جدید ریاست مدینہ میں خواتین کے ساتھ جنسی تشدد اور زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات۔ ۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حضرت علیؓ کا قول ہے کہ: ”کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نظام نہیں چل سکتا آج ہمارے معاشرے میں ہر طرف افراتفری کا ماحول ہے۔ قتل و غارت، بچوں کے ساتھ ریپ اور خواتین کی عصمت دری روز کا معمول بن گیا ہے۔ مگر افسوس کہ جس طرح پاکستان میں زینب کیس ہائی لائٹ ہوا تھا اسی طرح اب ایک پنجاب میں کیس سامنے آیا ہے۔ جس پر پورے ملک اور دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ ریاست مدینہ میں جہاں معصوم بچوں، خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں، وہیں قتل و غارت گری کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

مگر کیا کریں، پنجاب میں اب تک 5 آئی جی پنجاب کا تبادلہ کیا جا چکا ہے۔ نہ جانیں کتنے ایس ایس پیز اور دیگر پولیس عمل داروں کو گھر بھیجا جا چکا ہے۔ سی پی او لاہور کی شکایات پر کچھ ہی دن ہوئے ہیں کہ آئی جی پنجاب کو گھر بھیجا گیا۔ لاہور موٹروے پر ایک ویرانی کے علاقے میں ایک خاتون جو اپنے بچوں کے ساتھ سفر کر رہیں تھی کہ اچانک گاڑی رک گئی، ہوا یوں کہ کچھ غنڈہ قسم کے وحشی صفت لوگوں نے نہ صرف ان سے رقم لوٹی بلکہ خاتون کو بچوں سمیت نیچے جھاڑیوں میں لے گئے اور یوں بچوں کے سامنے اس عورت کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق درخواست دہندہ کی عزیزہ نے بتایا کہ جب وہ پیٹرول کے انتظار میں کھڑی تھیں تو 30 سے 35 سال کی عمر کے دو مسلح اشخاص آئے، انھیں اور ان کے بچوں کو گاڑی سے نکال کر ان کا ریپ کیا اور ان سے نقدی اور زیور چھین کر فرار ہو گئے۔ سی سی پی او لاہور کا کہنا ہے کہ عورت کی غلطی تھی کہ وہ رات کے وقت سفر پر کیوں نکلی، ساتھ میں مرد کیوں نہیں تھا اور کار کا پیٹرول کیوں چیک نہیں کیا گیا۔ پولیس افسر کے ایسے بیان پر جگ ہنسی ہوئی ہے۔

پولیس نے شک کی بنیاد پر 12 افراد کو تفتیش کے لئے حراست میں لے کر جانچ پڑتال شروع کردی ہے۔ ریاست مدینہ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک خاتون زیورات پہن کر سفر کرتی تھی اسے کوئی روکنے والا پوچھنے والا نہیں ہے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی سواری روکی تو خاتون پریشان ہو گئی اور کہنے لگی کہ یا تو آپ عمر فاروق ہیں یا آج حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ جہان چھوڑ گئے ہیں۔ کیا کبھی ریاست مدینہ میں اس طرح ہوتا ہے۔

کچھ روز قبل سماجی تنظیم ساحل جو بچوں کے لئے کام کرتی ہے انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ جنوری 2020 ع سے جون 2020 ع تک 6 ماہ کے دوران ملک بھر میں بچوں کے ساتھ 1489 جنسی زیادتی کے واقعات رکارڈ ہوئے ہیں۔ پاکستان میں روزانہ 8 بچے جنسی زیادتی کے شکار ہوتے ہیں، 13 بچوں کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کیا گیا، رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ کیس پنجاب میں 853 رکارڈ ہوئے ہیں جب کہ سندھ 477 کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ اسلام آباد میں 35 کیس رپورٹ ہوئے ہیں، کے پی کے میں 91 کیس رپورٹ ہوئے، بلوچستان 22 جبکہ آزاد و جموں کشمیر میں 10 زیادتی کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

دوسری جانب سندھ میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی سماجی تنظیم سندھ سہائی ستھ کے 6 ماہ کی رپورٹ کے مطابق سندھ بھر میں 100 سے زائد مرد و خواتین کو عزت کے نام پر قتل کر دیا گیا ہے۔ قتل ہونے والوں میں 61 خواتین، 37 مرد شامل ہیں۔ جبکہ پنجاب میں کارو کاری سمیت مختلف واقعات میں قتل ہونے والے افراد کی تعداد سندھ سے بھی دو گنا زیادہ ہے، کے پی کے اور بلوچستان الگ ہیں۔ تازہ سندھ کے علاقے پنوعاقل میں ایک ہی خاندان کے پانچ خواتین اور 6 بچوں سمیت 11 افراد کو ذبح کر کے قتل کر دیا گیا۔

حکومت اقتدار صرف باتیں بنانے اور ٹویٹ کرنے سے نہیں بچایا جا سکتا ہے۔ بلکہ عدل و انصاف کا بول بالا ہونے اور عادلانہ نظام لاگو کرنے سے ہی ممکن ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ پنجاب میں جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بننے والی عورت کے ساتھ مکمل طور پر تعاون کر کے انصاف فراہم کیا جائے اور ملزمان کو کٹہرے میں لاکر سخت سے سخت سزا دی جائے، تاکہ آئندہ کوئی بھی وحشی صفت مجرم اس قسم کی گھٹیا حرکت کرنے کی جرات نہ کر سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •