جوتوں کا تاجر پولیس کو مدد کے لیے فون کر کے کیسے لٹا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لیہ کے اک تاجر ہیں جوتوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ ہر پندرہ بیس دن میں اپنے کیری ڈبے میں لاہور جاتے ہیں اور مال خرید لاتے ہیں۔ گزشتہ سردیوں کی بات ہے کہ وہ لیہ سے نکلے اور چوک اعظم سے آگے کہیں ان کی گاڑی کا فیول ختم ہو گیا۔ رات کے دو ڈھائی بجے کا وقت تھا۔ پہلے تو انہوں نے سنسان سڑک پہ آنے جانے والوں کا انتظار کیا کہ کسی سے مدد طلب کی جا سکے۔ پھر تنگ آ کر پولیس کو فون کر دیا۔ پولیس کو تمام حالات بتائے جب پولیس نے استفسار کیا کہ اس وقت کہاں جا رہے ہو تو بدقسمتی سے انہوں نے بتا دیا کہ لاہور مال خریدنے جا رہا ہوں۔

پولیس والوں نے انتظار کرنے کا کہہ کر فون بند کر دیا۔ اگلے پندرہ منٹ میں چار اسلحہ بردار آئے اور تاجر سے دو لاکھ لوٹ کر یہ جا وہ جا۔ واردات کے پانچ منٹ بعد پولیس بھی پہنچ گئی۔ جب تاجر نے صدائے احتجاج بلند کی کہ وہ گھنٹہ بھر سے رکا ہوا تھا کوئی لوٹنے نہیں آیا پولیس کو بتانے کی دیر تھی مجھے لوٹ لیا گیا۔ پولیس والے الٹا ڈھٹائی سے ہنسنے لگے اور مذاق میں بات کو اڑا دیا۔ خیر کچھ عرصے بعد چاروں ملزمان گرفتار ہو گئے اور مزے کی بات دیکھیے چاروں کے چاروں پولیس والے تھے۔ لاہور موٹر وے پہ ہونے والے واقعے کو دیکھیے تو آپ کو اس میں مماثلت نظر آئے گی۔ خاتون نے پہلی کال دو بج کر اک منٹ پہ کی لیکن پولیس عینی شاہد کی کال پہ دو بج کر پچاس منٹ پہ پہنچی۔ اطلاع کے باوجود پچاس منٹ تک امداد نہیں پہنچی لیکن لٹیرے پہنچ گئے۔

اب اس واقعے کے ملزمان ٹریس ہوئے تو پہلے خبر آتی ہے کہ ملزم گرفتار ہو گیا اس کے بعد اس کی بیوی کی بھی گرفتاری کی خبر چلتی ہے۔ پھر اچانک پتا چلتا ہے کہ ملزمان فرار ہے۔ عام حالات میں جب ڈی این اے میچ ہوتا ہے تو اس کے بعد ملزمان گرفتار ہوتے ہیں پھر خبر باہر آتی ہے۔ اگر ملزمان گرفتار نہیں ہوئے تھے ڈی این اے میچ والی خبر میڈیا کو لیک کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

عدلیہ سے منسلک، کرنٹ افیئر پہ گہری نظر رکھنے والے اک بزرگ کالم نگار کے علاوہ بھی دیگر کئی دوستوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ جلد خبر ملے گی کہ ملزمان انکاؤنٹر میں مارے گئے۔ اور اصل حقائق کا پتا کبھی نہیں چل پائے گا کہ اس روڈ پہ کون کون وارداتیں کرتا رہا ہے۔ کون سپورٹ کرتا ہے۔ اس عورت کی ٹپ انہیں کہاں ملی کس نے انہیں اس تیاری سے بھیجا کہ ملزمان سیدھا گاڑی کے پاس آئے دیدہ دلیری سے شیشہ توڑا۔ جب خاتون بھاگ کر سڑک پہ آئی اور خالد نامی شخص کی کار کو روکنے کی کوشش کی اس کے بعد بھی ملزمان بھاگے نہیں حالانکہ انہیں پتا تھا یہ کار والا یقیناً پولیس کو اطلاع دے گا۔ اس کے باوجود انہوں نے خاتون کو لوٹا اطمینان سے درختوں میں لے جا کر عصمت دری کی۔
تو کیا آپ کو یہ سب اتفاق لگتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ آئیے مل کر آواز اٹھائیں کہ ملزمان کو زندہ گرفتار کیا جائے اور اندر کے تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •