنا اور پھر مدینہ چھوڑ کرپہلے مکہ اور پھر کوفہ جانا سب کے علم میں تھا لیکن آپ کو افرادی قوت میسر نہیں آ سکی۔ آپ کی مزاحمت پر امن بھی ہے اور موثر ترین بھی۔ پر امن اس حوالے سے کہ آپ نے صرف بیعت سے انکار کیا ہے خلافت کا اعلان نہیں کیا اور کسی طرح سے بھی کوئی سپاہی اکٹھے کرنا شروع نہیں کیے۔ جبکہ موثر اس طرح سے کہ اکیلے شخص سے لاکھوں مربع میل کا حکمران خوف محسوس کر رہا ہے۔ ظلم اور جبر کے نظام کے خلاف افرادی قوت کے بغیر کیسے موثر ترین مزاحمت کی جا سکتی ہے یہ ہی امام حسین کی شخصیت سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔

امام حسینؓ کی مزاحمت کو باقاعدہ ایک تھیوری کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ اس لمحے سے لے کر جب امام حسین ؓنے یزید کی بیعت کا انکار کرنے کا فیصلہ کیا اور کربلا کے میدان تک جب امام ؓکے ساتھی ایک ایک کرکے ان کی آنکھوں کے سامنے شہید ہوتے رہے۔ آپ نے عددی قلت کو اپنی مزاحمت ترک کرنے کا جواز نہیں بنایا۔ آپ نے خود اپنی ذات سمیت اپنی اولاد، اپنے عزیز و اقارب دوست احباب سب کو اپنی آنکھوں کے سامنے قربان ہوتے دیکھا لیکن اپنے اصولی موقف سے ہٹنے کی بجائے اس صداقت مزید پختہ تر ہوتے گئے۔ پھر دوسرا یہ کہ اہل کوفہ آپ کو اپنے ہاں مدعو کرنے والے لوگ تھے لیکن عین وقت پہ حکومت کے خوف کے باعث انہوں نے اپنی حمایت واپس لے لی۔ اہل کوفہ کی اس بے وفائی سے بھی آپ کے حق کے لیے اٹھائے گئے قدم میں کوئی لغزش نہیں آئی۔

حضرت عمر فاروق کے فلاحی ریاست کے ماڈل کی طرز پہ ہمیں اپنی یونیورسٹیز میں امام حسین ؑ کے مذاحمتی ماڈل کو بھی پڑھایا جا نا چاہیے۔ جس سے سیکھنا ہمیں یہ ہے کہ ایک غیر قانونی اور استبدادی حکومت کے خلاف مزاحمت کیسے کی جاتی ہے۔ اس کی کیا قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، ظلم کے خلاف کھڑا ہونا کیوں ضروری ہے، مزاحمتی تحریک میں لوگ بے وفائی کیسے کرتے ہیں، حکومت اپنے اہلکاروں کو کس طرح قیمتی عہدوں کا لالچ دے کر وفاداری پر مجبور کرتی ہے اور جو لالچ میں نہ آئیں انہیں کیسے ڈرا دھمکا کر حمایت پر مجبور کیا جاتا ہے۔

محرم ہر سال ہمیں متحد کرنے آتا ہے۔ کہ کیسے ہم فلاحی ریاست کے ماڈل کو اپنا کر اپنے ہاں انتظامی اورقانونی اصلاحات کر کے عام آدمی کے معیار زندگی کو بلند کر سکتے ہیں۔ نظام کو کیسے شخصیات کے دائرے سے نکال کر اداروں کی صورت میں تشکیل دینا ہے یہ فاروقی ماڈل کا خاصہ ہے کیونکہ اگر نظام شخصیات کے گرد گھومتا رہے تو وہ دیر پا نہیں ہوتا۔ شخصیات کے مرنے کے ساتھ ہی نظام بھی اپنی موت مر جاتا ہے جس سے معاشرے کو ایک انتشار کی کیفیت سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔ جبکہ نظام کا اداروں کے ہاتھ میں ہونا اس ہیجانی کیفیت کو ختم کر دیتا ہے۔

دوسری جانب نظام میں موجود خامیوں اور کوتاہیوں پہ خاموشی برتنے یا اس نظام کا حصہ بننے کی بجائے کیسے اس کے خلاف موثر مزاحمتی تحریک چلائی جا سکتی ہے یہ حسینی ماڈل کا خاصہ ہے۔ اسوہ حسینی پہ چلنے سے معاشرے میں جاری جبر و استبداد، ظلم اور تشد د کی لہر میں کمی آئے گی۔

اب یہاں ایک بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ یہ دونوں ماڈلز کبھی بھی ایکدوسرے سے متحارب نہیں ہوسکتے۔ امام حسین ؑ کے ماڈل کی منزل حضرت عمر کا ماڈل ہے۔ جبکہ حضرت عمر کا ماڈل اپنا وجود برقرار ہی اسی صورت میں رکھ سکتا ہے جب تک امام حسین کا ماڈل موجود ہوں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے معاون و مدد گار ہیں۔ کیونکہ حسینی ماڈل حکمران طبقے کے جس احتساب پہ یقین رکھتا ہے اسی پراسس سے حضرت عمر کا ماڈل پھلتا پھولتا ہے۔ اس لیے محرم الحرام کے آنے سے ہمیں خود کو تقسیم کرنے کی بجائے ان عالی قدر ہستیوں کے اسوہ کو اپنانا چاہیے۔

محرم الحرام حرمت کا مہینہ ہے جو ہمیں لڑائی جھگڑے کی فضاقائم کرنے سے سختی سے حکمنا منع کرتا ہے اس لیے اس مہینے میں قرآن کی امن کی تعلیمات کی روگرادنی سے بھی بچ سکتے ہیں اور اس پر امن ماحول میں ان دونوں ماڈلز پہ غور و فکر کرکے ریاست کی اقدار اور افراد کی زندگیوں کے معیار کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔ پھر ہی ہم کہہ سکیں گے کہ عمر بھی ہمارے ہیں حسینؑ بھی ہمارے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •