بحر ظلمات میں رہنے والے


پاکستان میں سیاست کی جنگ عروج پر ہے۔ مگر عوام کے نام پر سیاسی لوگ صرف اپنا الو سیدھا کرنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت بہت ہی ناکام سی نظر آ رہی ہے۔ جمہوریت نے عوام کی حیثیت کو بھی مشکوک کر رکھا ہے۔ ہمارے جدی پشتی نیتا جمہوریت کو کندھے پر رکھ کر اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ پنجاب میں مسلم لیگ نواز کا قبضہ عرصہ دراز رہا مگر عوام کے مفاد میں کسی کو قربانی دینی نہیں آئی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف ایک معمولی اور حقیر سے جرم میں پاکستان کی اعلیٰ عدالت سپریم کورٹ سے مجرم بنائے گئے اور کچھ تھوڑی سی جیل بھی دیکھی پھر ان کے مہربانوں اور دوستوں نے ان کے لئے ایسی قانونی موشگافی کا سہارا لیا جو صرف اور صرف نواز شریف کے لئے تھی اور ان کے لئے ان کے بھائی خادم اعلیٰ سابق صوبے دار پنجاب نے وعدہ دیا کہ وہ باہر سیاست نہیں کریں گے اور مال و اسباب میں سے کچھ سرکار کی نظر بھی کریں گے۔ مگر وعدے اور اصول صرف بتانے اور جتلانے کے لئے ہوتے ہیں۔ بے چار عوام کے لئے سابق وزیراعظم کا کردار بالکل صفر نظر آ رہا ہے۔ وہ عوام کو اپنے مفادات کی وجہ سے قربان کر رہے ہیں اور عوام بھی ان کے لئے قربانی کا سوچتے ضرور ہیں مگر نہ قربان ہونے اور نہ ان کے لئے نکلنے کو تیار ہیں۔

پاکستان کے صوبے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ اس کے طور طریقے بھی جمہوریت کے لئے بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ سندھ اور پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی بڑی تنگ دستی سے دوچار ہے۔ پیپلز پارٹی کے وزیروں اور راکھیل نے کراچی کو وراثت میں شامل کر رکھا ہے۔ آپ کو دفتروں میں سڑکوں پر تعلیمی اداروں اور شفا خانوں میں کوئی اصول، قانون اور قاعدہ نظر نہیں آتا۔ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ قسمت کے دھنی ہیں اور پیپلز پارٹی کے شہزادے بلاول کے من پسند ہیں مگر سابق صدر آصف علی زرداری سے فیصلہ رکھتے ہیں۔ آصف علی زرداری پاکستان کی سیاست میں شہنشاہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ جب ان کا انتخاب صدر کی حیثیت سے ہوا تو باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کی شناخت بیرون ملک زیادہ تھی۔ وہ اپنی طرز کے اکلوتے صدر پاکستان تھے۔ جن کی شہرت قابل فخر نہ تھی اور جو شوق میں سب کچھ کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ ان کو گھمنڈ ہے کہ وہ بہت ہی اعلیٰ شاطر اور عیار ہیں وہ اپنی اس خوبی پر شرماتے نہیں۔ وہ دوستوں کے معاملہ میں بھی اچھی شہرت نہیں رکھتے۔ پاکستان کے عسکری حلقے ان کو صدر بنانے پر اس لئے تیار ہوئے کہ مہربان ان کے ضمانتی تھے اور اب بھی کچھ کچھ ہیں۔

پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا میں کچھ سال پہلے تک مخلوط حکومت رہی۔ دو علیحدہ علیحدہ مسالک کے مولانا حضرات اقتدار کے کارن مل کر سرکار بنانے پر راضی ہوئے۔ ان کو کبھی بھی عوامی تائید مکمل حاصل نہ ہو سکی۔ پھر یہ صوبہ دہشت گردی کی جنگ میں اول ہی رہا۔ پھر افغانستان سے پناہ گزیں لوگ اس صوبے میں عوام سے زیادہ خوشحال رہے اور ان میں سے اکثر نے قانون اور اصول کو خرید کر اپنی شہریت بھی تبدیل کر الی اور پاکستان میں بڑے بڑے کاروباری بھی بن گئے۔ صوبے کے عوام کا حال ہمیشہ سے برا ہی رہا۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے لوگوں کی بڑی تعداد کراچی میں مقیم ہے اور ان کو وہاں بھی خاصی آزادی میسر ہے اور وہ کاروبار میں سندھی دوستوں اور مہاجروں کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی اپنی شناخت علیحدہ رکھتے ہیں۔ کراچی میں کثیر تعداد کے باوجود وہ ٹیکس نیٹ میں سب سے کم نظر آتے ہیں۔ وہ کراچی کی سیاست میں زیادہ حصہ دار نہیں ہیں۔ مگر سندھی وڈیرے اور ایم کیو ایم کے بڑے لوگ ان سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ کراچی کو اب ایک علیحدہ صوبے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان کا رقبے کے حساب سے بڑا صوبہ بلوچستان ہے اور آبادی میں سب سے کم۔ وہاں بھی ملی جلی حکومتوں کا رجحان رہا ہے۔ صوبہ بلوچستان معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے مگر صوبے کی یہ دولت عوام کی زندگی پر ابھی تک کوئی خاص تبدیلی چھوڑتی نظر نہیں آتی۔ پاکستان کی دوسری اہم بندرگاہ گوادر کی وجہ سے بلوچستان کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ ایک طرف ایران کے ساتھ ہمسائیگی ہے۔ پھر ساحل سمندر کا لمبا ساحل بین الاقوامی طور پر بہت اہمیت کا حامل ہے۔ کوئٹہ میں سدرن کمانڈ کا ہیڈکوارٹر بھی ہے جس کی راجدھانی کراچی اور ملتان تک ہے۔ سدرن کمانڈ کے عسکری بڑے ادارے ایران اور افغانستان کی سیاست پر بھی نظر رکھتے ہیں اور بلوچستان کے حوالہ سے امریکی اس پر خاص نظر رکھتے ہیں۔ دوسری طرف اب سی پیک کے تناظر میں چین نے بھی بلوچستان کو حیثیت اور اہمیت دینی شروع کردی ہے۔ بلوچستان میں سرداروں کی سیاست میں حیثیت مسلمہ ہے اور کچھ مذہبی حلقے بھی رسوخ رکھتے ہیں مگر جمہوریت کا کوئی اثر اس صوبہ پر نظر نہیں آتا ہے۔

اس وقت پاکستان پر تحریک انصاف کی حکومت ہے اور عمران خان گزشتہ دو سال سے وزیراعظم ہیں۔ ان کے عسکری حلقوں سے اچھے تعلقات ہیں اور ماضی کی باتیں اب نہ عمران خان کرتے ہیں اور نہ ہی عسکری دوست ماضی کو نشان ستم بناتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو حکومت کرنے میں خاصی دشواری کا سامنا ہے۔ کچھ قدرت بھی ان پر مہربان ہے اور کچھ حالات ایسے ہوتے جا رہے ہیں کہ عمران خان کی عوام کو ضرورت ہے۔ عمران خان تبدیلی کے تناظر میں بہت کچھ کرنے کا سوچتے تھے مگر سرکار میں آنے کے بعد ان کو اندازہ ہوا کہ پاکستان کے عوام کی حالت بدلنا آسان نہیں ہے۔ ایک تو عوام کا یہ حال ہے کہ وہ کوئی قربانی دینے کو تیار نہیں۔ پھر کرپشن صرف اشرافیہ کا خاصا نہیں ہے اس کرپشن کے جال میں تمام عوام شریک ہیں اور وہ کرپشن کے ذریعہ زندگی گزارنا آسان خیال کرتے ہیں۔ سرکار کی نوکرشاہی عمران کا ساتھ دیتی نظر نہیں آتی۔ بڑے لوگوں کو کرپشن میں پکڑنا بہت مشکل ہے کیونکہ کرپشن عوام کے نزدیک قابل فکر نہیں ہے۔

پاکستان کی جمہوریت میں اہم ادارہ میڈیا ہے مگر میڈیا کا نظام قابل اعتماد نہیں ہے۔ خبر تک رسائی تو آسان ہے مگر خبر کا قابل اعتبار ہونا ضروری نہیں۔ میڈیا کا سب سے بڑا ہتھیار اس وقت تنقید ہے۔ اس ہتھیار کو سب ہی لوگ استعمال کر رہے ہیں۔ آپ ٹی وی چینل ہی دیکھ لیں۔ ان کا کوئی پروگرام ایسا نہیں جو عوام کے مفادات پر صاف گوئی سے بات کرتے ہوں۔ گرہ بندی عام ہے۔ کچھ لوگ اپوزیشن کے وکیل کی حیثیت میں میڈیا پر قابض ہیں۔ ان کی خدمات کی قیمت سیاسی لوگ ادا کرتے ہیں اور صاف نظر آتا ہے کہ وہ غیر جانبدار نہیں۔ پھر قوانین ایسے ہیں کہ سب کچھ لکھا اور شائع کیا جاسکتا ہے اور کوئی ایسا قانون نہیں ہے جو صحافت کے معیار کو جانچ سکے۔ صحافتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ ان کو آزادی میسر نہیں مگر ایسا ہے نہیں۔ آپ کسی پر کوئی بھی الزام لگا سکتے ہیں اور جھوٹ کا پہاڑ کھڑا کر سکتے ہیں اور لوگ اتنی زیادہ فکری آزادی کی وجہ سے قوت فیصلہ سے محروم ہیں اور مایوسی کا شکار ہیں۔

خطہ کی صورت حال ایسی ہے کہ پاکستان کی عالمی حیثیت قابل فکر ہے۔ گزشتہ دو سال سے عوام فکری انتشار کا شکار ہیں۔ ہمارے اہم سیاسی لوگ اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں ان کے نزدیک عوام قابل اعتبار نہیں اور وہ عوام کے لئے کوئی کردار ادا کرتے نظر نہیں آتے۔ وزیراعظم عمران خان پر الزام ہے کہ وہ عسکری حلقوں کے قریب ہیں۔ ایک تو بھارت کی دشمنی بڑھتی جا رہی ہے۔ پھر سیاسی اشرافیہ ملکی مفاد کے بارے میں حکومت کے ساتھ بات کرنے کو تیار نہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف اپنے مفادات کی وجہ سے اپنی بیماری کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں۔ اعلیٰ عدالتیں آئے دن ایسے فیصلے کرتے نظر آ رہی ہیں جو کہ اشرافیہ کے مفاد میں تو ہیں مگر عوام کے لئے کوئی آسانی نہیں۔ پھر قانون کو نظر انداز کرنا اور انصاف کا نہ ہونا اس جمہوریت کے ناٹک میں صاف نظر آ رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کچھ نہ کچھ بدل تو دے گا مگر اس کا ثمر اس کو ملتا نظر نہیں آتا۔ اگر عوام کو کچھ مل گیا تو یہ بہت خاص ہو سکتا ہے۔ جس کے بعد عمران کی کمی محسوس ہوگی۔

Facebook Comments HS