جسٹس فار مروہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈگڈگی بجتی ہے، تماشا ہوتا ہے، تالیاں بجتی ہیں اور ہم گھروں کی راہ لیتے ہیں۔ مداری کے اشاروں پر رقصاں یہ جسم سوال تک نہیں پوچھتے کہ ناچنا کب تک ہے اور رقص کیسا ہے۔ مداری جانتا ہے کہ یہ تماشا ختم ہوا تو اس کا روزگار بھی جاتا رہے گا اور اس کی ذات بھی توجہ کی محور نہیں رہے گی۔ احساس سے مبرا اس معاشرے میں ہر روز کچھ نہ کچھ ہوتا ہے لیکن ہم بے حس، جذبات سے عاری دو لائنیں پڑھتے ہیں، دیکھتے ہیں۔۔۔ اور آگے نکل جاتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ایک اور ننھی پری مروہ درندگی کی بھینٹ چڑھ گئی۔ یہ لکھتے ہوئے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور آنکھوں میں آنسو تیر رہے ہیں کہ ایک چھوٹی سی بچی بھی لوگوں کی میلی نظروں سے محفوظ نہیں۔ وہ تو بس بازار گئی اور کوئی درندہ اس کو لے گیا۔ زیادتی کے بعد اس کے سر کو بھاری چیز سے کچلا اور پھر اس کو جلا دیا۔۔۔ اف اتنا ظلم! پھر لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ زلزلے کیوں آتے ہیں؟ یہ ڈینگی کیوں آتا ہے؟ یہ کورونا کیوں نازل ہوگیا؟ یہ کیسے حیوان ہمارے معاشرے میں جنم لے رہے ہیں جنہیں خدا، آخرت، دوزخ اور قبر کے عذاب کا کوئی ڈر نہیں۔ جنازہ جتنا چھوٹا ہوتا ہے اتنا ہی بھاری ہوتا ہے۔ یہ ایک بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل نہیں ہے بلکہ یہ پورے معاشرے کا قتل ہے۔

پانچ سالہ مروہ کتنا روئی ہوگی، کتنا ڈری ہوگی، اپنی ماں اور خدا کو اس نے کتنی بار پکارا ہوگا لیکن سفاک قاتل کو ذرا رحم نہیں آیا۔

گزشتہ ہفتے چائے کی پیالی میں طوفان تھا کہ ننھی مروہ کے قاتل کب گرفتار ہوں گے؟

ٹی وی اسکرینوں پر چلنے والے لال رنگ کے بریکنگ نیوز کے پھٹے چیخ رہے تھے۔ پروگراموں کے میزبان گلو گیر لہجوں میں نقلی مکالمے ادا کر رہے تھے۔ ٹکر کی جنگ جاری تھی۔ لگتا تھا کہ کہیں اور نہ سہی، مگر ٹی وی پر تو انصاف ہو ہی جائے گا۔

انصاف کے پیمانے پر پورا اترنے والی حکومت کو یاد بھی نہیں کہ ان کے دور اقتدار کے پہلے چھہ ماہ میں ہی ان کی حکومت کے لئے ٹیسٹ کیس سامنے آ گیا۔

یہاں پر سندھ پولیس کی کارکردگی پر بھی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ’دو دن مروہ کے گھر والے دھکے کھاتے رہے لیکن ان کی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ اس تاخیر کے ذمہ داران کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے، وہ بھی مروہ کے مجرم ہیں۔ اگر پہلے گھنٹے میں ایف آئی آر درج ہو جاتی اور پولیس بچی کی تلاش شروع کر دیتی تو کم از کم مروہ کی لاش کچرے سے نہیں ملتی۔ لیکن افسوس اس دکھ، تکلیف میں مروا کے والدین کا کوئی مسیحا نا بنا۔ وزیر اعظم تو دور کی بات وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ صاحب یا چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی مروا کے گھر نہیں پہنچے۔ اتنا بڑا واقعہ ہونے کے باوجود بلاول صحافیوں کو بٹھا کے وہی ایک نہیں دو پاکستان کا رونا پیٹتے رہے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ دو ہفتے گزر جانے کے باوجود تا حال نہ تو فورانزک رپورٹس سامنے آئی ہیں اور نہ ہی تحقیقات میں پیش رفت۔ جے آئی ٹی کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ جلد انصاف کے سارے نعرے دم توڑ چکے ہیں اور وزیروں کے تبدیلی بارے بے ہنگم شور میں کوئی آواز سنائی نہیں دے پا رہی۔

فرض کریں یہ واقعہ، کسی اور جماعت کے دور میں ہوتا۔ جیسا کہ گزشتہ دور میں سانحہ ماڈل ٹاؤن ہوا، تو تحریک انصاف کا کیا رد عمل تھا۔۔۔ اور کیا ردعمل ہوتا۔ وزیراعظم، جو اس وقت اپوزیشن میں تھے، ہر روز ایک پریس کانفرنس کرتے۔ ہر ٹی وی ٹاک شو پر نمودار ہوتے اور انصاف کا تقاضا کرتے۔ مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔ انھیں اقتدار مل چکا ہے اور کم از کم اتنے سے انصاف کے لئے اختیار بھی۔

ہمیں وہی والا کپتان واپس چاہیے جو کم از کم مظلوموں کے لیے پریس کانفرنس تو کر لیتا تھا۔ اور خاتون اول بھی تو بہت حساس دل کی خاتون ہیں نا! اے کاش خاتون اول بس ایک بار اس معصوم بچی کی خاطر کپتان کا کندھا ہلا کر کہیں کہ آپ تھوڑی دیر کے لئے اپوزیشن میں ہی آ جائیں اور ایک پریس کانفرنس اس معصوم کے لئے ہی کر دیں۔۔۔ شاید انھیں انصاف مل جائے۔

‏ایسے جرائم میں ملوث مجرموں کو سر عام پھانسی دی جانی چاہیے لیکن افسوس کہ انسانی حقوق کے علمبردار، لبرل سیاسی جماعتیں اور میڈیا اس کے سب سے بڑے مخالف ہیں اور یوں درندے اور ان کی درندگی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ حکومت کو جنسی تشدد کے خلاف ملک گیر مہم چلانی چاہیے جس میں لوگوں کو جنسی ہراسانی، جنسی تشدد، اس کی سزا اور مدد کے بارے میں بتایا جائے۔ اس کے بغیر ان واقعات کی روک تھام بہت مشکل ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عبداللہ زاہد کی دیگر تحریریں