خبردار! شہر میں درندے کھلے پھر رہے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”شہر میں ایک ایسا درندہ آ چکا ہے، جو وقتاً فوقتاً جنگل سے باہر آتا ہے، کسی معصوم کو نوچتا ہے، اور پھر منظر سے غائب ہو جاتا ہے۔ اس شہر کے باسی آنکھیں مسلتے ہوئے اس معصوم کو دیکھتے ہیں، کچھ اس کے غم میں شریک ہو تے ہیں، کچھ اسے ہی قصوروار ٹھہراتے ہیں اور پھر سے اپنے اپنے گھروں میں جا کر سو جاتے ہیں۔ چند دن بعد ایک اور درندہ کسی اور شکل میں باہر آتا ہے، کسی معصوم کو نوچتا ہے، اور پھر غائب ہو جاتا ہے۔

یہ منظر کئی بار دہرایا جاتا ہے۔ اس درندے کو تلاش کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ کیونکہ وہ درندہ نہ صرف ہم جیسا ہے بلکہ وہ کسی کا بھی روپ دھار لیتا ہے، کسی کو نہیں معلوم، وہ آپ کے ہمسائے جیسا ہو سکتا ہے، راہ چلتے مسافر جیسا، دفتر میں کام کرنے والے باس جیسا، آپ کے اپنے بہنوئی جیسا، سوتیلے باپ جیسا، آپ کے کسی کزن جیسا، گلی کی نکڑ پر کھڑے لڑکوں جیسا، گاڑی چلاتے ڈرائیور جیسا، سکول یا مدرسے کے استاد جیسا لیکن جو بھی ہو اس کی ایک انفرادیت ضرور ہے کہ وہ حملہ ہمیشہ مرد کی شکل میں ہی کرتا ہے، اپنے سے کمزور کو نشانہ بناتا ہے۔

اب اپنے ہی جیسے چہروں میں درندے کی تلاش آسان کام تو نہیں ہے۔ ایسے میں کس پر الزام دھرا جائے؟ شکار کرتے ہوئے وہ اپنے شکار کی عمر نہیں دیکھتا، چاہے وہ چند ماہ کی ننھی کلی ہو، تین بچوں کی ماں ہو یا پھر اسی سال کی دادی۔ اس کا لباس نہیں دیکھتا، چاہے اس نے گھٹنوں تک خود کو ڈھانپا ہو یا نہ ہو، اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ آتا ہے، نوچتا ہے، خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیتا ہے اور تب تک نہیں چھوڑتا جب تک سانس کا تار ٹوٹ نہ جائے، یا اس کا اپنا سانس پھول نہ جائے۔ شکار کی ادھ کھلی ٹانگیں، جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہڈیاں، سوجے اور نیلے کالے ہونٹ، اور زخموں سے چور روح کو ایک درد دل رکھنے والا دیکھ نہیں پاتا۔ پہلے سب سمجھتے تھے کہ اس درندے کو سانس لیتے شکار کی لت ہے لیکن وہ تو انہیں بھی نہیں چھوڑتا جن میں سانس کی مالا بھی ٹوٹ چکی ہو۔“

اس سے بچنے کی تدبیر کے لئے وزیر مملکت نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جس میں کئی ذہین و فطین لوگوں کو شامل کیا گیا تھا انہوں نے کچھ رہنما اصول وضع کیے ہے ں جو ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں، آپ سب سے گزارش ہے خواص کی ان تدبیروں کو ملحوظ خاطر رکھئے تاکہ اس درندے سے بچاؤکو ممکن بنایا جاسکے۔

تمام لوگوں سے التماس ہے کہ وہ بیٹیاں پیدا مت کریں۔
جو اب اس دنیا میں آ گئی ہیں انہیں گھروں سے کسی صورت باہر نہ نکالا جائے۔
جو لباس ہمارے ہاں پہنا جا رہا ہے وہ کافی نہیں، اس پر غور لازم ہے۔

تمام عورتوں کو چاہیے وہ اکیلی گھروں سے نہ نکلیں، اگر انہیں کسی مرد کا سہارا نہیں ہے یا ان کے گھروں میں کوئی مرد نہیں ہے اور اپنا یا بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے انہیں خود ہی کچھ کرنا پڑتا ہے تو لازم ہے وہ ایک زہر کی پڑیا خریدیں اور اپنے سمیت سب گھر والوں کو کھلا دیں۔

آئندہ مرنے والی بھی ہر عورت کو اکیلے نہیں دفنایا جائے گا بلکہ گھر کے کسی مرد کو بھی ساتھ دفنایا جائے گا، کیونکہ ایسے درندے قبرمیں پڑی عورت کو بھی نہیں چھوڑتے۔

کسی عورت کو اجاز ت نہیں کہ وہ اکیلی سفر کرے، چاہے دن ہو یا رات۔

حتیٰ کہ شہریوں کی حفاظت کے ضامن ادارے کے سربراہ نے کہہ دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں بے بس ہیں۔

بعض اوقات کچھ عورتیں خود بھی شکار بننے کی خواہش مند ہوتی ہیں، وہ جان بوجھ کر درندے کو موقع فراہم کرتی ہیں، ایسی عورتیں اگر کسی درندے کی بھینٹ چڑھ جائیں تو ان پر افسوس نہیں کیا جائے گا بلکہ ان پر خوب لعن طعن کی جائے گی، یہ ملک سے باہرجانے کے لئے ایسی حرکتیں کرتی ہیں۔

ایسی کوئی بھی ماڈرن عورت جو رات کے اندھیرے میں کسی سڑک پر مدد کی اپیل کرے گی، اس کی کسی صورت مدد نہیں کی جائے گی بلکہ خاص طور پر ایسے درندوں کا شکار بننے کے لئے اسے چھوڑ دیا جائے گا۔

عورتوں کو چاہیے وہ اپنی اوقات میں رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •